تاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط سوم)

رستم علی خان

عزازیل بحکم ربی نیک جنات کی جماعت کے ساتھ زمین پر آیا اور اپنے نائب مقرر کئیے اور خود اللہ کی عبادت اور درس تدریس میں مشغول رہتا۔ جب دل چاہتا آسمانوں پر چلا جاتا جنت کی سیر کرتا۔عزازیل کا منبر بھی جنت میں تھا جہاں بیٹھ کر وہ فرشتوں کو درس و تدریس دیتا اور اس کے منبر پر عرش کا ایک ٹکڑا (یا کونہ) ہر وقت سایہ کئیے رکھتا_

روایت میں ہے کہ گو کہ ابلیس اللہ کی عبادت و ریاضت میں ہر وقت مشغول رہتا اور حکم ربی بجا لانے میں کبھی کوئی کوتاہی یا دیر نہ کرتا۔ لیکن مادہ نار ہونے کی وجہ سے اپنی قوم کی طرح اس میں بھی غیض و غضب اور سرکشی کا عنصر پایا جاتا تھا۔ اس پر مستزاد اس میں اپنے والدین کی صفات خود سری بےخوفی چالاکی اور مکاری بھی پائی جاتی تھی۔ اس سب کے سبب کبھی کبھی وہ اپنے مقام و مرتبے اور قدر و منزلت پر مغرور بھی ہو جایا کرتا تھا۔ کبھی یہ سوچنے لگتا کہ اب اگر اللہ کائنات کا نظام اس کے ہاتھ میں تھما دے تو وہ باآسانی سب سنبھال لے گا۔ یا شائد اسے لگنے لگا کہ اللہ کا نظام اس کی مدد و معاونت سے چل رہا ہے۔ اسے اپنے علم و عمل اور قوت و بہادری پر غرور ہوتا۔ لیکن پھر اسے احساس ہوتا کہ جو اللہ اسے سب دے سکتا وہ چھین بھی سکتا اور وہ دل کے خیالات کو دبا لیتا۔ لیکن ایک تکبر اس میں آنے لگا اپنی عبادت و ریاضت اور علم و مرتبے کا جو آگے چل کر اس کی بربادی کا سبب بنا-

ابلیس کے نائب قوم کی ہدایت اور انہیں راہ حق پر لانے کے لئیے کوشاں ہو گئے لیکن بگڑی ہوئی قوم پر نہ تب اثر ہوا نہ ابھی ہو رہا تھا۔ قوم کے سرکش اور بگڑے ہوئے جنات نے ایک ایک کر کے ابلیس کے نائب شہید کرنے شروع کر دئیے۔ جب عزازیل نے دیکھا کہ یہ نہیں سدھرنے کے تو وہ اللہ کے دربار میں پنہچا اور اجازت چاہی کہ وہ پھر سے زمین کو ان سرکشوں سے پاک کر دے۔

اجازت مل گئی اور عزازیل خود فرشتوں کا لشکر لے کر قوم پر قہر الہی بن کر نازل ہوا اور قتل عام شروع کر دیا…بہت سے جنات مارے گئے اور بچ جانے والے جو پہاڑوں اور جزیروں پر جا کر چھپے ان پر حد عائد کر دی گئی کہ جو بھی نظر آئے اسے قتل کر دیا جائے…اور اس طرح ایک بار پھر زمین پاک ہو گئی…اور ابلیس کے اندر اس بات سے بھی فخر و غرور بڑھ گیا کہ جو کام اس نے کیا شائد کوئی اور نہ کر سکتا تھا….لیکن وہ بھول گیا کہ اللہ سرکشوں کو پہلے بھی عبرتناک سزائیں دے چکا ہے۔

