تاریخ عالم

فرانسسکو پزارو کے شہر میں!

عمیرفاروق

(آپ امریکہ میں مقیم ہیں،معروف کالم نگار)

واپسی پہ سڑک پر تُریخییو شہر کے بورڈ پہ نظر پڑی تو کچھ یاد آیا ، ہاں فرانسسکو پزارو! تب رک نہ سکا اور بے اختیار اس کے شہر کی طرف چل پڑا۔

یہ بعد از کولمبس نیا نیا دور تھا۔ نئی دنیا سے آنے والی نئی انواع کی پیداوار تو ہسپانیہ کا رخ کر ہی رہی تھی اس کے ساتھ ساتھ امریکاؤں کی مقامی سلطنتوں کے دور دراز پراسرار شہروں اور انکی افسانوی دولت کا بھی چرچا تھا۔ جہاں سونے چاندی کے پہاڑ تھے یہیں “ال دورادو” کا متھ ایجاد ہوا یعنی سونے کا شہر جس کی دیواریں بھی سونے والی مٹی سے پلستر ہوئی تھیں۔ ان کہانیوں پہ یقین کرکے جنگ باز مہم جو انکی تلاش میں روانہ ہوئے جنکو آج فاتحین یا conquestadores کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ہنگامہ خیز دور تھا نئی دریافتیں نئی دولتوں کے دروازے کھول رہی تھیں اس عہد کو دریافتوں کے دور ( age of discovery)  کہا جاتا ہے۔ قرون وسطی دم توڑ رہا تھا اور عہد جدید اپنا راستہ استوار کررہا تھا۔ کریبیئن میں قائم ہسپانوی نوآبادیوں سے نکل کے جب ہرناندو کورتیز نے میکسیکو کی مایا سلطنت کو تاراج کیا تو وہ پہلا کونکستادور تھا حاصل ہونے والا سونا چاندی کئی بحری جہازوں پہ سپین بھیجا گیا اور اس کے ساتھ ہی ال دوریدیو کی متھ پہ حقیقت ہونے کی مہر ثبت ہوگئی۔

فرانسسکو پزارو، تُریخییو کا رہنے والا اور ایک ہسپانوی کرنل کی ناجائز اولاد تھا جو پانامہ کی ہسپانوی نوآبادی میں تعینات تھا ایک عیسائی تبلیغی کی اس اطلاع ،کہ جنوب میں آج کے پیرو اور ایکواڈور میں انکا سلطنت مایا جتنی دولت کی مالک ہے، پہ پرجوش ہوگیا۔ پانامہ کے گورنر سے اجازت اور ساٹھ ستر جنگجو لیکر حملہ آور ہوا لیکن پسپا ہونا پڑا تب اس نے براہ راست شاہ سپین سے مدد اور اجازت مانگی۔ اس طرح ڈھائی سو افراد جن میں تُریخییو کے رہنے والے اور اس کے اپنے رشتہ دار بھی تھے کو لیکر وہ اِنکا سلطنت پہ حملہ آور ہوا۔ حاصل کی جانے والی دولت کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے معاہدہ صلح میں اِنکا بادشاہ نے جو تاوان دینا منظور کیا وہ ایک بہت بڑے کمرے کو مکمل طور پہ سونے سے اور دو اسی سائز کے کمروں کو چاندی سے بھر دینا تھا۔ اِنکا سلطنت کی فتح کے بعد سپین جانے والی دولت کا صرف اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے۔

یہ سپین کی تاریخ کا سنہرا دور تھا نئی دنیا سے آنے والی نئی پیداوار آلو، ٹماٹر، تمباکو اور شکر جو کہ یورپ کے اس دور میں گویا سونے کے بھاؤ تھی کی بے بہا پیداوار اور اس پہ مستزاد سونے اور چاندی سے لدے جہازوں نے  سپین کو دنیا کا امیر ترین اور یورپ کا طاقتور ترین ملک بنا دیا۔ حالت یہ تھی کہ سپین سے بیدخل ہونے والے مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرکے بھی سلطنت عثمانیہ نے سپین سے الجھنے سے گریز کیا۔ سپین اطالوی اور فرانسیسی دستکاروں کی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی تھا۔ اس دولت نے امرا کے محلات کے علاوہ نئی پبلک اور مذہبی عمارتوں کی تعمیر کا دروازہ کھول دیا۔ اس دور کا تعمیر کیا گیا انفراسٹکچر اتنا وسیع ہے کہ آج اس کی دیکھ بھال بھی کارِ داد ہے اور زیادہ تر غفلت کا شکار ہورہا ہے۔

