سیرت نبویﷺ

وصال رحمت: عالم انسانی کا عظیم سانحہ 

محمد صابر حسین ندوی

دعوت و ارشاد کا کام پایہ تکمیل کو پہونچ چکا تھا، اسلام کے تمام ارکان ادا کئے جاچکے تھے، شیطانی وسائس اور حربوں کا قلع قمع کیا جاچکا تھا، دنیا نے ایک نئی کروٹ اختیار کرلی تھی، اندھیرا چھٹ چکا تھا، عالم افق سے ایک ایسا مطلع طلوع ہوچکا تھا، جس کے اندر انسانیت و محبت اور رواداری کا عنصر اتم درجہ پر پایا جا تا تھا، ایسے اصحاب کی تعمیر کی جاچکی تھی، جو اس کام کو چہار دانگ عالم میں عام کر سکتے تھے، نہ صرف عالم عرب بلکہ عالم انسانی کا ہر خطہ سیراب و سرشار ہوسکتا تھا، آپ کی تعلیمات کا خزانہ جمع کیا جاچکا تھا، حفاظ احادیث اور قرآن بڑی تعداد میں ایسے پیدا ہوگئے تھے؛ جو نہ صرف اسے عقیدت کی نظر سے دیکھتے تھے، بلکہ وہ اسے عملی طورپر بروئے کار لانے اور ا س کیلئے جہاد کا جذبہ اور ساتھ ہی اپنوں، پرایوں کی فکر کئے بغیر اسے رائج کرنے کا حوصلہ و عزم رکھتے تھے، یہ معاشرہ انسانیت کا سب سے متبرک اور سب سے اولوالعزم، وجاں نثار معاشرہ بن چکا تھا، اور پھر حجۃ الوداع کے ذریعہ اس معاشرہ کی توسیع اور احکام کی تشریح بھی بہت خوب اور احسن درجہ پر کی جا چکی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں حضوراکرمﷺ کا تشریف لانادراصل مخلوق کی ہدایت و رشد اور انسانیت کو صحیح راہ دکھلانا تھا، جب دین کی تکمیل کا اعلان ہوگیا،لوگوں تک امانت پہونچادی گئی اور ایک ایسی امت تیار ہوگئی، جو منصب نبوت پر فائز ہوئے بغیر دعوت الہی کا علمبردار ہوسکتی تھی؛ نیز حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا دل لقائے الہی اور رفیق اعلی کی یاد و محبت میں بے تاب ہونے لگا، شب و روز ذکر و اذکار میں گزرتے، طبیعت میں عجب سی روانی پیدا ہوگئی، جیسے کہ کسی مقصود کی طرف آپ لپک رہے ہیں، باتوں باتوں میں آپ شوق لقا کا اظہار بھی فردیتے تھے، جسے اکابرین صحابہ رضی اللہ عنھم سمجھ جاتے اور زار وقطار رونے لگتے، ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبل کو دس ھجری میں یمن کا گونرنر بناکر بھیجا، تو رخصت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے ساتھ ارشاد فرمایا:اے معاذ! غالبا تم مجھ سے میرے اس سال کے بعد نہ مل سکو گے ؛بلکہ غالبا میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گذروگے، یہ سن کرحضرت معاذ رسول اللہ ﷺ کی جدائی کے غم میں رونے لگے۔حجۃ الوداع میں فرمایا تھا:مجھے معلوم نہیں غالبا میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں گا۔ جمرہ عقبہ کے پاس فرمایا:مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو،کیونکہ میں اس سال کے بعد غالبا حج نہ کر سکوںگا۔

جب آپ ﷺ حجۃ الوداع سے فارغ ہوئے تو گویا آپ نے اپنی ساری توجہ سامان سمیٹنے میں لگادی، اور بقیہ تمام کام جو بھی ممکن ہو سکتے تھے ان کے انجام دینے پرتمام تروجہ مرکوز کردی، اس سلسلہ میں آپ نے کسی رو، رعایت کی پرواہ نہ کی، لہذا مدینہ پہونچنے کے بعد اولاً تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر ۱۱ ؍ھجری کو رومی فوج سے جن کے متعلق سازشوں کی خبر ملی تھی اور بعض اکابرین صحابہ رضی اللہ عنھم کا قصاص بھی باقی تھا، اس کی انجام دہی کے لئے جیش اسامہ کو روانہ ہونے اور روم کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کا حکم دیا،اس کاروائی کا مقصد یہ تھا؛کہ رومیوں کو خوف زدہ کرتے ہوئے، ان کی حدود پر واقع عرب قبائل کا اعتماد بحال کیا جائے، اور کسی کو یہ تصور کرنے کی گنجائش دی جائے ؛کہ کلیسا کے تشدد پر کوئی باز پرس کرنے والا نہیں، اور اسلام کو قبول کرنے کا مطلب صرف یہ ہے؛کہ موت کو دعوت دی جارہی ہے۔ لیکن خدا کا کرنا تھا کہ یہ لشکر اپنے جاہ و جلال کے ساتھ روانہ ہوکر مدینہ سے تین میل دور مقام جرف پر خیمہ زن ہوا ؛اور آپﷺ کی بیماری کے متعلق تشویشناک خبر کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔(ابن ہشام:۲؍۶۰۶ وغیرہا)

