سیرت نبویﷺ

خطبات سید سلیمان ندویؒ – سیرت نبویﷺ کا پیغام

تلخیص :ابن ماسٹرمحمدعتیق الرحمنؒ *

پیغام محمدی ؐ دائمی اور عالمگیر ہے
یہ حقیقت ہے کہ دنیامیں وقتاًفوقتاً انبیاء کے ذریعہ سے پیغام آتے رہے ، مگر وہ تمام پیغام کسی خاص زمانہ اور قوم کے لیے آیا، وہ وقتی تھا۔ اس لیے ان کی دائمی حفاظت کا سامان نہ ہوا۔ ان کی اصل برباد ہوگئی، مدتوں کے بعد مرتب کیے گئے اور ان میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ان کے ترجموں نے ان کو کچھ سے کچھ بنادیا۔ ان کی تاریخی سند کا ثبوت باقی نہیں رہا۔ بہت سے جعلی پیغام ان میں شریک کیے گئے اور یہ سب چند سو برس کے اندر ہوگیا۔ اگر اللہ کا کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا تو ان کا مٹنا اور برباد ہوجانا ہی ان کے وقتی فرمان اور عارضی تعلیم ہونے کا ثبوت ہے مگر جو پیغام محمدﷺ کے ذریعے آیا۔ وہ عالمگیر اور دائمی ہوکر آیا۔ اسی لیے وہ جب سے آیا اب تک پوری طرح محفوظ ہے اور رہے گا کیونکہ اس کے بعد پھر کوئی نیا پیغام آنے والا نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے کسی گذشتہ پیغام کے متعلق یہ نہیں فرمایاکہ اس کی تکمیل ہوچکی اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار میں ہوں۔ دنیا کے تمام وہ صحیفے جوگم ہوچکے، ان کا گم ہوجانا ہی ان کے وقتی اور عارضی ہونے کی دلیل ہے اور جو موجودہیں ان کی ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں ان کی تکمیل اور ان کی حفاظت کے وعدہ کے متعلق ایک حرف ہو بلکہ ان کے خلاف ان کے نقص کے اشارے اور تبدیلیاں موجود ہیں۔ اس کے برعکس محمدﷺ کے پیغام میں کوئی نقص نہیں پایاجاتابلکہ وہ اپنیتکمیل کا آپ دعویٰ کرتاہے۔
الیوم اکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی(المائدہ:3) آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔
قرآن مجید نے اپنے صحیفے کی کسی آیت میں کسی بعدمیں آنے والے پیغمبر کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ہے ، اس سے معلوم ہواکہ صرف وہی پیغام ربانی جو حضرت محمدﷺ کے ذریعے دنیا میں آیا ، اللہ کا آخری اور دائمی پیغام ہے اور اسی لیے وانا لہ لحافظون(الحجر: 9) کے وعدے سے اللہ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے لی ہے۔
پیغام محمدی سب کے لیے عام ہے
پیغام محمدیؐ دنیا میں اللہ کا پہلا اور آخری پیغام ہے ، جو کالے ، گورے ، عرب و عجم، ترک و تاتار، ہندی و چینی، زنگ و فرنگ سب کے لیے عام ہے جس طرح اس کااللہ تمام دنیا کا اللہ ہے الحمد للہ رب العالمین سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام دنیا کا پروردگار ہے، اسی طرح اس کا رسول تمام دنیا کا رسول رحمۃ للعالمین تمام دنیا کے لیے رحمت ہے اور اس کا پیغام بھی تمام دنیا کے لیے ہے ، ارشاد ہوا:ان ھو الا ذکریٰ للعالمین یہ تو تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔(الانعام: 90)
دوسرے مقام پر فرمایا:
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا(الفرقان : 1۔2) برکت والا ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب اتاری تاکہ وہ تمام دنیا کو خبردار کرنے والا ہو۔
الغرض پیغام محمدیؐ بھی اسی طرح کامل ، دائمی اور عالمگیر ہے جس طرح اس پیغام کے لانے والے کی سیرت اور اس کا عملی نمونہ کامل، دائمی اور عالمگیر ہے ۔
پیغام محمدیؐ نے تمام مذاہب کی تکمیل کی
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کامل، دائمی اور عالمگیر پیغمبرکاآخری، دائمی اور عالمگیرپیغام کیا ہے جس نے تمام مذاہب کی تکمیل کی اور ہمیشہ کے لیے اللہ کے دین کو مکمل اور اللہ کی نعمت کو تمام کردیا۔
ہر مذہب کے دو جز ہیں۔ ایک کا تعلق انسان کے دل سے ہے اور دوسرے کا انسان کے باقی جسم اور مال و دولت سے ہے ۔ پہلے کو ایمان اور دوسرے کو عمل کہتے ہیں۔ عمل کے تین حصے ہیں: ایک اللہ کے متعلق ہے جس کو عبادات کہتے ہیں، دوسرا انسان کے باہمی کاروبار کے متعلق ہے جس کو معاملات کہتے ہیں اور جن کا بڑا حصہ قانون ہے ، تیسرا انسان کے باہمی روابط و تعلقات کی بجاآوری سے ہے ، اس کو اخلاق کہتے ہیں۔ غرض اعتقادات ، عبادات، معاملات اور أخلاق مذہب کے یہی چار جز ہیں اور یہ چاروں جز پیغام محمدی ﷺ کے ذریعے تکمیل کو پہنچے ہیں۔
پیغام محمدیؐ کا خلاصہ ۔ ایمان اور عمل
اسلامی تعلیمات کے وسیع سلسلے کو اگر ہم دو مختصر لفظوں میں ادا کرنا چاہیں تو ہم ان کو ایمان اور عمل صالح کے دو لفظوں سے تعبیر کرسکتے ہیں ، ایمان اور عمل یہی دو چیزیں ہیں جو ہر قسم کے محمدی پیغام پر حاوی ہیں اور قرآن مجید میں انہی دوچیزوں پر انسانی نجات کا مدار ہے یعنی یہ کہ ہمارا ایمان پاک اور مستحکم ہو اور عمل نیک اور صالح ہو۔ الذین آمنوا وعملوا الصالحات قرآن مجیدمیں کئی جگہ آیا ہے اور ہر جگہ صاف صاف کھول کھول کربیان کیا ہے کہ فلاح اور کامیابی صرف ایمان اور عمل صالح پر منحصر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیغام محمدی ؐ نے ایمان و عمل کے متعلق تمام دنیا کی غلطیوں کی اصلاح کی اور دین ناقص کو تکمیل کے درجہ تک پہنچایا اور ان اصولی اور بنیادی غلطیوں کو دور کیا جن کی بناپر انسانیت حد درجہ پستی اور گمراہی میں تھی ۔ وہ غلطیاں ہر قسم کی گمراہیوں کی بنیاد اور جڑ تھیں۔محمدرسول اللہ ﷺ کا اصولی اور بنیادی پیغام
(1) ان بنیادی مسائل میں سب سے پہلا مسئلہ جو پیغام محمدیؐ کے ذریعے سامنے آیا، وہ کائنات اور مخلوقات الٰہی میں انسانیت کا درجہ ہے اور یہی توحید کی جڑ ہے ۔ اسلام سے پہلے انسان اکثر مخلوقات الٰہی سے اپنے کو کم درجہ ورتبہ سمجھتاتھا۔
محمدرسول اللہ ﷺ نے آکر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اے لوگو! یہ تمام چیزیں تمہاری آقا نہیں بلکہ تم ان کے آقا ہو، وہ تمارے لیے پیدا کی گئی ہیں،تم ان کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ۔ وہ تمہارے آگے جھکی ہیں، تم کیوں ان کے آگے جھکتے ہو؟ اے انسانو! تم اس کائنات میں اللہ کے نائب اور خلیفہ ہو، اس لیے یہ ساری مخلوقات اور کائنات تمہارے زیرفرمان کی گئی ہے ، تم اس کے زیر فرمان نہیں کیے گئے، وہ تمہارے لیے ہے تم اس کے لیے نہیں ہو۔
(2) حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کا دوسرا اصولی اور بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان اصل خلقت میں پاک ، بے گناہ اور اس کی فطرت کی لوح بالکل سادہ ہے ۔ وہ خود انسان ہی ہے جو اپنے اچھے اور برے عمل سے فرشتہ یا شیطان بن جاتاہے۔ یہ سب سے بڑی خوشخبری اور بشارت ہے جو بنی نوع انسان کو محمدﷺ کے ذریعہ ملی ۔
(3) ظہورمحمدیﷺ سے پہلے دنیا کی یہ کل آبادی مختلف گھرانوں میں بٹی ہوئی تھی اور لوگ ایک دوسرے سے ناآشنا تھے۔ یہ پیغام محمدی ﷺ ہی ہے جس نے مغرب، مشرق، شمال، جنوب ہرطرف اللہ کی آواز سنائی اور بتایا کہ اللہ کی رہنمائی کے لیے ملک، قوم اور زبان کی الگ پہچان کی ضرورت نہیں، اس کی نگاہ میں فلسطین ، ایران ، ہندوستان اور عرب سب برابر ہیں۔ ہرجگہ اس کے پیغام کی رہنمائی کا نور چمکا۔
(4) تمام مذہبوں نے عبدو معبود اور اللہ و بندے کے درمیان واسطے قائم کررکھے تھے۔ یہاں عبدو معبود اور اللہ اور بندے کے درمیان کوئی حائل نہیں اور یہ سب سے بڑی آزادی ہے جومحمدرسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے انسانوں کو عطاہوئی یعنی یہ کہ اللہ کے معاملے میں انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات ملی۔
(5) انسانوں کی تعلیم و ہدایت کے لیے جومقدس ہستیاں وقتاًفوقتاً آتی رہیں، ان کے متعلق ابتدا سے قوموں میں حددرجہ عقیدت مندی کی زیادتی اور کمی رہی ہے ، زیادتی یہ تھی کہ نادانوں نے ان کو خود اللہ یا اللہ کا مثل یا اللہ کا روپ اور مظہر ٹھہرایا۔
اسلام نے اس منصب عظیم کی صحیح حیثیت مقرر کی اور بتایاکہ انبیاء نہ اللہ ہیں ، نہ اللہ کے مثیل ہیں، نہ اللہ کے اوتارہیں، نہ اللہ کے بیٹے اور رشتہ دار ہیں۔ وہ آدمی ہیں اور محض آدمی ہیں۔ وہ بشرہیں اور خالص بشریت کے جامے میں ہیں تمام انبیاء بشر تھے اور آخری پیغمبر نے خود اپنے متعلق کہاکہ میں بشر ہوں۔ انما انا بشر مثلکم یوحی(الکہف: 110)
یہ ہے اعتدال اور درمیانی راہ جو پیغام محمدی ﷺ نے انبیاء علیہم السلام اور رسولوں کی نسبت قائم کی ہے جو ہر قسم کی کمی اور زیادتی سے پاک ہے اور اس مذہب کے مناسب ہے جس نے دنیا میں توحید کی تکمیل کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close