یہ ہسپانوی/ لاطینی ثقافت کے عروج اور پھیلاؤ کا دور تھا ہسپانوی فلوریڈا، کیلیفورنیا سے لیکر چلی اور ارجنٹینا تک خوشگوار اور گرم موسموں کے علاقوں میں پھیل چکے تھے اور ہر چیز کی فراوانی تھی۔ لاطینی ثقافت اپنا نکتہ عروج لیکر ایک نرم گرم آرام دہ سکون کے جمود میں منجمد ہوتی گئی۔ اس میں پروقار ذوق اور نفاست تو تھی لیکن برطانوی نوآبادیات کی ہنگامہ خیز کاروباری بھاگ دوڑ نہ تھی اور نہ ہی فرانسیسی نوآبادیات کی منظم بیوروکریسی موجود تھی جو عہد کی ضروریات کے مطابق سماج کو آگے دھکیلتی۔۔ تبھی سے خوابیدہ ہسپانوی آبادیوں کی اصطلاح نے جنم لیا۔

پزارو نے حاصل شدہ دولت سے بادشاہ کا حصہ الگ کیا اور باقی دولت سب میں تقسیم ہوئی فرانسسکو اوریانا بھی حصہ دار تھا جو تُریخییو کا رہائشی اور اس کا عزیز بھی تھا اسی طرح دیگر لوگ تھے جن میں بہت سے اسی شہر کے رہائشی تھے۔ اس آنے والی دولت نے تُریخییو جیسے تاریخی شہر پہ کیا ثقافتی اور معاشی اثرات مرتب کئے ہونگے جو اتنا اہم تھا کہ مسلمانوں کے دور میں یہاں قلعہ قائم تھا اور باقاعدہ شہر اس دور میں موجود تھا۔

یہ سب سوالات ذہن میں لئے شہر میں داخل ہوتا ہوں۔ ہسپانوی لاطینی آبادیوں کا دل اس کا مرکزی چوک یا پلازہ میئر یا پلاسا ماجور ہوتا ہے جو بلند و بالا ستونوں کے برآمدوں کے اندر واقع دکانوں، کافی تیرتا ، بلدیہ کی عمارت یا دیگر اہم پبلک عمارتوں پہ مشتمل ہوتا ہے یہ شہر کا ڈرائنگ روم ہوتا ہے وینس کے پلاسا یا پیازہ ساں مارکو کی طرح۔

یہ فٹ بال گراؤنڈ سے بڑا پتھر کی سلوں سے ڈھکا چوک ہے جس کے دو طرف بلند ستونوں کے پیچھے دوکانیں ہیں میں ایک کافے تیریا سے کافی لے کے دھوپ میں بیٹھ جاتا ہوں۔ میرے ایک طرف فرانسسکو پزارو کی بیٹی کا محل ہے سب کچھ پتھر سے تعمیر ہوا ہے دائیں جانب کیتھیڈرل کے سائز کا عظیم الشان گرجا ہے اس کے ساتھ کئی میٹر چوڑی پتھر کی سیڑھیاں ہیں جو اوپر چبوترہ نما دید بان تک جاتی ہیں۔ دید بان کے عقب میں ایک اور محل ہے جس کے سامنے لکڑی کا برآمدہ ہے۔ بل کھاتی گلیاں فصیل شہر سے گزر کر اندرون شہر سے ہوتی چوٹی پہ واقعہ عربوں کے دور کے قلعہ کی طرف جاتی ہیں۔ فصیل کے اندر فرانسسکو پزارو کا گھر ہے جہاں وہ پیدا ہوا۔ ایک عام پتھر سے بنا دو بیڈ روم کا گھر۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پتھر کا بنا یہ تمام انفراسٹکچر رفیع الشان ہے لیکن لوگ موجود نہیں۔ اونچے اونچے کلیساؤں کے کلسوں میں پرندوں نے گھونسلے بنا لئے ہیں۔ میرے سامنے بلدیہ کا تھیئٹر ہے جو اپنی تعمیر میں قابل رشک ہے اس کے ماتھے پہ  پتھر سے گھڑا ہوا شہر کا نشان یا کوٹ آف آرم ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی یہ ویران گاؤں ایک باقاعدہ شہر تھا لیکن سب کچھ بند ہے۔ محلات کی بالکونیاں اور پتھر سے بنی حسین جالیاں آج بھی دیدہ زیب ہیں کائی چڑھ جانے کے باوجود ، پلازہ میئر کی مرکزی دکانوں میں زیادہ تر بند ہیں۔ میں چشم تصور سے گزرے دور کو دیکھتا ہوں جب ہر طرف گہما گہمی ہوگی اور آج ویرانی ہے۔ دوپہر سر پہ چڑھ رہی ہے کیفیٹیریا کا ویٹر کیفے بار کے قیلولہ کے لئے بند ہونے کا اعلان کرتا ہے اور بل تھما دیتا ہے۔ میں اسے دیکھتا ہوں وہ مقامی نہ ہے بلکہ جنوبی امریکی اور پیرو ایکواڈور  کا نظر آتا ہے۔ بے اختیار ایک مسکراہٹ جنم لیتی ہے یہ اسی اِنکا سلطنت کے لوگ تھے جن پہ فرانسسکو پزارو نے حملہ کرکے اس کو تاراج کیا اور آج یہی لوگ پزارو کے ویران شہر میں داخل ہورہے ہیں۔