جب زمین سرکش جنات سے پاک ہو گئی تو اللہ نے زمین کو حکم بھیجا کہ ہم تجھ سے ایک مخلوق پیدا کریں گے اور وہ ہمارے نائب اور خلیفہ ہوں گے….بعض نافرمان ہونگے اور بعض ہمارے فرمانبردار ہونگے اور ان کی تخلیق تجھ سے ہو گی تجھ پر رہیں گے اور وقت مقررہ پر تجھی میں جائیں گے اور دن مقررہ کو دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور اپنے اعمال پر جزا و سزا کے مرتکب ہوں گے اور نیکو کار اور فرمانبردار جنت میں اور سرکش و نافرمان دوزخ میں داخل ہونگے۔

ایک دن عزازیل نے دیکھا کے فرشتے لوح محفوظ کے نیچے کھڑے رو رہے ہیں…عزازیل نے پوچھا تو انہوں نے لوح محفوظ کی طرف اشارہ کیا جہاں فصیح عربی میں لکھا تھا…

"ہمارا ایک مقرب کہ عبادت رب کی اتنی کرے گا کہ کوئی ٹکڑا زمین و آسمان میں نہ ہو گا جہاں سجدہ نہ کیا ہو گا…لیکن ایک سجدہ حکم کا نہ کرے گا اور مردود ہو گا”

عزازیل نے کہا کہ غم نہ کرو یہ کوئی اور ہو گا…لیکن ملائکہ نے کہا کہ آپ ہمارے حق میں دعا فرما دیں تب عزازیل نے دعا کی کہ

"اے اللہ ان سب پر رحم فرما اور یوں نہ کہا کہ ہم پر رحم فرما”

پھر اسی فصیح عربی میں ایک اور عبارت نمودار ہوئی۔

"اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم”

عزازیل دربار ربی میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ یا اللہ یہ کون شیطان مردود ہے جس سے پناہ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے…آپ مجھے بتائیں اور حکم دیں میں اس کی گردن کاٹ دوں ۔ ارشاد ہوا جلدی نہ کر بیشک تو بہت جلد دیکھ لے گا اسے۔

اللہ رب العزت نے فرشتوں سے اپنے ارادے کو ظاہر فرمایا جیسا کہ قرآن سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا
ترجمہ: اور جب تمہارے پرودگار نے فرشتوں سے کہا میں زمین پر اپنا نائب بنانے والا ہوں- اور انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسےشخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے- اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں- فرمایا تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں-

یعنی اللہ تعالی نے آدم اور ان کی اولاد کی تخلیق کا ارادہ ظاہر فرمایا- تو فرشتوں کو ان کی تخلیق کی خبر دی جیسے ہر بڑا کام کرنے کی خبر دی جاتی ہے- فرشتوں نے عرض کی کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرے- اس بات سے مقصد آدم سے کوئی حسد، بیزاری یا بغض رکھنا نہیں تھا (کہ فرشتے ان سے پاک معصوم مخلوق ہیں) بلکہ مزید جاننا تھا اور وہ جنات کی سرکشی اور نافرمانی بھی دیکھ چکے تھے اس لئیے برسبیل تذکرہ یہ بات پوچھی کہ مزید بتایا جائے- اور مزید کہا کہ اگر انہیں بھی (جنات کی طرح) اپنی عبادت کے لئیے پیدا کرنا ہے تو وہ ہم ہیں جوہر وقت تیری عبادت کرتے ہیں بنا اکتائے اور بیزار ہوئے- تو اللہ نے فرمایا کہ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں-

اور پھر اللہ تعالی نے حضرت آدم کو بنانے کے لئیے تمام زمین سے مٹی منگوائی اور پتلا تیار کیا اور اپنے ہاتھوں سے حضرت آدم کا پتلا بنایا- اور وہ چالیس سال تک پڑا رہا- مقصد یہ تھا کہ اس پر طرح طرح کے رنج و الم اور ہر طرح کا موسم گزرے گا تو اس کی تخلیق میں یہ سب برداشت کرنے کا مادہ ڈال دیا گیا-

