مراسلات

  • کیا اویسی حقیقت میں ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے لیے سنجیدہ ہیں؟

    ڈاکٹر عمیر انس

    کوئی چار سال پہلے ایک دوست نے مشورہ مانگا کہ اسے اُتر پردیش میں اسد الدین اویسی کی پارٹی کی ایک زمہ داری کی پیشکش ہے، کیا کریں؟ میں نے کہا سیاسی خودکشی کے اتنے سستے طریقے کی بجائے کچھ اور کریں، خیر سے وہ آج محفوظ ہیں، لیکن انہونے کہا ہمیں لگتا تھا آپ اویسی کی سیاست کے بارے میں کبھی ایسا نہیں کہیں گے، آپکو کیا غلط لگتا ہے انمیں؟ میں نے جن نقاط پر ان سے ہی استفسار کیا اور جس سے وہ مطمئن ہو گئے شاید آج مولانا مدنی کی بات سے بھی مطمئن ہوں جائیں، اگرچہ مولانا نے قدرے سختی سے یہ بات کہ دی ہے۔

    اول، کیا اویسی حقیقت میں ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے لیے سنجیدہ ہیں؟ اگر ہیں تو انکی سیاسی تحریک کہاں ہے، انکا سیاسی ایجنڈا کیا ہے، مسلمانوں کو سیاسی طور طاقتور بنانے کا انکا پروگرام کیا ہے؟ اویسی خاندان کا یا اویسی کا چیر لیڈر بننے میں اور سیاسی تحریک کا کارکن بننے میں فرق ہے، ابھی تک اویسی پورے ملک میں مسلمانوں کی سیاسی قیادت کے لیے سنجیدہ نہیں ہوئےہیں، اگر سنجیدہ ہوتے تو اسکا سب سے پہلا اثر انکی سیاسی جماعت میں سیاسی تحریک والی ضروری تبدیلیاں اب تک واقع ہو چکی ہوتیں،  اویسی نے ڈری سہمی اور کمزور مسلم مذہبی قیادت کی خموشی اور کمزوری کا فائدہ اٹھایا ہے اور زیادہ تیز آواز میں بول کر مایوس مسلمانوں کو ایک جذباتی تسلّی دی ہے، لیکن زیادہ بولنے کے علاوہ ایک تحریک  کو کم بولنے اور دوسرے مسلم رہنماوں کی سننے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    دوم، کیا اسد الدین اویسی صاحب کے اندر ایسی صلاحیت ہے کہ وہ مسلمانوں کے ملک گیر رہنماء بن جائیں؟ بلکل یقیناً ہیں لیکن میرا مشاہدہ یہ ہےکہ اویسی خود کی حیدراباد سیاست کو مضبوط بنائے رکھنے، اپنے حیدراباد بیس کو باقی رکھنے میں ہی بنیادی طور پر فکر مند ہیں، اور حیدرآباد میں اپنے مفادات کے لیے وہ پورے ملک کے مسلمانوں کے مفادات کو اکثر نظر انداز کرتے رہے ہیں، اس معاملے میں مولانا مدنی کی تشویش بیجا نہیں ہیں۔

    سوم، کیا اویسی کو اپنی مجلس اتحاد المسلمین کو پورے ملک میں پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیے؟ نہیں بلکل نہیں، مجلس کی سیاست پوری طرح سے حیدرآبادی ہے، اسکا خمیر ہی مقامی ہے، اسکی زبان مقامی ہے، اسکی اپیل بھی بریانی کلب کی ہے، اگر اویسی سنجیدہ ہیں تو انہیں مجلس کو حیدرآباد میں محدود رکھنا چاہیے اور انہیں ہر ریاست کے لیے الگ الگ سیاسی جماعت بنانی چائیے، ملکی سطح پر صرف ایک ہی سیاسی پارٹی کے حق میں مجھے اندیشہ ہے کہ وہ نقصان دہ زیادہ ہے، اس معاملے میں ویلفئر پارٹی کے بارے میں بھی میرا یہی خیال ہے،  مسلمان بنیادی طور پر مقامی اور  علاقائی سیاسی قوت ہیں، وہ ملک گیر سیاسی قوت بحیثیت  ایک پارٹی کبھی نہیں بن سکتے، الگ الگ مسلم پارٹیوں کا اتحاد ہی اس خلا کو پر کر سکتا ہے۔

    اس اعتبار سے مولانا محمود مدنی کی گفتگو اویسی صاحب کے لیے ایک مخلصانہ مشورہ ہے، یہ تقریر جس جگہ کی گئی ہے مولانا نے اسکا خیال رکھتے ہوئے انداز بیان اختیار کیا ہے لیکن مولانا کے مقصد کلام پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور ضرور کرنا چاہیے!

  • جوانانِ ملت کے نام مخلصانہ پیغام

    اشفاق پرواز

    آج گلو بلا یزٔیشن کے اس دور میں نو جوانوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی کامیابی کا سکہ جمادیا ہے یوں کہا جایٔے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ آج  کے بڑے بڑے اور انتہایٔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا دار ومدار  اس ملک کے نو جوانوں پر ہے۔ جوانوں کے اسی عزم و حو صلے اور استقداد کو دیکھتے ہوے بزرگوں   نے غلط نہیں کہا ہے کہ اگر کسی قوم یا ملک میں انقلاب لانا  ہو تو وہ اس قوم یا ملک کے نو جواں ہی لاسکتے ہیں۔ یہی وہ نوجواں ہوتے ہیں جوکسی بھی انقلاب کی اساس وبنیادہوتے ہیں۔ یہ بات اورہے کہ وہ انقلاب قوموں کے حق میںمفید ثابت ہوتا ہے یانقصان دہ اس کے با و جود ہر دور کے نوجوانوں کی  طرح اس دور کے نوجواں بھی ایک غلطی کر رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان موجودہ ترقی، وسایل و اسباب اور عیش و آرام کو کامیابی اور ترقی کا اعلیٰ ترین مقام تصور کرتے ہیں۔ اور تھوڑی مقدار میں بھی اُن کے حصول کے بعد اطمنان سے بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم نے کا میابی کی سب سے بلند چوٹی کو سر کرلیا ہے۔ لیکن یہ اندازہ سراسر غلط ہے ترقی ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ جاری وساری ہے۔ اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نوجوان آج تعلیم سے زیادہ اعلیٰ  قسم کے موبایٔل، گاڑیاں اور موٹر سایٔکل خریدنے کی مسابقت کرتے نظر آتے ہیں۔ او ر استاد کے لیکچر سے زیادہ فلموں کے گانے اور پاپ سانگ سُننا پسند کرتے ہیں۔ اور  یہیں سے نوجوانوں کے نہ صرف اخلاق کا بلکہ یقینا کہیں نہ کہیں مادی ترقی کا بھی زوال شروع ہوتا ہے۔

    بقولِ علامہؒ:

      جوانوں  کو  مری   آہ   سحر     دے  

    پھر  ان  شاہیں بچوں  کو بال و  پر دے

       خدایا     آرِز و    میری    یہی    ہے

    میرا   نورِ   بصیرت  عام     کر  دے

    اگر ہم اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمارے اسلاف ایسے نوجوان نظر آتے ہیں جنہوں نے اسلام کی سر بلندی اور کا مرانی کے لییٔ اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا، اسلامی تاریخ کے اوراق پر نگا دہرایٔ جایٔے تو  جہاں  ابو بکرصدیقؓ اور عثمانِ غنیؓ جیسے معمر حضرات کی خدمات کا ذکر ملتا ہے۔ وہیں شانہ بہ شانہ ہمیں   حمزہؓ ، علیؓ، بلالؓ، عمارؓ جیسے نوجواں بھی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ کسی کو ایمان کی  خاطر گھربار، نو کر چاکر اور عیش و آرام تک چھوڑ دینے  پڑے جبکہ دورِ جاہلیت میں ا نکا شمار مکہ کے سب سے بڑے ریسٔوں میں ہوا کرتا تھا۔ یہ وہی نوجوان تھے جنہوں نے حضرتِ محمدﷺ کی تشریف آوری کی راہ ہموار کردی اور آگے چل کر اسلامی علم سمبھالتے ہوے غذؤہ احد میں جام ِ شہادت نوش کیا۔ ہم حضرتِ علیؓ کوکیسے فراموش کر سکتے ہیں جنہوں نے  دس بارہ سال کی عمر میں آپؐکا ساتھ دینے کی حامی بھری تھی۔ جبکہ تمام  قبیلہ قریش نے آپؐ کو جھٹلایاتھا۔ یہ فہرست کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔ جن میں رافعؓ اور سمرہؓ جیسے نوجوان جو اسلام پر مٹنے کیلیٔ کو شان تھے شامل ہیں۔

    آج کے نو جوانوں کا عالم یہ ہے کہ مغربی تہذیب سے بر سر پیکار ہونے کے بجایٔے یہ اسکی نقل کو مُہذب قوموں کی لازمی علامت تصور کرتے ہیں۔ لوگوں کو اسلام سے روشناس کرانے کے بدلے اُلٹا اپنے اعمال وکردار سے لوگوں کو اسلام سے بد ظن کرنے کا گھناونا فعل انجام دے رہے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے ایک عہد کریں۔ اپنے مقاصد کو متعین کر لیں۔ اور اُن کے حصول کے لییٔ ہرممکن کو شش کر ڈالیں۔ پھر یقینا ہمیں غربت،بھکمری،جہالت اور کرپشن جیسے پیچیدہ مسایٔل سے سابقہ پیش نہیں آے گا۔ مختلف مذاہب کے لوگ امن وامان کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں گے۔ محنت و ایمانداری جیسے مثبت اقدار کے سا تھ ساتھ لوگ ایک بار  پھر پرُسکون زندگی گذاریں گے۔ ڈاکٹر علامہ اقبالؒ جوانوں کے دلوں کو اسطرح گرماتے ہیں  ؎

      آہ!کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے

    راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو

       کانپتا د ل تیرا اندیشۂ طوفان سے کیا

    ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، مساحل بھی تو۔

    نوجوان طبقہ کو گمراہ کرنے کی خاطر شیطان کے پاس ایک جان لیوا ہتھیار ہے۔ جو جوانوں کو اپنے کام کے آغاز سے پرے رکھتا ہے وہ ہے ڈر، خوف اور وسایل کی کمی کا بہانہ۔ لیکن ان تمام خدشات سے نوجوان طبقہ کو چھٹکارا پانا ہوگا۔ جوانوں کو نہ صرف اپنے کام کا آغاز کرنا ہے بلکہ اسے صیح انجام تک پنہچانا ہے۔ جسکے لییٔ جوانوں کو کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا ہے۔

       آیٔے! آج ہی عہد کریں کہ اس انقلاب کی بنیاد دیں بھی ہم نوجوان ہی ڈالیں گے۔

    ’’جوانوں کو مری آہِ سحر دے ‘‘ کی صداوں سے دنیا کے کونے کونے میں انپا پیغام پنہچایں گے۔ واضح رہے عزِم صمیم سے بڑا کوییٔ ہتھار نہیں ہوتا۔ یہ اگر ہمارے پاس ہے تو منزل تک فاصلہ  قدم دو قدم کا رہ جاتا ہے۔ اگر ہم نے ایسا  نہ کیا تو ہمارا  حشر بھی و ہی ہوگا۔ جو پچھلی قدموں کا  ہو چکا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ’’ اگر تم منہ موڑو گے تو اﷲتمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آییٔ گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے ‘‘ (محمدؐ :۳۸)

    بندوں پر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں ہیں انسان اگر انہیں شمار کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ یہ نعمتیں انسا نی زندگی میں آرام و آسایش اور سہولیت و اطمنان فراہم کرتی ہیں زندگی کو مسّرت اور آسودگی عطا کرتی ہیں۔ دوسری طرف یہ نعمتیں انسان کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرتی ہیں۔ ایک سوچنے والے سنجیدہ زہن کو اس کا منصبی فریضہ یاد دلاتی ہیں اور آزمایش کا سبب بھی بنتی ہیں۔ جس طرح انسانی زندگی کے لمحہ لمحہ کا حساب خداے￿ تعالیٰ روزِ قیامت میں لے گا اسی طر ح ان نعمتوں کا محاسبہ بھی کرے گا۔

     قومی اور ملی سطح پر آکر اگر دیکھا جاے تو قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کا نوجوان طبقہ ہے۔ ملکی اور ملی ترقی کے تمام پروگرام، نشانات اور منصوبے جو نافذکیے جاتے ہیں وہ نو جوانوں کی ہی کوششوں کا ثمرہ ہوتے ہیں۔ قوم و ملک کی آزادی کی تحریک ہو یا دین اور نظریہ کی تبلیغ اور نشر و اشات کا مرحلہ ہو، ان کی آبیاری میں نوجوان خون ہی ہمیشہ کام آیا ہے۔

     اسلامی تحریک جو مکّہ سے اٹھی اور مدینہ پہونچ کر سارے عالم پر چھاگی وہ ایثار و قربانی، مسلسل جد و جہد اور ابتلا   وآزمایش کی ایک داستان ہے۔ اس تحریک کی نشو نما اور آبیاری میں اس دور کا نوجوان ہی پیش پیش رہا ہے۔ اخلاص اور عمل کی دولت سے سرشار و مالا مال نوجوان۔

    جب یہ نو جوان طبقہ ایمان و عمل کی دولت سے سر شار آگے بڑھا تو کفر کے ایوانوں میں ذلزلہ آگیا۔ قیصر و کسریٰ کو اپنی حکومتوں کا مستقبل خطرہ میں نظر آنے لگا۔ دنیا سے ظلم و بربریت اور بدی کا خاتمہ ہوگیا اور امن و انصاف اور نیکی کا چلن عام ہوا۔ یہ سب کچھ نوجوانوں کی ہی کشمکش، جد و جہد اور قربانی کا نتیجہ تھا۔ نوجوان ملت کا ستون ہیں۔ شرافت و عزت کی بنیاد ہیں، ترقی اور بلندی کا نشان ہے اور مستقبل کا معمار ہیں۔

    یہ دور جس میں آج کا مسلم نوجوان سانسیں لے رہا ہے کشمکش کا دور ہے۔ باطل حق سے نبرد آزما ہے۔ اخلاقی قدریں بکھر رہی ہیں۔ غلط نظام تعلیم اور خدا بیزار معاشرہ صالح مسلم نوجوانوں کے لیے ایک چلینج کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ترقی کی دوڑ میں قومیںہر قید سے آزاد ہوکر ایک اندھے راستے پر دوڑتی چلی جارہی ہیں۔ مسلم ملت بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں مسلم نوجوانوں کی اصل ذمہ داری کیا ہے اور کس طرح وہ عہد جدید کے چلینج سے عہدہ بر آہوسکتے ہیں۔ ہمارے اسلاف کے دینی اور اخلاقی آثار اور علمی فتوحات ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ ہمارے لیے آج بھی روشنی کا منارہ ہیں۔ یہ دین اسلام رسول اللہ ﷺ  اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ  کی کوششوں سے پھیلا اور سلفِ صالحین کی معرفت ہم تک پہنچا۔

    دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا اسباب تھے کہ مخالفتوں اور شدید کاوٹوں کے با وجود یہ دین سارے عالم میں پھیل کر رہا اور آج بھی اس کو باقی  رکھنے، زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لے بنیادیں کہاں سے فراہم کی جاسکتی ہیں۔

      قرآن و حدیث، سیرت ِپاک ﷺ اور صحابہ کرام ؓاور سلفِ صالحین کی زندگیوں کے مطالعہ سے جو بنیادیں فراہم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں:-

    (ا)  اللہ پر کامل، راسخ اور غیر متز لزل ایمان۔

     (۲) کذب دریا سے نا آشنا اخلاص اور صداقت قلبی۔

    (۳) خوف اور سود و زیاں سے نا واقف عزیمت اور کردار کی مالک۔

    (۴) تھکن سے خالی مسلسل اور مستقل جدوجہد۔

    (۵) حصول مقصد تک مسلسل قربانی، یہاں تک کہ اسی راہ میں موت واقع ہو جاے۔

      انہی بنیا دوں پر اسلام کی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئ۔ یہی اوصاف آج کے مسلم نوجوان کی ضرورت ہیں اور وقت کا تقاضہ بھی ہیں۔ قدیم و جدید، ہر زمانہ میں نوجوانوں کو مستقبل کی امانت، کل کا معمار اور قوم و ملت کی طاقت و قوت کا سر چشمہ سمجھا گیا ہے۔ مسلم نوجوانوں کا ان اوصاف سے مزّین ہونا۔ از بس ضروری ہے۔

    ملک و ملت کا نوجوان طبقہ اللہ تعالیٰ کی امانت بھی ہے اور نعمت بھی۔ اس کی حفاظت، اس کے اخلاق و سیرت کی تعمیر، اس کی ذہنی اور فکری نشونما کی ذمہ داری پوری ملت کا فریضہ ہے۔ اگر یہ امانت   ضایع ہوگئ تو نقصان و خسارے سے ملت بچ نہ سکے گی،دنیا میں بھی اور آخرت کی جواب دہی سے بھی۔

    نوجوان طبقہ سے درد مندانہ اور مخلصانہ گزارش ہے کہ  ؎

    اُٹھو اب  وقت آیا  ہے کہ  شمع  دل  جلا دیں  گے

       یہ راہیں پھر سے زینت ہوں انہیں ہم گل کھلا دیںگے        

    رہے نہ  کوئ  اسیر نفس  خدا  کی اس  انجمن  میں

    جو بربادی  لگے  ہم  ایسی  رسمیں  اب  جلا دیں گے

  • ایک باپ کا خط اپنی بیٹی کے نام

    عظیم اللہ خان

     (عمرکھیڑ)

    میری جان سے پیاری دختر اسلام علیکم رحمۃ اللہ برکاتہ

    اللہ کی ذات سے امید ہے کہ تم بخیریت ہونگی، یوں اچانک خط لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے اخبارات اور سوشل میڈیا پر جو مسلم لڑکیوں کی ارتداد (غیر مسلم لڑکوں سے شادیوں) کی خبریں آرہی ہیں اس نے مجھے کافی بے چین کرکے رکھ دیا، یقین مانو میری بیٹی پچھلی کچھ راتیں میں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ گزاریں، ایک عجیب سی بے چینی ہورہی تھی، عجیب عجیب خیالات ذہنوں میں گردش کررہے تھے ایسے خیالات جس سے میں کانپ جاتا، دلوں کو جھنجھوڑنے والی خبریں لگاتار آرہی ہیں، ان سب خبروں کے بیچ کل رات میری بچی تمہارا خیال بہت ستارہا تھا، سوچنے لگا کہ تم بھی تو اپنے شہر، اپنے ماں باپ سے دور دوسرے شہر کالج میں پڑھائی کررہی ہو، یہ سوچ آتے ہی اچانک دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں، دل ایک انجانے خوف سے کانپنے لگا، میری بیٹی میرے اس خوف کی وجہ سے تم یہ مت سمجھ لینا کہ تمہارے تعلق سے میرا بھروسہ کمزور ہوا ہے، مجھے میری پرورش اور تمہارے اخلاق پر آج بھی پورا بھروسہ ہے، لیکن میری بیٹی میرے ڈر کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ایک سازش کے تحت تم اور تمہاری جیسی کئی مسلم لڑکیاں نشانے پر ہیں دشمنانِ اسلام مسلم لڑکیوں کو ٹارگیٹ بنائے ہوئے ہیں، وہ پوری کوشش میں ہیں کہ مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر، لالچ دیکر، دھوکہ دیکر، یا پھر ڈرا دھمکا کر کسی بھی طرح ہو، راہ حق سے ہٹاکر گمراہی کی طرف لیکر جائیں، اسی مقصد کے تحت آج وہ کام کر رہے ہیں، اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ بہت حد تک اسمیں کامیاب بھی ہو رہے ہیں، کئ معصوم لڑکیاں ان کے بچھائے ہوئے اس جال میں پھنس رہی ہیں۔

    میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ اس کے لئے کسے قصوروار ٹھراؤں، ان ماں باپ کو جنھوں نے اپنی بیٹی کی پرورش غیر اسلامی طرز پر کی، یا مخلوط تعلیم کے اس سسٹم کو جہاں لڑکے اور لڑکیوں کو آزادانہ میل جول کے پورے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں، یا پھر ان لڑکیوں کی ایمان کی کمزوری کو، یا ان کی معصومیت اور نادانیوں کو، میری بیٹی میں اسے معصومیت اور نادانی بھی کیسے کہوں یہ کیسی معصومیت ہے کہ وہ یہ بھی نہیں سمجھ پارہی ہے کہ ان کا یہ قدم انھیں جہنم کی طرف لیکر جا رہا ہے، یہ کیسی نادانی ہے کہ انھیں یہ احساس بھی نہیں کہ ان کا یہ عمل ان کے ماں باپ، خاندان اور پورے مسلم معاشرہ کے لئے کتنی بڑی ذلت اور رسوائی کا سبب بن رہا ہے. میری بیٹی میں تو یہ سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ وہ کونسی لالچ ہے، وہ کونسا ڈر ہے کہ وہ لڑکیاں اپنی حیا، اپنی شرم، اپنے وجود اور یہاں تک کہ اپنے دین کا سودا تک کرنے تیار ہورہی ہیں، کیا وہ لالچ جنت کی لالچ سے بھی بڑھ کر ہے، کیا وہ ڈر اللہ کے ڈر سے بھی بڑھ کر ہے۔

