وفا کو ایک تخیل بنا لیا ہم نے !

مولاناعبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

پورے دھوم دھام اور بھرپور تزک و احتشام کے ساتھ۔ ۔۔کسی قدرنیک جذبات اور پاکیزہ احساسات کے ساتھ۔۔۔کسی حد تک صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ۔ ۔۔عشاق رسولﷺنے یوم میلاد النبی ﷺ منایا اور بہ زعم خویش حب رسولﷺکا حق ادا کردیا۔

جس کے لیے شامیانے لگائے گئے، اسٹیج سجائے گئے، مقررین بلائے گئے، شادیانے بجائے گئے، راستے روکے گئے، جلوس نکالے گئے، جھنڈے نصب کئے گئے، محفلیں آراستہ کی گئیں ، معیاری قسم کا ڈی جے لگا،رنگ برنگی کھانے بنے، جگہ جگہ قمقمے روشن ہوئے، بچوں نے اپنے کرتب دکھلائے، نوجوانوں نے اپنے ہنر آزمائے، بوڑھوں اور عورتوں نے اپنی شرکت کے ذریعے محبت رسول کا جیتا جاگتاثبوت دیا۔۔۔۔۔ ۔اور کیا کچھ نہیں ہوا ؟؟؟ خدا جانے اس مقدس عنوان پر آگے کیا کیا ہوگا۔

  میری اور نہ صرف میری ؛بل کہ آپ کی دانست کے مطابق بھی اتناسب شاید اس لئے کیا کرایاگیا ؛تاکہ اللہ پاک راضی ہوجائے اور رسول اللہ ﷺکی خوشنودی حاصل کی جائے !؛مگرایک بار، صرف ایک بار ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہم نے کبھی سوچا کہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کس چیزمیں مضمر ہے ؟ میلادکے حوالے سے کتاب و سنت کی کیا تعلیمات ہیں ؟ کیا حضور سے سچی وارفتگی کے صرف یہی تقاضے ہیں ؟اور کونسا عشق رسول ﷺعنداللہ معتبر ہے ؟

وہ مذہب جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کا قرینہ سکھلایا،زندگی گزارنے کا طریقہ بتلایا،قضائے حاجت تک کے مسائل کھول کھول کر بیان کئے، وہ میلادالنبی ﷺجیسے اہم مسئلے پر (اگر یہ واقعی اہم ہوتا)خاموش کیسے رہ سکتا ہے ؟؟؟

کیاہی اچھا ہوتا کہ ہم ولادت نبی کا دن، روزے رکھ کر، نوافل پڑھ کر، غیرمسلموں تک اسلام کی سچی تعلیمات پہونچاکراورغریبوں ، یتیموں اور بیواؤوں کی امداد کا سامان کرکے مناتے ؛جس سے ہمیں بھی اطمنان قلبی حاصل ہوتا اور ہمارے آقا نبی اکرم ﷺکی روح مبارک بھی خوش ہوتی۔

اب آئیے ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں حب نبوی کا صحیح مفہوم معلوم کریں ، عشق رسول کی حقیقی تصویر دیکھیں اور اس تناظر میں اپنے اعمال کا جائزہ لیں !

محبت کے تقاضے قرآن مجید سے :

 اللہ رب العزت اپنے مقدس کلام میں فرماتے ہیں :جس نے رسول کی اطاعت کی بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔(النساء)

ایک اور مقام پر ارشاد ہے :(اے پیغمبر! لوگوں سے )کہہ دو کہ تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ بخش دے گا۔(آل عمران)

ایک جگہ فرمایاگیا: رسول ﷺتمہیں جو حکم دے اسے لے لو اور جس چیزسے وہ منع کرے اس سے رک جاؤ۔(الحشر)

دوسری جگہ کہاگیا :بے شک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب)

فائدہ : مذکوہ بالا آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ محبت، صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ؛بل کہ اتباع کامل کا نام ہے، عشق، صرف لفظوں کا جادو نہیں ؛بل کہ اطاعت کیشی اور وفاداری سے عبارت ہے۔

عشق کا معیار احادیث رسول سے :

 حدیث میں ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کا ہر شخص جنت میں جائے گا سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کرنے والا شخص کون ہے ؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی وہ انکار کرنے والا ہے۔ (بخاری شریف)

اسی طرح سرکار دو عالم ﷺنے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا ؛جب تک کہ اس کے خواہشات میری شریعت کے تابع نہ ہوجائے۔ (اربعین للنووی)

ایسے ہی فرمان نبوی ہے :تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔(بخاری شریف)

حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی میں یہ تین چیزیں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی حقیقی لذت سے لطف اندوز ہوگا، اول یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ ہو، دوسرا یہ کہ کسی بندہ سے اس کی محبت محض اللہ ( کی خوشنودی)کے لئے ہو۔ تیسرے یہ کہ جب اسے اللہ نے کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان و اسلام کی روشنی سے نواز دیا ہے تو اب وہ اسلام سے پھر جانے کو اتنا ہی برا جانے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو (براسمجھتاہے )۔( صحیح بخاری و مسلم)

فائدہ:ان روایات سے معلوم ہواکہ جب تک اطاعت نہیں ہوگی، تب تک محبت کے جذبے کو ابھارا نہیں جا سکے گا۔ صرف زبانی دعویٰ کرنا تو نہایت آسان کام ہے ؛مگر میدان عمل میں اترنا اور کچھ کر دکھانا سب سے مشکل کام ہے۔

جن سے ہوکے تیرے دیوانے گئے :

عبرت و موظت کے ساتھ ساتھ،حقیقی محبت و جانثاری کی تصویرکشی کے لیے یہاں سچے عاشقان رسول کے کچھ واقعات کا نقل کرنابھی فائدے سے خالی نہ ہوگا۔

 صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ والوں نے اپنا سفیرعروہ بن مسعود ثقفی کو بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، انہیں تاکید کی گئی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کے حالات و کوائف کا بغورمطالعہ کرنا اور پھر آکر بتانا، سفیر مکہ نے اپنے حکومت کے حکم کی تعمیل کی اور واپسی پر اپنا چشم دید بیان ان الفاظ میں دیا:”خدا کی قسم میں نے بادشاہوں کا دربار دیکھا، قیصر وکسری اور نجاشی کا دربار دیکھا، خدا کی قسم میں نے کسی کوکسی بادشاہ کی تعظیم کرتے ہوئے اس طرح نہیں دیکھا جس طرح اصحاب محمد، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں ? خدا کی قسم ان کے اصحاب ان کے لعاب ودہن کو زمین پر نہیں گرنے نہیں دیتے ? وہ کسی نہ کسی کے ہاتھ میں روک لیا جاتا ہے جسے وہ اپنے منہ اور جلد پر مل لیتے ہیں ، وہ حکم کرتے ہیں تو سب تعمیل کرنے کے لئے دوڑپڑتے ہیں ، وہ وضو کرتے ہیں تو ان کے اصحاب وضو کے پانی پریوں گرتے ہیں گویا لڑپڑیں گے اور جب وہ بات کرتے ہیں تو سب خاموش ہو جاتے ہیں ، ان کی تعظیم کا یہ حال ہے کہ ان کی جانب نظراٹھا کرنہیں دیکھتے "۔

طبقات ابن سعد میں عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ان کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہوئے دیکھا۔

 یہی وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا ہیں جو آثار رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حد درجہ عشق کرتے تھے۔ کنز العمال کی روایت کے مطابق جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرماتے ابن عمرؓ بھی وہاں نماز ادا فرماتے، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی درخت کے نیچے فروکش ہوئے ہوتے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی نگہداشت کرتے اور اس کی جڑوں میں پانی ڈالتے کہ وہ کہیں سوکھ نہ جائے۔

طبقات ابن سعد میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے مامن لیلۃ الاو أنا أر فیہا حبیبی کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں اپنے محبوب کو نہ دیکھتا ہوں ! یہ بیان کرکے روتے جاتے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو آنکھیں محض اس لیے عزیز تھیں کہ ان کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا تھا۔

