کولمبس: انسانی تاریخ کا ایک  سیاہ باب!

وقاص چودھری

کولمبس تیس اکتوبر 1451 میں ریپبلک آف جنوا (اٹلی) میں پیدا ہوا۔  سلطنت ہسپانیہ کا تنخواہ دار ملازم رہا۔ وہ ایک تجربہ کار سپاہی اور مہم جو جہاز ران تھا۔ مگر ایک سیاح کے طور پر زیادہ معروف ہوا۔ وہ اختیارات، دولت اور دربار تک رسائی کا ہمیشہ متمنی رہا۔ اس مقصد کے لئے وہ نت نئے منصوبے سوچتا رہتا تھا۔ یہی چیز اسے نئے ممالک کی کھوج اور دریافت پر اکساتی تھی۔

12 اکتوبر 1492 ء میں کولمبس نئے سمندری راستے سے مشہور منگول بادشاہ قبلائی خان کی سلطنت کی تلاش میں نکلا۔ اسکا اندازہ تھا کہ میں اس سمندری راستے پر مشرق کی طرف سفر کرتے ہوئے منگول سلطنت تک پہنچ جاؤں گا۔ مگر وہ قبلائی خان کے ”چین یاسی پانگو” (جاپان) کے بجائے شمالی امریکہ کے جزائر بہا ماس یعنی جزائر غرب الہند کی طرف آ نکلا اور وہ ساری زندگی کیوبا، جمیکا، بہاماس کو قبلائی خان کی سلطنت کے علاقے سمجھتا رہا۔ کولمبس ان جزائر میں سب سے پہلے ”گوانا ہانی” موجودہ ڈومنیکن ری پبلک اور ہیٹی کے علاقے میں اترا۔اسی نے ”گوانا ہانی” اور اس کے قرب جوار کے جزائر کو ہسپانوی نام ” سان سالو یڈور” دیا۔ جیسے جیسے اس کا جہاز زمین کے قریب آ رہا تھا اسکی حیرت بڑھتی جا رہی تھی، ایک نئی، خوبصورت اور سر سبز دنیا اسکے سامنے تھی۔ یہاں اتر کر کولمبس کو جو پہلی منفرد چیز نظر آئی وہ وہاں کے مقامی باشندے  آرواک قبائل کے ریڈ انڈین یعنی  سرخ ہندی باشندے تھے۔

جن کے بارے میں کولمبس خود اپنے روزنامچے میں لکھتا ہے۔۔۔۔ !!

”وہ ہمارے لئے رنگ برنگے پرندے، روئی کے گٹھے، کمانیں اور دوسری اشیا لے کر آئے اور بدلے میں ہم سے بیلوں کی گردن میں ڈالنے کی گھنٹیاں اور شیشے کی لڑیاں لے گئے۔ یہ لوگ اشیا کے بدلے اشیا کے تبادلے پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ان کے جسم مضبوط اور صحت مند ہیں۔ یہ لوگ سادہ اور جفا کش اور بے ضرر نظر آتے ہیں۔

ان لوگوں کو نہ تو ہتھیار روں کے استعمال کا علم ہے نہ ہی کسی ہتھیار سے مسلح ہوتے ہیں۔ جب میں نے انہیں اپنی تلوار دکھائی تو بیشتر نے اپنی انگلیوں اور ہاتھوں کو تیز دھار تلوار سے زخمی کر لیا۔ یہاں ابھی تک لوہے کا استعمال شروع نہیں ہوا ہے۔ ان کے تیر اور کمان لکڑی، گنے اور بانس سے بنے ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ بہترین خدمت گار اور اچھے غلام ثابت ہونگے۔ ہم صرف پچاس لوگوں کی مدد سے تمام آبادی پر غلبہ پا سکتے ہیں۔ ”

یہ سطریں اس روزنامچے کا حصہ ہیں جو کولمبس اپنے اس سفر کےاہم واقعات کی یادداشت اور ملکہ کو رپورٹ دینے کی خاطر لکھتا تھا۔ان چند الفاظ نے اس داستان خونچکاں کی بنیاد رکھی جو پانچ صدیوں پر محیط ہے۔ اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ ریڈ انڈین پر امن لوگ، بے ضرر اور کشادہ دل لوگ تھے۔

بظاہر یہ انکی تعریف ہی تھی مگر ا ن الفاظ نے انکی قسمت پر بد نصیبی کی مہر لگا دی۔ اس تحریر نے ریڈ انڈین کے ساتھ جو کچھ کیا با لکل ویسا ہی نوم چومسکی کے تعریفی کالم کے بعد عافیہ صدیقی کے ساتھ ہوا کیونکہ ماضی اور حال کے غارت گر ان دونوں تحریروں کا مطلب خوب سمجھتے تھے۔