دوسری طرف غالبا آپ کو لقائے الہی اور وقت موعود کا یقین ہو چلا تھا،کیونکہ جب حجۃ الوداع کے موقع پر سورہ نصر نازل ہوئی، تو اس سے آپ نے سمجھ لیا کہ دنیا سے روانگی کا وقت آچکا ہے،اور یہ موقت کی اطلاع ہے؛ چنانچہ حضور ﷺنے اس کی طرف پورے سازو سامان کے ساتھ پیش قدمی شروع کردی؛اس سال آپﷺ نے رمضان میں بیس روز کا اعتکاف کیا، تراویح میں حضرت جبرئیل کے ساتھ دومرتبہ قرآن کی تکمیل کی، جبکہ عموما آپ قرآن کا ایک ہی دور کیا کرتے تھے،مزیدیہ کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں آپﷺ نے اس کی(وفات) خبرپھر سے صحابہ کرام کو دی،لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:میں تمہارے آگے جانے والا ہوں اور تم پر گواہ ہوں ؛کہ اب تم سے حوض کوثر پر ملاقات ہوگی، میں اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑے ہوئے دیکھ رہاہوں، مجھے زمین اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں دیدی گئی ہیں،اور بخدا مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے؛بلکہ اندیشہ اس کا ہے کہ دنیا کے بارے میں مقابلہ کروگے (متفق علیہ۔بخاری:۲؍۵۸۵)۔چونکہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات کا علم تھا اسی لئے زندوں کے ساتھ مردوں سے بھی وداع پانے کے لئے احد کے شہداء پر آٹھ سال کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔ اسی اثنا میں کہ آپ  ﷺتسبیح و تہلیل میں ہی تھے کہ مرض الوفات کی ابتدا ہوگئی۔

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ:ماہ صفر ۱۱؍ھجری کے آخر میں علالت کی شروعات ہوئی اس طور پر کہ آپ نصف شب ’’جنت البقیع‘‘ تشریف لے گئے اور وہاں اہل قبور کے لئے دعائے مغفرت کی فرمایا:اے قبر والو!تم پر سلام! لوگ جس حال میں ہیں اس کے مقابل تمہیں وہ حال مبارک ہوجس میں تم ہو،فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلے آرہے ہیں،اور بعد والا پہلے والے سے زیادہ برا ہے،اس کے بعد یہ کہہ کر اہل قبور کو بشارت دی کہ ہم بھی تم سے آملنے والے ہیں۔ اس رات کی جب صبح ہوئی تو بیماری نے آپکڑا، اس سلسلہ میں ایک واقعہ یوں بھی ہے کہ :آپ ﷺایک صحابی کے جنازے سے واپس آئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا گھر میں تھیں، جنہیں درد سر کی شکایت تھی آپ نے بھی درد سر کی بات کہی ؛بات کے معترض ہونے پر حضرت عائشہؓ نے لڑکپن کا بھی اظہار کیا؛ لیکن دن بدن آپ کی بیماری بڑھتی گئی یہاں تک کہ آپ کے سر پر پٹی باندھی جاتی اور نماز کے لئے سہارا دیکر لے جایا جاتا، مگر جب یہ بھی نہ ہوسکا تو حضرت عائشہ کو حکم دیا کہ حضرت ابوبکر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ نے ان کے نرم دل ہونے اور رقت طاری ہونے کی شکایت کی اور حضرت عمر کا مشورہ دیا؛ لیکن پھر بھی آپ نے حضرت ابوبکر کو امامت کی ذمہ داری دینے کا حکم فرمایا۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں بھی کسی کروٹ قرار و سکون کی سانس نہ لی، بلکہ اس حالت میں امت کی فکر اور اسی کے غم میں محو رہے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس مرض میں ایک طرف جیش اسامہ کے کوچ کا حکم دیا تو دوسری طرف وفات سے پانچ دن پہلے کئی اہم وصیتیں ارشاد فرمائیں، جیسے فرمایا:’’تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے‘‘(بخاری:۱؍۲۶)،آپ نے انصاریوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی(بخاری:۱؍۵۳۶)،پھر وفات سے چار روز پہلے ایک تحریر لکھوانے کی بات کی لیکن اختلاف ہونے کی وجہ سے نہ لکھوا سکے،اسی دن تین باتوں کی وصیت فرمائی :اولا یہ کہ جزیرۃ العرب میں دو مذہب باقی نہ چھوڑیں اور یہاں سے مشرکین کو نکال دیں، دوم یہ کہ وفود کی اسی طرح نوازش کرنا جس طرح آپ کیا کرتے تھے، سوم میں راوی کو شک ہے کہ کتاب و سنت کو تھامنے یا اپنے ما تحتوں کے حقوق کے خیال رکھنے کی تاکید کی، یہ جمعرات کا دن تھا آپ نے خود ہی ساری نمازیں پڑھائیں لیکن عشا ء کے وقت پھر طبیعت بھاری ہوگئی، چنانچہ ابوبکر نے نماز پڑھائی، اس کے بعد جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نماز پڑھاتے حتی کہ وفات سے ایک دن یا دو دن قبل آپ ﷺ نے طبیعت میں خفت محسوس کی تو مسجد تشریف لائے، نماز کے دوران ابوبکرؓ پیچھے ہٹنے لگے؛مگر آپ ﷺ نے نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔

اس مشقت کی گھڑی میں بھی آپﷺ کا حال یہ تھا کہ اس بیماری میں صحابہ کرام بھی آپ کے پاس آتے، آپ ان کا استقبال گرم جوشی سے کرتے ہوئے انہیں اللہ سے ڈرتے رہنے اور ذاتی سر بلندی کے شوق اور فخر و گھمنڈ سے دور رہنے اور دنیا سے لاتعلقی کی تلقین فرماتے،ایک دن اسی درمیان آپ کو یاد آیا کہ :گھر میں کچھ سونے کی اشرفیاں ہیں (جو کہ پانچ سے سات یا نو کے درمیان تھے)حضرت عائشہ کو حکم دیا کہ اسے لے کر آئیں، آپ نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے الٹتے پلٹتے ہوئے فرمایا:میں ان کے ساتھ خدا کو کیا منھ دکھاؤنگا، جاؤ! راہ خدا میں خیرات کردو۔ایک دن پہلے بروز اتوار آپ نے اپنے سارے غلاموں کو آزاد کردیا، اپنے ہتھیار مسلمانوں کو ہبہ فرمادئے،رات میں چراغ جلانے کیلئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے پڑوسن سے تیل لیا،آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (ّتقریبا ۷۵ کیلو) جو کے عوض رہن رکھی ہوتھی۔

حیات مبارکہ کے آخری دن یہ حسن اتفاق ہے کہ آپؐ نے آخری دیدار ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کو دیا جو نماز میں مشغول تھے، فجر کا وقت تھا، آپ ﷺنے حجرۂ مبارک کا پردہ ہٹایا اور صف بندمسلمانوں کو دیکھنے لگے، صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین کا بیان ہے کہ : عزت و محبت اور شوق میں ایسا لگتا تھا کہ ہماری نماز ٹوٹ جائے گی، پھر آپﷺ مسکرائے اس کے بعد پردہ گرادیا اور اسی دن یعنی ۱۲؍ربیع الاول ۱۰ ھجری بروز پیر جان ؛جان آفریں کے سپرد کردی، وفات کے قریب حضرت عائشہ ؓ آپ پر معوذتین پڑھ پڑھ کر دم کرتی جاتی تھیں اور آپ ﷺآسمان کی طرف نگاہ اٹھائے ’’۔۔۔بالرفیق الأعلی ‘‘کہتے جاتے تھے۔آپ ﷺکا آخری عمل مسواک کرنا تھا،قصہ یہ ہے کہ آخر آخر لمحوں میں حضرت عائشہؓ کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ ہاتھ میں پیلو کی تازہ ترین شاخ لے کر داخل ہوئے، آپ نے اس کی طرف ایک نظر دیکھاتو حضرت عائشہؓ آپؐ کی منشا سمجھ گئیں،اس کے بعد لکڑی لی، صاف کیا اور داہنے دانتوں سے چباکر نرم کرنے کے بعد آپؐ کی خدمت میں پیش کیا، آپؐ نے معمول کے مطابق اچھے طریقے سے مسواک کیا ؛پھر واپس کرنے لگے لیکن آپؐ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، آپ نے دونوں ہونٹوں کو کچھ حرکت دی،اور اے اللہ !رفیق اعلی کہتے ہوئے رفیق اعلی سے جا ملے۔(انا للہ و انا الیہ راجعون)

تاریخ انسانی کا یہ دن سب سے زیادہ وحشتناک اور خوفناک تھا،اآنحضرتﷺ کی موت کی خبر بجلی کی طرح عقیدت مندوں اور جاں نثاروں پر گری، سبھوں کے حواس باختہ ہوگئے، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے آپ کی موت کا انکار کیا اور ایسا کہنے والوں کیلئے تلوار تک سونت لی؛لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ( جو کہ آپﷺ کے بعد سب سے افضل شخص تھے )نے امت مسلمہ کے شیرازہ کو باندھا، ان کے اعصاب کو مضبوط کیا، اور ان کے ساتھ غمخواری و تعزیت اس انداز سے کی کہ معاملہ صاف ہوگیا، حضرت انس رضی اللہ نے سچ فرمایا:’’حضور ﷺ جس دن ہمارے یہاں(مدینہ منورہ) تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا، اور جس دن آپ ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا‘‘فداہ ابی و امی، صلوات اللہ والتسلیم۔(ابن ہشام:۲؍۶۵۵)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close