 امام بخاری ؒ نے الادب المفرد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک صحابی کی آنکھیں جاتی رہیں ، لوگ عیادت کو آئے ؛ انہوں نے کہا ان آنکھوں سے مقصود تو صرف رسول اللہ کا دیدار تھا،جب سرکار دوعالم ﷺہی نہیں رہے تو ان آنکھوں کا کیا کروں ؟۔

اسی طرح شواہد النبوۃ میں ملا جامی علیہ الرحمہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ جب حضور علیہ الصلاۃ و السلام کی وفات کی خبر مؤذن رسول حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے سنی تو وہ اس قدر غمزدہ ہوئے کہ نابینا ہونے کی دعا مانگنے لگے کہ میرے حبیب کے بعد یہ دنیا میرے لیے قابل دیدنہ رہی اور خدا کی قدرت کہ آپ اسی وقت نابینا ہوگئے، لوگوں نے کہا تم نے یہ دعاء کیوں مانگی؟ فرمایا: لذت نگاہ تو آنکھوں سے ہے، مگر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میری آنکھیں کسی کے دیدار کا ذوق نہیں رکھتیں ۔

معلوم ہواکہ عشق، زبانی دعویٰ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک جذبہ ہے جو عاشق کو اپنے محبوب پر ہر شئے کو نثار کرنے پر ابھارتا ہے۔ عشق رسول ایک ایسی چاشنی ہے جو بھی اسے چکھ لیتا ہے توپھرکفار کے روح فرسا مظالم‘ جلادانہ بے رحمی و سفاکی‘ دنیا بھر کی اذیتیں اس کے پائے استقامت کو متزلزل نہیں کرسکتیں ۔ عشق رسول کا مزہ پوچھنا ہوتو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دل سے پوچھئے جنہوں نے عشق کی راہ میں کیسے کیسے صدمات سہے، ریگستان عرب کی سخت تپتی ریت پر انہیں بار بار لٹایا جاتا اور ان کے اس سینہ پر جس میں محبت رسول کے ہزاروں چراغ جل رہے تھے کفار مکہ کی جانب سے وزنی پتھر رکھا جاتا اور ان پر کوڑے برسائے جاتے پھر بھی وہ محبتِ رسولؐ کے دامن کو نہیں چھوڑتے اور زبان حال سے یہ اعلان کرتے جاتے تھے۔

میں مصطفی کے جامِ محبت کا مست ہوں

یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے

ایک طرف تو یہ عشاق رسول تھے جو حکم رسول ﷺکے آگے تن من دھن کی بازی لگادینے کو تیار تھے اور ایک طرف ہم عاشق رسول ہیں جو صرف محبت رسول کے کھوکھلے دعوے کرتے ہیں ؛مگر دل عظمت رسول سے خالی، کردار سیرت رسول سے عاری

اقبال مرحوم نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ    ؎

آئے عشاق، گئے وعدہ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

اخیر میں محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی مدظلہ کی یہ چشم کشا تحریر بھی ملاحظہ فرمائیں :

اس رحمتِ مجسم اور محسنِ اعظم کا حق تو یہ تھا کہ ہمارے قلوب ہمہ وقت اس کی عظمت واحترام سے معمور ہوتے اور ہمارے دلوں کی ہر دھڑکن اس کی تعظیم وتوقیر کی ترجمان ہوتی، ہمارا ہر عمل اس کے اسوہ حسنہ کا نمونہ، اور ہماری ہر حرکت وسکون اس کی سنتِ مطہرہ کے تابع ہوتی؛ گویا ہماری مکمل زندگی سیرتِ رسول ﷺکا تذکار اور اخلاقِ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر ہونی چاہیے تھی؛ نہ یہ کہ دیگر اہلِ ادیان ومذاہب کی دیکھا دیکھی ہم بھی اس نبی برحق اور محسنِ اعظم کی یاد وتذکرہ کے لیے چند دن مخصوص کرلیں اور پھر پورے سال بھولے سے بھی اس کی سیرت واخلاق کا ذکر تک زبان پر نہ لائیں ، لاریب کہ آپ کا تذکرہ، آپ کی یاد، اور آپ کے فکر میں حیات کے جتنے لمحے بھی گذرجائیں وہ ہمارے لیے سرمایہ سعادت اور ذریعہ نجاتِ آخرت ہیں ۔

لیکن افسوس وصد افسوس!  ملتِ اسلامیہ کی یہ کیسی بدبختی وبدنصیبی ہے کہ محسن اعظم ﷺکے مقدس نام اور سیرتِ پاک کے بابرکت عنوان پر اس ہڑبونگ، غل غپاڑا، شور وشغب اور طوفانِ بے تمیزی کا مظاہر ہ کیا جاتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے شیطان کی پیشانی بھی احساسِ ندامت سے عرق آلود ہوجاتی ہے، دل کی دنیا تاریک تر ہوتی جارہی ہے ؛ مگر اس کی فکر سے بے پرواہ بازاروں اور گلی کوچوں کو برقی قمقموں سے منور کیا جاتا ہے۔ دل کی بستی ویران اور اجاڑ ہورہی ہے ؛ مگر اس کے غم سے غافل راستوں اور چوراہوں کو حسین وخوش منظر جھنڈیوں سے سجایاجاتا ہے۔ چھ چھ آٹھ آٹھ گھنٹے حضور اقدسﷺکے نام پر جلسوں اور جلوسوں میں گذار دیا جاتا ہے ؛ مگر آں حضرت ﷺکی آنکھوں کی ٹھنڈک اوراسلام کے رکنِ اولیں نماز کے تصور تک کو ذہن ودماغ کے دریچے تک آنے نہیں دیا جاتا۔

سیرت کے ان جلسوں اور جلوسوں میں فکرِ ننگ وناموس سے بے نیاز ہوکر مردوں اور عورتوں کا جس طرح اجتماع اور اختلاط ہوتا ہے، عہد جاہلیت کا ’’جشنِ نوروز‘‘ بھی اس کے آگے ماند پڑجاتا ہے۔ قوم وملت کا اس قدر سرمایہ ان سطحی اور غیر شرعی مجلسوں کی آرائش وزیبائش میں ہر سال صرف ہوتا ہے کہ اگر اس کا عُشرِ عشیر بھی بیواؤں کی نگہداشت اور بے سہارا بچیوں کے نکاح پر خرچ کردیا جائے تو ملت کی ہزاروں ماؤں اور بہنوں کو اطمینان وسکون اور عزت وآبرو کی زندگی میسر ہوجائے۔

محسنِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مدعیو! خدارا غور وفکر اور عقل وہوش سے کام لو! وہ دعوی محبت یکسر فریب اور نرادھوکہ ہے جو اطاعت وتسلیم، جاں سپاری، وخود سپردگی کی عاشقانہ اداؤں سے خالی ہو۔ (ملخص از ماہ نامہ دارالعلوم)

المختصر:آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے حقیقی عشق ومحبت کا تقاضا یہی ہے کہ آپ کی کامل اتباع کی جائے۔ اگر انسان دو دن خوشی منا لے، محبت کے زبانی جمع خرچ کے دعوے کر لے اور پوری زندگی گناہوں میں گزار دے، اپنی حیات کے شب و روز نافرمانی کی نذر کر دے تو اس سے بڑا ضیاع کار اورکون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین



⋆ عبدالرشیدطلحہ

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر

کسی بھی منصف مزاج،غیر جانب دار،صاحب بصیرت سے پوچھا جائے کہ بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پروہ کون شخص تھا جوسب پر چھایا ہوا تھا ؟ مشرق تامغرب اور شمال تا جنوب کس کا طوطی بول رہاتھا ؟ کس کی ہمت مردانہ اور جرئت رندانہ نے ایوان برطانیہ کی چولیں ہلادی تھیں ؟تو وہ بلا تامل بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بیک جنبش لب جو نام اپنی زبان پرلائے گاوہ "محمدعلی" ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے