تاریخ عالم

ہومو اریکٹس: گمشدہ کڑی (دوسری قسط)

ادریس آزاد

بیجنگ سے تیس میل جنوب کی طرف چائنہ کی سب سے مشہور آرکیالوجیکل سائیٹ ’’ژوکوڈیان (Zhoukoudian)ہے۔ یہ دراصل ایک غار ہے جسے ڈریگن بون ہِل بھی کہا جاتا ہے اورجہاں سے 1994 میں درجنوں فاسلز دریافت ہوئے ہیں۔

اِن فاسلز کی کاربن ڈیٹنگ کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ یہ دس لاکھ سال پرانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں ہیں۔دس لاکھ سال  پہلے زمین پر انسان نمانسلیں آباد تھیں جن کا ذکر ہم پچھلے مضمون سے کرتے آرہے ہیں۔

ان میں سب سے پرانے ’’ہومواریکٹس‘‘ ہیں۔ ہومواریکٹس افریقہ اوریورپ میں بھی دریافت ہوئے ہیں اور ایک صدی سے ان کا وجود اس بحث کا مرکزی حصہ ہے کہ آیاانہیں اوّلین انسانی نسل قراردیا جاسکتاہے یا نہیں۔

آج ہم جانتے ہیں کہ ہومواریکٹس ظاہری شکل و صورت میں کیسے دکھائی دیتے تھے۔اِن کی آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں جن پر آگے کو بڑھا ہوئے خاصے گھنے اَبرُو تھے۔

یہ ابرو ، جبڑے کے مَسَلز کے ساتھ جڑے ہوئے تھے جو خوراک چبانے کے عمل میں بھی مددگار تھے۔ان کے جبڑوں اور دانتوں کا سائز ہمارے جبڑے اور دانتوں کے ساتھ سائز سے 28 فیصد بڑاتھا۔

اس سے یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہومواریکٹس اپنے دانتوں سے ہتھیاریااوزارکا کام بھی لیتے ہونگےیعنی کسی جانور کی آنتوں کو کھینچنے کے لیے دانت استعمال کرتے ہونگے۔

البتہ ا ُن کی کھوپڑی تقریباً ہماری کھوپڑی کے سائز کی ہی تھی۔جہاں جہاں سے ہومواریکٹس کے فاسلز ملے ہیں وہیں سے پتھر کے ایسے اوزار بھی ملے ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ ہومواریکٹس پتھر کے اوزار بناتے اور انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے

اتنی بڑی کھوپڑی میں آخر وہ کیا سوچتے ہونگے؟

آج سے دس لاکھ سال پہلے کی دنیا اُنہیں کیسی دکھائی دیتی ہوگی؟

اُس زمانے میں زمین کا ماحول زیادہ سرد اور خشک تھا۔زمین برفانی تودوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ آرکیالوجی میں اس دور کو ’’پلائیسٹوسین (Pleistocene) کہاجاتاہے۔یہی وہ دور ہے جس میں انسان نما نسلوں کا ارتقأ اور اس عہد کے اختتام تک زمین کا  تقریباً کوئی ایسا خطہ نہ تھا جہاں انسان  یا انسان نما نسلیں موجود نہ تھیں۔

پلائیسٹوسین کے فوراً بعد جو عہد شروع ہوا یعنی ہمارا عہد اُسے’’ہولوسِین‘‘ کہتے ہیں۔پلائیسٹوسِین عہد میں یہ تمام براعظم وہاں نہیں تھے جہاں آج ہیں۔کئی براعظم جو آج ایک دوسرے سے دُور واقع ہیں تب ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے۔جیالوجی میں آپس میں جُڑے ہوئے براعظموں کو ’’سپر کانٹینینٹ ‘‘ کہتے ہیں۔

صرف براعظم ہی آپس میں نہ جُڑے ہوئے تھے بلکہ برف کی ایک بہت بڑی شِیٹ پوری زمین پر بچھی ہوئی تھی۔ مثلاً ہمارا پاکستان  آج سے دس کروڑ سال پہلے ایک سُپر براعظم کا حصہ تھا جسے جیالوجی میں ’’گوندوانہ‘‘ کہاجاتاہے۔گوندوانہ سپربراعظم میں انڈیا کی ٹیکٹانِک پلیٹ موجودہ آسٹریلیا کے ساتھ جڑی ہوئی تھی جسے ’’انڈوآسٹریلین  پلیٹ‘‘ بھی کہا جاتاہے۔

