سیرت نبویﷺ

وفا کو ایک تخیل بنا لیا ہم نے !

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے حقیقی عشق ومحبت کا تقاضا یہی ہے کہ آپ کی کامل اتباع کی جائے۔ اگر انسان دو دن خوشی منا لے، محبت کے زبانی جمع خرچ کے دعوے کر لے اور پوری زندگی گناہوں میں گزار دے، اپنی حیات کے شب و روز نافرمانی کی نذر کر دے تو اس سے بڑا ضیاع کار اورکون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں >>

اِنک لعلی خلق عظیم

موسم ربیع میں آپﷺ کی ولادت سے ایک طرف دنیا میں بہار آئی تو دوسری طرف اس ماہ مبارک میں آپﷺ کی وفات سے خزاں چھایا۔ لہٰذا اس خزاں کو دور کرنے اور روٹھی بہار کو واپس لانے کا آسان نسخہ آپﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی کامل اتباع اور آپﷺ کے خلق عظیم کا اختیار کرنا اور اسوۂ حسنہ کو اپنانا ہے، اللہ سب کو بھر پور توفیق دے۔

مزید پڑھیں >>

کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں!

جو بنیادی شرط ہے وہ اسلام میں خود پورے کا پورا داخل ہونے اور نبی کریم ﷺ کے اُسوہ حسنہ پر عمل ہے۔ یہ وہ شرط ہے جس کے عملی مظاہرے لیے  ختمی مرتبت ﷺ کو اعلان نبوت سے قبل ایک دو نہیں، دو چار یا دس بیس بھی نہیں پورے چالیس سال کا وقت دیا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ مکے کا کوئی  ایک فرد بھی  ایسانہ تھا جو اُنہیں ’صادق اور امین ‘ نہ سمجھتا ہو!لہٰذا موجودہ حالات  کتنے ہی خراب اور   بظاہر مایوس کن سہی، مسلمانوں کے سنبھلنے اور پھر سے غلبہ حاصل کرنے کے امکانات بھی کم نہیں ہیں۔ مایوسی قوائے عمل کو شل کرتی ہے تو ’امید ‘متحرک اور باعمل رکھتی ہے !

مزید پڑھیں >>

جشنِ ولادت یا  نفس پرستی

اصل محبت یہ ہے کہ اللہ اوررسول کے فرمان کو زندگی میں برتاجائے، اس سے سرموانحراف نہ کیا جائے۔ محبت وعقیدت کاتقاضہ یہی ہے کہ جس سے محبت کادعویٰ کیاجارہاہے اس کے ہرحکم کوسرآنکھوں پر رکھاجائے۔ آج کے جھوٹے محبت کے دعوے داروں کی طرح نہیں کہ دن رات مختلف آلائشوں میں رہیں، نمازوروزہ کاکوئی پاس نہ ہو۔ بس سال میں ایک بار محبت کی نام پرخواہش نفسانی کا اظہاراوراسراف وتبذیر کا وطیرہ اپنایاجائے جوکہ سراسر اسلام اوررسول کے فرمان کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں >>

رسول اللہ ﷺ سے محّبت

صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ سبحانہ وتعالی سے اور نبی اکرمؐ سے دل وجان سے محبت کرتے ہیں،  کافی نہیں ہے؛ بل کہ آپؐ سے  محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان احکام خداوندی کو بجا لائیں جن کا اللہ تعالی نے حکم دیا اور ان چیزوں سے رک جائیں جن سے ذات باری تعالی نے منع فرمایا ہے۔قرآن کریم کی ہدایات کو اپنے سینے سے لگائیں۔

مزید پڑھیں >>

شافع الامم کی شفاعت

  شفاعت و رحمت و مقام محمود کی بے شمار احادیث موجود ہیں۔ خوش عقیدہ مسلمان کے لئے اتنا ہی کافی وشافی ہوگا جو منکرین شفاعت ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت نصیب فرمائے۔ شہنشاہ زمن استاد زمن حسن بریلوی فرماتے ہیں۔ دشمنوں کے لیے ہدایت کی۔ تجھ سے کرتا ہوں التجا یا رب، اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام خوش عقیدہ ایمان والوں کو حضور شفیع المذنبیین شافع الامم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین !۔

مزید پڑھیں >>

جانوروں کے ساتھ نبی کریم کا کریمانہ برتاؤ

آپ  نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ رحم وکرم کاحکم دیا ہے، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید کی ہے، نقصان دہ ضرر رسان جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی بے رحیمانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کے لادنے اور سواری میں بھی ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے اور زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

خادموں  کے ساتھ حسنِ سلوک

اللہ عزوجل نے اس کارخانۂ دنیا کے نظام کو چلانے اور انسانی ضروریات کی آپس میں  تکمیل کے لئے خود انسانوں  کے مابین فرقِ مراتب رکھا ہے، کوئی حاکم ہے تو کوئی محکوم، کوئی آقا ہے تو کوئی غلام، کوئی بادشاہ ہے تو کوئی رعایا، کوئی غنی ہے تو کوئی فقیر؛ لیکن انسانوں  کے مابین یہ فرقِ مراتب اور یہ درجات اور مقام کے لحاظ سے یہ اونچ نیچ صرف اس لئے ہے کہ ہر ایک کی ضرورت کی تکمیل دوسرے سے ہوجائے.

مزید پڑھیں >>

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟

قرونِ مشہود لہا بالخیر کے لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیجئے، ہر ایک کے یہاں اتباع سنت کا اہتمام ملے گا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی زندگی انقلاب سے آشنا ہوئی، آج کا مسلمان سیرت کی اثر انگیزی سے اس لیے محروم ہے کہ اس میں اتباعِ رسول اور اسوۂ حسنہ کی پیروی نہیں ہے، صحابہ سے لے کر تابعین سلف ِ صالحین اور اولیائِ امت نے سیرت کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیا ہے، تو پھر کیا ہم اسوۂ رسول کو اپنا کر اپنی زندگیوں کو انقلاب سے آشنا کریں گے۔

مزید پڑھیں >>

سیرت نبوی کا ایک اہم باب : غزوۂ احد

قرآن کریم میں کفار کی ہٹ دھرمی اور سرکشی کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ غزوۂ بدر میں شکست کھانے کے بعد کفار مکہ نے بھی اسی سرکشی کا مظاہرہ کیا۔ سلیم الفطرت ہوتے تو ہرطرح طاقت ور ہونے کے باوجود حاصل ہونے والی شکست کے اسباب پر غور کرتے۔ اپنے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے لوگوں سے رائے مشورہ کرتے۔ لیکن کہاں ؟ وہ تو سرکشی اور دشمنی کی حدیں پارکرگئے تھے۔

مزید پڑھیں >>