سیرت نبویﷺ

نبیﷺ کے اخلاق

محمد صابر حسین ندوی

انبیاء کرام کی داوں کا ثمرہ، سسکتی و بلکتی انسانیت کا ہمدرد، محبت ورواداری کا علمبردار، جاہلیت سے انسانیت کو کھینچ کر نکالنے والا، سخاوت و ظرافت کی اعلی مثال، اپنے پرائے کا غم کھانے ولا، امیدیں سبھی کی بر لانے ولا، دشمنون کا معاف کرنے والا، میدان کا شہسوار، فوج کا سپہ سالار، غازی و مجاہد اور معاشرتی زندگی کا ہم نوا، سبک روح و لطیف مزاج، انسان دوست اور انسان شناس، وہ مرد دانا وہ حکمت کا پیامبر وہ علم و دانش کی کنجی، فلاح وبہبودی کا ضامن، امن وسلامتی اور پروانہ مودت کا داعی، وہ جس کا وجود رحمت، جس کی چال بے مثال، جس کی پیشانی چمکدار، جس کا سینہ گہوارہ نور الہی، جس کے بدن کا ہر عضو اور عمل کا ہر حصہ عکس الہی میں ڈوبا ہوا، خدا کا وہ پیغمبر، بیویوں کے ساتھ شگفتگی و سادگی کا عجب منظر کہ چشم فلک شرماجائے، وہ جس کے وجود کو دنیا کا ذرہ ذرہ رشک کرے، جس کی موجودگی پر فضائیں اور رت جھوم جھوم جائیں، وہ جس کی نگاہوں سے سے دنیا بدل جائے، ہر ایک مطیع و فرمانبردار ہوکر ا س کے دربار میں نیاز حاصل کرے، ہر کوئی اسے اپنا قریبی اور اپنا سب سے عزیز تر سمجھے، باتیں کرے تو پھول جھڑیں، مسکرائیں تو دل کھل اٹھے، ہنسیں تو زمانہ لہلہا اٹھے، اور ہر کوئی کہے ’’بہت لگتا ہے صحبت میں جی ان کے‘‘، کوئی دیکھے تو سمجھ جائے کہ یہی وہ ہے جس کے ہاتھوں پوری انسانیت کا بیڑا پار لگنا، چلیں تو جن جائیں کہ قیادت اسے کی رہین منت ہے؛بلکہ وہ یہ سبھی سمجھ جائیں کہ یہ دنیا اسی کی رہین منت ہے، یہ وہی ہیں جسے محمد (فداہ روحی) صلوات اللہ علیہ والصلاۃ والتسلیم کی ذات اقدس کہتے ہیں۔

آپﷺ جسم و جان اور روح غرض ہر اعتبار سے خدا کی عظیم نشانی تھے، قرآن آپ کے اخلاق کی گواہی دیتا ہے، بلکہ قرآن ہی آپﷺ کے اخلاق ہیں، اس ذات رحمت سے کبھی کسی جان کو تکلیف نہ پہونچی، خواہ وہ مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہو یا غیر مادی دنیا سے، کسی غلام کو نہ مارا، بیویوں پر مردانگی حق جتا کر انہیںزرد وکوب نہ کیا، دوستوں کے ساتھ ترش روئی اور بے اخلاقی سے کام نہ لیا بلکہ دشمن بھی آپ کی حضور میں پناہ لیتے، کانٹے بچھونے والوں کو معاف کردیتے، اوجھڑی ڈالنے والوں اور گلہ دبوچنے والوں سے بھی عفو درگزری سے کام لیتے، فحش و بدکلامی کا خیال بھی گناہ ہے، بلکہ آپ کی طبیعت ایسی تھی کہ گویا کسی پھول کو نچوڑ کر عرق تیار کردیا گیا ہو، وہ ہر حال میں خوشبو پھیلائے، آپ ﷺ کو دیکھ کر ہر کوئی دیتا تھا کہ گویا دانستہ مصور نے قلم توڑدیا ہے، بعد از خدا تو ئی قصہ مختصر کہے بغیر نہ رہ سکتا تھا، آپﷺ کی محبت دلوں میں اتنی گہرائی اور عمق کے ساتھ اتر جاتی تھی جیسے کہ پروانے کسی شمع پر مر مٹنے پر آمادہ ہوں، وہ اسی میں اپنی خیر اور ا سی میں اپنی کامیابی گردانتا ہو۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ آپﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:آپ نہ لمبے تڑنگے تھے،نہ ناٹے کھوٹے، لوگوں کے حساب درمیانہ قد تھے،بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے،نہ بالکل کھڑے کھڑے ؛بلکہ دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی،رخسار نہ بہت زیادہ پرگوشت تھا،نہ ٹھڈی چھوٹی اور پیشانی پست،چہرہ کسی قدر گولائی لئے ہوا تھا،رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل، پلکیں لمبی،جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہکی سی لکیر، بقیہ جسم بال سے خالی، پتھیلی اور پاؤ ں پر گوشت، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤ ںاٹھاتے،اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں،جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہوتے۔ دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔آپﷺ سارے انبیاء کے خاتم تھے،سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مندسب سے بڑھ کر صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہد و پیمان کے پابند وفا۔ سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی، جو آپﷺ کواچانک دیکھتامبہوت ہوجاتا،جو جان پہچان کے ساتھ ملتامحبوب رکھتا،آپﷺ کا وصف بیان کرنے ولایہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد آپ جیسا نہیں دیکھا۔(زادالمعاد:۲؍۵۴)