کچھ ماہ وہاں رہنے کے بعد 15 مارچ 1493ء کو کولمبس واپس اسپین پہنچا تو اس کا رائل ایڈمرل کے طور پر استقبال کیا گیا۔ وہ سونے اور چاندی کی ڈلیاں، مکئی، طرح طرح کے پرندے،تمباکو اور دس بد نصیب ریڈ انڈین غلام ساتھ لایا۔

کل تک جو شخص ملکہ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا آج ملکہ اور بادشاہ کے ساتھ شاہی محل میں بیٹھا انواع و اقسام کے کھانے کھا رہا تھا اور اسے مصا حب خاص کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس موقع پر کولمبس نے ایک تحریری رپورٹ ملکہ کی خدمت میں پیش کی جسے سرکاری دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ کولمبس اپنی رپورٹ میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ:۔

”ریڈ انڈین اپنے دفاع کے قابل نہیں، انکے رسم و رواج میں ذاتی ملکیت کا تصور نا پید ہے۔ ان سے کچھ بھی طلب کیا جائے وہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے زمین اور وسائل کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ استعمال اور ملکیت کا قانون رائج ہے جبکہ استعمال کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔

موت اور نقل مکانی کی صورت میں نئے استعمال کرنے والے آ جاتے ہیں لیکن متعلقہ لواحقین کسی اثاثے پر خاندانی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتے۔ اگر بادشاہ اور ملکہ میری مدد کریں تو اتنا سونا لا دوں کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو اور اتنے غلام لا دوں کہ جتنے کا حکم دیا جائے گا”۔۔

اپنی چکنی چوپڑی باتوں، سفر کے انوکھے واقعات، اور ریڈ انڈین اور انکے علاقےسے متعلق معلومات سے لبریز گفتگو نے اپنا اثر دکھایا اور اس نے ملکہ کو راضی کر لیا کہ وہ دوبارہ اس سفر پر جانا چاہتا ہے لہٰذا اگر ملکہ اور بادشاہ اس مہم کے اخراجات کا ذمہ لے لیں تو کئی گنا دولت لا کر انکے قدموں میں ڈھیر کر دےگا۔

یوں 25 دسمبر 1493 کو کولمبس شمالی امریکہ کی طرف اپنے دوسرے سفر پر روانہ ہوا تو یہ اس کی زندگی کا نقطہ عروج تھا۔ بحیثیت رائل ایڈمرل اس کی کمان میں سترہ جہاز دئے گئے جن میں بارہ سو افراد بھرے ہوئے تھے جن میں ایک سےبڑھ کر ایک جہاں دیدہ جنگجو، ماہر تلوار باز، تجربہ کار تیر انداز گھوڑے، مال مویشی، بکریاں، کتے، سور، مرغیاں، اناج، بیج، عمارتی سامان، اور اسلحہ بھرا ہوا تھا۔ اگر اس قافلے اور اسکے ساتھ جانے والے سامان کا جائزہ لیا جائے تو آسانی سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ قبضے، لوٹ مار اور مستقل رہائش کے مقصدسے جا رہے تھے۔

ان جانے والوں لوگوں میں اکثریت خطر ناک جرائم پیشہ افراد کی تھی۔ اس طرح اس مہم سے ملکہ ازابیلا نے دوہرا فائدا اٹھایا ایک تو جرائم پیشہ لوگوں سے جان چھوٹ گئی دوسرا ریڈ انڈینز کے علاقوں پر قبضہ بھی ہو گیا۔

جب کولمبس اس جگہ پہنچا تو اسے مقامی لاگ نظر نہ آئے۔ ریڈ انڈینز کے رہائشی جھونپڑے جلے ہوئے تھے اورانکی کٹی پھٹی لاشیں جا بہ جا بکھری ہوئی تھی۔ ان لوگوں کی اکثریت اس کے آدمیوں کے ہاتھوں ماری جا چکی تھی جن کو کولمبس آبادکاری کے غرض سے وہاں چھوڑ گیا تھا۔ پھر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ صدیوں تک چلتا رہا۔

جہاں جہاں یہ پہنچے ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم کرتے گئے۔ 1494ء سے 1508ء تک یعنی پندرہ سال کے عرصے میں صرف جزائر غرب الہند میں چالیس لاکھ سے زیادہ ریڈ انڈینز قتل کئے گئے اور باقی مقبوضہ علاقوں کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔۔

 مشہور مورخ ہاورڈزین لکھتا ہے۔ ۔

” بہاماس کے ساحل پر جب کولمبس کا جہاز لنگر انداز ہوا تو اس ساحلی علاقے میں تیانو اور آرواک قبائل آباد سے۔ جو ریڈ انڈینز کے بڑے قبیلے شمار ہوتے تھے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان قبائل کے افراد نا پید ہو گئے۔

وہ پا بہ زنجیر ہوئے اور غلام بنا کر اسپین کی طرف روانہ کر دئے گئے یا قتل ہو گئے۔ ہسپانوی آبادکاروں کے ہاتھوں بہاماس اور ہیٹی کے جزائر کے ایک لاکھ سے زیادہ آرواک انڈینز تہہ تیغ کئے گئے۔