    بہرحال میں تمہیں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ تم ہوشیار رہنا کہ اس وقت تم بھی نشانے پر ہو، میری بیٹی ایک وقت تو میں مخلوط تعلیم کی وجہ سے تمہیں آگے پڑھانے کے حق میں نہیں تھا، لیکن چونکہ اس وقت صرف لڑکیوں کے ادارے موجود نہیں ہیں اسلئے مجبوراً میں نے تمہیں پڑھنے کے لئے بھیج دیا، اس بھروسے کے ساتھ کہ جس انداز سے میں نے تمہاری پرورش کی ہے اس کا تم مان رکھو گی، اور میرے بھروسے کو ٹھیس نہیں پہنچاؤ گی، میری بچی اس وقت میں بہت ڈرا ہوا ہوں آج جو ماحول ہے اور جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے کہیں تم بھی۔۔۔۔۔ نہیں نہیں یہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتا، اس خیال سے ہی میں کانپ جاتا ہوں، میری بیٹی میں تم پر بہت بھروسہ کرتا ہوں، تم میرا غرور ہو، تمہاری عزت سے میری عزت جڑی ہوئی ہے، تمہارا ایک غلط قدم سب کچھ تباہ و برباد کردے گا، میری عزت میرا مرتبہ، سماج میں میرا مقام سب کچھ ختم ہوجائے گا، میں نے بہت سارے باپوں کو اکیلے میں روتے دیکھا ہے، بچیوں کے کرتوت نے کئی باپوں کو خودکشیوں پر مجبور کیا ہے، میں ان باپوں میں شامل ہونا نہیں چاہتا ہوں، صرف میں ہی نہیں ہمارے پورے خاندان اور پورے معاشرے کا مان، مرتبہ، عزت تمہارے ایک غلط قدم سے مٹی میں مل جائے گی۔

    میری دختر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میں نے صرف فائدہ مند علم حاصل کرنے کی غرض سے تمہیں بھیجا ہے، وہ علم جو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے کام آئے، اس علم کو بالکل تم حاصل کرو، لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ وہ علم تمہیں اپنی عزت و ناموس، اپنی شرم و حیا کو داؤ پر رکھ کر حاصل کرنے کی نوبت آئے تو تم ایک لمحہ بھی وہاں نہیں رکنا اور واپس چلے آنا، کیونکہ ایسے علم سے تمہاری عزت، تمہاری شرم و حیا بہت اہم ہے،جس کی تم کسی قیمت پر قربانی نہیں دے سکتی، اور ایک بات یہ بھی یاد رکھنا علم اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی علم اللہ سے دور کرنے لگے تو ویسا علم فائدہ مند کے بجائے نقصان دہ ہے، علامہ اقبال نے کہا تھا نہ کہ، اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ، یقیناً ایسا علم فتنہ ہی ہے جو اللہ سے دور کرے، اور صرف علم ہی نہیں ایسا ماحول، ایسے دوست، ایسی کتابیں جو تمہیں اللہ سے دور کرے وہ سب فتنہ ہے، تم ایسے ہر فتنے سے بچنا۔ میری بیٹی اس وقت دشمنان اسلام دختر اسلام کو راہ حق سے ہٹاکر بے حیائی کے راستے پر ڈالنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں، تمہیں ان ساروں ہتھکنڈوں کو سمجھنا پڑے گا، پھر چاہے وہ کالج میں ہونے والی مخلوط تقریبات ہو، یا لڑکوں سے دوستی، ان ساری چیزوں سے بچنا ہوگا، لڑکوں سے دوستی کا اسلام میں بالکل تصور نہیں ہے پھر لڑکا مسلم ہو یا غیر مسلم، تم ہر حال میں لڑکوں کی دوستی سے بچنا، اور صرف لڑکوں ہی کے نہیں بلکہ ایسی لڑکیوں کی دوستی سے بھی بچنا جن کے اخلاق اچھے نہ ہوں۔

    میری جان سے پیاری بٹیا یہ صحیح ہے کہ وہاں تمہارے پاس ہم نہیں ہیں جو تم پر نظر رکھ سکے، شاید بہت ساری لڑکیاں اسی چیز کا نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہیں کہ ان پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہیں، بے شک بیٹا ہم وہاں نہیں ہیں، لیکن ایک نظر ہے جو چوبیسویں گھنٹوں تمہاری نگرانی کررہی ہے، تمہاری محفلوں پر بھی اس کی نظر ہے اور یہاں تک کہ تمہاری تنہائ بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، وہ نظر ہے اللہ کی نظر، تم ایک بات اپنے ذہن میں بٹھالو کہ اللہ تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے، اور تمہاری ہر حرکت اور ہر کام کا حساب وہ تم سے لے گا، میری بچی صرف یہ ایک احساس تم نے اپنے اندر بٹھالیا تو یقیناً تم کوئی غلط کام نہیں کروگی میری عزیز ترین بیٹی آخر میں صرف ایک بات بتانا چاہوں گا کہ جب تم پیدا ہوئی تھی تو میں نے پورے محلے میں مٹھائی تقسیم کی تھی، میری خوشی کو دیکھ کر مجھ سے کسی نے پوچھا کہ لڑکی کے پیدائش پر اتنی خوشی، تو میں نے کہا کہ اصل خوشی تو بیٹی کی پیدائش ہی پر ہونی چاہیے، بیٹیاں تو باپ کے لئے جنت کی ضمانت ہیں، لیکن میری بیٹی وہ جنت کی ضمانت تب ہے جب ان کی صحیح تربیت کی جائے، بیٹی کا راہ سے بھٹکنا اس بات کی ضمانت ہے کہ باپ نے اس کی تربیت اس طریقے سے نہیں کی جیسے اسلام چاہتا ہے، اور یہی چیز ایک باپ کے پکڑ کا ذریعہ بنے گی، لہذا میں اللہ کی اس پکڑ سے ڈرتا ہوں۔

    آخر میں میں ایک ہی گزارش کروں گا کہ مجھے دنیا اور آخرت میں رسوا مت ہونے دینا، مرتے دم تک اپنے دین، اپنے عزت و آبرو، اپنی شرم و حیا کی حفاظت کرنا، یہ وہ چیزیں ہیں جو تمہاری جان سے بھی زیادہ قیمتی ہیں ان چیزوں کا کبھی سودا نہیں کرنا، اللہ تمہاری مدد فرمائے، اسلامی احکامات کے مطابق زندگی گزارنے والی بنائے۔ آمین۔

    فقط۔

    تم سے بے حد محبت کرنے والا تمہارا باپ

  • بھارتی وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط 

    محمد شاہد خان

    مسٹر نریندر مودی

    آداب

    میری دلی خواہش ہے کہ 2019 کے الیکشن میں ایک بار پھر تم اپنی جیت کا پرچم لہراؤ اور اپنی کامیابی کا جشن مناؤ یقینا میری خوشی دیکھ کر تمہیں تعجب ہورہا ہوگا لیکن تعجب کی کوئی بات نہیں، میری خوشی کی اصل وجہ تمہاری مسلم دشمنی کا اعلانیہ اظہار ہے تم دوسری نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی طرح پیچھے سے وار نہیں کرتے، سیکولرزم کا مکھوٹا پہن کرذات پات اور فرقہ پرستی کی گھناؤنی سیاست نہیں کرتے، تم گھاؤ دے کر مرہم پٹی نہیں کرتے، اشک دے کر اشک شوئی نہیں کرتے بلکہ تمہاری سیاست بالکل واضح ہے تم نے بیس فیصد مسلمانوں کو ان کی اوقات بتلادی ہے تم نے انھیں بتلا دیا کہ ان کے ووٹوں کی حیثیت کیا ہے تم نے بتلا دیا ہے کہ تمہیں ان کے مسائل سے کتنی دلچسپی ہے، تم انھیں ‘ حملہ آور ‘ کہتے ہو تم نے ‘گودھرا ‘ میں ان کا قتل عام کیا جس کا تمہیں کوئی افسوس نہیں ہے، گئو رکشا اور لو جہاد کے نام پر بےشمار معصوموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا لیکن تمہیں اس کا کوئی ملال نہیں ہے اسلئے میں چاہتا ہوں کہ تم ایکبار پھر جیتو اور مسلمانوں پر اتنا قہر برساؤ کہ وہ درد سے بلک اٹھیں۔

    مسٹر مودی

    تم ایک انتہائی غیر مہذب آدمی ہو، تمہیں حکمرانوں اور جرنیلوں سے ملاقات تک کے پروٹوکول سے واقفیت نہیں، تمہیں یہ تک پتہ نہیں کہ یوم جمہوریہ کی تقریبات میں سلامی کون دیتا ہے صدر جمہوریہ یا وزیر اعظم ؟ تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کس سے ہاتھ ملانا چاہئے اور کس سے نہیں، کس کو سیلوٹ کرنا چاہئے اور کس کو نہیں لیکن ہاں ایک بات کی داد دینی پڑے گی کہ تم فوٹو کھینچوانے اور سیلفی لینے میں بڑے ماہر ہو۔

    تمہیں دیکھ کر تمہارے پڑھے لکھے ہونے کا گمان تک نہیں ہوتا تم اپنے جہل کو چھپانے کیلئے جھوٹی ڈگریوں کا سہارا لیتے ہو، تم بے شرمی کی حد تک غلط بیانیوں سے کام لیتے ہو، تم نے سر عام جھوٹ بولا کہ پنڈت جواہر لال نہرو سردار بھگت سنگھ سے ملاقات کرنے کیلئے کبھی جیل ہی نہیں گئے۔

    تم نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ  سابق نائب صدر جمہوریہ حامدانصاری اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف دیپک کپور پر جان بوجھ کر جھوٹا الزام لگایا کہ انھوں نے دلی میں منی شنکر ائیر کے گھر میں پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ میٹنگ کی اور اس میٹنگ میں گجرات الیکشن پر گفتگو کی۔

    تم نے ہزاروں سال پہلے ہندستان میں پلاسٹک سرجری کئے جانے کا جھوٹا دعوی کیا۔  تم نے 1948 کے جنگ کے حوالے سے پنڈت جواہر لال نہرو، فیلڈ مارشل کارپّا اور جنرل کے ایس تھیپیّا کے تعلق سے صریح جھوٹ بولا۔

    تمہارے جھوٹ کی فہرست بہت طویل ہے جسے یہاں شمار نہیں کرایا جاسکتا، یقین جانو کہ تمہارے جھوٹ سے آج ہر ہندستانی شرمسار ہے۔

    مسٹر مودی

    تم جھوٹ کا سہارا لینے والے ہندستان کے اکلوتے وزیر اعظم ہو تم نے لوگوں کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے ‘ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا دعوی کیا لیکن وکاس صرف اپنا، امت شاہ، امبانی، اڈانی اور ہندتوا کا کیا، تم نے کہا تھا کہ الیکشن کے بعد پندرہ پندرہ لاکھ روپئے سب کے اکاؤنٹ میں یونہی آجائیں گے لیکن وہ صرف ایک جملہ ثابت ہوا۔

    تم نے کہا تھا کہ تم پردھان سیوک بننا چاہتے ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تم لاکھوں کا سوٹ پہنتے ہو اور ایک NRI وزیراعظم کی طرح اپنے ملک میں آتے جاتے ہو۔

    تم نے نوٹ بندی کرکے ہندستان کی معیشت کی کمر توڑ دی اور GST لگاکر کریلا اور نیم چڑھا والا کارنامہ انجام دیا تم نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا لیکن حیف صد حیف کہ وہ سب صرف جملہ ثابت ہوا۔

    مسٹر مودی

    تم ایک احسان ناشناس انسان ہو تم جس رتھ یاترا پر سواری کرکے اقتدار کے سنگھاسن تک پہونچے ہو وہ کسی اور نے نکالی تھی، نفرت کے جس پیڑ کا آج تم پھل کھارہے ہو اسکی بیچ کسی اور نے ڈالی تھی لیکن مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

    تم نے گجرات میں ہمیشہ ایک مافیا کی طرح حکومت کی، سہراب الدین شیخ، عشرت جہاں، احسان جعفری اور گودھرا کا قتل عام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور آج تک تم اپنے انھیں گناہوں کے نشانات کو رگڑ رگڑ کر صاف کرنے میں مصروف ہو لیکن افسوس کہ داغ بہت گہرے ہیں۔

    تم ہندستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہو تم نے گجرات ماڈل کا ایسا ڈھنڈھورا پیٹا کہ لوگ تم سے مسیحائی کی امید کر بیٹھے، تم نے جمہوریت کی بنیادوں کو ہلادیا ہے تم سیکولر انسٹی ٹیوشنز کو مسلسل کمزور کررہے ہو تم جمہوریت کے لبادے میں ایک ڈکٹیٹر ہو، تم آج ہندستان کو جس رخ پر لے جارہے ہو وہ سمت سفر بہت مخدوش ہے، ہندستان کا مستقبل ڈوبتاہوا نظر آرہا ہے اسکی سالمیت خطرات سے دوچار ہے تم جس کشتی کی ملاحی کررہے ہو اس کے سوار صرف مسلمان نہیں ہیں اسلئے اگر کشتی ڈوبی تو صر ف مسلمان نہیں ڈوبیں گے بلکہ پورا ہندستان ڈوب جائے گا۔

    مسٹر مودی

    جن لوگوں نے تمہیں دودھ پلایا تمہارے ناخون نہیں تراشے تمہارے جرائم سے چشم پوشی کی، اچھا ہے کہ آج تم انھیں سے بھارت کو مُکت کرانے کی کوشش کررہے ہو، جو جنگ آزادی کے ہیرو تھے انھیں زیرو ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہو، عربی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ ‘ وان اكرمت اللئيم تمرد ‘کہ اگر تم کمینے شخص کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرو گے تو وہ سرکشی کرے گا یہ محاورہ تم پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔

    مسٹر مودی

    آج مجھے تمہاری کامیابی پر زیادہ تعجب نہیں بلکہ اس بات پر تعجب زیادہ ہے کہ ہندستان کی ایک ارب تیس کروڑ جنتا کی آنکھ میں دھول جھونکنے میں تم کامیاب کیسے ہوگئے۔

    تلخ نوائی کیلئے معذرت

    تمہارا خیر اندیش

    (شاہد خان)

    دوحہ قطر

  • جز خان اور کوئی نہ آیا بروئے کار

    فیصل حنیف

    برخوردار کامگارسعادت و اقبال نشان، میری جان عمران ہمہ دان

    مبارک مبارک، سلامت سلامت، تم سیاست کی راہ کے اکبر ہو، ادھر جیتے ادھر جیتے- تمھاری رفتار رنگیں کی اور عالم کے دل پہلے سے کھنچے جاتے تھے کہ تم نے فرماں روائی کو آ لیا- تم نے تاج کیا سر پر سجایا مخالفوں نے سارے جہان کو سر پر اٹھا لیا- تم غمگین نہ ہونا، ہاتھوں میں دل کو رکھے حیراں، دانتوں تلے جگر کو رکھے پریشاں، رنج بے شمار سے سینہ فگار، دل داغدار، سیاست کی راہ کے ان غولوں کو بسبب سیاہ روزگارشام سے سحر کو فرق کرنا مشکل ہے، سیاست کا لپکا پڑا یوں نہیں جاتا،فرط شوق حکومت کو کم نہ جانو، ان کے درد علاج کی فکر نہ کرو، اشک افشانی کوئی رنگ لاوے، یہ جھاڑو سے تنکے ہو جاویں تو ضعف و بے طاقتی سے کوئی صورت نکلے- شکوہ اغیار پہ ہنسی آتی ہے- یہ بار بار کا آزار ہے، میاں لڑکے جان لو

    غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے

     ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟

    میری جان، سنو داستان، میں یہاں ہوں جہاں مجھ کو سب کی خبر ہے، میر صاحب بھی یہاں ہیں، برخوردار اقبال بھی، الہ آباد کے میاں اکبر بھی، تمھارے اور ہمارے دلپسند محمد علی جناح بھی- میر صاحب سے تمھارا تذکرہ کیا تو کہلوا بھیجا کہ تم دشوار راہوں پہ گردن زیر خنجر چل نکلے ہو، دل کو پتھر کر لو

    گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

    رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

    تم کو دیکھتا ہوں تو مبتلائے آفتِ رشک ہوتا ہوں، پریوں کو تسخیر کرنا عمر بھر جی کا وبال ٹھہرا- مثل ابر جل تھل بھرا  تو  بھی سیری نہ ہوئی، تقریب بہرِ ملاقات مصوّری میں جی لگایا، ناز کھینچا، سخن سازی کی، انتظار کھینچا – جانتا کہ ہنگامے کا اک طور نیا نکلے گا، یہ بلے کاری جس کو تم کرکٹ کہتے ہو حلقہ زنجیر بن جاوے گا اور یک سلسلہ مہر و وفا قیس و کوہکن سے جوڑ دیوے گا- میر صاحب جانتے تو عزت سادات نہ کھوتے-خیر یہ باتیں جانے دو- میں اس خیال میں تھا تمھارا سہرا لکھتا، پہ مکّرر بہ مکّرر  سہرا لکھنا فقیر کی عادت نہیں- کہو تو استاد شہ کی مرضی معلوم کروں؟ خط رسم زمانہ، کسی ناساز بے طور کج رو   نے  تمھاری تاج پوشی پہ قصیدہ  لکھنے کو  کہا، جانتا نہیں کہ مجھ کو ستائش کی تمنّا نہیں، پہ صلے کی پروا ہے- جانتا ہوں تم لئیم الطبع نہیں، پہ اس باب میں مہربان بھی نہیں، اور امید وارِ عنایات بنے منہ تکنا مجھ کو گوارا نہیں- اگلے قصیدوں کے صلے کے عوض نمک پاشیوں سے ہنوز مجروح ہوں- لو صاحب ہم باز آئے ایسی معاش سے-

     خدا تم کو دولت و اقبال روز افزوں عطا کرے-یہ فقط دل لگی کی باتیں ہیں، مجھ کو صلے سے اب کیا علاقہ-  ڈرتا ہوں میں خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں، تم نا حرف شناس ٹھہرے ایک اور داغ غم چپکا دو گے- تقریب گریہ سخن رکھ چھوڑوں، مجھ کو ہمت نہیں، دماغ نہیں-

    میاں لڑکے، سخت حیرت میں ہوں تم کس ڈھب کے آدمی ہو؟ تم آدمی نہیں جن ہو- اس راہ میں کیا کیا داغ کھائے-  چاروں طرف سے پتھر چلے آتے تھے، پہ تم چلے جاتے تھے، غضب کا شور، قیامت لحظہ لحظہ، پہ تم چلے جاتے تھے- واہ لڑکے واہ-  جیتے رہو آفرین، صد ہزار آفرین-

    کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو 

     کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے

    میرا دل جانتا ہے کہ میں تم کو اس مسند پر دیکھنے کا کس قدر آرزومند تھا- تمھاری تاجپوشی دیکھنے پورا بدن آنکھوں میں آ رہا، سادگی میں کیا رنگا رنگی تھی- میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں، تم کو تخت شاہی  پر دیکھ کر آنکھیں روشن ہوگئیں، دل کو چین آ  گیا، روح تازہ ہوگئی-  صدر صاحب کی اردو نے لطف دیا، تمھاری اردو نے گنہگار کیا- صابن سا منہ میں گھل گیا،طبعیت الٹ گئی، ہم سخن وا کرتے کرتے مر گئے، اب صبر بن کوئی چارا نہیں -جلوے کا دھوکا کہ صاحب بہادر مغموم،  سو آنکھیں دکھاتے نظر آئے- تمھارا تلفظ آزار کا سبب معلوم ہوتا ہے گو ایک اور طرف بھی گمان جاتا ہے- میں گرچہ دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا، پہ تم سے نا امیدی اور صاحب سے بد گمانی رکھوں، ہے ہے خدا نہ کرے اس بیباکی کی جرات کروں-

    میرا کہا "جز خان اور کوئی نہ آیا بروئے کار”  فقط آرایش عنوان نامہ نہیں، جو ازروئے دیدنی مجھ پر حالی ہوا ہے وہ سنو – سب یہاں ہم باہم ہیں، تمھارے بابائے قوم کو تم پہ سو سو ناز ہے- میاں اقبال کو  تم میں اپنا شاہین نظر آتا ہے- تمھاری خوبیوں کی تابانی دیکھ خورشید و ماہ منہ چھپاتے ہیں-تمھاری طرز سادہ اس راہ پرخار میں تیشۂ فرہاد ہے- تم کو اپنے وطن سے عشق ہے، میاں  لڑکے  تیشے کو سنبھالو اور عشق کو زور آزمائی کرنے دو-

    ہاں صاحب، جو چاہے مانے جو نہ چاہے نہ مانے   تمھارے رفیقوں  نے تمھاری خاطر سے کیا زحمت اٹھائی ہے، صاحبان منصب کے واسطے ایمانداری کے سوا کوئی صورت نہیں- تم جانتے ہو کہ وفائے دلبراں اتفاقی ہے، حادثاتی ہے، ترکیبی ہے ، تم جواں مرد جواں ہمت ہو کسی کو اپنے مزاج میں تصرف نہ کرنے دیجیو- خبردار کر دو کہ

    عاشقوں کے بھی معین  ہو گئے ہیں اب حقوق

    عہد عمرانی ہے یہ، اے جان جاں، شاہی گئی

    ایک لطیفہ نشاط انگیز سنو-میر صاحب سے اس باب میں نشست ہوئی کہتے ہیں تم اتنا کیوں دل جلاتے ہو- اب تم تماشا دیکھو-  برخوردار عمران سے کہہ دو کہ حق تعالی تمھیں  عمر و دولت و اقبال و عزت دے- معاملہ یوں ہے کہ

    میں تو خوباں کو جانتا ہی ہوں 

     پر مجھے یہ بھی خوب جانے ہیں

    مجبوری کو کمزوری نہ بننے دیجیو، تمھاری سب کار گزاری پر پانی پھر جاوے گا اگر صاحبان منصب کے انتخاب میں چوک ہوگئی، جان لو،  کار بوزینہ نیست نجاری، یعنی بندر بڑھئی کا کام نہیں کر سکتا-  سنار کی دکان پر لوہار کو بٹھا کر کنگن کے رہٹ بننے پر حیران نہ ہونا-

    تمھاری تقریر کی فسوں گری کا لطف ہنوز اٹھاتا ہوں-  تمھارا دیدار میسر ہوا، گفتار سنی- سحر بیانی ایسی کہ  ہر لفظ مثلِ جوہرِ تیغ آبدار تھا- لذت ایسی کہ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے – تم نے جو کہا ہے خوب کہا ہے- ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال، جو دیکھتا ہے حیران ہوتا ہے، اب شہر میں جا بجا اسی کا بیان ہوتا ہے-یہ کیا اتفاق ہے کہ تمھاری بات کوئی نہیں سمجھا- گویم مشکل والا معاملہ نہ تھا- ہاں، سماعتوں میں فتور پڑا، ہنگامہ برپا ہے، ہر طرف سے رنج کا ہجوم ہے- یہ سر پیٹنے کی جا ہے- کیا ہنسی آتی ہے، تمھارے رقیب چھوٹے پہاڑ سے اترے بڑے پہاڑ پر چڑھ گئے-

    تمھاری جان اور اپنے ایمان کی قسم، میں تم کو اطلا ع دیتا ہوں کہ یہ ترک ستم گری نہ کریں گے، پہ تم کو لازم ہے کہ طرز گفتار بدلو، تم مثل خورشید و ماہ، چمک و توانائی اور نرمی و ٹھنڈک کو بیک وقت بروئے کار لاؤ-شمع عالم تاب بنو،  یہ  امور ایسے نہیں کہ جلد فیصل ہو جاویں- شکوہ کرنا سہل ہے، میری جان خدا تیرا نگہبان اچھی فکر پر عمل کرو  الفاظ صیقل ہو جاویں گے-

     سو بات کی ایک بات سنو، خود کو اور عوام اور سیاسی رقیبوں کو ایک ڈور میں باندھ لو، جب وہ ڈھیلی چھوڑیں تو  تم کھینچ لو، جب وہ کھینچیں تو تم ڈھیلی چھوڑ دو- گربہ کشتن روز اول اچھا ڈھب نہیں، اعتدال پسندی کو رواج دو، شملہ بمقدار علم زیب دیتا ہے-  تمھارے رقیب بھی گرفتار الفت وطن ہیں- محبت، راست چلنی اور شیریں زبانی سے ان کو رام کر لو- میٹھی زبان خاصے کی چیز ہے- سنو صاحب تم جانتے ہو میاں اقبال تم سے ریشم کی نرمی اور فولاد کی سختی کی امید رکھتے ہیں-یہ  نہ کر سکو تو تم کو آفریں-

    ایک فرنگی سے ایک بات سنی، دل کو لگی- تم دل کو لگا لو، یعنی، نہ سنو اگر برا کہے کوئی- چلتے جاؤ-

    Segui il tuo corso, e lascia dir le genti (Dante Alighieri)

    کل کا قصہ سنو، سر راہ اکبر میاں سے ملاقات ہو گئی- حضور کہتے ہیں کہ رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں کہ برخوردار عمران سے تقریر میں قرضہ جات کے اعداد و شمار (فگر) میں فروگزاشت ہو گئی- یہ بندہ پر تقصیر دم بخود رہ گیا-  میں خوب جانتا ہوں کہ یہ ممکن نہیں، ‘ فگر’ کے باب میں غلطی نہ کرنا تمھاری خوبی نہیں  بنیادی مہارت ہے-  یہ جوہر،  یہ  لیاقت ذاتی ہر سوختہ جاں پیدا کر نہیں سکتا- ‘ فگر’  کے باب میں تمہاری بات کل بھی مستند تھی اور آج بھی- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو، یہ تم سے ٹھیک طرح سے واقف نہیں-

    تمھارے دوام دولت کا دعا گو ہوں، جان لو  اس سے کچھ بحث نہیں کہ ترقی علم سے مشروط ہے، تحقیق سے جڑ جاؤ، سائنس کو اپنا لو، مجھ کو فراموش کر دو تو میں راضی، پہ حکیم نیوٹن اور حکیم  آئن سٹائن اور ایسوں سے استفادہ کرو- اور ہاں، یہ نہ بھولو کہ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی-

    پاکستانی قوم کو  مبارک نوید صبح نو، تمھارے ساتھیوں کو سلام اور دعا ، شیر نر میاں سدھو کو دعائیں اور برخوردار ولید اقبال کو پیار، یہ لڑکا پرتو اقبال ہے، دردمندان قوم میں سے ہے، سراپا دانش، صاحب گفتار بھی ہے اور صاحب کردار بھی، اس کی قدر کرو- اور ہاں

    ہمیں خبر ہے کہ تم ہو چراغ آخری شب 

    تمھارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

    عمر فراواں و دولت زیادہ

     فقط

    غالب 

    جمعرات ٢٣ اگست ٢٠١٨

  • دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    ذاکر حسین

    مکرمی!

    قوم کا المیہ ہیکہ جب کوئی شخص قوم کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی زندگی وقف کردیتا ہے اور جب کوئی شخص قوم کی ترقی کے زینے طے کروانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد کی راہوں میں سرگرمِ عمل ہوتا ہے تو کوئی غیر نہیں بلکہ اپنی قوم کے ہی تنگ نظر، کم ظرف، حاسداور مردہ ضمیر افراد قوم پرست افراد کے جذبات اور روح کو چوٹ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    گزشتہ دنوں ایک حادثہ راقمِ سطورکے ساتھ ہوا، جب ناچیز عید کی نماز پڑھ کر عید گاہ سے گھر کی طرف جا رہاتھا تومسجد سے دس میٹر کی دوری پر پہلے سے گھات لگائے غنڈوں نے ناچیز کو جان سے مارنے کی کوشش کی اورجب بٖڑے بھائی بیچ بچائو کیلئے آئے توان لوگوں نے انہیں بھی مارا۔ اتنی تذلیل اور مارپیٹ کے بعد جب خاکسار گھر کی طرف جار ہاتھا توان بد معاشوں نے ہمارے اوپر پھر قاتلانہ حملہ کیا۔ ایک بہادر اور جیالے نوجوان کی مداخلت کی وجہ سے کسی طرح سے ہماری جان بچی۔ اب سوال یہ ہیکہ انسان کتنا صبر کر کے قوم کیلئے قربانیاں دے۔ جسم زخمی، جذبات زخمی اوراداس احساس کے ساتھ پھر گھر کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو غنڈوں نے گندی گندی گالیاں دیں اور ایک بار پھر ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

    قارئین کو یہ بتانا ضروری ہیکہ ان غنڈوں نے یہ کہہ کر ہمارے اوپر حملہ کیا کہ ہم مقتول ببلوخان مرحوم (سیدھا سلطان پور) کی مظلوم فیملی کی مدد کر رہے ہیں۔ بتا دیں کہ امسال ۱۹ مارچ کو سیدھا سلطان پور باشندہ ببلوخان کا ان کے گھر میں قتل ہو گیا تھا۔ ہمارے اوپر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کا اس قتل میں شامل ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ مقتول ببلوخان کی بیوہ متعدد بار اپنے بیان میں اپنے شوہر کے قتل کیلئے احمد اﷲاور پپو پر پانچ لاکھ سپاری دینے کی بات کہہ چکی ہیں۔ ہمارے اوپر حملہ کرنے والے بدمعاش عبد اﷲ، ندیم، پپو، سلمان اور دیگر نے ہمیں جان سے مارنے کی کوشش کی۔ اس طرح کا قاتلانہ حملہ ان بد معاشوں کے بڑھتے حوصلے کو عیاں کرتاہے۔

     ہمیں خدشہ ہیکہ یہ غنڈے مستقبل میں بھی ہمارے اوپر قاتلانہ حملہ کر سکتے ہیں۔ اسلئے ہم حکومت سے مانگ کرتے ہیں کہ ہمیں سیکورٹی فراہم کی جائے۔ ببلوخان قتل معاملہ میں مداخلت کرنے کا جھوٹا الزام لگاکر ان بدمعاشوں نے ایک صحافی اور سماجی کارکن پر حملہ کر کے قانون کو چیلنج کیا ہے۔ اخبار کے توسط سے ان غنڈوں تک پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہم اس طرح کے حملے اور دھمکیوں سے خائف ہونے والے نہیں ہیں۔

     ہم انصاف کی راہ میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی سر گرمِ عمل رہیں گے۔ انشاء اﷲ۔ اس مصیبت کی گھڑی میں ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے تمام معززاور انصاف پسند افراد کاہم دل سے شکریا ادا کرتے ہیں۔

  • آرمی چیف کا بیان اور کشمیر

    ذاکر حسین

    مکرمی !

    وطن عزیز کی سب سے زیادہ حساس اور سیاسی اتھل پتھل کی شکارریاست کشمیر ان دنوں ایک بار سرخیوں میں ہے۔ وجہ آرمی چیف جنرل بپن راوت کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا ہیکہ کشمیری نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہیکہ انہیں ’آزادی کبھی نہیں ملے گی اور وہ فوج سے نہیں لڑ سکتے۔ انڈین ایکسپریس کو دیے انٹر ویومیں جنرل راوت نے کہا ہیکہ جو لوگ نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ ایسا کر کے انہیں آزادی مل جائے گی وہ انہیں بہکار رہے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ میں کشمیری نوجوانوں کوبتاتا چاہتا ہوں کہ انہیں جو آزادی چاہئے وہ ممکن نہیں ہے۔ ایسانہیں ہو گا، اسے بے وجہ مت کھینچئے۔

     ہمیں یاد ہے گزشتہ دنوں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گزشتہ روز کشمیر میں صوبائی پولس افسران کے ذریعہ منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پرشاعرانہ انداز میں کہاتھا’کوئی شکوہ ہو تو شکایت کریں ‘ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد کشمیری عوام کے ذہنوں میں یہ بات ضرور گردش کر رہی ہوگی کہ شاید حکومت ان کے مسائل پر کوئی توجہ دے۔ لیکن خاکسار کا وزیر موصوف سے سوال ہیکہ اگر کشمیری عوام اپنے دکھ درد آپ سے شیئر کریں گے تو کیا آپ ان کے دکھ درد کو دور کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام کریں گے ؟

    حریت اور علیحدگی پسند لیڈرسید علی گیلانی نے کچھ دنو ں پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 27برس کے عرصہ میں کشمیر میں تقریباًایک لاکھ سے زائد انسانوں کو موت کی وادیوں میں پہنچایا جا چکاہے اور لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں فرضی گرفتاریوں کے ذریعے محروسین کو جسمانی اور ذہنی تکلیف دی گئی ہے۔ علیحدگی پسندلیڈرمسٹر گیلانی کی مانیں تو خطے میں اب تک 10 ہزار افراد حراست کے بعدلاپتہ کر دئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سید علی گیلانی نے کشمیر میں خواتین کی عصمت دری اور دست درازی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ اگر مسٹر گیلانی کی بات پر اعتبار کیا جائے تو وادی میں اب تک ساڑھے سات ہزار خواتین کو اجتماعی عصمت دری اور دست درازی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    جنوبی کشمیر کے تحصیل لنگیٹ کا ایک سر سبز اور حد درجہ خوبصورت مقام ریشی واری ہے۔ پورا علاقہ قدرتی خوبصورتی سے لبریز ہے جگہ جگہ خوشبودار پھولوں سے اس علاقے میں جانے والوں پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ پہاڑی نالوں اور جنگلوں کی وجہ سے پورا علاقہ ایک ایسا نقشہ پیش کرتا ہے جو اب صرف کہانیوں، افسانوں اور فلموں میں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتا ہے۔ جنوبی کشمیر کا ریشی واری میں جس حیرت انگیز چیز کی بات ہو رہی تھی وہ یہ کہ ریشی واری کے سبھی گھروں کی دوسری منزل پر فوجی اہلکار وں کا سخت پہرہ رہتا ہے اور گھروں کی پہلی منزل پر گھر کے افراد خوف و ہراس میں زندگی کے دن گذار رہے ہیں۔

  • مشک آنست کہ خود ببوید، نہ کہ عطّار گوید

    عبد الوہاب عبد العزیز جامعیؔ

    عزیزم مولوی کاشف شکیل صاحب عالیاوی کا مضمون ’تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو‘ کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟‘ میری نظر سے گزرا۔موصوف نے ’’یرویدون ان یحمدوا بمالم یفعلوا‘‘ کے مصداق یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مذکورہ کتاب ان کی مرتب کردہ ہے۔مضمون میں انہوں نے پہلے تو یہ رونا رویا ہے کہ کچھ احباب نے ان پر سوالات کے ایسے نشتر مارے کہ روح چھلنی ہوگئی اور ایسے تازیانے برسائے جو ان کے جسم کے ساتھ روح پر بھی برسے اور ابھی تک برس رہے ہیں۔ افسانچے کے ذریعے اشعار والفاظ کے تیرو نشتر چلاکر،تضحیک،تحقیر اور تذلیل کا سلسلہ تو آں محترم نے کتاب چھپنے کے بعد سے شروع کیا تھا۔’’چاہ کن راچاہ درپیش‘‘۔ جب وہ اتنے حساس ہیں تو خیال ہونا چاہیے کہ د وسرے بھی ان ہی کی طرح دل رکھتے ہیں۔ وہ کوئی پتھر کے بنے ہوے نہیں ہیں۔

     کاشف صاحب کے بقول:’’ وہ۵؍فروری۲۰۱۷ء کو میرے ادارے سے منسلک ہوے، اور۱۶؍اگست کو ادارہ چھوڑ دیا۔اس حساب سے ان کی مدت ملازمت چھے ماہ نو دن ہوتی ہے۔وہ تحریر فرماتے ہیں :’’ صبح وشام ـــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح آٹھ بجے تا نمازِ عشاء بلاناغہ فری ڈے اور سنڈے کسی بھی دن کی تعطیل کے بغیر کتاب کی ترتیب میں مشغول رہا تو،یہ سلسلہ بلا انقطاع جاری رہا ـــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔

    پھر آپ رقم طراز ہیں :’’مختلف مقامات کی خاک چھانی۔ایسے ایسے علاقوں کی دھول چاٹی، جہاں کی تہذیب وثقافت،زبان وادب بالکل مختلف  تھی‘‘۔ایک اور جگہ لکھتے ہیں :’’ دورانِ ملازمت کلیہ فاطمۃ الزہراء ہرپن ہلی کی لائبریری دو مرتبہ کھنگال ڈالی‘‘۔

      راقم کا سوال یہ ہے کہ چھے ماہ نو دن میں آپ نے جنوبی ہند کے کن کن مقامات کی خاک چھانی؟ اور کس کس شہر کی دھول چاٹی؟ اور کتنے ایام لائبریری میں گزارے؟ اور کتاب کی ترتیب میں کتنے دن لگائے؟

    اس سے پہلے میں نے وضاحت کی تھی کہ ماہِ رمضان میں میرے خلیجی ممالک کے سفر کے دوران ڈیرھ ماہ تک موصوف مکمل آرام فرماتے رہے۔ جب میں نے انہیں ماہ رمضان میں گھر جانے کی اجازت دی تو کہا تھا کہ’’ ابھی گھر سے آئے صرف تین ماہ ہوئے ہیں، اس لیے عید الاضحی کے موقع پر گھر جانے کا پروگرام ہے‘‘۔

      آپ کے مختلف مقامات کی خاک چھاننے اور دھول چاٹنے کی بات تو سراسر جھوٹ ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ آپ نے میرے ساتھ حیدرآباد کا سفر بذریعہ ٹرین اے سی ٹوٹائیر میں کیا تھا، اورحیدرآباد میں آپ کا قیام اس مکان میں تھا جس میں خلیجی ممالک کے بڑے بڑے شیوخ قیام کرتے ہیں۔ اس موقع پر، اور اس کے علاوہ بھی دو ایک اسفار میں آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ’’ شیخ! زندگی میں پہلی مرتبہ میں نےA.Cمیں سفر کیا ہے‘‘۔ اور یہ بھی کہ ’’ اتنے عالیشان مکان میں ، جو فائیو اسٹار ہوٹل لگتا ہے، پہلی مرتبہ میں نے قیام کیا ہے‘‘۔ اور یہ بھی کہا تھاکہ ’’شیخ !اتنے اچھے، چنندہ دستر خوان پر مجھے پہلی مرتبہ بیٹھنے کا اتفاق ہوا‘‘۔ ان باتوں کو نقل کرنے سے میرا مقصد ان کی تضحیک کرنا نہیں ہے،بلکہ حقیتِ حال کی طرف اشارہ کرنامقصود ہے۔ اللہ کا احسان ہے کہ جن بزرگوں سے مجھے سیکھنے کا موقع ملا، وہ ایسے انسانیت نواز تھے کہ انھوں نے مجھے اپنے بچوں کی طرح سمجھا، اور میرے حوصلے بلند کیے۔الحمد للہ! اپنے اساتذہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوے علماء کی قدر دانی اور حوصلہ افزائی کی ایسی ہی کوشش میں کرتارہتا ہوں ۔ اس کی گواہی ہر وہ شخص دے گا جس نے مجھ سے ملاقات کی ہو۔

    جو لوگ قریب رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مولوی کاشف شکیل سلمہ کے ساتھ بھی میں نے ایسا ہی حسن سلوک کیا اور اپنے اسٹاف میں سب سے زیادہ آپ کو اہمیت دی کہ کئی علماء رشک کرنے لگے تھے۔حیدرآباد میں مولانا عبد الرحمن صاحب فاروقی وغیرہ سے آپ کی ملاقات میرے ہی توسط سے ہوئی۔ میں نے آپ کو جماعتی اجتماعات اور جلسوں میں ساتھ رکھا۔یہی آپ کے اسفار تھے، جس کو آپ نے خاک چھاننے اور دھول چاٹنے سے تشبیہ دی ہے۔ پھر آپ نے کلیہ فاطمۃ الزہراء کی لائبریری کھنگالنے کی بات کہی ہے، جب کہ تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند پر یہاں مواد نہیں ہے۔یہ طالبات اور معلمین و معلمات کی لائبریری ہے، جس میں ان کے کام کی والی کتابیں زیادہ ہیں۔

    میری کتاب’’ تاریخ اہلِ حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو‘‘ سے متعلق چند اہم اورضروری نکات یہاں پیش کرنا ضروری سمجھتاہوں :

     تاریخِ اہلِ حدیث میری دلچسپی کا موضوع ہے۔اس سے میری دلچسپی استاذی مولانا سید اسماعیل رائیدرگیؒ کی صحبت سے پیدا ہوئی۔مولانا ے محترم مدرسۂ سلفیہ غزنویہ امرتسر کے فیض یافتہ،مولانا عبد الاول غزنویؒ کے شاگرد،مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اورمولانا اسماعیل سلفی گجرانوالہؒ کے مصاحب، اور جنوب میں تاریخ اہل حدیث پر مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔میں نے اپنے طالب علمی کے زمانے(1972؁ء) میں ’’ تراجم علمائے اہل حدیث ہند ’’ از:امام ابویحییٰ امام خان نوشہروی، ’’ سیرتِ سید أحمد شہید‘‘ اور ’’تحریک شہیدین‘‘وغیرہ جیسی قیمتی کتابیں پڑھ لی تھیں۔

     جنوبی ہند کے علماے کرام عموماً اور ریاست کرناٹک کے اہلِ علم خصوصًا اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ میرے خطابات اورمیری نجی گفتگو کا محور اکثر تاریخ اہل حدیث ہوتا ہے۔اس دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ1986؁ء میں میرا ایک مضمون بعنوان’’ اضلاع کرناٹک میں سلفی دعوت‘‘ پندرہ روزہ ترجمان دہلی میں شائع ہوا تھا۔ پھر مزید معلومات کے ساتھ1988؁ء میں تاریخ اہل حدیث کرناٹک پر پندرہ روزہ ترجمان میں ایک اور تفصیلی مضمون شائع ہوا۔ان کے علاوہ پندرہ روزہ ترجمان، مجلہ اہل حدیث شکراوہ، ماہنامہ صوت الحق مالیگاؤں ، ماہ نامہ نوائے اسلام دہلی وغیرہ میں میرے کئی ایک مضامین تاریخ اہل حدیث منگلور،تاریخ اہل حدیث چترادرگہ،مختلف اجلاس کی رپورٹوں پر مشتمل شائع ہوتے رہے،جن کا ذکر راقم سے مولانا دکتور عبد الرحمن پریوائی،مولانا دکتور عبد الباری فتح اللہ صاحب اور مولانا صلاح الدین مقبول صاحب حفظہم اللہ نے عند الملاقات کیا تھا۔

