پیغمبر ناصح ناکہ پیغمبر فاتح

انجیل میں حضرت یحییٰ کی زبان سے ایک بشارت آئی ہے۔ وہ بشارت اس طرح ہے:

"لوگو، میں تمہیں پانی سے پاک کرتا ہوں، لیکن وہ آنے والا آرہا ہے، وہ مجھ سے بہت زیادہ زورآور طاقت والا ہے، مجھ میں یہ سکت نہیں کہ میں اس کی جوتیاں بھی اٹھا سکوں، وہ جب آئے گا تو تمہیں ‘آگ’ سے پاک کرے گا۔”

“I baptize you with water for repentance, but he who is coming after me is mightier than I, whose sandals I am not worthy to carry. He will baptize you with the Holy Spirit and fire.

عیسائی حضرات اس بشارت کوحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں جبکہ مسلم علماء اسے پیغمبراسلام سے وابستہ کرکے دیکھتے ہیں۔ مسلم علماء اس بشارت کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا پیغمبراسلام ایک ‘آتشیں پیغمبر’ تھے جنھوں نے آتے ہی دنیا کے نقشے کو بدل دیا اورقیصروکسریٰ کی دیواریں ہلاکررکھ دیں وغیرہ۔

ہمارے زیادہ ترعلماء انجیل کی بشارت کو اسی انداز میں لیتے ہیں۔ وہ پیغمبراسلام کو’ پیغمبرناصح’ کی جگہ ‘پیغمبر فاتح’ Muhammad the conqueror )) بنا کرپیش کرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی پیغمبرفاتح نہیں ہوتا وہ تو ناصح اورامین ہوتا ہے۔ چنانچہ خود ایک پیغمبرکی زبان سے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں۔ "انا لکم ناصح امین” یعنی میں تمہارے لئے خیرخواہی چاہنے والا امانت دار ہوں۔

پیغمبرناصح ناکہ پیغمبرفاتح

پیغمبرناصح کو پیغمبرفاتح قراردینے کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ سوچ پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں مسلم سماج میں جہادی ایکٹیوزم نے زورپکڑا۔ یہ سوچ مسلمانوں میں اٹھارہویں صدی میں اس وقت ابھری جبکہ 1799 میں بحرمتوسط  Mediterranean Sea ) ) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ naval fleet))  پرحملہ کرکے اسے مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف اسی سال ہندوستان میں برٹش فوج نے سلطان ٹیپوکی فوج کو مکمل شکست دے دی۔ اس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ انداز میں یہ اعلان کیا کہ ‘آج سے ہندوستان ہمارا ہے’۔

 Today India is ours))

اٹھارہویں اورانیسویں صدی میں یوروپی طاقتوں کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے چوٹ کھانے کے بعد نام نہاد مسلم دانشوروں نے مسلم نوجوانوں کو یہ بتا نا شروع کردیا کہ انجیل میں پیغمبر اسلام کوfire  سے تعبیرکیا گیا ہے۔  اور فائر طاقت یعنی Might  کی علامت ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو پھرسے فتوحات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے، یہیں سے القائدہ، طالبان، داعش، حزب اللہ جیسی تخریبی طاقتیں ابھریں اورانھوں نے اسلام کی شبیہ کو پوری طرح مسخ کرکے رکھ دیا۔ انھوں نے مذہب امن کو مذہب فساد کےہم معنی بنا دیا۔

انجیل کی بشارت

اب آ ئیے، انجیل کی اس بشارت کی تعبیرکرتے ہیں۔ انجیل میں ‘ فائر’کا ذکرتمثیلی معنوں میں ہے۔ یہاں فائرکے معنی آگ نہیں ہے بلکہ کسوٹی ہے۔ آپ کسی سنارکے پاس جائیں اوراسے اپنا سونا دکھائیں وہ اس سونے کوآگ میں ڈال کر بتا دے گا کہ سونا کتنا خالص ہے اور اس میں کتنی ملاوٹ ہے۔ آگ خالص سونے کو ملاوٹ سے پاک کر دیتی ہے۔ وہ فضلہ کو جھاگ بنا کر اڑا دیتی ہے۔

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً تمام نبیوں اوررسولوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے لائے ہوئے کلمات کے ساتھ اپنے کلمہ کو ملا دیا اورایک بات کو دوسری بات سے بدل دیا۔ یہ سلسلہ پوری تاریخ میں چلتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو برپا کیا اورانھیں ایک ایسی کسوٹی دی جوحق کو باطل سے چھانٹ کرالگ کر دینے والی تھی۔ اسی کسوٹی کو انجیل میں فائر یعنی آگ سے تعبیرکیا گیا ” میں پانی سے پاک کرتا ہوں اور وہ آگ سے پاک کرے گا ” اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم میری لائی ہوئی کتاب میں ترمیم و تحریف کردیتے ہو لیکن دیکھو، وہ جو آنے والا آرہا ہے تم اس کے ساتھ ایسا نہیں کرسکو گے کیونکہ اس کے پاس ایک ‘کسوٹی’ ہوگی یعنی ایک ایسی کتاب جس کے ذریعہ سے وہ جھوٹ کو سچ سے الگ کر دے گا۔

وہ کسوٹی کیا ہے؟

وہ کسوٹی قرآن ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جوحق کو باطل سے الگ کرنے والی ہے۔ کوئی اس کتاب میں تحریف نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس پرآگے سے یا پیچھے سے آسکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:

"یہ بڑی باوقعت کتاب ہے ، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے اللہ کی طرف سے”۔ (الفصلت: 41،42)

آگے فرمایا:  نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

دوسری جگہ فرمایا:  وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

اورکہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔

آدمی اگر گہرا مطالعہ کرے اور تفکر سے کام لے تو اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ انجیل میں تمثیل کی زبان میں قرآن کو فائریعنی آگ کہا گیا اورآگ اس لئے کہا گیا کیوں کہ آگ ایک کسوٹی ہے جو چیزوں کو ملاوٹ سے پاک کر دیتی ہے اور قرآن بھی یہی کرتا ہے کہ وہ حق کو باطل سے الگ کردیتا ہے۔ تو واضح ہو ا کہ انجیل میں آگ کا ذکر پیغمبراسلام کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ تمثیل کی زبان میں قرآن کے لئےاستعمال ہوا ہے۔ اور یہاں ہمارے علما سے تعبیر کی غلطی ہوئی ہے۔



⋆ محمد آصف ریاض

محمد آصف ریاض
محمد آصف ریاض ملک کے معروف اسلامی اسکالرہیں۔ ان کی پیدائش 14 جولائی 1977 کو پٹنہ کےایک گائوں حضرت سائیں میں ہوئی۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا اوراس کے بعد صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے بہار کے موقر روزنامہ پندارسے اپنی صحافت کی ابتدا کی۔ پھردہلی سے نکلنے والی میگزین سنڈے انڈین میں ورکنگ ایڈ یرکے عہدے پر فائز ہوئے۔ اب تک موصوف کے سینکڑوں مضامین ملکی اورغیر ملکی رسالے میں شائع ہوچکے ہیں۔ موصوف "امکانات کی دنیا"، "مظفر نگر کیمپ میں"، " موت کے اس پار" نامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہندوستان میں فتنہ تاتاری کا اعادہ اور مسلمان

سوال پیدا ہوتا ہے کہ گائے کے نام پرقتل کرنے والوں نے تیرہویں صدی کے منگولوں کا طریقہ ستم کیوں ایجاد کیا ؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ تاتاریوں کا حملہ اسلام اور مسلمانوں پربڑا زبردست تھا۔ انھوں نے بخارا، سمر قند، ہمدان، زنجان، نیشاپور، خوارزم، حلب، دمشق اورسب سے بڑھ کردارالخلافہ بغداد کو پوری طرح تباہ و برباد کر دیا تھا۔روایات میں آتا ہے کہ تاتاریوں نے عباسی خلیفہ مستعصم بااللہ کو بغداد میں اس طرح ہلاک کیا کہ خلیفہ کا خون زمین پرنہیں گرا۔ کہا جا تا ہے کہ ہلا کو خان کو کسی نے بتا یا تھا کہ اگرخلیفہ کا خون زمین پرگرجائے تو زمین کانپ اٹھتی ہے اورکوئی سلامت نہیں بچتا۔ چنانچہ اس نے خلیفہ کے قتل کی یہ تدبیرنکالی کہ پہلے خلیفہ کو پکڑ کرروئی کے غالے میں لپیٹ دیا اورروئی کے غالہ پراپنے گھوڑوں کو دوڑا دیا۔ اس طرح خلیفہ  المستعسم با للہ کو قتل کردیا گیا کہ اس کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پرنہیں گرا۔