اسی حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:آپﷺ کا دہانہ کشادہ تھا،آنکھیں ہلکی سرخی لئے ہوئے،اور ایڑیاں باریک تھیں( مسلم:۲؍۲۵۸)،حضرت ابولطفیل کہتے ہیں:آپ گورے رنگ، پر ملاحت چہرے اور میانہ قد و قامت کے تھے(ایضا)،حضرت انس بن مالک کا ارشاد ہے:آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیںاور رنگ چمکدار،نہخالص سفید، نہ گندم گوں وفات کے وقت تک سر اور چہرے کے بیس بال بھی سفید نہ ہوئے تھے،صرف کنپٹی کے بالوں میں کچھ سفیدی تھی،اور چند بال سر کے سفید تھے(مسلم:۲؍۲۵۹)،حضرت براء کہتے ہیں:آپﷺ کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت تھا،اور آپ کے اخلاق سب سے بہتر تھے(مسلم:۲؍۲۵۸)، ربیع بنت معوذ کہتی ہیں:اگر تم حجور ﷺ کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہے(مسند دارمی۔ مشکوۃ:۲؍۵۱۷)

آپ ﷺ کی تخلیق کی یہ شہادت تو ہے ہی آپ کے اخلاق وشمائل کے متعلق کیا کچھ کہہ دیا گیا ہے، اگر ان روایات کے وثوق کا یقین نہ ہوتا تو ہوسکتا ہے کہ نادانوں کیلئے آزمائش کی گھڑی ہوتی، آپ فصات و بلاغت میں سب سے افضل تھے،طبعی روانی، لفظ کے نکھار،فقروں کی جزالت، معانی کی صحت اور تکلف سے دوری کے ساتھ ساتھ جوامع الکلم (جامع باتوں )سے نوازے گئے تھے،آپ کو نادر حکمتوں اور عرب کی تمام زبانوں کا علم عطاہوا تھا،چنانچہ آپ ہر قبیلہ سے اسی کی زبان اور محاوروں میں گفتگو فرماتے تھے،آپ میں بدیوں کا زور بیان اور قوت تخاطب اور شہریوں کی شستگی و شائستگی جمع تھی،جس پر وحی ربانی کی تائید نے چار چاند لگادیا تھا،بردباری قوت برداشت، قدرت پاکر درگزر اور مشکلات پر صبر ایسے اوصاف تھے،جن کے ذریعہ اللہ نے آپ کی تربیت کی تھی،ہر حلیم وبردبار کی کوئی نہ کوئی لغزش اور کوئی نہ کوئی ہفوات جانی جاتی ہیں،مگر نبی اکرم ﷺ کے بلندی کردار کا عالم یہ تھا کہ آپ کے خلاف دشمنوں کی ایذ ارسانی اور بد معاشوں کی خود سری و زیادتی جس قدر بڑھتی گئی،آپ کے صبر و حلم میں اسی قدر اضافہ ہوتا گیا۔

حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپ وہی کام اختیار فرماتے جو آسان ہوتا، جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا،اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔ آپﷺ نے کبھی اپنے نفس کیلئے انتقال نہ لیا؛البتہ اگر اللہ کی حرمت چاک کی جاتی تو آپ اللہ کیلئے انتقام لیتے تھے(بخاری:۱؍۵۰۳)۔آپ ﷺ کی شجاعت وبہادری اور پائے ثبات کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:جب زور کا رن پڑتااور جنگ کے شعلہ بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہ ﷺ کی آڑ لیا کرتے تھے،آپ سے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا۔  (شفاء قاضی عیاض:۱؍۸۹)،حضرت انس کا کہنا ہے :ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا، لوگ آواز کی طرف دوڑے،راستے میں رسول اللہ ﷺ واپس آتے ہوئے ملے،آپﷺ لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہنچ کر خطرے کے مقام کا جائزہ لے چکے تھے،اس وقت آپﷺ ابوطلحہ (رضی اللہ عنہ) کے ایک ننگے گھوڑے پر سوار تھے،گردن میں تلوار حمائل کر رکھی تھی،اور فرمارہے تھے ڈرو نہیں ! ڈرو نہیں!(بخاری:۱؍۴۰۷۔مسلم:۲؍۲۵۲)۔

آپ ﷺ سب سے زیادہ حیادار اور پست نگاہ والے تھے،چلتے ہوئے کبھی نگاہ اوپر نہ رکھتے بلکہ اکثر اپنی نگاہ زمین پر گڑائے رکھتے، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:آپﷺ پردہ دار کنواری عورت سے بھی زیادہ حیادار تھے،جب آپ کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو چہرے سے پتہ لگ جاتا(بخاری:۱؍۵۰۴)،متانت و سنجیدگی سے لیس تھے،ہمیشہ غور و خوض میں غرق رہتے، امت کی بہبودی و فلاحی کیلئے اپنے کو گھلاتے رہتے، راتوں کو جاگتے، نمازیں پڑھتے اور دعا و تضرع میں سارے حدود پار کر دیتے، ایسا کہ کوئی دیکھنا والا آپ پر رحم کھاجائے، آپﷺ کی داڑی ھی تر رہتی اور امت ! امت کی رٹ لگائے رہتے، اور جب آپ ﷺ اپنی امت کے درمیان عدل و انسداف کی کرسی پر بیٹھتے تو سب سے بڑے عادی و منصف ہوتے تھے، آپﷺ کی پاک دامنی و سچ گوئی کا ہر کوئی لوہا مانتا،دوست تو دوست دشمن بھی اس سے انکار کرنے کی جسارت نہ کرتے تھے، اسی لئے نبوت سے قبل بھی آپ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے اور لوگ اپنی امانت رکواکرتے تھے، اسی لئے آپﷺ کو امین و سادق بھی کہا جاتا تھا،آپﷺ کریم النفسی کا عالم یہ تھا کوئی بھی ناگوار بات کسی سامنے نہ کہتے، اور نا ہی کسی کا نام لیکر کہتے، بلکہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے لوگ ایسا کرتے ہیں، فرزدق کا یہ شعر آپﷺ ہی کے حق میں ہے:

یغضی حیاء ویغضی من مھابتہ  فلا یکلم الا حین یبتسم

ریا کاری، بے اعتدالی اور عیب جوئی کا کوئی گزر نہ تھا، آپﷺ کسر نفسی، خندہ پیشانی اور مجلس کے وقار کی حفات میں اپنی مثال آپ تھے،خارجہ بن زید کا بیان ہے:نبی اکرم ﷺ اپنی مجلس میں سب سے زیادہ باوقارہوتے،اپنا کوئی عضو باہر نہ نکالتے،بہت زیادہ خاموش رہتے، بلا ضرورت نہ بولتے،جو شخص نامناسب بات بولتا اس سے رخ پھیرلیتے،آپ کی ہنسی مسکراہٹ تھی اور کلام دوٹوک، نہ فضول نہ کوتاہ۔آپﷺ کے صحابہ کی ہنسی بھی آپ کی توقیر و اقتداء میں مسکراہٹ ہی کی حد میں ہوتی تھی(شفاء قاضی عیاض:۱؍۱۲۱ دیکھئے:شمائل ترمذی)، خلاصہ یہ اس بحر بیکراں کی صفات کو قید نہیں کیا جاسکتا، قلم ٹوٹ جائین گے اور روشنیاں ختم ہوجائیں لیکن ا سنبی امی اور نبی رحمت کی نعت گوئی ختم نہ ہوپائے گی، وہ بے مثال اور لاثانی تھے، وہ دنیا کی آبرو اور خدا عزوجل کی نشانی تھے، وہ، وہ تھے جس کا تصور ہم عام نظروں کے بس کی بات نہیں بس قرآن کا یہ اعلان ہی کافی و شافی ہے:’’انک لعلی خلق عظیم ‘‘ (۶۸:۴) یقنیا آپ  عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔اللھم صل علی محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین(فداہ ابی وامی)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close