انڈیا  کی پلیٹ آج سے دس کروڑ سال پہلے گوندوانہ سے ٹوٹ کر شمال کی جانب سِرکنا شروع ہوئی۔جدید جیالوجی کے مطابق انڈیا اور آسٹریلیالگ بھگ تیس لاکھ پہلے سے الگ الگ پلیٹوں کی صورت میں موجود ہیں۔آج سے پانچ کروڑ سال پہلے انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹیں آپس میں ٹکرانا شروع ہوئیں۔

اس ٹکراؤ سے سمندر کا جو کیچڑاُوپر کو اُٹھنا شروع ہوا وہ کوہِ ہمالیہ کا سلسلہ ہے۔ یہ ٹکراؤ آج بھی جاری ہے چنانچہ ہرسال کوہِ ہمالیہ پہلے سے بلند ہوجاتاہے۔کوہِ ہمالیہ پر لاکھوں سال پرانی سمندری مخلوقات کے فاسلز کی دستیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پہاڑ کبھی سمندرتھا۔

چناچہ ہومواریکٹس جو آج سے انیس لاکھ سال پہلے زمین پر نمودار ہوئے ، آخری برفانی عہد کی پیداوار ہیں۔اس عہد میں الاسکا اور سائبریا ایک دوسرے کے ساتھ برف کی شِیٹ کی وجہ سے ملے ہوئے تھے۔

چنانچہ  ایشیأ سے کچھ لوگ آج سے بیس ہزارسال پہلے اِسی راستہ سے امریکہ چلے گئے۔ موجودہ  ’’امیرِنڈینز (Amerindians)‘‘ میں اُن قدیم انسانوں کے جینز دریافت کیے گئے ہیں۔

اِسی طرح انڈونیشیأ اور انڈونیشیأ کے جزائر بھی ایشیأ  کے ساتھ جڑے ہوئے تھےجبکہ جنوبی ایشیأ کا زیادہ تر حصہ جنگلات سے گھرا تھا۔انڈونیشیأ سے ملنے والے بڑے قد کے ہاتھیوں کے فاسلز سے معلوم ہوتاہے کہ اس زمانے میں بھی انڈونیشیأ  جنگلات اور کھلے میدانوں سے پُرتھا۔

غرض جب براعظم کسی حدتک ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور درمیانی سمندروں پر برف کی چادر بچھی ہوئی تھی تو کتنے ہی ہومواریکٹس نسل کے قبائل ایک براعظم سے دوسرے براعظم کو منتقل ہوئے ہونگے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

کیونکہ ہومواریکٹس آج سے انیس لاکھ سال پہلے نمودار ہوئے اور انہوں نے زمین پر اٹھارہ لاکھ سال حکومت کی۔مضمون کی پہلی قسط میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہومواریکٹس غضب کے شکاری تھے۔وہ ہرقسم کے جانور کا شکار کرنے کے ماہر تھے۔ آرکیالوجی میں ایسے شکاریوں کو ’’بڑی گیم کے شکاری‘‘ کہا جاتاہے جو اجتماعی طور پرشکار کرتے اور خود سے کئی گناہ بڑے جانوروں کو مارگراتے ہیں۔

وہ پتھروں سے شکار کرتے اوراپنے شکار کو چیرنے پھاڑنے کے لیے اپنے بڑے بڑے دانت استعمال کرتے تھے۔ہومواریکٹس کی ہڈیوں پر پائے گئے مخصوص نشانات کے معائینے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ خود بھی جانوروں کا شکار بنتے تھے۔

آرکیالوجسٹوں کے لیے ایک بڑا سوال یہ بھی رہا ہے کہ ہومواریکٹس بنیادی طور پر کہاں سے آئے ہونگے۔ کیا یہ ایشیأ میں ہی پیدا ہوئے یا کسی اور خطۂ زمین سے ہجرت کرکے ایشیأ منتقل ہوئے ہونگے؟ اس سوال کا جواب سب سے پہلے انڈونیشیأ  سے ملنا شروع ہوا۔ فی الاصل کسی ہومواریکٹس کا سب سے پہلا فاسل  جو کہ ایک کھوپڑی، ایک دانت اور ایک ران کی ہڈی  تھی، ’’یوجین ڈُبوا‘‘ (Eugene Dubois) ‘‘ نامی  فزیشن کو1891  میں، انڈونیشیأ   کے ایک جزیرے جاواسے ہی ملا تھا۔بعد ازاں یہ سائیٹ آرکیالوجسٹوں کی توجہ کا مرکز بن گئی اور بہت سے فاسلز دریافت ہوئے۔ان فاسلز کی کاربن ڈیٹنگ سے اندازہ ہوا ہے ہومواریکٹس انیس لاکھ سے شروع ہوکر آج سے سترہزار سال پہلے تک موجود تھے۔یادرہے کہ ’’فاسل کلاک‘‘ کی بتائی ہوئی تاریخ ہماری مشینی گھڑیوں سے بھی زیادہ درست ہوتی ہے۔

’’ٹرکانہ بوائے‘‘ 1984  میں، جھیل ٹرکانہ کے کنارے کینیا میں دریافت ہوا۔ابتدائی پلائیسٹوسین عہد کے کسی ہومواریکٹس کا یہ فاسلز پہلا مکمل فاسل تھا۔کاربن ڈیٹنگ سے پتہ چلا کہ ٹرکانہ بوائے کا ڈھانچہ  پندرہ سے سولہ لاکھ سال پراناہے

ٹرکانہ بوائے کے دماغ کا سائز 880  سی سی ہے۔یہ ایک لڑکے کا ڈھانچہ ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی اس کا دماغ مزید بڑھنا تھا۔ماہرین کو معلوم ہوا ہے کہ ٹرکانہ بوائے کسی پیدائشی بیماری کی وجہ سے فوت ہوا۔ٹرکانہ بوائے اپنی عمر کے حساب سے دراز قدتھا۔

ویسے بھی ماہرین کے پاس اس بات کے شواہد ہیں کہ ہومواریکٹس چھ فٹ تک دراز قدانسان نما مخلوق تھی۔ٹرکانہ بوائے کے باریک بین معائنہ کے بعد یہ اعلان بھی کیا گیاہے کہ  وہ ابتدائی سطح کی زبان بولتاتھا۔ مجموعی طور پر ہومواریکٹس کے بارے میں یہی رائے پائی جاتی ہے کہ وہ پیچیدہ زبانیں بولنے اور سمجھنے کے اہل نہیں تھے۔

میرے لیے سب سے حیران کن یہ شہادت تھی کہ ٹرکانہ بوائے کی نسل کے انسان آگ کا استعمال جانتے تھے کیونکہ ٹرکانہ بوائے آج سے پندرہ سے سولہ لاکھ سال پہلے زمین پر موجود تھا۔گویا انسان نما نسلوں نے آج سے پندرہ سولہ لاکھ سال پہلے آگ جلانا سیکھ لیا تھا؟ خدا کی پناہ!

خیر! تو اس سوال کا جواب کہ ہومواریکٹس شروع سے ایشیأ میں تھے یا کہیں اور سے آئے تھے اب تک کی تحقیقات کے بعد یہ مِلا کہ ہومواریکٹس بنیادی طور پر آج سے بیس لاکھ سال پہلے افریقہ میں پیدا ہوئے۔ افریقہ میں ہی ان کے دماغ اتنا ارتقا کرگئے کہ وہ ہتھیاروں کے ذریعے شکار کرتے،  آگ جلاتے اور ابتدائی زبان بول سکتے تھے

افریقہ  سے ہومواریکٹس پوری زمین پر پھیلے اور اُن کے پھیلنے کی وجوہات کے بارے میں اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سفر کرتے رہے۔ دراصل جب کسی علاقے کے سبزی خور جانور قدرتی آفات کے بعد اس علاقے سے قدرے آگے منتقل ہوجاتے تو ان کے تعاقت میں ہومواریکٹس بھی نئے علاقے میں پہنچ جاتے۔

آرکیالوجی کے مطابق افریقہ سے ایشیأ پہنچنے والے ہومواریکٹس لگ بھگ پندرہ ہزار سال تک آہستہ آہستہ سفر کرتے رہے۔ یوں گویا انہیں معلوم تک نہ ہوسکا کہ وہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں بسنے جارہے ہیں۔

1994 میں ہومواریکٹس کے فاسلز کی دریافت کا جو حیران کن سلسلہ بیجنگ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پرژوکوڈیان کی وادی میں شروع ہوا اُس نے بے شمار نئے رازوں سے پردہ اُٹھایا۔اس دریافت سے ماہرین کو اندازہ ہوا کہ ہومواریکٹس آج سے دس لاکھ سال پہلے بھی سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ وہ سردی سے بچنے کے لیے آگ کا الاؤ جلا کر اس کے ارد گرد بیٹھتے اور بے شمار سماجی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے۔چین میں دریافت ہونے والے اِن ہومواریکٹس کو ’’پیکنگ مین‘‘ کے نام سے پکاراجاتاہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close