تاریخ کا دائروی چکر کتنا عجیب ہے کل کے مفتوح آج کے فاتحین بن جاتے ہیں۔ میں اپنی ہمسفر کو آگے چلنے کا کہتا ہوں لیکن سوالات ذہن میں زندہ رہ جاتے ہیں۔ تاریخ کی الٹ پھیر اور دائروی چکر کے پیچھے آخر کیا سبق ہے ؟ پزارو کی بیٹی کا محل بھی سنبھالنے والا آج کوئی کیوں نہیں؟؟

اس سوال کا جواب اگلے سوال کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آخر اتنی رفعت لینے اور تمام تر طاقت کے باوجود لاطینی ثقافت کا چشمہ ایسا خشک کیوں ہوگیا؟ وہ منجمد کیوں ہوکے رہ گئے اور پائرے نیز کے شمال کا یورپ ان سے اتنا آگے کیوں بڑھ گیا؟
تاریخ کا دائروی چکر عجیب و غریب ہے تاریخ سے کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا حالانکہ تاریخ نے بار بار اپنا سبق دہرایا لیکن یہ نوع انسان کی بدقسمتی ہے تاریخ سے کچھ نہ سیکھنا۔ سوال چھوٹا نہیں بہت بڑا ہے کہ آخر قرطبہ، غرناطہ کے ساتھ تُریخییو اور کاسے ریس ماضی کے مزار بنتے گئے؟ کہیں تو پلاسینسیا کی طرح ان مزاروں کو سنبھالا بھی نہیں جاسکتا۔ غلطی کہاں اور کیوں ہوئی کہ فاتح بھی مفتوح ہوکے رہ گیا؟

سفر ایسا عجیب ہے کہ کامیابی ناکامی کا راستہ بھی کھولتی ہے خوش قسمتی بدقسمتی کی طرف اس طرح لے جاتی ہے کہ ہار اور جیت میں فرق تلاش کرنا ہی دشوار ہوجاتا ہے۔ سپین کے عروج کے ساتھ ہی اس زوال جڑا ہوا تھا عرب کی طرح لیکن اسے کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سپین کی قسمت کا ستارہ اسی طرح تیزی سے عروج کو پہنچا جس طرح عربوں کا۔ آراگون کی ملکہ ازابیلا اور کاستیل کے بادشاہ فرڈینینڈ کی شادی ہوئ تو یہ دونوں تاج مل گئے اور انہوں نے ٹکڑوں میں بٹے سپین کو متحد کرنا شروع کیا جس کا حتمئ نتیجہ اندلس میں غرناطہ کے سقوط اور سپین سے مسلم اور یہودیوں کے خروج میں نکلا تب سپین کو حیرت انگیز کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ نئی دنیا کا دروازہ کھل گیا اور سونے چاندی سے لیکر ہر چیز کی بہتات ہوگئی۔ تاریخ عالم میں اتنی جلد اور حیرت انگیز کامیابی کی صرف ایک ہی مشابہت تھی اور وہ تھی مدینہ کی سلطنت کا قیام ،عرب میں اسلام کا ظہور جس کے کچھ ہی عرصہ بعد سپین سے لیکر وسطی ایشیا تک ایک سلطنت مسلمانوں کو مل گئی۔ بعینہ اسی طرح جس طرح مسلمانوں نے جزیرہ نمائے عرب سے کفار کو خارج کیا تھا اور سلطنت پائی تھی اسی طرح سپین میں ازابیلا اور فرڈی ننڈ کے دور میں کلیسا کے اصرار پہ جزیرہ نمائے آیئبیریا سے کیتھولک عیسائیت کے منکر و کفار یعنی مسلمان و یہودی خارج کئے گئے تو ساتھ ہی نئی دنیا اور اس کے سونے چاندی کے پہاڑ انعام میں مل گئے۔ دونوں طرف کے علماء کا ماننا تھا کہ اس رحمت کی وجہ کفار کا خروج، درست ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ سپین کے بادشاہ اپنی تمام تر حشمت کے باوجود عیسائی علماء کے اسی طرح محتاج تھے جس طرح عباسی خلفاء۔ یہ ایک مذہبی ریاست ہی تھی جس میں علماء حکومت میں برابر شریک تھے۔

نظریہ یہی تھا کہ یہ سب کامیابی درست ایمان اور نیکی کی وجہ سے ہوئی ہے اور دین و دنیا میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ عوام الناس کو درست ایمان پہ رکھا جائے۔ سپینش کلیسا نے اس مقصد کے لئے مذہبی عدالتیں اور پولیس بھی قائم کرلی تھی سعودیہ کے شُرطوں یا ایران کی مذہبی پولیس کی طرح۔ اس کے علاوہ خفیہ مذہبی پولیس بھی موجود تھی جو براہ راست علماء کے زیراثر تھی۔ اس پولیس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ ایمان جانچنے کا ایک رویہ ظاہری ہے کہ سر پہ گول کروشیے والی یہودی ٹوپی( جو مسلمان نمازی سفید رنگ کی پہنتے ہیں اور یہودی سیاہ رنگ کی لیکن یہ ایک ہی ٹوپی ہے)  اور ٹخنوں سے اونچی شلوار پہ فرد کے راسخ العقیدہ مسلم یا یہودی ہونے کا گمان کیا جاسکتا ہے لیکن یہ علامات ظاہری ہیں عیسائی راہبانییت ظاہر سے زیادہ باطن پہ یقین کرتی تھی فرد کے اندر کے ایمان کو کیسے جانچا جائے ؟

اس کا معروضی پیمانہ یہی تھا کہ بدعقیدہ کفار ( یہود و مسلم ) سور کے گوشت سے اجتناب کرتے ہیں لہذا سور کا گوشت نہ کھانے والا کافر ہوا لیکن مسئلہ یہ بھی تھا کہ عیسائیت کے کافر مسلم و یہودی وغیرہ منافق بھی تھے جو مذہبی عدالت یا پولیس کے مطالبہ پہ سور کا گوشت کھا بھی لیتے تھے۔ تو خفیہ مذہبی پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا کیونکہ یہ لوگ نجی محفلوں میں سور سے اجتناب کرتے تھے تو خفیہ مذہبی پولیس انکو رپورٹ کرتی تھی جس کے بعد یہ لوگ مذہبی عقوبت خانوں میں حاضر ہوتے تھے اور انکی صفائی کی جاتی تھی۔  ہسپانوی بادشاہ دیگر یورپ کی طرح سیکولر بادشاہ بن بھی سکتے تھے لیکن اس تاریخ کے اسیر ہو کے رہ گئے کہ ریاست کی تمام تر کامیابی درست عقیدہ پہ مشتمل ہے اور بدعقیدہ مسلم و یہود کو خارج کرنے کے بعد ہی یہ انعام اللہ کی طرف سے سپین کو ملا ہے۔ اس دلیل کا توڑ کسی کے پاس نہ تھا مسلم تاریخ کی طرح۔

یوں لاطینی ہسپانوی ثقافت باقی یورپ کے مقابلہ میں ایسے جمود کا شکار ہوئی کہ اب مسلم ثقافت سے ہی اس زوال کا موازنہ کیا جاسکتا ہے اور عجب یہ کہ دونوں ایک ہی فکری مغالطہ کے اسیر ہوئے کہ دنیا میں کامیابی درست عقیدہ اور نیک مذہبی اعمال سے مشروط ہے اس طرح دونوں تہذیبوں میں سیکولرزم کا دروازہ سختی سے بند ہوگیا۔ شام کے سائے بڑھنا شروع ہوئے تو سیلانی نے بھی تُریخییو سے رخت سفر باندھا باقی رہے نام اللہ کا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close