فرشتے جب بھی اس (پتلے) کے پاس سے گزرتے تو خوفزدہ ہوتے اور ابلیس سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتا اور گزرتے وقت اسے ٹھوکر مار کر گزرتا اور اس میں سے ایسی آواز آتی جیسے کھنکتی ہوئی مٹی سے (ہم نے انسان کو کھنکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا : الرحمن) اور وہ اس خاکی بدن کے منہ سے داخل ہوا اور دوسری طرف سے نکل گیا اور بعض روایات میں ہے کہ وہ داخل ہوا لیکن جب سینے تک پنہچا تو گھٹن ہوئی کہ حضرت آدم کا پتلا مٹی کا تھا جسے پانی سے گوندھا گیا تھا اور ابلیس ہوا اور آگ کا مرکب تھا (مٹی اور پانی میں یہ حاصیت ہے کہ آگ کو ٹھنڈا کر دیتی ہیں) تو وہ باہر نکلا اور غصے سے حضرت آدم کے پتلے کی ناف والی جگہ پر تھوکا اور بعد ازاں اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہاں سے مٹی نکلوائی اور اس سے کتا بنایا اور اسے انسان کا فرمانروا رکھا…ار بعض جگہ ہے کہ جسم میں داخل ہوا تو دل تک پنہچا اور دل میں گھسنا چاہا پر نہ جا سکا کوئی عمل کارگر نہ ہوا- تبھی کہا جاتا کہ اللہ کہیں نہیں سما سکتا سوائے مومن کے دل کے کہ وہ اللہ کے لئیے خاص ہے اور شیطان بس وسوسہ ڈال سکتا دل میں۔واللہ اعلم الصواب۔
جب وہ (ابلیس) پتلے میں داخل ہوا اور نکلا تو کہا کہ تجھے کسی خاص مقصد کے لئیے پیدا کیا گیا ہے- اور فرشتوں سے کہا کہ اس سے نہ ڈرو تمہارا رب صمد ہے لیکن یہ تو کھوکھلا ہے- اگر اسے میرا فرمانروا رکھا گیا تو میں اسے تباہ کر دوں گا اور اگر مجھے اس کی فرمانروائی میں رکھا گیا تو نہ رہوں گا اور انکار کر دوں گا-

اور جب وہ وقت آیا کہ روح پھونکی جانے لگی تو تمام فرشتے موجود تھے اور روح کو حکم ہوا کہ داخل ہو جا تو روح نے جسد کے گرد سات پھیرے لگائے اور پھر کہا کہ اندر اندھیرا ہے میں نہیں رہ سکتی تو دوبارہ حکم ہوا کہ داخل ہو جا ایک وقت مقررہ تک اور دوبارہ لوٹ آئے گی ہمارے پاس (یہ وعدہ کیا کہ تجھے نکال لیں گے ایک مقررہ مدت کے بعد تب روح داخل ہوئی…تبھی مومن کی روح دنیا میں بے چین رہتی ہے) اور جب داخل ہوئی ناک کے نتھنے سے اور سر تک پنیچی تو حضرت آدم کو چھینک آئی اور کہا الحمد للہ…اور اللہ نے جواب دیا "یرحمک اللہ” اور جب روح پیٹ میں داخل ہوئی تو کھانے کی خواہش پیدا ہوئی اور سامنے جنت کے پھل دیکھے تو ہاتھ زمین پر ٹکا کر اٹھنے کی کوشش کی پر روح ابھی ٹانگوں تک نہ پنہچی تھی سو نہ اٹھ سکے تو ارشاد ہوا :

ترجمہ: بیشک انسان اتاولا ہے اور پھر اللہ نے آدم کو تمام (چیزوں) کے نام یاد کروائے اور پھر ان چیزیں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا اگر تم سچے ہو (کہ جب اللہ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے خیال کیا کہ اللہ جو بھی بنائے گا ہمارے پاس اس سے زیادہ علم ہو گا: تفسیر حسن بصری ر ح) تو انہوں نے کہا تیری زات پاک ہے اور ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے سکھایا…پھر آدم سے کہا تو انہوں نے سنا دئیے اور تب فرمایا میں نہ کہتا تھا جو بات میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے (یعنی دلوں کے راز) اور بعد اس کے فرشتوں کو حکم ہوا کہ اسے سجدہ کرو اور سب سجدے میں گر گئے سوائے شیطان مردود کے کہ اس نے تکبر کیا…اور جب اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں اس سے بڑا ہوں علم اور مرتبے میں اور میری پیدائش اس سے افضل ہے کہ میں اس آگ سے بنا ہوں جو مقدس ہے اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے…تو ارشاد ہوا کہ نکل جا تو انکاری ہوا اور تکبر کیا تجھ پر لعنت ہو اللہ کی دن قیامت تک اور تو مردود ہوا ہمیشہ کے لئیے (روایات میں ہے کہ فرشتوں نے دو سجدے کئیے پہلا حکم کا اور دوسرا شکر کا کہ جب دیکھا اٹھ کر تو ابلیس کو دیکھا کہ وہ شیطان مردود ہوا تو شکر اس بات کا کہ وہ انکار کرنے والوں میں سے نہ ہوئے اسی لئیے نماز میں دو سجدے رکھے پہلا حکم کا اور دوسرا حکم بجا لانے کا) تب شیطان نے کہا کہ قسم ہے تیری ذات کی میں انہیں بہکاوں گا اور ان پر آوں گا اوپر سے نیچے سے آگے سے پیچھے اور دائیں بائیں سے اور انہیں نافرمان کروں گا تیرا…ارشاد ہوا جو تیری مانیں گے اور نافرمان ہونگے سخت سزا دوں گا اور دوزخ کا عذاب دونگا اور ان کا انجام تیرے ساتھ ہو گا… ابلیس نے کہا کہ مجھے مہلت دے دن مقررہ تک کی جب دوبارہ اٹھائے جاویں گے..اور میں انہیں بہکاوں گا سوائے ان کے جو تیرے مخلص ہونگے…روایات میں ہے کہ تب اس (ابلیس) نے اللہ سے تین چیزیں مانگیں-

1: قیامت تک کی زندگی

2: آدم کے ہر بچے کی پیدائش کے ساتھ ابلیس کے ایک بچے کی پیدائش (روایات میں ہے کہ انسان کے ہاں بچے کی ولادت کے بعد اسے شیطان سب سے پہلے چھوتا ہے جس سے وہ رونے لگتا ہے تبھی مسلمانوں کو بچے کے کان میں اذان کا حکم ہے کہ ابلیس اذان کے کلمات سے بھاگ جاتا ہے…واللہ اعلم الصواب)

3:انسان کے دل تک رسائی کہ وسوسہ ڈال سکے….تینوں باتیں منظور ہوئیں اور اسے آسمانی دنیا سے رد کر دیا گیا اور مردود ہوا۔

بعد اس کے اللہ تعالی نے حضرت آدم سے فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی (دونوں) جنت میں داخل ہو جاو اور جو مرضی کھاو پئیو لیکن ایک شجر کا پھل کھانے سے منع فرما دیا کہ اس کے قریب نہ جانا ورنہ تم نافرمانوں میں ہو جاو گے-

یہاں تھوڑی سی وضاحت حضرت اماں حوا کی پیدائش کی بھی کرتے چلیں…قرآن حکیم میں حضرت اماں حوا کی تخلیق کے بارے سورہ النساء میں صرف اتنا بیان ہوا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک جان پیدا کیا اور پھر اسی سے جوڑا بنایا…اور صحیح بخاری کی حدیث میں بیان ہوا ہے کہ عورت خو ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہے گا (سختی سے) تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر اسے ایسے ہی چھوڑ دے گا تو ٹیڑھی ہی رہی گی تو اس سے پیار سے نفع اٹھا…