کولمبس کے لشکری ایک کے بعد ایک جزیرے میں تلواریں لہراتے ہوئے جاتے، عورتوں کی آبروریزی کرتے، بچوں اور بوڑھوں کو کو قتل کرتے اور جوانوں کو زنجیر یریں پہنا کر ساتھ لے جاتے، جو مزاہمت کرتا قتل ہو جاتا۔

چونکہ ہسپانوی حملہ آور لٹیروں کی قتل و غارت اور ریڈ انڈینز کی مدافعت کا آپس میں کوئی جوڑ، کوئی مقابلہ تھا ہی نہیں اس لئے نہتے ریڈ انڈین قتل ہوتے گئے۔ سالوں تک انہیں یہ ہی سمجھ نہ آیا کہ اس ناگہانی مصیبت سے کیسے بچا جائے۔صدیوں تک امن و امان، سکون اور مل جل کرساتھ رہنے والے لوگوں کے لئے یہ صورتحال غیر متوقع تھی۔

جن لوگوں کے جانوروں کا شکار کرنے کے لئے ڈھنگ کے ہتھیار نہ ہوں وہ بھلا جلاد صفت انسانوں سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہیں نہ تلوار، تیر اور بھالے کے بنانے اور استعمال کا پتہ تھا نہ گھڑ سواری سے آ گاہی تھی حتیٰ کہ حملہ آوروں کی زبان سے بھی ناآشناتھے۔ کریں تو کیا کریں کہیں تو کس سے کہیں ؟

کولمبس کے ساتھ جانے والا  عیسائی مبلغ لاکس کیسس لکھتا ہے کہ۔ ۔۔

”ہسپانوی آبادکاروں نے اجتما عی پھانسیوں کا طریقہ کار جاری کیا جبکہ بچوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو اپنے کتوں کے سامنے بطور خوراک ڈال دیا جاتا تھا۔ نوجوان عورتوں کی اکثریت اس وقت تک جنسی تشدد کا شکار رہتی جب تک مر نہ جاتی۔گھروں کو آگ لگا دی جاتی اور ریوڑ کی صورت میں بھاگتے غیر مسلح اور نا قابل دفاع لوگوں کا تیز رفتار گھوڑون سے تعاقب کیا جاتا اور انہیں تیر اندازی کی مشق کے لئے استعمال کیا جاتا۔  یوں چند ہی گھنٹوں میں شہر کا شہر زندگی سے عاری ہو جاتا اور ہسپانوی انکی وسیع زمینوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔

کیا خوب ہے کہ جمہوریت آزادی، برابری، انصاف، انسانی حقوق کےعلم بردار اسی امریکہ میں جسے کولمبس نے دریافت کیا تھا 1965تک ریڈ انڈینز اور کالے امریکیوں کو ان حقوق سے محروم رکھا گیا۔ تقریباً یہی حال آسٹریلیا میں مقامی لوگوں کا کیا گیا۔
یہی طریقہ کار افریقہ میں اپنایا گیا۔اگرچہ حملہ آور مختلف قومیں تھی مگر ظلم، وحشت اور بربریت کی داستانیں ایک ہی جیسی ہیں۔ ملکہ ازابیلا، کولمبس اور ہسپانوی درندوں کی خون آشام روحیں آج بھی استعمار کی صورت میں ساری دنیا میں دندناتی پھر رہی ہیں۔ آج امریکہ کے طول عرض میں کولمبس کی یاد میں ایک سو پانچ مجسمے، ایک سو چالیس سے زائد کتبے اور پانچ سو سے زائد ستائشی سلیں آویزاں ہیں۔

صرف یہی نہیں اسکی یادگاروں کا یہ سلسلہ اسپین، اٹلی، جزائر غرب الہند، لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیلا ہوا ہے۔ کئی جگہوں پر ملکہ ازابیلا کے مجسمے بھی نصب ہیں جس کے ہاتھ لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔

جس کی بد عہدی شکلیں بدل بدل کر مظلوموں کا پیچھا کرتی ہوئی غرناطہ سے دشت لیلیٰ تک آ گئی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آج کااستعمار اپنے محسنوں کو بھولا ہے نہ انکے کارناموں کو۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک یہ مشق ستم جاری ہے۔



⋆ وقاص چودھری

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

عرب دنیا کا جدید ترین فیشن:  پردے کے پیچھے

خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور بالخصوص دبئی عبایا کی صنعت کا خاص مرکز ہیں، جو اپنی عبائیں مشرق وسطٰی، شمالی افریقہ اور کچھ افریقی مسلم ممالک کو بھی برآمد کرتے ہیں۔ لیکن عرب ممالک میں انقلابی تحریکوں کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے مصر، تیونس، شام اور لیبیا جیسے ممالک کو ویزے جاری کرنا کافی حد تک کم کر دیے ہیں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے