صنعتی انقلاب اور واحد سپر پاورکی گرفت!

محمد آصف ا قبال

سترہویں صدی عیسوی میں یورپ کے سیاسی مفکرین یا تو استبداد (despotism)ظلم و جبر کے حامی تھے یا دستوری حکومت کے علمبردار اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حامی۔بوداں اور ہابس کا شمار استبداد کے حامیوں میں تھا اور لاک دستوری حکومت کا حامی تھا۔روسو عوامی اقتدار اعلیٰ کا مبلغ تھا اور مانتسکیو فرد کی آزدی کا۔سترہویں صدی کے آخری سہ ماہی میں فرانس میں ایک زبردست سیاسی انقلاب برپا ہوا جس نے یورپ کے سیاسی نظام کی بنیادیں ہلا کے رکھ دیں۔کہا جاتا ہے کہ انقلاب فرانس کی بنیادآزادی، مساوات اور اخوت پر تھی۔ ان نعروں نے سارے یورپ کو مسحور کر دیا اور یورپ کے عوام ہر جگہ مستبد،ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ لیکن فرانس کے انقلابیوں کی زیادتیوں نے اور ظالمانہ کاروئیوں نے انگلستان میں ایڈمنڈبرک اور امریکہ میں ہملٹن اور میڈیسن کو انقلاب کے مخالفوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ان مفکرین نے سیاسی آزادی کا علم بلند کیا۔برک کے فلسفے کے خلاف طامس پین نے اپنا سیاسی فلسفہ پیش کیا اور عوامی اقتدار اعلیٰ کی پرزار حمایت کی۔اس طرح یورپ اور امریکہ میں انقلاب فرانس اور جمہوریت کی موافقت اور مخالفت میں سیاسی مفکرین نے اپنے اپنے نظریے پیش کیے۔
انقلاب فرانس کے یورپ اور امریکہ دونوں بّر اعظموں میں بہت دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ نتیجہ میں ایسی قوتیں وجود میں آئیں جنہوں نے انیسویں صدی کے سیاسی فلسفے پر گہرا اثر ڈالا۔ انقلاب فرانس کے بعد فرانس میں نیپولین بونا پارٹ برسر اقتدار آیا جس نے جمہوریت کو ختم کرکے مستبدد شہنشاہیت،ظالمانہ نظام حکومت کی بنیاد ڈالی اور یورپ کے بہت سے ملکوں پر اپنا تسلط قائم کیا۔بعد میں یورپ کے تمام ملکوں میں فرانسیسی شہنشاہیت کے خلاف بغاوت شروع ہوئی اور اس نے قوم پروری کو جنم دیا۔نیپولین کے زوال کے بعد یورپ کے سیاسی نظام کی بنیاد قوم پرستی و قوم پروری پر پڑی اور قومی مملکتیں وجود میں آنے لگیں۔وہیں فرانسیسی انقلاب کے ساتھ ساتھ یورپ میں اٹھارہویں صدی میں ایک دوسرا انقلاب، صنعتی انقلاب شروع ہوا۔جس کے گہرے اور دور رس اثرات انیسویں صدی میں محسوس ہوئے۔اس انقلاب نے سارے بر اعظم یورپ کی مادی حالت کو بالکل ہی بدل کے رکھ دیا۔اتنی زبردست تبدیلی اس سے پہلے دنیا کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔اس انقلاب نے ایک نئی تہذیب اور نئے طرز زندگی کو جنم دیا۔دونسلوں میں ہزار دو ہزار سال پہلے کی تہذیب بالکل ہی تبدیل ہوکے رہ گئی۔نئی قدروں نے پرانی قدروں کی جگہ لی اور طرز زندگی تبدیل ہو گئی۔یہی نئی تہذیب آج تک بڑی حد تک پوری دنیا پر مسلط ہے۔اس انقلاب نے یورپ کی سیاسی فکر کو بھی متاثر کیا۔جس کے اثرات موجودہ دور میں خوب اچھی طرح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں ہر چیز پروڈکٹ، اشیاء خوردنویش کی شکل میں موجود ہے۔جسے کوئی خریدتا ہے تو کوئی فروخت کرتا ہے۔صنعتی انقلاب کی ترقی کا یہ وہی دور ہے جہاں انسانی جان،عزت و ابرواور عفت و عصمتیںcommodityکی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
صنعتی انقلاب کا آغاز اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں بھاپ کے انجن کی ایجاد اور دوسری مشینوں کی ایجاد سے ہوا تھا۔انیسویں صدی میں ایجادات کی وجہ سے صنعتی پیدوار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ پرانے خانگی نظام صنعت کی جگہ اب پیداوار مشینوں اور بجلی سے چلنے والی مشینوں سے ہونے لگی۔بڑے بڑے کار خانے اور فیکٹریاں قائم ہوئیں اور نئے نئے صنعتی شہر وجود میں آنے لگے۔جن کی آبادی ہزاروں سے متجاوز تھی۔اب دولت کی نئی قسمیں وجود میں آئیں اور نیا طبقہ سرمایہ داروں،صنعت کاروں اور مل والوں کا پیدا ہوا۔جس نے صنعتوں میں اپنا سرمایہ لگایا اور اب ساری طاقت انہیں طبقوں کے ہاتھوں میں آگئی۔روز بروز ان کی دولت بڑھتی گئی اور مصنوعات کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں مزدوراجرت پر ان مِلوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے لگے۔فنی مہارت کی ترقی سے صنعتی انقلاب روز بروز پھیلتا گیااور یہاں سے فنی مہارت کا دور شروع ہوا۔
صنعتی انقلاب کا دوسرا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ آبادی میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔اور لوگ دیہاتوں کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں شہروں میں بسنے لگے۔1800ء میں بّر اعظم یورپ کی کل آبادی 18کروڑ76لاکھ63ہزارتھی۔سو برس میں یعنی 1900ء میں اس صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں یہ آبادی تین گنی ہوگئی۔نتیجہ میں شہری اور دیہی آبادی کے تناسب میں زمین آسمان کا فرق آگیا۔انگلستان میں شہری آبادی کا تناسب بڑھ کے ستر فیصد ہو گیا اور امریکہ میں چارفیصد سے بڑھ کے چالیس فیصد،یعنی پورے دس گنے کا اضافہ۔شہری آبادی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے بے شمار معاشی اور سماجی مسئلے کھڑے ہو گئے۔حفظان صحت اور صفائی کے پیچیدہ مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیم کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں رہا۔شہری سہولیات اور ذرائع نقل و حمل میں آسانیوں کے نتیجہ میں شہری آبادی کے بڑھ جانے کا اثر سیاسی فکر اور فلسفے پر بھی پڑا۔شہروں سے اکثر و بیشتر سیاسی تحریکیں شروع ہوئیں اور شہری آبادی کے مسائل کی وجہ سے نئے نئے سیاسی اور معاشی نظریے دنیا کے سامنے سیاسی مفکرین نے پیش کیے۔دوسری جانب صنعتی اور فنی مہارت کی بنا پر تمام برسراقتدار قوموں کو ایشیا اور افریقہ کے بّر اعظموں میں اپنے مقبوضات بڑھانے کا زبردست موقع فراہم کیا۔انگلستان نے ایک جانب ہندوستان میں اپنی عظیم الشان سلطنت کو مضبوط اور مستحکم کیا اور برما اور ملایا پر قبضہ جمایا۔وہیں دوسری جانب انیسویں صدی میں بّر اعظم افریقہ کا بڑا حصہ انگلستان، فرانس،بلجیئم اور جرمنی نے آپس میں تقسیم کر لیا۔اس حصہ بانٹ میں اٹلی کا بھی کچھ حصہ رہا۔انیسویں صدی سامراجی توسیع کی صدی تھی۔متعدد شہنشاہیتوں کو عروج حاصل ہوا۔ان میں سب سے بڑی سلطنت برطانیہ عظمیٰ کی تھی۔صنعتی پیداوار اور ترقی کے لحاظ سے برطانیہ اول نمبر پر تھا۔وہیں سامراج کی بنیاد پر جارحانہ قوم پرستی کا آغاز ہوا۔معاشی قوم پرستی اور سامراج کا قیام صنعتی انقلاب ہی کی دین ہے۔
صنعتی انقلاب جو آج بھی جاری ہے،اس کے فروغ نے کام کرنے والوں اور کام لینے والوں یعنی سرمایہ داروں کے تعلقات کی بنیاد کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔وہیں یہ صنعتی انقلاب چونکہ عدم مداخلت کے اصولوں پر کار بند تھا اور ہے ،اس لیے نتیجہ یہ ہوا کہ معاشی میدان میں زبردست مسابقت شروع ہوئی اور کام کرنے والوں یعنی مزدوروں کا پورے طور سے سرمایہ دار طبقہ استحصال کرنے لگا۔یعنی ان کی محنت سے ہر امکانی ناجائز فائدہ اٹھانے لگا۔اس کی وجہ سے بے کاری،بے روزگاری،تحفیف، کسادبازاری،ملوں اور کارخانوں کے بند ہونے اور سرمایہ داروں کے دیوالیہ ہونے کے مسئلے اٹھ کھڑے ہوئے۔بے شمار مسائل سے یہ مزدور دوچار ہوئے۔نتیجہ میں ایک بار پھر اصلاح حال کی تدبیریں سوچی جانے لگیں۔خیالی اشتراکیت(Utopian Sociolosm)کے نظریے پیش کیے گئے۔کارل مارکس منظر عام پر آیا،جس نے اشتراکی فکر کو سائنٹفک فکر کی شکل دینے کی سعی و جہد کی۔مارکس کی تعلیمات کے اثر سے پرولتاریہ(Proletariat)سب سے زیادہ منظم اور سیاسی اعتبار سے باشعور ہو گیا۔عالمی اشتمالیت( ایک ایسے معاشرے کا حامی نظریہ جس میں شخصی ملکیت کو ختم کرکے املاک کو قوم کی مشترکہ ملک بنایا جائے، قوم کے ہر فرد کو اپنی لیاقت کے مطابق کام کرنے اور ضرورت کے مطابق حصہ پانے کے استحقاق کا مسلک، کمیونزم)کے قائم ہوجانے سے اینگلو انڈین بلاک کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ وہ کمیونزم کا ہر ممکن مقابلہ کرے،نتیجہ میں دنیا دو سپر پاور طاقتوں سے آزاد ہو کر آج واحد سپر پاور کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔۔۔۔(جاری)

مضمون:  ملک شام کی تہذیبی و تاریخی اہمیت

⋆ آصف اقبال

آصف اقبال
آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