جب کہ بائبل کی روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو جب اللہ نے دیکھا کہ افسردہ بیٹھے ہیں تو ان پر نیند طاری کی اور ان کی بائیں جانب کی چھوٹی پسلی سے اماں حوا کو پیدا فرمایا اور جب وہ جاگے تو اپنے قریب ایک نہایت خوبصورت عورت بیٹھی تھیں..
اور یہی روایت آگے چلی آ رہی ہے مزید اس میں بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ جب آدم بےاختیار ان کی طرف بڑھے تو انہیں روک دیا گیا اور فرمایا کہ پہلے تمہارا نکاح ہو گا اور تم حق مہر ادا کرو گے اس کے بعد تم پر حلال ہونگی اور اللہ نے خود نکاح پڑھوایا اور بعد اس کے حق مہر میں وجہ کائنات محبوب خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا تین بار یا گیارہ بار واللہ اعلم الصواب۔

لیکن قرآن و حدیث سے اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں سوائے اس کے کہ اماں حوا کو حضرت آدم کے ساتھ ہی جنت میں داخل کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ ان کی پیدائش ہو چکی تھی پہلے ہی کیسے ہوئی واللہ اعلم-

روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کے ساتھ پہریداری کے لئیے سانپ اور طاوس(مور) کو بھی جنت میں رکھا.. شیطان نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مخلوق کو بہکائے گا پھر شیطان نے انہیں بہکایا شیطان اپنے علم سے جنت کے دروازے پر آیا اور داخلے کی اجازت چاہی تو دھتکار دیا گیا اور واپس ہوا اور دوسری بار پچھلی طرف سے آیا اور جنت کی دیوار پر بیٹھ کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے لگا جب مور نے اس کی آواز سنی تو بےحد میٹھی لگی وہ اس کی طرف گیا شیطان نے اس سے داخلے کی اجازت چاہی اور کہا بدلے میں تمہیں ایک ایسی چیز دوں گا کہ تم اور بھی خوبصورت ہو جاو گے اور یہ ہمیشہ کے لئیے رہنے والی ہو گی- لیکن مور نہ مانا اور دھتکار دیا…بعد اس کے وہی حربہ سانپ کے ساتھ آزمایا اور وہ بہک گیا اور شیطان سے کہا مگر میں تمہیں لے کے کیسے جاوں تب اس (ابلیس) نے کہا تم اپنا منہ کھولو اور اپنے علم سے سانپ کے منہ میں گھس کے جنت میں داخل ہوا اور حضرت آدم کے پاس گیا اور انہیں بہکانے کی کوشش کی…لیکن وہ نہ مانے اور دھتکار دیا-

اور بعد اس کے اماں حوا کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ اللہ نے آپ کو جو سب دیا ہے یہ ختم ہو جانے والا ہے آپ کا حسن خوبصورتی جوانی یہ نعمتیں سب کچھ ختم ہو جانے کو ہے- لیکن میں آپ کو ایک چیز بتا سکتا ہوں جس سے یہ سب ہمیشہ کے لئیے ٹھہر جائے گا بلکہ مزید بڑھے گا آپ کے اختیارات آپ کا حسن یہ نعمتیں سب اور بھی بڑھ جائیں گی-

اماں حوا اس کے بہکاوے میں آ گئیں اور حضرت آدم کو بھی کسی طرح راضی کیا اور اس درخت کے پاس پنہچے (فرمایا کہ جب آدم پھل کھانے کو ہوا تو ہم نے صبر کو روک دیا کہ ہم کائنات کو بنانا چاہتے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کون ہمیں بن دیکھے مانتا ہے اور ہماری فرمانروا ہوتا ہے) جب اماں حوا نے اس کا پھل توڑا تو اس جگہ سے (جہاں سے پھل توڑا) خون نکلا… اور جب انہوں نے پھل پر دانت گھاڑے ابھی کھائے نہ تھے کہ ایک دم ان کا جنتی لباس اتر گیا اور وہ برہنہ ہو گئے اور جنت کے درخت (روایات میں انجیر کا زکر ہے) کے پتوں سے اپنے ستر کو ڈھانکنے لگے- اور حکم ہوا کہ نکل جاو بیشک تم ہوئے ظلم (اپنے نفس پر) کرنے والوں میں سے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close