    ۱۹۹۳ء میں بنگلور سے متصل مشہور شہر ’’ہسور‘‘ میں جمعیت اہلِ حدیث کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر میں نے ایک کتابچہ مرتب کیا تھا، جس کا عنوان ہے: ’’کرناٹک میں اہل حدیث کی سرگرمیاں ‘‘۔

     یہ سارے کام تاریخِ اہلِ حدیث سے میری دل چسپی کے گواہ ہیں ۔ ان سب گرمیوں نے میرے دل میں کرناٹک کی مکمل تاریخِ اہل حدیث مرتب کرنے کے شوق کو مزید جِلا بخشا۔چنانچہ میں نے خود اس فریضے کی ادائی کا تہیہ کرلیا اور اس کا منصوبہ1997؁ء میں بنایا۔اس سلسلے میں مختلف جامعات کو خطوط روانہ کیے، جن کے جواب میں درجِ ذیل خطوط موصول ہوے۔(خطوط کی فوٹو کاپیاں ترتیب وار مضمون کے اختتام پر فیس بک پر ڈال دی گئی ہیں )

    ۱) مولانا خلیل الرحمن صاحب اعظمی عمریؒ (ناظم جامعہ دار السلام عمر آباد) کا مکتوب بتاریخ26/05/1997   کوموصول ہوا، جس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

     ’’محترم ومکرم! مولانا عبد الوہاب صاحب جامعیؔ زیدکم مجدکم العالی

     آپ کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ لوگ ’تاریخ جماعت اہل حدیث کرناٹک‘ شائع کرنے جارہے ہیں ‘‘۔

    ۲)استاذ الاساتذہ مولانا ابو البیان حماد صاحب عمری حفظہ اللہ کا خط مورخہ28/5/1997 کو ملا۔آپ تحریر فرماتے ہیں :

    ’’عزیز گرامی قدر جناب مولانا عبد الوہاب صاحب جامعیؔ حفظہ اللہ۔۔۔۔ مجھے یہ معلوم کرکے مسرت ہوئی کہ جمعیت اہل حدیث کرناٹک کی جانب سے’’ تاریخِ جمعیت اہل حدیث کرناٹک ‘‘مرتب کر کے شائع کی جارہی ہے‘‘۔

     ۳) مولانا عبد الغنی صاحب سیفیؔ، شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ رائیدرگ کا خط3؍ جون 1997؁ء کو موصول ہوا۔آپ تحریر فرماتے ہیں :

    ’’ عزیز گرامی مولوی عبد الوہاب جامعیؔ سلمہ۔۔۔۔۔ عزیزم! یہ معلوم کرکے بڑی مسرت اور خوشی ہوئی کہ جمعیت اہل حدیث کرناٹک آپ کی قیادت میں علمائے اہل حدیث کرناٹک کے حالات پر مشتمل ایک کتاب شائع کررہی ہے۔مبارک ‘صد مبارک،زہے نصیب۔

    علاوہ ازیں میں نے ریاست کے مختلف علمائے کرام اور اخوانِ جماعت کو اس سلسلے میں خطوط روانہ کئے، اور انہیں بالمشافہ ترغیب دلائی، نیز مزید معلومات جمع کرنی شروع کردی۔ ۲۰۰۰ء میں ، جب کہ میں جمعیت اہلِ حدیث کرناٹک کا امیر تھا، اس موقع پر پورے کرناٹک کا دورہ کرکے کرناٹک کی تمام اہلِ حدیث مساجد، مدارس اور دینی سینٹرز کے سلسلے میں معلومات اکٹھی کی تھیں ، اوران سب کو ایک ڈائرکٹری کی شکل میں مرتب کرکے اردو اورکنڑا زبان میں شائع کروایاتھا۔

     پھر اس کے بعد نہیں معلوم اللہ تعالیٰ کو کیا منظور تھا کہ میں نے2001؁ ء سے تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف توجہ دی اور میری تمام تر توجہ2011؁ء تک صرف تعلیمی مراکز کے قیام اور ان کی تعمیرات پر مرکوز رہی۔اس درمیان میری ملاقات مولانا شیر خان جمیل أحمد صاحب حفظہ اللہ نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ سے ہوئی۔ آپ نے میرے پاس موجود تاریخ اہل حدیث سے متعلق اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرلیں ۔ مورخ اہل حدیث ڈاکٹر بہاء الدین صاحب نے اس کو2008؁ء میں تاریخ اہل حدیث جلد سوم میں شائع کیا۔

     2011؁ء کی بات ہے کہ جامعہ محمدیہ رائیدرگ کے ایک اجلاس میں استاذی مولانا عبد الغنی صاحب سیفیؔ عمریؔ، شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ رائیدرگ کی سوانح پر مشتمل کتاب’’ نقوشِ حیات‘‘(مرتب مولانا انور سلفی) کا اجراء عمل میں آیا۔اس موقع پر جامعی برادران نے مجھ پر بہت زور ڈالا کہ میں اپنے مربی و استاذ مولانا سید اسماعیل صاحب کی حیات وخدمات پر کتاب مرتب کروں ۔ چوں کہ یہ کام عین میری دل چسپی کا تھا، اور میری دلی خواہش بھی تھی، اس لیے میں نے اسی اجلاس میں حامی بھرلی اور2013؁ء میں الحمد للہ یہ کتاب مرتب ہوکر شائع بھی ہوئی۔

     کتاب’’ تابندہ نقوس‘‘ کی ترتیب کے دوران میں نے ’’تاریخ اہل حدیث کرناٹک‘‘ کاکام بھی شروع کردیا۔اس دوران اندازہ ہوا کہ موجودہ کرناٹک کی تاریخِ اہل حدیث کو الگ کرنا مشکل ہے۔ اس لیے کہ ریاستِ کرناٹک میں سابقہ مدراس اسٹیٹ،ممبئی اسٹیٹ،نظام اسٹیٹ حیدرآباد اور میسور اسٹیٹ شامل تھے۔ اس کے علاوہ دو صدی قبل جنوب میں اہل حدیثوں کے دو اہم مراکز تھے۔ایک حیدرآباد،دوسرا مدراس، جہاں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہید ؒکے خلفاء مولانا سید محمد علی رامپوری اور مولانا ولایت علی عظیم آبادی کی دعوتی کوششوں سے مسلکِ اہل حدیث کو فروغ حاصل ہوا تھا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اب اسی منصوبے کو مزید توسیع دیتے ہوئے ’’تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند ‘‘مرتب کرنی چاہیے۔اس کے بعد میں نے جنوبی ہند پر مشتمل تاریخ مرتب کرنی شروع کردی، اور اس کے لیے جہاں کہیں سے مراجع ومصادر کی کتابیں ملیں ، اکٹھی کرلیں ۔

     مولوی کاشف صاحب کی آمد سے پہلے مراجع ومصادر کی کوئی کتاب ایسی نہیں تھی جو میرے پاس نہ ہو۔الا ماشاء اللہ۔ پھر کام کا ذکر اپنی کتاب ’’تابندہ نقوش‘‘ مطبوعہ2013؁ء کے صفحہ73 پر کیا ہے۔اس کاایک اقتباس ملا حظہ فرمائیں :

     ’’ جنوبی ہند کے اس حاتم زماں ، سخی دوراں پر مفصل مضمون راقم الحروف کی زیر طبع کتاب’’ تحریک اہل حدیث جنوبی ہند ‘‘میں ملاحظہ فرمائیں ‘‘۔

    کتاب کی ترتیب کا کام سست رفتاری سے جاری تھا۔2015؁ء میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی عمریـؒ( مدیر ماہنامہ’’راہ اعتدال‘‘ عمرآباد) کا ایک مضمون باؤٹا والے شیخ عبد العزیزصاحب مدراسی پر شائع ہوا۔ میں نے اس مضمون پر اپنے تاثرات روانہ کرتے ہوئے مولانا موصوف سے دیگر جماعتی شخصیات پر بھی لکھنے کی گزارش کی۔جواب میں مولانا نے جو مکتوب لکھا، اس کاایک اقتباس یہ ہے:

      ’’ دین وملت اور جماعتی خدمات کا جذبہ رکھنے والوں کے متعلق بندے کے جذبات واحساسات بھی تقریباً وہی ہیں جو آپ کے ہیں ۔ مولانا نذیر حسین قصوری مرحوم، حاجی عبید اللہ صاحب مرحوم،اورسابق صدورِ جامعہ(دارالسلام) کے تعلق سے مضامین تحریر کئے جاچکے ہیں ، جو دیگر محسنینِ جامعہ پر لکھے جانے والے مضامین کے ساتھ کتابی شکل میں جامعہ سے شائع ہونے والے ہیں ۔ ان شاء اللہ۔۔۔۔۔۔۔بندے کی نظر میں آپ کی علمی ودینی خدمات اور جماعتی اُمور سے گہری وابستگی بھی انتہائی قابلِ قدر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عزم وحوصلہ عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔( اس کی کاپی بھی فیس بک پر ڈال دی گئی ہے)

     مولوی کاشف سلمہٗ کا یہ دعویٰ کہ کتاب کے مرتب وہی ہیں اورتمام معلومات کے جمع کرنے میں انہوں نے رات دن ایک کیا ہے،اس کی حقیقت جاننے کے لیے تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔

    کتاب میں جن شخصیات کے سوانحی خاکے شامل کئے گئے ہیں ، وہ سب درج ذیل اہلِ علم کی کتابوں اور مضامین سے ماخوذ ہیں :

    ۱) مولانا سید اسماعیل رائیدرگی، بانی جامعہ محمدیہ رائیدرگ آندھرا کا کئی قسطوں پر مشتمل مضمون۔

    ’’تحریک اہل حدیث جنوبی ہند‘‘ سے ماخوذ سوانحی خاکے درج ذیل ہیں ۔ اس میں جزوی ترمیم کے ساتھ مکمل مواد مولاناسید اسماعیل رحمہ اللہ کاجوں کا توں کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔

      (۱) مولانا سید عبد القادر صاحب مدراسی(۲) شیخ ابو سعد اسماعیل بن حسین ویلوری(۳) قاضی عبد الرحیم صاحب کرنولی(۴) مولانا عبد الوہاب شیرازی(۵) مولانا عبد الکریم صاحب قریشی بنگلوری(۶) مولانا سلطان محی الدین محمدی کرنولی(۷) مولانا عبد اللہ صاحب غازی لب بریدہ نزیل سرسی(۸) مولانا رحمت اللہ خان صاحب پنجابی سرسی(۹) مولانا محمد عثمان آرکاٹی مدراس(۱۰) مولانا عبد القادر صاحب پیارم پیٹی(۱۱)مولانا احمد علی کوئمبتوری(۱۲)مولانا عبد الوہاب وانمباڑی(۱۳) مولانا رضوان اللہ خان پنجابی(۱۴) مولانا عباس صاحب وانمباڑی رحمہم اللہ۔

    ۲)مولانامحمد ثناء اللہ صاحب عمری ایم۔اے عثمانیہ کی دوکتابیں ’’ نذرانۂ اشک‘‘ اور’’مجھے یاد آنے والے‘‘، نیزمجلہ اہل حدیث شکراوہ اور ماہنامہ راہِ اعتدال عمرآباد سے ماخوذسوانحی خاکے درج ذیل ہیں ۔ ان تمام شخصیات کا انتخاب راقم الحروف نے کیا تھا،اور مواد بھی میں نے ہی فراہم کیا تھا۔کتاب کے کون کون سے اقتباسات کو درج کرنا ہے، اس کی بھی تعیین میں نے ہی کی تھی۔مندرجہ ذیل سوانحی خاکے مولوی کاشف صاحب نے صرف چند الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ درج کیا ہے۔قارئین مذکورہ کتابوں سے اس کا موازنہ کرلیں:

     (۱) مولانا حافظ عبد الواحد صاحب کٹانچوری(۲) مولانا حافظ میاں محمد صاحب پنجابی(۳) مولانا حافظ بشیر احمد صاحب پڈنوی(۴) مولانا عبد الغفار صاحب پڈنوی(۵) مولانا حافظ عبد الرؤف صاحب عمری پڈنوی(۶) مولانا عبد الحق صاحب کٹانچوری(۷) مولانا عبد الحکیم صاحب کٹانچوری(۸) مولانا ابو تمیم جانباز خان محمدی حیدر آبادی(۹) مولانا نذیر احمد صاحب پڈنوی(۱۰) مولانا عبد الباری صاحب سعیدی پڈنوی(۱۱) مولانا محمد یحيٰ صاحب ویوری(۱۲) مولانا عبد الواحد صاحب رحمانی گنٹوری(۱۳)مولانا عبد السلام صاحب فاروقی ندوی حیدر آبادی(۱۴) مولانا عبد الرحمن صاحب جامعی بنگلوری(۱۵) مولانا سید عبد اللہ مدنی شولاپوری(۱۶) مولانا محمد صدیق خان رحمانی وشاکھا پٹنم(۱۷) مولانا حافظ عبدالواجدعمری  رحمانی (۱۸) شیخ الحدیث مولانا عبد السبحان صاحب اعظمی(۱۹) مولانا عطاء اللہ سلفی(۲۰)مولانا حافظ عبد اللہ صاحب کرنولی مدراسی(۲۱) مولانا حافظ محمد اسماعیل شمیم شولاپوری(۲۲) مولانا احمد اللہ خان صاحب عمری کشن گیری(۲۳) مولانا منشی خطیب عبد الرحمن صاحب عمری پرنامبٹ(۲۴) مولانا سید ابو الکلام احمد ندوی(۲۵) مولانا عبد العزیز جامی عمری مدراس(۲۶) مولانا عبد الحافظ عمری مدراسی(۲۷) مولانا عبد الرحیم صاحب عمری رائیدرگی(۲۸) مولانا ابو القاسم خالد العربی اڑیسہ(۲۹) مولانا محمد شعیب صاحب عمری بنگلوری(۳۰) مولانا حافظ عبد العظیم صاحب ناگپوری(۳۱) حاجی حضرت خان شولاپوری(۳۲) مولانا فقیر اللہ پنجابی پرنامبٹ(۳۳)مولانا سید اسماعیل صاحب رائیدرگی (۳۴) مولانا سید عباس صاحب حامی عمری رائیدرگی(۳۵) مولانا ثناء اللہ صاحب عمری ہاسپیٹ(۳۶) مولانا منشی عبد الرحیم صاحب پڈنوی (۳۷) مولانا عبد القادر صاحب پریاکپم، ٹمل ناڈو(۳۸) مولانا عبد الجلیل صاحب کانوری(۳۹) مولانا دیندار خان صاحب ہریانوی (۴۰)مولانا عبد النور صاحب ادھونی(۴۱) مولانا محمد احمد خالدی(۴۲) جناب عبد الرؤف صاحب حیدر آبادی۔رحمہم اللہ

     ہمارے معززقارئین کے آگے کتاب’’ تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو ‘‘کے مقدمہ سے ایک بصیرت افروز اقتباس پیش کررہاہوں، جس کو مولانا حافظ حفیظ الرحمن صاحب اعظمی عمری مدنی،ناظم جامعہ دار السلام عمرآباد حفظہ اللہ،نے تحریر فرمایا ہے:

    ’’ کتاب کے انتساب کے لیے مولانا محمد ثناء اللہ عمری ایم۔ اے عثمانیہ حفظہ اللہ کا انتخاب ہر حیثیت سے بہت لاجواب ہے۔ کتاب کے مراجع ومصادر کے علاوہ ہر صفحہ میں موصوف کے قلم کی خوشبو رچی بسی ہے‘‘۔

     خط کشیدہ الفاظ کو غور سے پڑھیں ۔ اس سے مولوی کاشف صاحب کے دعوے کی حقیقت واضح ہوجائے گی۔

    ۳) مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی عمری، مدیر ماہنامہ راہِ اعتدال کی کتاب ’’ چمن جامعہ کے باغبان‘‘ اور راہِ اعتدال سے ماخوذ سوانحی خاکے:

    ۱) کاکا محمد عمر صاحب رحمہ اللہ، بانی جامعہ دار السلام عمرآباد۔۲) شیخ عبد العزیز باؤٹا بیڑی مدراس۔۳) الحاج سی عبد الشکور صاحب  پرنامبٹ۔۴) جناب سی فضل الرحمن صاحب پرنامبٹ۔۵) جناب آڈیٹر عبید اللہ صاحب مدراسی رحمہم اللہ۔

    ۴) مولانا انور سلفی کے مضامین سے ماخوذ سوانحی خاکے:

      ۱) مولانا فضل الرحمن صاحب اعظمی عمری مئو۔۲) مولانا عبد الغنی صاحب سیفی عمری رائیدرگ رحمہا اللہ۔مولانا موصوف کی سوانح میں میرے اپنے مشاہدات بھی شامل ہیں ۔

    ۵) مولانا حافظ حفیظ الرحمن صاحب اعظمی عمری حفظہ اللہ، ناظم جامعہ دار السلام کے مضامین سے ماخوذ سوانحی خاکے:

     ۱) شیخ الحدیث مولانا محمد نعمان اعظمی عمرآباد۔۲)مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی عمری۔ ۳) مولانا خلیل الرحمن اعظمی عمری، سابق ناظم جامعہ دار السلام عمر آباد رحمہم اللہ

     ۶) شیخ محمد رفیق صاحب سلفی مدیر جامعۃ المفلحات حیدر آباد سے حاصل کئے گئے سوانحی خاکے:

      ۱) مولانا شریف محمد الیمانی حیدر آبادی۔۲) مولانا شریف غالب بن شریف محمد الیمانی الأشراف حیدرآبادی

     ۷) راقم الحروف کے تحریر کردہ سانحی خاکے، جو مختلف بزرگ علمائے کرام سے مل کر ترتیب دئے گئے تھے۔ان میں سے کچھ تو جماعتی اخبارات میں شائع بھی ہوئے ہیں :

    ۱) مولانا عبد اللہ صاحب پنجابی ہری ہر۔۲) مولانا محمد ایوب صاحب ماستی بھوپالی۔۳) مولانا حافظ عبد الشکور صاحب رحمانی سرسی۔۴) مولانا سید احمد صاحب میسوری عرف شاہ صاحب۔۵) مولانا سید رفیع الدین صاحب عمری ماستی کرناٹک۔۶) مولانا محمد ادریس صاحب پنجابی ہری ہر۔۷) مولانا ابو رضوان سید محمد عطاء اللہ صاحب میسوری۔۸) مولانا عبد الغنی صاحب جامعی اپن بٹگیرہ ہری ہر۔۹) مولانا بشیر احمد صاحب ادھونی۔۱۰) مولانا عطاء اللہ صاحب پنجابی ہری ہر۔۱۱) مولانا ڈی رحمت اللہ صاحب جامعی رانی بنور۔۱۲) مولانا ابو الجمیل محمد یاسین صاحب سگری۔۱۳) ماسٹر سید سرمست حسین صاحب رائیدرگی۔۱۴) مولانا عبد اللہ بن حسن ہرپن ہلی۔۱۵) ماسٹر عبد الرحیم صاحب ہرپن ہلی۔۱۶) مولانا عبد اللہ سعیدی صاحب چامراج نگر۔۱۷) مولاناحافظ عبد الوہاب صاحب کنچوری کرنول۔۱۸) خواجہ میاں عرف منا ماسٹر رانی بنور۔۱۹)مولانا عبد الجبار خان صاحب سیف ہری ہر۔۲۰) مولانا عبد الرحیم صاحب عمری رائیدرگ۔۲۱) مولانا سید اسماعیل خان صاحب جامعی ہری ہر۔۲۲)مولانا محمد شریف صاحب بنگلوری۔۲۳) مولانا محمد بن عبد اللہ حیدر آبادی۔۲۴) مولانا سید اسماعیل صاحب رائیدرگی۔۲۵) مولانا انعام اللہ صاحب فاروقی۔۲۶) حاجی عبد السبحان صاحب ہڈی والے۔۲۷) ایچ کے عبد القادر صاحب ہاسپیٹ۔۲۸) مولانا عبد الحمید صاحب عمری ہسکوٹہ۔۲۹) الحاج عبد الرشید صاحب ماستی۔۳۰) سید عبد السلام صاحب بلہاری۔۳۱) الحاج ایس محمد صالح صاحب ماستی۔۳۲) حاجی امیر الدین صاحب قریشی۔۳۳) حاجی محمد ابراہیم صاحب ترچنا پلی۔۳۴) الحاج عبد الجبار خان صاحب ائرنی رانی بنور۔۳۵) الحاج سید عبد الحفیظ صاحب انجینئر بلہاری۔۳۶) جناب عبد الغنی صاحب گھڑی ساز رائے چور۔۳۷) جناب ٹی عبد الغنی صاحب دوڈابالاپور۔۳۸) جناب عبد الوہاب صاحب کولار۔۳۹) محمد سرور صاحب محمدی حیدرآباد۔۴۰) مولانا ابو شحمہ جالوادی بیجاپور۔۴۱)جناب پی منور علی صاحب موڈبدری۔۴۲) جناب آر عبد الرشید صاحب گوری بدنور۔

      شیر خان احمد حسین صاحب کا سوانحی خاکہ مولانا شیر خان جمیل صاحب حفظہ اللہ سے حاصل کرکے اس کا اختصار میں نے خود کیا تھا۔ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس مدراس 1918؁ء کی100صفحات پر مشتمل مکمل روئیداد اہل حدیث امرتسر سے نقل کی گئی ہے، جو میرے پاس محفوظ تھی۔ اس پر کچھ کاشف صاحب نے اور کچھ میں نے حاشیہ لکھا ہے۔جنوبی ہند اہل حدیث کانفرنس کی روئیداد ماہنامہ صوت الحق (مالیگاؤں ) سے ماخوذ ہے، جس کو مولانا شیر خان جمیل احمد عمری اور مولانا منصور الدین عمری حفظہم اللہ نے تحریر کیا تھا۔

     رہی بات شمالی ہند کے اُن علمائے کرام کی جن کی دعوتی وتبلیغی کاؤشیں جنوبی ہند میں رہیں ۔ وہ مختلف مطبوعہ کتب سے میری نشاندہی پر قلم بند کی گئی ہیں ۔ اہل حدیث کی جانکاری کے متعلق مولوی کاشف صاحب کی تاریخ ایک بات عرض کرنی ضروری سمجھتا ہوں ۔ جب علامہ وحید الزماں حیدرآبادی کی سوانح لکھی جارہی تھی تو موصوف نے کہا کہ:’’ شیخ !اس شخص کی سوانح‘ تاریخ اہل حدیث میں کیوں شامل کی جائے؟ اِس کے فتاوے دیکھئے۔یہ شخص ادھر کارہا نہ اُدھر کا۔نہ اہل حدیث میں اس مقام ہے نہ مقلدین میں ۔ اِ س پر میں نے فوراً اُن کو ٹوکا اور کہا:اِس میدان میں آپ ابھی طالب علم ہیں ۔ بزرگوں کے متعلق اس طرح کے کلمات سے احتراز کریں ۔ علامہ رحمہ اللہ کی مکمل سوانح کا مطالعہ کریں ، تومعلوم ہو گا کہ ان کی جماعتی خدمات کس قدر عظیم ہیں ۔

     ایک ضروری وضاحت: مولوی کاشف عالیاوی نے ایک نیا شوشہ یہ چھوڑا ہے کہ ’’یہ طے ہوا کہ کتاب میں جہاں کہیں متکلم یا اس قسم کے صیغے استعمال ہوں گے، وہ شیخ عبد الوہاب جامعی صاحب کی طرف لوٹیں گے،اور اس کے بارے میں مقدمہ میں وضاحت کردی جائے گی‘‘،یہ سب غلط بیانی ہے اور اپنے کو مرتب ثابت کرنے کے لیے ان کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

      جنوبی ہند میں اہل حدیث کی آمد درج ذیل کتب سے ماخوذ ہے:

     ’’ الاسلام فی الھند‘‘مولانا سید سلیمان ندوی منصور پوری۔’’ محمد ا کے زمانے کا ہندوستان‘‘ قاضی اطہر مبارک پوری۔’’آب کوثر‘‘ شیخ محمد اکرام۔’’ برصغیر میں اسلام کی آمد‘‘ مولانا اسحاق بھٹی وغیرہ۔

    یہ ساری کتب میں نے موصوف کو پہنچائی تھیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ کن اقتباسات کو درج کیا جانا ہے۔مولانا سید محمد علی رامپوری،مولانا نواب خان عالم خان،نواب مبارز الدولہ،مولانا ولایت علی عظیم آبادی، کے متعلق میں نے تاریخ دعوت وعزیمت، اہل حدیث اور سیاست، ہندوستان میں وہابی تحریک، تحریک آزادی ہند میں اہل حدیث علماء کا کردار وغیرہ۔ خاص کر کتاب خانوادۂ قاضی بدر الدولہ کویت سے مولانا عارف جاوید محمدی حفظہ اللہ سے حاصل کرکے پہنچائی تھی۔اور ان کتب سے کون سی معلومات جمع کرنی ہیں اس کی بھی نشان دہی میں نے کی تھی۔

    خلاصۂ کلام :  قارئین پر میری اس تحریر سے واضح ہوگیا ہوگا، کہ

     ۱) مولوی کاشف شکیل عالیاوی سلمہ صرف ناقل تھے۔اس میں ان کی قلمی کاوش برائے نام ہے۔

    ۲)کتاب کی ترتیب کامکمل منصوبہ میراذاتی تھا۔

     ۳) کتاب کی ترتیب کا کام مولوی کاشف صاحب کی آمدسے بہت پہلے میں نے شروع کردیا تھا۔

    ۴) کتاب کے لیے شخصیات کا انتخاب میں نے کررکھا تھا۔ اس لئے کہ ایک ایک شخصیت سے متعلق مضامین دے کر میں انہیں ہدایت دیتا کہ فلاں کتاب سے فلاں اقتباس نقل کریں ۔ یا کسی مضمون کا اختصار کریں ۔ جنوب کے اہل حدیث علمائے کرام کے متعلق اُن کی کوئی جانکاری نہیں تھی،بلکہ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ جنوب کے علمائے اہل حدیث میں مولانا حافظ حفیظ الرحمن صاحب اعظمی عمری حفظہ اللہ اور مولانامحمد ثناء اللہ صاحب عمری ایم۔اے عثمانیہ حفظہ اللہ کے بعد تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کی جانکاری راقم الحروف کو ہے، تومبالغہ نہ ہوگا۔

    ۵) کتاب سے متعلق تقریباً پورا مواد میرے پاس جمع تھا، جس کو وقتا فوقتا حسبِ ضرورت انہیں دیا کرتا تھا۔کتاب کا کام بہت باقی تھا کہ بعض وجوہات کی بنیاد پر وہ اس ذمہ داری سے الگ ہوگئے۔

    ۶) کتاب کو آٹھ ابواب میں میں نے ہی تقسیم کیا اور فہرست کی ترتیب بھی میری ہی دی ہوی ہے۔

      اس سلسلے میں یہ میرا آخری خط ہوگا۔ یہ خط بھی میں نے بعض احباب کے اصرار پر غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے تحریر کیا ہے۔ورنہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ان باتوں کو سامنے رکھ کر قارئین خود فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک ہدایت عطافرمائے۔آمین

  • ملت کی نمائندہ تنظیموں کے رہنماؤں کی خدمت میں کھلا خط

    مھدی حسن عینی قاسمی

    قائدین ملت اسلامیہ ہند!

     السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    امید ھیکہ آپ حضرات بخیر و عافیت ہونگے!

        آپ کو یقیناً اس بات کی اطلاع ہوگی کہ ملت اسلامیہ ھند کا عظیم علمی قلعہ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی کا اقلیتی درجہ خطرے میں ہے.

    کیونکہ دہلی ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی طرف سے جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی مخالفت میں ایک حلف نامہ داخل کیا گیا ہے جو تاریخی حقائق کو جھٹلانے اور اقلیّتوں کے آئینی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے.

    شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی،مولانا محمّد علی جوہر،حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری،عبد المجید خواجہ جیسی عظیم مسلم شخصیات کی کوششوں سے قائم یہ ادارہ یقینی طور پر اقلیتوں کا ورثہ ہے۔

    نیز جامعہ کا اقلیتی کردار  1963 میں اسے معنوی یونیورسٹی کا درجہ ملنے پر بھی برقرار رہا ہے  اور 1988میں اس کیلئے پارلیمانی ایکٹ بننے کے بعد بھی اس کی اقلیتی حیثیت غیر متاثر رہی۔

    کسی نئی یونیورسٹی کو قائم کرنے اور برسوں سے موجود کسی قدیم ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ دینے میں بہت فرق ہے۔

    بعد والی صورت میں ادارے کا تاریخی کردار ہرگز نہیں بدلتا۔جامعہ کے اقلیتی کردار سے انکار تاریخ اورآئین کی نفی ہے۔

    جامعہ کا اقلیتی درجہ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (قانونی اہلیت والی اتھارٹی)سے منظورشدہ ہے۔

    نیز آئین کی دفعہ30 کا اطلاق کا تعلق اس آئین کے نفاذ کے بعد قائم ہونے والے اداروں سے ہی نہیں بلکہ پہلے سے قائم اداروں پر بھی اسکا پورا پورا اطلاق ہوتا ہے اور اس کے بموجب جامعہ یقیناً ایک اقلیتی ادارہ ہی ہے۔

    لیکن افسوس کی بات ھیکہ 13مارچ 2018ء کے دہلی ہائی کورٹ آرڈر کے مطابق جامعہ ملّیہ کی طرف سے کوئی بھی کونسل وکیل کورٹ میں پیش نہیں ہوا جو اس کے اقلیتی کردار کے معاملے کی تائید کرے نتیجتاََ اس کے برخلاف آرڈر پاس ہوگیا

    جامعہ کے ذمہ داروں نے ایسی لاپروائی کیوں برتی؟کیا وہ خود جامعہ کے اقلیتی کردار کو ختم کرانا چاہتے ہیں؟

    کیونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر ایک سال کی مدت کے اندر ہی رٹائر ہونے والے ہیں اور شائد وہ ایسے مواقع کا استعمال کرکے برسراقتدار حکمراں پارٹی کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم مسلم سماج کے مستقبل کو فروخت کرکے اپنے مستقبل کو محفوظ کرسکیں۔

    اس لئے اب اس حساس اور نہایت اہم مسئلہ کو جامعہ کے ذمہ داروں پر  چھوڑ کر مطمئن نہیں رہا جاسکتا بلکہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں اپنی اپنی سطح پر اس عظیم ورثہ کی حفاظت کے لئے کوششیں کریں ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی بناکر دستوری دفعات کی روشنی میں علی الفورمناسب اقدامات کریں۔

    اور دہلی ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں نئے سرے سے پیٹیشن دائر کرکے مرکزی حکومت کے حلف نامہ کو چیلینج کریں نیز جاری کیس میں قابل وکلاء کی خدمات حاصل کریں تاکہ اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں کے نتیجہ میں قائم جامعہ ملّیہ اسلامیہ کو اس کا آئینی و دستوری حق مل سکے۔

    آپ سبھی قائدین ملت سے دردمندانہ اپیل ھیکہ اس نازک مسئلہ پر جلد از جلد لائحہ عمل تیار کرکے اقدامی کارروائی کریں تاکہ نونہالان قوم کے ساتھ ساتھ اس ادارے کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔

    خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو

    فجزاکم اللہ احسن الجزاء

  • مدارس و مکاتب کے درد کو  سمجھے کوئی

    محمد راشد سلفی

    مکاتب اسلامیہ کے معائنہ کرنے کے بعد ان کے حالات پر کہیں رونا آیا تو کہیں دل باغ باغ ہوا۔ رونا تو یہ کی آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہمارے مکاتب کے حالات  جوں کا توں ہے، نہ تو جدید طرز تعلیم اور اس کا نصاب، نہ ان کے کلاسوں میں بیٹھنے کے لیے درست ٹیبل سیٹ۔ نہ  دیگر چیزوں  میں مثلا یونیفارم  (uniform) بیگ۔ بعض بچوں کو دیکھ کر افسوس تو یہ ہوا کی اپنی کتابیں رکھنے کے لئے پولیتھین  لئے ہوئے ہیں ۔ کچھ عجائبات تو دیکھنے کو تو یہ ملے کہ بعض مکاتب میں استاد صرف ایک ہے جو بے چارہ  سب کو بیڑھ  بکریوں کے طرح ہانک رہا ہے۔ میں نے بے تحاشا ان سے دریافت کیا کہ آپ کتنے عہدوں پر فائض ہیں تو اس نے بڑے طمطراق سے جواب دیا کی "میں ہی سب کچھ ہوں۔”

    بروز منگلوار 20مارچ 2018 نگراں ناظم حلقہ ڈومریا گنج مولانا ذبیح اللہ سلفی

    کے ساتھ علاقہ کے مدارس کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا جہاں یہ ساری چیزیں دیکھنے کو ملیں۔

    کچھ چیزیں مشکل تو ضرور ہوتی ہیں لیکن ناممکن نہی  مگر یہ طرز تدریس  دونوں ہیں۔ مذید جانکاری لینے کی کوشش کی تو انہوں نے اپنے دل کی بات کہ دی کی ایسے ظالم ناظم کے ما تحت کام کر رہا ہوں کہ جب اس سے کچھ باتیں مدرسے کے منفعت کے لئے کہی جاتی ہیں توصم بکم عمی  کے زمرے میں اپنے  آپ کو شامل کر لیتے ہیں اور سال کے آخر میں پورے حساسسیت کے ساتھ پو چھتے ہیں کتنی کتابیں ختم ہوئیں، کتنی نہیں ۔۔۔افسوس ایسے نظمائے مضلین پر!

      مسرت و شادمانی اس بات کی کہ  بعض ایسے بھی ملے جن کےاندر کچھ جدیدیت تھی جن کے کپڑ ے وبیگ اور دیگر چیزیں قابل تعریف تھے لیکن ان کی اس خصوصیت کو موجودہ وقت کے انگلش میڈیم سے بالکل موازنہ نہیں کروں گا  کیوں کی ان خو بصورتی  تعلیم کے علاوہ بقیہ چیزوں  میں  اللہ کے فضل وکرم سے دکھائی دیتی ہے اوپر والے کے کرم سے ایسے ایسے ٹیچر ملیں گے جو اپنے آپ کو چار ہزاری کہنے پر شرم بھی نہی محسوس  کرسکتےہیں ۔ ۔ یہ معیاری salary مانی و جانی جاتی ہیں انگلش میڈیمز  کے اس سے کم پچیس سو پندرہ سو والیاں  بھی ملیں گی جو تعلیم کے بیڑے کو غرق کرنے کے لئے کافی ہیں جن کے تعلیم  کے حدود ہائی اسکول و انٹر میڈیٹ  تک ہوا کرتی ہے:

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

     کارواں کے دل سے احساس سے ضیاں جاتا رہا 

    ان سارے حالات کے تجزیہ نگاری آپ اپنے علاقائی انگلش اکیڈمیوں سے لگا سکتے ہیں ۔۔۔۔ کم تنخواہوں کا فائدہ بغیر دال کے بودم والے manager  اٹھاتے ہیں جن کو معلوم نہیں ہوتا way of talking according teacher  way of speeching among students or methaad of salavebes   بس اس دور میں آپ کے پاس پیسے ہوں    yourself business    so open school  and increase  لیکن ایسے ناخانداوں کو پتہ نہیں کی ہم کتنے بچوں کے تعلیمی شمع کو بجھا رہے  لیکن کہتے ہیں نہ کی بندر کیا جانے گا ادرک کا سواد۔

    پرائمری تعلیم اور اس کے نصاب میں اصلاح کی ضرورت ہے، جمعیات و جماعت کے سرکردہ و موقر عہدیداران اس پر دھیان دیں۔

  • وزیر اعلیٰ جناب چندر شیکھر راؤ صاحب کی خدمت میں ایک عرض داشت

    احمد نثار

    ریاستِ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ محترم عالی جناب کے چندرشیکھر راؤ صاحب کی خدمت میں ایک عرض داشت کھلے خط کی شکل میں پیش ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ علم و ادب نواز شخصیت محترم چندر شیکھر رائو صاحب ان باتوں کی طرف توجہ فرمائیں گے اور ان مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، اور پورا یقین ہے کہ آپ کی سرکار ہی ان مسائل ہو حل کرسکتی ہے۔

    عالی جناب! آداب۔

    آپ کی علمی ادبی دوستی اور اردو نواز شخصیت کے چرچے عام ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں دو قدم آگے رہتے ہیں۔ آپ کی خدمت میں اسی امید کے ساتھ عرضداشت پیش کی جارہی ہے کہ آپ غور فرماکر انہیں حل کریں گے۔

    گورنمنٹ نظامیہ طبیہ کالج حیدرآباد کی اپنی منفرد شناخت ہے۔ اس کے ساتھ اس یونانی طبی کالج کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ براعظم ایشیاء میں سب سے بڑا اور بہترین طبی کالج ہے۔ طب یونانی کی دنیا میں اگر کہیں بہترا اور بڑا آئوٹ پیشنٹ اور ان پیشنٹ وارڈ ہے تو وہ نظامیہ طبیہ کالج میں ہے۔ اس کالج نے طب یونانی، یونانی ریسرچ ، یونانی نظام اور خلق کی خدمت کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا ہے اور کرتا بھی آرہا ہے۔ شہر حیدرآباد کی شان اور شہر کے گلے کے ہار کا نگینہ مانا جانے والا یہ ادارہ اب اس دہانے پر کھڑا ہے جس کو زبوں حالی تو نہیں کہہ سکتے مگر زبوں حالی سے کم بھی نہیں ہے۔گذشتہ کئی دہائیوں میں طب کے شعبوں میں یہ کالج بصد افتخار اپنی خدمات سے عوام کی توجہ کو مبذول کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

     یہ کالج کئی معتبر طبیب، حکماء، ریسرچ اسکالر ز کو سینچنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس ادارے میں پڑھنے والے ڈاکٹر کہیں بھی جائیں فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نظامیہ کے فارغ ہیں۔ یہاں کے فارغین کو سماج میں کافی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسا معتبر کالج آج کئی مسائل سے پریشان ہے اور جوجھ رہا ہے۔

     آئیے دیکھتے ہیں کہ اس ادارے کے بنیادی مسائل کیا ہیں۔

    اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ اس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد کیا ہے اور انہیں درس دینے والے پروفیسروں اور لکچرار کی تعداد کیا ہے۔

    اس ادارے میں ساڑھے چار سالہ کورس بی یو یم یس یوجی کورس کے لئے 72 سیٹ ہیں۔یعنی ہر سال 288طلباء یہاں زیر تعلیم ہیں۔

    یم ڈی کے تین سالہ کورس میں 32سیٹ ہیں یعنی ہر سال یہاں 96طلباء کی گنجائش ہے۔ان اور آئوٹ پیشنٹ وارڈز ہیں جہاں روزانہ سینکڑوں مریض علاج کے لئے آتے ہیں۔ اب یہ دیکھیں کہ یہاں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ آسامیاں کتنی ہیں اور ان میں کتنے احباب زیر خدمات ہیں اور کتنی آسامیاں خالی ہیں۔

    اسٹاف                 سینکشن کی گئی آسامیاں            بھرتی                 خالی

    ٹیچنگ                        82                    33                    49

    نان ٹیچنگ                    59                    34                    25

    جملہ                           141                  67                    74

    اب تمام مسائل پر ایک جائزہ یوں ہے:

    اے۔    درس و تدریس اور غیر تعلیم و تدریس کی آسامیاں بہت ساری خالی ہیں جس کی وجہ سے درس تدریس اور اکتساب و ریسرچ میں شدید دقتیں در پیش ہیں۔

    بی۔     ناکافی عمارت اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات۔

    سی۔    پانی کی سہولتیں ناکافی ۔

    ڈی۔    پاکی و صفائی کا فقدان، حفظان صحت کے لئے ناکافی سہولیات۔

    ای۔     کینٹین کی سہولیات نہیں ہیں۔

    ایف۔   طلباء و طالبات کی رہائشی ہاسٹل کی سہولت نہیں ہے۔

    جی۔    ہمہ مقصدی کنوینشن اور پروگراموں کے لئے کنونشن ہال نہیں ہے۔

    ایچ۔    کالج کے طلباء و طالبات کے لئے قریب میں کوئی میدان نہیں ہے جہاں جسمانی ورزش اور کھیل اسپورٹس کا انتظام ہوسکے۔ نا ہی کوئی انڈور گیم اسٹیڈیم اور جمناشیم  ہے۔

      ایک ذمہ دار شہری اور طب یونانی سے دلچسپی رکھنے والی شخصیت کے طور پر اس کالج کو پورے ملک میں ایک شاندار اور مکمل طبی کالج اور ریسرچ سینٹر کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں ہی نہیں بلکہ ہزاروں افراد ہیں جو یہ خواہش رکھتے ہیں، جن میں میں بھی ایک ہوں۔

    1 ۔ تعلیم اور غیر تعلیماتی فیکلٹی مسئلہ:

    حال ہی میں یہ خبر آئی ہے کہ حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعہ 8 نشستوں کو بھرتی کرنے والی ہے۔ جب کہ خالی نشستیں تدریسی و غیر تدریسی نشستیں 74ہیں۔ ان آٹھ نشستوں کو بھرتی کرنے سے کچھ فائدہ ہونے والا نہیں کیونکہ عنقریب ریٹائر ہونے والی شخصیات بھی ہوسکتی ہیں۔

    جب تک تدریسی و غیرتدریسی آسامیاں بھرتی نہیں ہوں گی تب تک تعلیمی تدریسی اکتسابی و ریسرچ کا معیار حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ جتنی بھی خالی آسامیاں ہیں وہ پہلے ہی سے سینکشن کی گئی آسامیاں ہیں جن کا فائنانشیل کانکرینس بھی پہلے ہی سے گرانٹیڈ ہے۔

    آیوش اور سی سی آئی یم کے افسران کو بھی ہدایت دیں کہ ان باتوں کی طرف توجہ کریں اس مسئلہ کو حل کرنے میں چست و متحرک اقدام اٹھائیں ورنہ تعلیمی معیار کے گرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

     پرنسپل و دیگر ایڈمنسٹریٹیو افسران کو ہدایت دیں کہ ان مسائل کی طرف فوری طور پر توجہ کریں اور مسائل کو حل کرنے کی کارروائیوں کا آغاز کریں۔

     2۔ ناکافی بنیادی تعمیری ڈھانچے:   

    کالج کی بلڈنگ ناکافی ہے اور انفراسٹکچر کی کافی کمی ہے۔ نئی عمارت کی تعمیر طویل عرصے سے رکی پڑی ہے۔ نہ اس کا کوئی پرسانِ حال ہے نہ ہی کسی کو کوئی دلچسپی۔ اگر ایسا ہی معاملہ رہا، نئی عمارت پر خرچ کیا گیا مبلغ ضائع ہوجائے گا اور تعمیر بنام تعمیر رہ جائے گی۔ لہٰذا حکومت اس کی طرف فوری توجہ کرے جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر میں وسعت آئے گی اور کالج پر سکون اور وسیع ماحول میں درس و ردریس کا حامی ہوگا۔

    3۔پینے کے پانی کی ناکافی سہولت :

    کالج پینے کے پانی کی سہولت کی کمی ہے۔ R.O. سسٹم کی سہولت فراہم کی جائے جس کے نصب کرنے سے پورے کالج، تحقیقاتی مرکز، ہسپتال اور باقی پورے کیمپس کے لئے پانی کا نظام قائم کیا جاسکے۔

    4۔ پاکی و صفائی کا فقدان :

    کالج کیمپس پاکی و صفائی کے معاملے میں کافی ناقابل اور گندگی سے بھرا پڑا ہوا ہے۔ اسٹیٹ آف آرٹ کا کوئی نام و نشان نہیں۔ جب کہ یہ طبی کالج ہے۔ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے، سینیٹری سسٹم کو ٹھیک کیا جائے۔ اس کے لئے حیدرآباد میونیسپل کارپوریشن کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔

    سینٹیشن کا مسئلہ سارے ماحول کو پراگندہ کررہا ہے جس کی وجہ سے کالج میں حفظان صحت کا نظام بھی بکھرنے لگا ہے۔

    ٹوائلٹ اور یورینل سسٹم بھی درہم برہم ہے۔ یہاں تک کے ناماقول سہولتیں ہیں۔ طلباء و طالبات کے لئے ماقول انتظام نہیں ہونے کی وجہ سب پریشان ہیں۔فارغِ ضروریات کے لئے بڑے مسائل در پیش ہیں۔ لہٰذا حکومت طلباء و طالبات اسٹاف اور مریضوں کے لئے علیحدہ علیحدہ ٹوائلٹ اور یورینل سسٹم کا ماقول انتظام کریں۔

    5۔بکینٹین:

    کالج میں 350 طالب علموں کی تعداد + اسٹاف +  اندرونی مریض + بیرونی مریض اور زائرین کا آنا جانا رہتا ہے۔ لیکن اس بات کا افسوس ہے کہ ہمارے پاس ہمارے کالج میں کینٹین نہیں ہے۔ رفریشمنٹ کے لئے سہولت نہیں ہے۔ اس کے لئے کالج کے باہر جانا پڑتا ہے۔ کینٹین کی ضرورت بھی عین ہے۔

    6۔ ہاسٹل سہولت:

    حقیقت یہ ہے کہ جتنے بھی طلباء و طالبات ہیں ان میں یو جی یعنی بی یو یم یس کے طلباء تلنگانہ اور آندھرا پریش کے دور دراز کے مقامات سے آتے ہیں۔ اور پی جی اور ریسرچ کے طلباء ملک کے مختلف مقامات سے آتے ہیں۔ ان کی رہائش کا انتظام بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر مستقل طور پر ہاسٹل کا انتظام کیا جائے تو طلباء و طالبات کے لئے رہائش اور پڑھائی کا اچھا خاصہ انتظام ہوسکتا ہے۔ اس لئے حکومت کالج کے کیمپس میں مختلف جانبوں میں طلباء و طالبات کی رہائش کے لئے ہاسٹل کی تعمیر کرے اور ماقول انتظام فراہم کرے۔

     7۔ ہمہ مقصدی کنونشن ہال:

    چونکہ نظامیہ طبی کالج ایک بڑا ادارہ ہے اور یہاں سیمینار، سمپوزیم، کنوینشنز، ایونٹس، ورکشاپس، ایگزیبیشن و دیگر پروگرامز کا انعقاد عام ہے۔ اس کے لئے کوئی ماقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان پروگراموں میں کڑی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ کالج میں کوئی  Amphitheatre یا ہمہ مقصدی کنوینشن ہال یا آڈیٹوریم نہیں ہے۔ اگر اس کا انتظام ہوجائے تو بڑے پیمانے پر پروگرام کرنے کے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔ بین الاقوامی، قومی اور ریاستی سطح کے پروگرام کے انعقاد کرنے میں آسانی ہوگی۔ حکومت اس کی طرف بھی خاص توجہ کرے۔

    8۔ جمناشیم :

    جمناشیم طلباء کے لئے سخت ضروری ہے۔ کالج کا کوئی میدان نہیں ہے۔ طلباء و طالبات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان کے لئے کوئی انڈور اسٹیڈیم بھی نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت ایک جدید طرز کا جمناشیم یا ورزش خانہ فراہم کریں۔

    محترم عالیجناب وزیر اعلیٰ علمی و ادبی دوست ہیں، ان کی خدمت میں ہماری یہ جائز مانگیں رکھی گئی ہیں۔ اس امید کے ساتھ کہ ان کی طرف خاص توجہ فرماکر انہیں پورا کرتے ہوئے گورنمنٹ طبیہ کالج اور یونانی سسٹم کو ایک نئی طاقت بخشیں گے۔

    والسلام

    شکریہ کے ساتھ

    سید نثار احمد

    اکیڈمیشین، سماجی سائنداں، مصنف، شاعر اور ویکی پیڈین

  • بابری مسجد کے بارے میں میرا موقف

    ڈاکٹر ظفر الاسلام  خان

    محترمی!

    مختلف اخبارات اور پورٹلز نے نیوز ۱۸ کے ساتھ  میرے انٹرویو  کو کسی نامعلوم ایجنسی کے حوالے سے غلط طریقے سے پیش کیا ہے۔ عدالت کے باہر تصفیے کی تایید کرتے ہوئے میں نے  پہلے سپریم کورٹ پھر مرکزی حکومت اور پھرتیسرے نمبر پرآر ایس ایس کو رکھا تھا جس کے ذریعے عدالت کے باہر کوئی تصفیہ ممکن  ہو سکتاہے کیونکہ ان تینوں کے پاس قوت نافذہ ہے۔ لیکن خبروں میں صرف آر ایس ایس  کا ذکر کیا گیا ہے۔

    آر ایس ایس کو میں نے تیسرے درجے پر رکھا تھا کیونکہ رام مندر کے نام پر سیاست  اور دنگا کرنے والی تنظیموں پر اس کا  مکمل کنٹرول ہے۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس کھیھر نے خود  مارچ 2017 میں  اس تنازعے کو عدالت کے باہر حل کرنے کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ میں نے مزید کہا تھا کہ  مذکورہ بالا تین  اتھاریٹیز کے پاس قوت نافذہ ہے جبکہ سری سری  کے پاس  کوئی قوت نافذہ نہیں  اور کچھ ہندو تنظیموں نے اس مسئلے میں ان کی دخل اندازی پر اعتراض  جتایا ہے۔

    اس سلسلے میں دوسرا اہم پہلو یہ ہے  کہ عدالت کاحتمی فیصلہ ایک  فریق کے حق میں اور دوسرے فریق کے خلاف ہوگا جس کی وجہ سے تنازعہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی جان و مال کے ساتھ کھیل بھی۔ اس کے بر عکس، فریقین کے درمیان  باہم رضامندی سے آنے والا  تصفیہ دونوں کو مطمئن کرے گا اور  مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔

    میں نے یہ کبھی نہیں کہا ہے کہ موجودہ عدالت کا مقدمہ روک دیا جانا چاہئے۔عدالت سے باہر  تصفیے  کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عدالت کی کارروائی بھی چلتی رہے اور اگر  کوئی  قابل اطمینان حل  مل جاتا ہے تو فریقین عدالت کو مطلع  کرکے اسے خارج کرنے کی درخواست کریں گے۔

  • تبلیغی اکابرین کی خدمت میں!

     ممتاز میر

    حالیہ اجتماع کے آغاز سے چند دن پہلے ایک نوجوان عالم دین ہمارے پاس آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ اجتماع کے لئے کب روانہ ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’میں نہیں جاؤں گا ‘‘ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ارے۔ کیوں ؟کیونکہ ہم انھیں اہل تبلیغ کی حیثیت سے برسوں سے جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا۔ میں اس طرح کے اجتماعات کو پسند نہیں کرتا۔ اس طرح کے اجتماعات میں ملت کا جتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں دین کا ابلاغ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہم نے کہا کہ جناب جماعت اسلامی کاآخری کل ہند اجتماع ۱۹۸۱ میں حیدرآباد میں ہوا تھا۔ اسی وجہ سے انھوں نے پھر کبھی کل ہند اجتماع نہیں کروایا۔ اب وہ ضلعی یا علاقائی اجتماع کرواتے ہیں۔ حالانکہ متفقین اور متاثرین کو اکثر یہ کھجلی اٹھتی ہے کہ بین الاقوامی نہ سہی جماعت کا بھی قومی اجتماع ہونا چاہئے۔ مگر اکابرین جماعت اسلامی پرواہ نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی سی بات جو ایک ۲۵؍۳۰ سالہ نوجوان کے سمجھ میں آتی ہے وہ تبلیغی جماعت کے اکابرین کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟

    ملت کے ایک بڑے طبقے کا اس اجتماع کے تعلق سے خیال یہ ہے کہ یہ اجتماع نہیں تھا بلکہ’’شکتی پردرشن‘‘ تھا۔ تبلیغی اکابرین کے فریقوں میں سے ایک فریق نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا (یقین کیجئے یہ سب لکھتے ہوئے تکلیف ہو رہی ہے مگر ’’شاید کے اتر جائے ترے دل میں مری بات‘‘)مگر ہمارادل نہیں مانتا۔ اس اجتماع میں ۱۵؍۱۸ لاکھ افراد جمع ہوئے تھے۔ جبکہ ملت کی تعداد تو کروڑوں میں ہے۔ اکابرین کیا ان کا بچہ بھی اگر کال دے تو چھ ماہ بعد پھر اتنا ہی بڑا اجتماع فریق مخالف بھی کروا سکتا ہے۔ اہل تبلیغ کا مزاج ایسا ہی ہوتاہے۔ پھر شکتی پردرشن کا یہ طریقہ کوئی برگ و بار لانے سے رہا۔ اس کے علاوہ ہم بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں کہ تبلیغی جماعت میں Quality پر نہیں Quantity پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے اجتماعات کی رپورٹنگ مین بھی خاص توجہ تعداد پر ہی ہوتی ہے۔ ان کا پہلے سے طے شدہ پروگرام بھی نہین ہوتا۔ اس لئے لوگ تقاریر سننے کم اور میلے میں گھومنے یا شاپنگ کرنے زیادہ جاتے ہیں۔

       اب آئیے حالیہ اجتماع کا کچھ تجزیہ کریں۔ اخباری خبروں کے مطابق اجتماع گاہ ۸۷ لاکھ مربع فٹ پر بنائی گئی تھی۔ ہمیں بھی اجتماع سے کافی قبل یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ ۲۰۔ ایکڑپر اجتماع گاہ بنائی جارہی ہے۔ جس کے لئے کئی کھیتوں کی فصلوں کوقیمتاً خرید کر برباد کر دیا گیاجبکہ قرآن کہتا ہے حالت جنگ میں بھی ہرے بھرے درختوں اور فصلوں کو برباد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہاں تو یہ افواہ بھی سننے کو ملی کہ ایک غیر مسلم کسان اپنا کھیت قیمتاًبھی اجتماع کے لئے نہیں دے رہا تھا۔ اس لئے اس کے پورے خاندان کے پیٹ میں درد شروع ہو گیاجو کئی ڈاکٹروں کو دکھانے کے بعد بھی نہیں گیا۔ جب مسئلہ کسی طرح حل نہ ہوا تو اسے سمجھ میں آیا کہ یہ اجتماع کی ’’برکت‘‘ ہے۔ اب اس نے اپنا کھیت بلا معاوضہ منتظمین کے حوالے کر دیا۔ اجتماع سے پہلے ہی یہ افواہ بھی گردش کر رہی تھی کہ چند بزرگوں نے آکر زمین سے ایسا پانی نکالا کہ اورنگ آباد کے اس علاقے مین پانی ہی پانی ہو گیا۔ یہ تو زبانی باتیں ہیں۔

    دیو بندیوں کے یہاں کرامتیں اور چمتکار کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔ جس کی بنا پر علامہ ارشدالقادری مرحوم کو برسوں پہلے ’’زلزلہ‘‘ نامی کتاب لکھنا پڑی تھی اور جس پر عامر عثمانی مرحوم کا تبصرہ اتنا سخت تھا کہ دیوبندی آج بھی اس کی چبھن محسوس کرتے ہیں۔ اس اجتماع گاہ میں اسٹیج ۱۷۵۰ مربع فٹ میں بنایا گیا تھا۔ پھر وہ پنڈال تھا جس میں لوگ علماء کرام کی تقاریر سنتے تھے۔ پھر وضو خانے، غسل خانے، بیت الخلا، دکانیں، ہوٹلیں اور ٹھیلے تھے۔ پھر ڈسپنسریاں اور دواخانے بھی  تھے۔ ہمار اسوال یہ ہے کہ تقاریر کے وقت پنڈال میں کتنے لوگ بیٹھ سکتے تھے اور بیٹھتے کتنے تھے ہماری معلومات کے مظابق کتنا ہی مبالغہ کیا جائے تو تین لاکھ لوگ بیٹھ سکتے تھے مگر حقیقتاً کتنے بیٹھتے تھے یہ بتانے کو کوئی تیار نہیں۔ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ تین لاکھ لوگ بیٹھتے تھے تو بقیہ ۱۵ لاکھ لوگ کیا کرتے تھے۔

    آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان ۱۵ لاکھ لوگوں کو ہم نے نہیں بلایاتھا۔ ہمارا ٹارگٹ تو ۳ لاکھ لوگوں کا ہی تھا۔ ہم کہیں گے کہ آپ کا جواب ویسا ہی ہے جیسا کچھ سمجھداراہل ٹنا ٹن دیتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ دیکھئے آپ کے لوگ قبر پرستی اور  شرک  کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم انھیں ایسا کرنے کو تھوڑی کہتے ہیں۔ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آپ کے جو عقائد ہیں یہ اس کا منطقی نتیجہ ہے اسلئے اس کو روکنا بھی آپ کی ذمے داری ہے۔ ۔ ۔ اجتماع کے بعد واپس آنے والے ایک ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ اجتماع مین کسی بھی حالت مین دو کروڑ سے کم افراد نہیں تھے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اس قسم کی ذہنیت بنانے کا ذمہ دار کون ہے؟کیا اس قسم کی ذہنیت ملت کے حق میں مفید ثابت ہو سکتی ہیَ؟جو اپنے ہی تعلق سے صحیح اندازے نہ لگا سکتے ہوں وہ دشمن کے بارے میں صحیح آگاہی کیسے رکھ سکتے ہیں ؟

       غالباً یہ پہلا موقع ہے جس میں کئی نئی چیزیں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ شاید یہ پہلا موقع ہے جب میڈیا کو اہمیت دی گئی ہے۔ میڈیا کو تو پہلے ہی سے اہمیت دی جانی چاہئے تھی۔ حضور ﷺ نے اپنے زمانے میں ابلاغ کا ہر طریقہ اور موقع استعمال کیا تھا۔ ہم حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر بے نیازی انؐ سے زیادہ دکھاتے ہیں۔ فی زمانہ شوشل میڈیا نہ صرف وجود میں آچکا ہے بلکہ بہت زیادہ طاقتور ہوچکا ہے۔ شوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ اس بار ’’حضرت جی‘‘ کی کار پر پھول برسائے گئے۔ یعنی حضرت جی کو بوہروں کے ’’مولا‘‘ بنانے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ یہ لمحہء فکریہ ہے۔ ہم بنیادی طور پر ان کی اولاد ہیں جو انسان کو بھگوان بنا دیتے ہیں۔ خبردار رہئے۔ یہ کہیں اس کی ابتدا تو نہیں۔ ۔ اخباری رپورٹ کے مطابق کسی ذمہ دار نے یہ بھی کہا ’’اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ ایک شعبہ چھوڑ دیا گیا تو مکمل نظام خراب ہوگا ‘‘۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا آج تک تبلیغی جماعت نے اسلام کو مکمل نظام کی طرح برتا ہے؟

    اب تک میڈیا کے تعلق سے تبلیغی جماعت کی کیا کوششیں رہی ہیں ؟کتنے اخبارات و رسائل کا اجراء کیا گیا ہے؟ کتنی اسکولیں۔ کالجس یا کسی اور قسم کے تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں ؟اجتماعی ذکوٰۃاور غریبوں و مسکینوں کی بہتری کے لئے کتنے نظم قائم کئے گئے ہیں۔ ہم بچپن سے سوچتے ہیں کہ جس جماعت کا نام تبلیغی جماعت ہے وہ تبلیغ کا کام کیوں نہیں کرتی؟عملاً آپ جو کام کر رہے ہیں اسے تبلیغ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ اصلاح بین المسلمین کا کام ہے آپ کے اصاغرین اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ آپ جو کام کر رہے ہیں خدا کی قسم وہ بھی بڑا مفید کام ہے۔ سب سے پہلی ضرورت تو مسلمانوں کے ہی سدھرنے کی ہے۔ پوری دنیا میں اس معاملے میں آپ کا کوئی ہمسر نہیں۔ مگر اس کام کو بھی آپ نے نماز روزہ حج اور دعاؤں کی تعلیم تک محدود کر رکھا ہے۔ آپ زبان سے تو مکمل نظام حیات کی بات کرتے ہیں مگر عملاً اسے اپناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر تو دین کی باتیں کی جاتی ہین مگر اپنے گھر پر، پڑوس میں کاروباری جگہوں پر اسلام ہوا ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟

    ایسااس لئے ہوتا ہے کہ ہماری جماعتیں دین کی باتوں کو اس کے اصولوں کو متناسب انداز میں نہیں پیش کرتیں۔ کہیں سارا زور نماز روزے کی تلقین پر ہے تو ان کے متبعین نے نماز روزے کو ہی سارا دین بنا لیا ہے۔ کہیں سارا زور جہاد پرہے۔ تو ان کے چاہنے والوں کے نزدیک پورا دین ہی جہاد کے گرد گھوم رہا ہے۔ کہیں کسی نے سیاست کو پکڑ رکھا ہے۔ کسی کو صلح  حدیبیہ کے سوا کسی بات میں دین نظر ہی نہیں آتا۔ ایک دین کے مسلمانوں نے کتنے دین ایجاد کر لئے ہیں ؟ہمیں خوب تجربہ ہے۔ چند برسوں پہلے تک اہل تبلیغ درس قرآن روکنے کے لئے تشدد پر اتر آتے تھے۔ آج حالات بدلے ہیں۔ اب وہ خود جگہ جگہ درس دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔

       ایک بڑی اچھی بات یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں اکابرین کے جھگڑے اصاغرین تک نہیں پہونچتے۔ اور کام رکاوٹ کے بغیر جاری رہتا ہے۔ اسی لئے ہم نے ابتدا میں لکھا ہے کہ بچہ بھی کال دے گا تو تبلیغی بغیر ادنیٰ تعصب کے دوبارہ دوسرے اجتماع مین جمع ہو جائیں گے۔

    مگر اب جو نئی بدعات ایجاد کی گئی ہیں وہ اکابر پرستی کو ہی رواج دینے والی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا یہ ملت کے حق میں اچھا ہوگا؟پھر جو اپنے آپ کو متحد نہیں رکھ سکتے وہ ملت کے اتحاد کی بات کس منہ سے کریں گے؟پھر بنیادی بات یہ ہے کہ کسی کی بھی انا یا مفاد کی بناء پر ملت میں انتشار پھیلتا ہے۔ تو وہ خدا کے سامنے کس طرح کھڑا رہ سکے گا؟

        ہماری نہایت عاجزانہ گزارش ہے کہ یہ جو پیسہ شکتی پردرشن پر لٹایا گیا ہے اس پر روک لگنا چاہئے۔ اسی پیسے سے ہندی یا انگریزی کا قومی سطح کا کوئی اخبار، کوئی ٹی وی چینل قائم کیا جانا چاہئے۔ آپ سوچئے ایک ٹی وی چینل تبلیغ کا کتنا بڑا کام انجام دے سکتاہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے انجام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں نشیمن اس قدر تعمیر کرنا ہے کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بیزار ہوجائے۔ اگر ہمارے اسلاف اپنے انجام سے ڈر جاتے تو شاید ہم آج مسلمان ہی نہ ہوتے۔

  • گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

    عظمت علی

    مکرمی!

    دین اسلام کسی خاص علاقہ یا فراد سے تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ عام انسانیت کی نجات بخشنے کے لئے آیا ہے جسے فطرت انسانی کے اصولوں پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ مسلما ن کے ماسوا دنیا کی ہر ایک فرد ہمالیائی کامیابی کوپہونچ سکے۔

      تعلیم و تعلم (سیکھنا اور سکھانا)ایک ایسا وسیلہ ہے جو انسان کو مسجود ملائکہ بنادیتا ہے۔ اسلام نے حصول علم کی بہت تاکید کی ہے اور اسے رسول اکرم کی بعثت کے مقاصد میں قرار دیاہے۔ جیسا کہ ارشاد اقدس الٰہی ہوتاہے:

    ’’و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ‘‘

    اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ (سورہ جمعہ 2)

    احادیث اورروایات سے علم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ رسول اسلام ارشاد فرماتے ہیں:

    ’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ‘‘

    ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ (منیۃ المرید صفحہ ۹۹، ناشر :مکتب الاعلام الاسلامیہ قم 1409ھ اور سنن ابن ماجہ جلد ۱ صفحہ ۸۱(مقدمہ میں )باب 17 حدیث 224)

    امام علی ارشاد فرماتے ہیں :

    ’’اطلبو العلم ولو بالصین ‘‘

    علم حاصل کرو اگر چہ چین جانا پڑے۔ (مصباح الشریعۃ، ترجمہ مصطفوی 275،ناشر:انجمن اسلامی حکمت و فلسفہ ایران، چاپ، تہران، ایران )

    آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے :

    ’’اطلبو العلم من المھد الی اللحد ‘‘

    آغوش مادر سے قبر کی منزل تک علم حاصل کرو۔(شرح اصول کافی (صدرا)جلد 2، صفحہ ۸، ناشر :موسسۃ مطالعات و تحقیقات فرھنگی 1383شمسی، طبع، تہران، ایران )

    اس کے علاوہ تعلیم کے متعلق بہت ساری احادیث و رایات موجود ہیں۔ خود سر کار ختم مرتبت کی زندگی کامطالعہ کریں تو آپ کومعلوم ہوجائے گاکہ آپ کے نزدیک علم سیکھنے اور سکھانے کوکس قدر اہمیت حاصل ہے کہ آپ نے محض مسلمانوں کی تعلیم کے اپنی جان کے دشمنوں کومدرس بنایا۔

       2 ھ میں ایک جنگ ہوئی جسے غزوہ بدر کے نام سے جاناجاتاہے۔ جس میں اہل اسلام کو عظیم فتح حاصل ہوئی۔ ان میں سے کچھ کو اسیر کرلیا گیا اور ان کی آزادی دس افراد کی تعلیم پر موقوف تھی۔ لہٰذ اہر ایک نے اپنے فریضہ کو ادائیگی پر ہی رہائی پائی۔ اسی طرح یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا رہا یہاں تک کہ امام جعفر صادق کے زمانہ میں ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں آگیا۔ جہاں مختلف موضوعات پر مختلف علاقہ اورمختلف مذاہب کے طالب علم آپ کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتے جن کی تعداد چار ہزار تھی۔ اہل سنت اولجماعت کے چاروں ائمہ باواسطہ یا بلاواسطہ آ پ کی شاگرد ہیں۔ جن میں ’’ابوحنیفہ ‘‘بغیر کسی واسطہ کے آپ کے علمی مرکز میں آیا کرتے تھے اور اس شاگردی پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں:

    ’’لولا السنتان لھلک النعمان۔‘‘

    اگر (شاگردی )کے دو سال نہ ہوتے تو نعمان (بن ثابت )ہلاک ہوجا تا۔(خلاصہ سیرہ پیشوایان در آئینہ تاریخ، صفحہ 101اور102،ناشر: موسسۃ انتشارات العلم، نوبت چاپ، ھجدہم 1394)

    یہ علم و دانش کااسلامی قافلہ روزانہ ترقی کی راہوں کوطے کرتا رہا اورمسلمان اپنے دور کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ شمار کیاجانے لگا۔لیکن دوام اوراستقلال نہ ہونے کے باعث بلندی سے انحطاط کی طرف پلٹنے لگا۔۔۔۔یور پ جسے چھٹی صدی عیسوی سے لے دسویں عیسوی تک تاریک دور(Dark period) کہاجاتاتھا۔ عین اسی زمانہ میں اسلام کا نور علم تما م تر فضا کو مکمل طور سے منور کئے ہوئے تھااور اسی کے سبب یورپ میں تعلیمی انقلاب آیا۔ اور آج یہ عالم ہوگیا ہے کہ تعلیمی میدان میںنمایاں کامیاں حاصل کرلی ہے۔ اب ہر کی زبان پر انگریز وں کے گن گائے جارہے ہیں کہ فلاں انگریز نے کیا عمدہ کتاب لکھ دی ! فلاں انگریز نے کیا تو کمال ہی کر دی۔

     اگر ہم حقیقت کی عینک لگاکر نظر ڈالیں تو یہی حقیقت نظر آئے گی کہ جدید ٹکنالوجی میں مغربی دنیا ہم سے چار قدم آ گے ہوچکی ہے۔ عالمی شہرت یافتہ شخصیتیں بھی انہیں کے دامن میں پھولی پھلی ہیں۔ جیسے مشہورامریکی سائنسداں البرٹ آئنسٹائن (Albert Einstein) جس نے 1950ء میں Special theory of relativityکا نظریہ پیش کیا۔برطانیہ کا باشندہ تھامس ایڈیسن (Thomas Edison)نے ’’Law of Gravitation ‘‘کا نظریہ پیش کیا اور اسی طرح پولینڈ کارہنے والا کوپر نیکس (Copernicus) نے1540 ء میں Solar system کولوگوں کے سامنے پیش کیا۔یہ تو صرف چند حضرات کے نام رقم کئے گئے ہیں ورنہ تایخ میں بہت سارے لوگوں کے نام درج ہیں جنہوں نے علم و سائنس میں دن دگنی اوررات چوگنی ترقی کر کے اپنے وطن کانام روشن کیاہے۔

    جبکہ مسلمانوں کا ماضی تابندہ ہے اور علم و دانش میں ہر طرح کی ترقی کی تھی لیکن اب صورت حال ہے کہ اگر غیر مسلم ممالک سے مدد نہ لیں تو زندگی مفلوج ہوجائے۔ آخر کیوں ؟ کہیں ایسا تو نہیں!

    گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

    ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کودے مارا

  • اسلام کا قانون ہی ابدی قانون ہے!

    محمد نورالعین

    (متعلم : دارالعلوم ندوة العلماء لکھنو) 

    جب تک دنیا قائم رہے گی، نظام شمسی عالم مادی میں گردش کرتا رہےگا اور افراد انسانی لیل و نہار کی خوش گوار ساعتیں گزارتے رہیں گے، اس وقت تک حق و باطل کا تصادم آپس میں ہوتا رہےگا، عدل و ظلم کے مابین جنگ جاری رہے گی؛ حق و باطل کی لڑائی لڑی جاتی رہےگی، ایک قوم کی دوسری قوم اور ایک تہذیب کی دوسری تہذیب پر افضلیت و برتری کے دلائل وجود میں آتے رہیں گے اور اپنی اپنی  تہذیب و تمدن کے جھنڈے کو نیلگوں آسمان تلے، باد بہاری کی خوشگوار فضاؤں میں ،کرہ ارضی کے سینے کو چاک کر کے نصب کرنے کی کوشش کی جاتی رہےگی۔

    ماضی میں بھی اس طرح کی کوششیں وجود میں آتی رہی ہیں ؛لیکن اسلام پوری تابانی کے ساتھ صداقت و سچائی کا علم لیے ہوئے عالم مادی کے ہر فرد انسانی کی نگاہوں میں اپنی کامیابی کی منزل طے کرتا گیا اور جس نے بھی اس سے ٹکرانے کی جرات وہمت کی  یا تو اس کا وجود ہمیشہ کےلیے صفحہ ہستی سے مٹ گیا یا پھر وہ ذلت و پستی کے اس غار میں جا گرا جہاں سے دوبارہ اٹھنا اس کےلیے ناممکن سا ہوگیا، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ اسلام ہی ایک ایسا دین اور مذہب ہے جس کا چمن سدا بہار ہے، زندگی کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں وہ ہماری راہ نمائ نہ کرتا ہو-اور تا قیامت زندگی کے متعلق ہمیں اس کی راہنمائی کے علاوہ کسی کی راہنمائی کی ضرورت بھی نہیں ہے -کیونکہ یہ ایک عالمی اور دائمی دین ہے،اس کا قانون آخری اور دائمی قانون ہے، اسی چیز کی طرف قرآن مجید نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے  (الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا) آج میں نے تمہارے لیے تمہارے  دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردیں اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا ۔سورہ المائدہ آیت نمبر 3)

    حالات کی تبدیلیوں اور افراد انسانی کے افکار و خیالات کے بدلنے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،جس طرح ریاضی کے قواعد میں بظاہر کوئی تبدیلی کا امکان نہیں ہوتا، دو اور دو چار کے بجاے کچھ اور نہیں ہوسکتا، ٹھیک اسی طرح اسلامی قانون بھی  تا قیامت محفوظ اور باقی رہےگا اور لوگوں کے مسائل اس سے حل ہوتے رہیں گے ؛کیونکہ اسلامی قانون ہی  فطرت انسانی کے موافق ہے، جو خالق کائنات ہے وہی خالق فطرت انسانی ہے ،اور خالق نے اپنے مخلوق کی فطرت اور قانون میں یکسانیت و مناسبت رکھی ہے، چنانچہ افراد انسانی بدلتے رہیں گے، افکار و خیالات متغیر ہوتے رہیں گے؛ لیکن نوع انسانی کی فطرت ایک ایسی مستقل اور پائیدار شئ ہے جو آسمان و زمین کے ٹل جانے پر بھی نہیں ٹل سکتی۔

    یہ تو ممکن ہے کہ ماحول اس کے تقاضوں کو ظاہر ہونے سے کچھ پل کےلیے روک دے، حالات سے متاثر ہوکر اس کے قانون کا نفاذ نہ ہوسکے؛لیکن یہ ممکن نہیں کہ اس میں تبدیلی پیدا ہوجائے ٬جیسا کہ دیگر ادیان میں پایا جاتا ہے.

    جس دین کی بناء خود فطرت انسانی پر ہو اس کی دوامیت پر کسی قسم کے کلام کی کوئی گنجائش ہی نہیں، فطرت سے یہ ہم آہنگی ادیان عالم میں صرف اسلام کا طرۂ امتیاز ہے اسی وجہ سے خلعت و دوام صرف اسلام کے جسم اطہر پر ٹھیک بیٹھتا ہے اور تاج ابدیت صرف اسی کے سر اقدس پر زیب دیتا ہے –

  • مسلمانوں کی پسماندگی اور ہم سب 

    ذاکر حسین

    مکرمی !

    آج ملک کے مسلمانوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے اور جگ جگہ مسلمانوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ یہ حقیقت ہیکہ مسلمانوں کی بد حالی کی وجہ مسلمانوں کی تعلیم سے بے رغبتی ہے۔ آج مسلم نوجوانوں اور مسلم لڑکیوں کی تعلیم سے بے رغبتی تشویش اور فکر کا موضوع ہے۔ آج ہمیں مسلم نوجوان ہر نکڑ اور پان فروش کے پاس بیٹھے موبائل میں مصروف نظر آئیں گے اور حد تو یہ ہیکہ موبائل کے استعمال کا یہ سلسلہ نوجوانوں سے نو عمر بچوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاتا ہے اورمسلم انہیں دہشت گرد بتا کر پولس انکائونٹر کرتی ہے اور ہم موبائل میں اور اپنی عیش کی دنیا میں بد مست رہتے ہیں۔

    افسوس تو اس بات کا ہیکہ آہستہ آہستہ اور خاموش طریقے سے ہمارے اندر سے قوم کے لئے قربانی، انسانیت سے محبت اور قوم کوبلندی پر پہنچانے جیسے جذبات رخصت ہو رہے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہے۔ قوم کے بچے کتابوں کے بجائے اپنا وقت موبائل اسکرین پر ضائع کرتے ہیں تواس کی ذمے داری بچوں کے والدین پر عائد ہوتی ہے والدین کو چاہئے کہ موبائل کے نقصانات سے بچوں کو آگا ہ کریں اور انہیں موبائل سے صرف دور نہیں بلکہ بہت دور رکھا جائے۔

    جب کبھی دہشت گردی کے الزام میں کسی مسلم نوجوان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس وقت قوم کے رہنما کسی مسلم وکیل کو مقدمات کی پیروی کے لئے ڈھونڈھتے ہیں تو انہیں قوم کی تعلیمی پسماندگی پر آنسو بہانے پڑتے ہیں کیونکہ انہیں جلدی کوئی معیاری مسلم وکیل نہیں ملتا۔مستقبل میں مسلم قوم میں تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہونے کے خدشات اس لئے ہیں کہ مسلم قوم کے بچے موبائل کو اپنی زندگی کا ضروری جز بنا چکے ہیں۔ قوم کے نوجوان طالب علمی کے زمانے میں موبائل میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جب ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے تو آنکھوں میں بڑے آدمی بننے کا خواب سجائے باہری ملکوں کی راہ پکڑتے ہیں یہ ان کی عظیم ترین حماقت ہوتی ہے۔

    محترم جب آپ نے زندگی بھر کتابوں سے دوری بنائے رکھی اور ہر وقت موبائل فون پر مصروف رہے تو اب کیسے ایک اچھی اور خوشحال زندگی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب ضرورت ہیکہ قوم کے افراد قوم کو پسماندگی کے دلدل سے نکالنے کیلئے موبائل نہیں بلکہ کتاب کو اپنی مصروفیات میں شامل کریں۔ آج کل جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ کے گیارہویں اور ایل ایل بی سمیت دیگر کورسیز کے داخلہ امتحان فارم بھرے جا رہے ہیں۔ آپ کسی بھی طرح کے تعاون کیلئے  الفلاح فرنٹ کے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • ہم ملک بچانے نکلے ہیں ،آئو ہمارے ساتھ چلو

    محمد عارف اخلاق

    (تنظیمِ سیکریٹری، ویلفیئر پارٹی آ ف انڈیا،دہلی) 

    مکرمی !

    دہلی میں اپنی سیاسی جڑوں کو مضبوط کرنے میں مصروف ویلفیئر پارٹی آف انڈیاکے اہم عہدیداران ان دنوں قومی راجدھانی میں ہنگامی میٹنگ اور دورے کر رہے ہیں ۔  اسی کڑی میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے گزشتہ دنوں خاکسار کی قیادت میں دیگر پارٹی عہدیداران اور کارکنان نے اتم نگر، کھجوری، کیرتی نگر اوردریا گنج کا دورہ کیااور مقامی لوگوں کے ہمراہ میٹنگ کر کے انہیں پارٹی کے اصول و نظریات، پارٹی کے ذریعے انجام دی گئی خدمات سمیت ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سے متعلق دیگر باتوں سے روشناس کرایا۔

     اس موقع پر ناچیز نے عوام سے گفتگو کے دوران کہاکہ ویلفیئر پارٹی آ ف انڈیاجمہوری نظام سے چلنے والی پارٹی ہے، یہاں کوئی خاندانی وراثت کا معاملہ نہیں ہے کہ باپ کے بعد بیٹا ہی پارٹی کا اہم ذمہ دارہوگا۔ اسلئے ویلفیئر پارٹی آ ف انڈیاسے ایک بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہیں اور پارٹی سے جڑ بھی رہے ہیں ۔ ہم اقتدار کی لالچ میں امن و امان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اخلاقیات کا سودا نہیں کرتے اور ہر حال میں اپنے اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ویلفیئر پارٹی ایک تحریک کا نام ہے، جو ہندوستان کی سیاست کو جھوٹ، بے ایمانی، فرقہ پرستی، غنڈہ گردی اور ظلم و زیادتی سے پاک کرنا چاہتی ہے۔

     ویلفیئرپارٹی آف انڈیاملک کو ’ویلفیئراسٹیٹ‘ بنانا چاہتی ہے، جس میں سماج کے پسماندہ، غریب، قبائلی، مسلم اور او بی سی وغیرہ کوان کی ضروریات کا سارا سامان ملے اور وسائل کو ملک کے سبھی طبقات کے درمیان منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی ایک تہائی آبادی کویہاں کے وسائل سے محروم کیا گیاہے اور لوگ احساس ِ محرومی اور نہایت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذار رہے ہیں ۔

    ہم اس افسوسناک صورتحال کو ختم کر ملک میں خوشحالی لانے کے حامی ہیں اور اس کیلئے ایمانداری اور سچائی کا دامن تھامے سیاست کی راہوں میں مسلسل سرگرم ِ عمل ہیں ۔ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں آپ ملک میں امن و امان کے قیام اور ملک کی ترقی کیلئے ویلفیئرپارٹی آف انڈیاکو مضبوط کریں ۔ عوام کیلئے اہم خبر ہیکہ اسی سال کے یکم اپریل سے 28اپریل تک پارٹی کی جانب سے ملکی سطح پر تشہیرمہم چلائی جائے گی۔ہم محترمہ نغمہ سیفی صاحبہ، محترم محمد مکرم صاحب، محترم ڈاکٹر یامین صاحِب،محترم ڈاکٹر سراج حسن صاحب، محترم محمد ذیشان صاحب، محترم محمد حنیف صاحب اور عابد ملک و دیگر کا تعاون کیلئے شکریا ادا کرتے ہیں ۔عوام کیلئے  ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا واضح پیغام ہیکہ ہم ملک بچانے نکلے ہیں ، آئو ہمارے ساتھ چلو

  • بی جے پی کی گرتی ساکھ اور عام بجٹ

    فیصل فاروق

    گزشتہ دنوں راجستھان کے ضمنی انتخابات میں کانگریس نے جہاں بی جے پی کو بڑے مارجن کے ساتھ تینوں سیٹوں پر زبردست شکست دی، وہیں ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال کی البیريا لوک سبھا اور نواپاڑہ اسمبلی سیٹ پر ضمنی الیکشن میں شاندار جیت حاصل کی۔ ایک پارٹی کے طور پر گجرات کے بعد راجستھان میں کانگریس کی اقتدار میں واپسی ہوئی ہے۔ جو کانگریس پارٹی ٢٠١۴کے لوک سبھا انتخابات میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی تھی اسی پارٹی کا تینوں سیٹوں پر فتح حاصل کرنا، چند ماہ میں ہونے والے انتہائی اہم اسمبلی انتخابات کے مد نظر بی جے پی کیلئے کسی انتباہ سے کم نہیں ہے۔

    کھوکھلے وعدے اور غلط فیصلوں کی وجہ سے بی جے پی کیلئے آنے والے انتخابات پر خطر معلوم پڑتے ہیں۔ ضمنی انتخابات کے نتیجوں کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ شاید وزیر اعظم مودی مسلسل اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔ ان کی طرف سے کئے گئے وعدے اب بھی ادھورے ہیں۔ کرپشن کا خاتمہ اور بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لانا، اب تک ایک خواب ہے۔ بے روزگاری اب بھی اربوں نوجوانوں کیلئے ایک ایسا مسئلہ ہے جو حل نہیں ہو سکا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر بی جے پی اور پانچ سال حکومت میں رہتی ہے تو ملک کو معاشی بحران سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

    دراصل اقتدار بچانا اب بی جے پی کیلئے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ سالانہ عام بجٹ کے ذریعہ غریب اور کسانوں کی مدد اور دیہی معیشت کو فروغ دینے کیلئے کئی منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اجولا منصوبہ کے تحت مفت گیس کنکشن بڑھا کر آٹھ کروڑ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ‘سوبھاگیہ منصوبہ’ کے تحت ١٦/ہزار کروڑ روپے سے چار کروڑ غریبوں کے گھروں کو بجلی کے کنکشن دینے، ٢٠٢٢/تک ‘اپنا گھر پروگرام’ کے تحت دیہی علاقوں میں ٥١/لاکھ مکان بنائے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں اتنے ہی مکان اور بنائے جائیں گے۔ ‘سوچھ بھارت مشن’ کے تحت دو کروڑ نئے ٹوائلٹ بنائے جائیں گے۔ ‘سوراج منصوبہ’ کو فروغ دینے کیلئے تین لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ دس کروڑ غریب کنبوں کیلئے ‘راشٹریہ سواستھیہ سرکشا یوجنا’ اور ڈیڑھ لاکھ ‘ویلنیس سینٹروں’ کیلئے ١٢/ہزار کروڑ روپے الاٹ کیا جائے گا۔

    دس کروڑ غریب خاندانوں کو فی خاندان پانچ لاکھ روپے سالانہ میڈیکل انشورنس فراہم کرنے کے مقصد سے بنایا گیا منصوبہ، دنیا کی سب سے بڑی اسکیموں میں شامل ہے۔ لیکن جب تک کہ منصوبوں کو زمینی سطح پر نافذ نہیں کیا جاتا اور ان کے فوائد کے ہدف آبادی تک پہنچنے کو یقینی نہیں بنایا جاتا تاہم، محض اسکیم لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بجٹ میں اعلان شدہ مختلف منصوبوں کی کامیابی کیلئے مرکز کے ساتھ تمام ریاستوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، صرف لفظی جمع خرچ سے کام نہیں چلےگا۔

  • کاس گنج فساد کے زمینی حقائق

    ذاکر حسین

    یومِ جمہوریہ کے دن فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں جھلسنے ولا کاس گنج اب بھی نفرتوں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ وہاں سے موصول ہونے والی خبر وں کی مانیں توکاس گنج کے مسلمانوں کو فساد کی مار جھیلنے کے بعدبر ق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر کے مصداق اب پولس کی یکطرفہ کارروائی سے انہیں مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیومیں پولس کا بھیانک روپ سامنے آیاہے، وائرل ویڈیو میں دکھایا گیاہیکہ پولس زبردستی ایک مسلمان کا گھر کے دروازہ توڑ کرمکین کی اجازت کے بغیر دندناتی ہوئی گھس گئی۔ مقامی مسلمانوں کا الزام ہیکہ مسلمانوں کو فرضی مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں ٹھونسا جارہاہے۔ کاس گنج واقعہ کے بعدسیکولر سیاسی جماعتیں بھی سوالوں کے گھیرے میں ہیں؟ کیونکہ خود کو مسلمانوں کی ہمدردبتانے والی سیکولر جماعتوں اور رہنمائوں کی جانب سے ابھی اس معاملے میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔

    بتایا جا رہاہیکہ علاقے میں مسلمانوں کی کوئی فعال لیڈر شپ نہ ہونے کے سبب بھی انہیں مسائل کا سامنا ہے۔ مقامی مسلمانوں کے مطابق کاس گنج میں ہندئوں کی قیادت کا دعوی کرنے والے مکمل طور سے متحرک ہیں اور اپنی برادری کے ساتھ ہر وقت کھڑے رہتے ہیں ۔ کاس گنج میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا، نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے لیکن جو ہوا، اس کے بعد پولس انتظامیہ اور حکومت کو سبق لیتے ہوئے مزید کسی قسم کے حادثے سے بچنے کیلئے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے تھی۔ لیکن حکومت اور  پولس انتظامیہ یکطرفہ کارروائی کر کے کاس گنج کی ٖفضا میں چھائے بھیانک سکوت کو مزید گہرا کر نے کی تشویشناک حرکت کی مرتکب ہورہی ہیں ۔ گذشتہ دنوں ملی وفدنے کاس گنج کا دورہ کر وہاں کے زمینی حقائق سامنے لانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔

    ملی وفد کی پورٹ کے مطابق یوم ِ جمہوریہ کے دن بھڑکی تشدد کی آگ میں چار پانچ دن گذرنے کے بعد بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے اور علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ مسلم فرقہ جو فرقہ وارانہ تشدد اور زیادتی کا شکار ہوا وہی اس وقت بھی یکطرفہ طور پر فرقہ پرستوں کی افواہوں ، تشدد، لوٹ مار اور سازشوں کا نشانہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف انتطامیہ بھی انہیں کے معصوم و بے گناہ افراد کو ہی گرفتار کر رہی ہے۔ پورٹ میں یہ بھی کہا گیاہیکہ مسلمانوں میں کوئی سرگرم مقامی لیڈرشپ نہیں ہے۔ ہندووں کے جن افراد کو پولس گرفتار کرتی ہے ان کی طرف سے سیاسی وسماجی رہنما پولس پر دبائو  بنا کر انھیں چھڑا لاتے ہیں ، جب کہ مسلمانوں کی مددکیلئے کوئی آگے آنے کی ہمت نہیں کرپا رہا ہے۔ ایک کارپوریٹر جناب محمد شاہد (عرف گڈو) نے جب  متاثرین کے گھروں تک آلو اور آٹا پہنچانا شروع کیا تو ان کو ان کے گھر سے پولس نے گرفتار کر لیا۔ ۔

     وفد کی تحقیق کے مطابق فساد منصوبہ بند طریقے سے کرایا گیا۔فرقہ پرستوں نے جو ترنگا ریلی نکالی اس کی انتظامیہ سے اجازت نہیں دی تھی۔ پھر مسلم علاقہ سے نکلنے پر اس نے اصرار کیا اور جس تیراہے پر مسلمان خود یوم جمہوریہ پروگرام منعقدکر رہے تھے وہیں سے یاترا نکالنے کی ضد کرنے لگے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہمارا پروگرام ختم ہو  جانے کے بعد آپ یہاں سے لے جا سکتے ہیں لیکن انہوں نے ایک نہیں مانی، زبردستی کرنے لگے، گالیاں دیں اور لوگوں سے مطالبہ کرنے لگے کہ وہ وندے ماترم کہیں اور جے شری رام کا نعرہ لگائیں ۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کاس گنج کے ویر عبدالحمیدتراہے پر چندن کو گولی نہیں ماری گئی اور کسی مسلمان نے گولی نہیں چلائی۔ دوسرے دن چندن کی لاش کے کریاکرم کے بعد جو بھیڑ واپس لوٹی اس نے چن چن کر مسلمانوں کی دوکانوں کو جلانا  اور لوٹنا شروع کر دیا حالانکہ پولس موجود تھی لیکن اس نے مشتعل بھیڑ کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

    تقریب 8 بڑی اور متعدد چھوٹی دوکانیں اور کھوکھے نذر آتش کر دئے گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملہ مقامی ایم ایل اے اور کلیان سنگھ کے بیٹے راجبیر سنگھ اور وی ایچ پی کے رہنما گوری شنکر شرما کا رول انتہائی اشتعال انگیز اورتشدد کو مزید ہوا دینے والاتھا۔ غیر مسلم علاقوں میں جومسلمان کرائے پر رہ رہے تھے وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر مسلم علاقوں میں بھاگ آئے۔ جو بڑی دوکانیں جلی ہیں ان میں تقریبا 70 سے 80 لاکھ مالیت کا سامان بھی خاکستر ہو گیا۔ اب پولس چن چن کر مسلمانوں کو گرفتار کر رہی ہے اور ان پرقتل (302 )اوراقدام ِ قتل(307 )کی دفعات لگائی جارہی ہیں۔

     یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ چندن کا قتل کسی مسلمان نے کیا ہے۔ ایک مسلمان کے گھر سے اسلحہ بھی ضبط کیا گیا حالانکہ ان کے پاس اس کا لائسنس موجود ہے۔ منصور احمد شیروانی کی جوتوں کی دوکان کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کر دیا گیا۔متاثرہ کا سگنج کے دورے کے دوران وفدمیں شامل افراد نے متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور ریلیف اور سروے کے لئے ایک ٹیم کو متعین کیا۔ وفد نے کاسگنج سے واپسی پر راشٹریہ علما ء کونسل کے علی گڑھ کے فعال لیڈر مولانا نثار احمد کی رہنمائی میں میڈیکل کالج علی گڑھ میں زیر علاج حبیب اکرم اور شاہنواز سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تسلی دی۔

    وفد نے متاثرین کو حوصلہ رکھنے اور مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔ جماعت اسلامی ہند نے فوری ریلیف کے لئے اقدامات کرتے ہوئے اپنے ناظم علاقہ اور سیکریٹری حلقہ کو کاسگنج میں متعین کر دیا اور ان کو ذمہ داری دی کہ وہ  جلد از جلد جتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان کی فہرست بنائیں ، وکلا کی ایک ٹیم تیار کر ان کے معاملات کی پیروی شروع کر یں ، اس کے علاوہ ایک سروے فارم بنا کر اس ٹیم کے حوالے کیا گیا کہ وہ نقصانات کی فہرست، ان کی مالیت کا تخمینہ تیار کرے اور اس کی ایف آئی آر درج کر ائی جائے اور معاوضہ کے لئے انتظامیہ اور ریاستی حکومت کو فوری میمورنڈم دیا جائے۔جماعت اسلامی کی طرف سے علی گڑھ میں مقیم زخمی افراد کو فوری طور پر مالی مدد بھی کی گئی۔ وفد نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ملنے کے لئے وقت مانگا لیکن انہوں نے رات میں وقت دیا جس کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

     حادثہ کے چوتھے دن بھی مسلمانوں کی دوکانیں بند تھیں اور لوگوں میں خوف و حراس کا ماحول تھا۔ گرفتار یوں اوریکطر طرفہ کارروائی سے لوگ سہمے ہوئے ہیں ۔ وفد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کی اعلی سطح کی جانچ کسی ہائی کورٹ کے جج سے کرائے، جن افراد کی دوکانیں اور کھوکھے جلا دئے گئے ان کو پورا پورا معاوضہ دے۔ جن شرپسندوں نے کاسگنج کو اس حالت تک پہنچادیا ان کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ ملی وفد کے علاوہ کاس گنج کا اب تک راشٹریہ علما ء کونسل کی مقامی یونٹ اور گزشتہ روز یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ سے وابستہ افراد نے دورہ کیا۔

     ہم گزشتہ روز کاس گنج کا دورہ کرنے والے جماعت ِ اسلامی ہند کے سیکر یٹری محمد احمد صاحب،مسلم مجلس مشارت کے صدر نوید حامد صاحب، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قاسم رسول الیاس صاحب، راشٹریہ علما ء کونسل کے قومی جنرل سیکریٹری مولانا طاہر مدنی صاحب، مولانانثار احمد صاحب، یونائیٹید اگینسٹ ہیٹ کے ندیم خان صاحب، جناب موہت پانڈے صاحب کے علاوہ جناب اسد حیات صاحب، سابق ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری صاحب، امت سینو گپتاصاحب، علیم اﷲخان صاحب، حسن البنّاصاحب ودیگر کو ہم سلام پیش کرتے ہیں کہ آپ لوگوں نے کاس گنج کا دورہ کر مظلومین کو ڈھارس، حوصلہ دیااورسچائی کو سامنے لانے میں اپنا اہم مثبت کردار اداکیا۔لیکن حقیقت یہ ہیکہ ابھی کا س گنج میں کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے خاص طور سے وہاں کے مسلمان یکطرفہ گرفتاری سے خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ۔

    اسلئے مسلم سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ لیڈران اور ملی تنظیموں کے سر فہرست رہنمائوں کو وہاں کا دورہ کر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیکر اس مصیبت کی گھڑی میں مسلمانوں کو ہمت وحوصلہ دینے اور ان کی مدد کیلئے آگے آنا چاہئے۔

  • عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

    عظمت علی

    عصر حاضرکے مہلک و خطرناک سماجی دور میں "صنف نازک کا تحفظ "مشکل سے مشکل تر ہواجاتاہے۔ اس حساس مسئلہ کو لے کر ہز زندہ دل اور باحیا خاندان سماجی زبوں حالی کا شکوہ کررہاہے کہ نوجوان لڑکیوں کی کیسے  حفاظت کی جائے ان کے کردار پرکوئی  آنچ نہ آنے پائے۔ جبکہ انٹرنیٹ نے  گھر گھر میں واٹس ایپ، فیس بک اور یوٹوب و۔ ۔ ۔ کے ذریعہ برائی کی راہوں کو مزید ہموار کردیا ہے۔ جس کے چلتے وہ ایک اجنبی شخص سے ملاقات کرتیں ہیں۔

    زناکاری ایک ایساپیچید ہ مسئلہ ہے جس کی پولیس شکایت کرنےسے زیادہ تر لوگ صرف اس لئے کتراتے ہیں کہ کہیں خاندانی وجاہت اورذاتی عزت پر کوئی آنچ نہ آجائے اور بعد میں دیگر مسائل کا سبب بن جائے۔ ۔ ۔ !

    عالمی سطح پر جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اسے بطور خلاصہ پیش کیا جارہاہے :

    جنوبی افریقا میں سال بھر میں تقریبا500000 عصمت دری کے واقعات سامنے آتے ہیں ۔ درآنحالیکہ نو میں سے صرف ایک یا دو  کی رپورٹ کی جاتی ہے۔

    سویڈن میں ہر چھ عورتوں میں سے ایک ساتھ تجاوز کیاجاتاہے۔

    امریکہ میں تقریبا83 فیصد 12 سال سے لے کر 16سال کی لڑکیوں کو پبلک اسکول میں کسی نہ کسی قسم کا شہوانی تجربہ ہوچکا ہوتاہے۔ روزانہ 230 لڑکیوں کاجسمانی استحصال کیاجاتاہے۔ پورے سال میں 12اور اس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کے 29000آبروریزی کے واقعات درج ہیں ۔ پر تین میں ایک عورت اپنی پوری زندگی میں شہوانی حملہ کا ضرور شکارہوتی ہے۔

    برطانیہ اور ویلس میں روزانہ 230 اور پورے سال میں 85000زناکا ری کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ جن میں 73000لڑکیاں اور 12000 ہزار لڑکے ملوث ہوتے ہیں۔

    ہندوستان میں 18 تا 30 برس کی عمر کی لڑکیوں کےساتھ جنسی تجاوز کیاجاتاہے۔ تقریبا ہر بیس سے پچیس منٹ میں اس قسم کی واردات سامنے آتی ہیں ۔ جن میں دہلی کا شہر سر فہرست آتاہے۔ جہاں گذشتہ برس 1636واقعات رونما ہوئے تھے۔ جبکہ ممبئی میں 391، جے پور میں 192اور پونے میں 171حادثات کے شکایات درج ہیں ۔ مدھ پردیس میں ہر دن 11اور پورے ملک میں روزانہ 90 لڑکیوں کی آبرولوٹی جاتی ہے۔

    نیوزی لینڈ میں ہر دو گھنٹہ میں ایک  لڑکی کی آبرولوٹی جاتی ہے۔ 16 سال سے کم عمر کی ہر تین میں سے ایک لڑکی اور چھ میں سے ایک لڑکا غالبا شہوانی حملہ کاشکار ہوتاہے۔ 2013 ء میں نوجوان لڑکوں نے حالت نشہ میں لڑکیوں کی اجتماعی آبروریزی کی تھی۔

    کناڈامیں ہر سال کم و بیش 460000جسمانی بدفعلیاں ہوتی ہیں ۔

    آسٹریلیا میں ہر چھ میں سےایک لڑکی اس بد فعلی کا شکارہوتی ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق ہر 15 سال سے زائد عمر کی لڑکی کے ساتھ جنسی تجاوز ہوچکاہوتا ہے۔ اور ان حیوانی افعال کو انجام دینے والے ستر فیصد گھر، اسکول دوست اور دیگر دوست ویارہوتے ہیں۔

    زمبابوے میں ہر نوے منٹ میں ایک، روزانہ16اور ہر ماہ میں تقریبا 500 ہم جنسی بد کاری ہوتی ہے۔

    2014ء میں ایک مطالعہ کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ فن لینڈ میں تقریباً47 فیصد عورتوں نےجسمانی یا شہوانی بد فعلی کا تجربہ کیا ہے۔ اور ہر بیس میں سے ایک لڑکی جنسی تجاو زکا شکار ہوتی ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ پوری دنیام میں 36فیصد عورتوں کو جسمانی یا شہوانی حملہ سے دوچارہونا پڑتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام ممالک جہاں عصمت دری کی واردات اپنے عروج کو جا پہونچی ہیں ان میں سے کوئی بھی اسلامی ملک نہیں ہے۔ جس کا واحد سبب اسلامی قوانین کااتباع کرنا ہے۔ اسلا م نے عورت کو اتنا عظیم مرتبہ دیا ہے کہ اہل خانہ کے لئے رحمت، شوہر کا نصف ایمان اور ماں بن جانے کے  بعد اس کے پیروں تلے جنت قرار ددیا ہے۔ سماج میں اس کی حرمت کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ وہ ایسے لباس زیب تن نہ کرے جو لوگوں کی بری نگاہوں کاسبب بنے اور دوسری طرف سے نا محرم حضرات کواس کی طرف شہوت کی نگاہوں سے دیکھنا عظیم جر م قرار دیا ہے کہ مبادا جسم کی رونمائی اور شہوتی نگاہیں کسی حرام فعل کے وجود میں آنے کاسبب نہ بن جائیں۔

    اگر کوئی شخص یہ جرم کرتے پکڑاگیا یا معتبر گواہوں نے اس کی کی شہادت دیدی تو اسلامی ملک میں قانون کے ماتحت اسے جرم کے لحاظ سے سزا دی جاتی ہے۔

    آج اگر دشمنان اسلا م بغض و عداوت کے پردے کو ہٹاکر اپنے ممالک کا اسلامی ممالک سے مقائسہ کریں تو یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ انسان کی شکل میں کہاں حیوان پنپتے  ہیں ؟!انہیں اسلام کی عداوت نےدائرہ انسانیت سے خارج کر دیاہے تبھی تو ان کی ناموس سر برہنہ و عریاں کھلے بازار گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں اور۔ ۔ ۔!

    اگر وہ خود کو انسان تسلیم کریں اور اپنے خاندان و ناموس کی عزت کی حفاظت کرنا مقصود ہوتو انہیں لازم طور پر جان لینا چاہئے کہ اسلامی حجا ب پر پابندی عائد کرنے کے بجائے حجاب اسلامی کی پابندی کریں ۔ اورعورت جیسے قیمتی گوہر او رنعمت الٰہی کی قدرو حفاظت کریں ۔ یہ بھی جان لیں کہ عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں !مربی قوم ملت ہے شوکیس میں سجانے والی عریاں گڑیاں نہیں ! ہمیشہ قیمتی اور نایاب گوہر صدف میں ہوتے ہیں اور بے قیمت سنگریزے قدموں کی ٹھوکر میں!

    پس !حجاب ناموس کی حفاظت کادوسرا نام ہے۔ نہ کہ محدودیت اور بے جاپابندیاں!

  • ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے

    عظمت علی

    سچ تو یہ ہے کہ وہ جسمانی غلام تھے, ذہنی نہیں . ان کے تن پر قبضہ تھا مگر ان کے افکار و نظریات پر پہرےبٹھانا دشمن کی طاقت سے پرے تھا. کہا جاتا ہے کہ جن کے ضمیر زندہ ہوتے ہیں وہ ہرگز خواب غفلت کا شکار نہیں ہوتے وہ اغیار کے ہاتھوں اپنی ذہنی آزادی کا سودا نہیں کرتے. آزادی انسان کی سرشت کا ایک بیش بہا حصہ ہے، جس کی دستیابی کی خاطروہ ہر گھڑی ماہی بے آب رہتا ہے۔

    ایک وقت تھا جب بیرون ملک سے آئے چند اوباش اور فتنہ پرور دشمنوں نے اپنے مالک کی نرم خوئی اور آدم گری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی زمین کو ہتھیا لیا اور ان سے ان کے اختیارات چھین کر اپنی حکومت کا آغاز شہر سے کیا  اوردیکھتے دیکھتے  اس بیرونی ناجائز حکومت نے پورے ملک کو امربیل کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    لیکن ہندو مسلم سکھ عیسائی کی جانب سے اصل مسلہ کی انتہائی دیدہ ریزی و جفاکشینے اسے برطانوی قید و بند سے آزاد کرادیا.ہندوستان اگرچہ 15 اگست 1947 میں محبان وطن کی سعی حاصل سے آزادی سے ہمکنار ہوا لیکن تاریخ میں 26 جنوری کا الگ ہی امتیاز  ہے. حکومت نے ڈاکٹر امبیڈ کر کی سرکردگی میں آئین ساز کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے مسلسل تین برس شب و روز کی عرق ریزی کے بعد آئینی مسودہ آمادہ کیا. اسمبلی کی منظوری کے بعد اس آئین کو بعنوان ضابطہ ہند مکمل طور پر نافذالعمل کیا گیا اور 26 جنوری 1950 میں بھارت خود مختار ملک بن گیا. اب اسے سامراجی   غلبہ سے ہمہ گیر خلاصی نصیب ہوچکی تھی. ہم اس دن کو روزے جمہوریہ کے نام سے یاد کرتے ہیں . اس روز کی مناسبت سے ملک بھر میں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ یوم جمھوری کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔

    بھارتی عوام اپنی چشم پرنم اور صمیمی قلب سے وطن کے  جانثاروں کے عزم ہمت کو سلام کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ آخری سانس تک اس  سرزمین کا دفاع کرتے رہیں گے. ۔

    26 جنوری کو جوآئین طے پایا تھا.  اس کے آغاز میں ایک حسین جملہ تحریر تھا”ہم ہندوستانی عوام تجویزی رائے کرتے ہیں کہ بھارت ایک آزاد اور جمہوری ملک کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے. جس میں تمام  شہروں کے لیے سماجی معاشی سیاسی انصاف آزادی خیال اظہاررائے آزادی عقیدہ اور مذہب وہ عبادات مواقع ام یار کی برابری اور انفرادی تشخص کو یقینی بنایا جائے گا اور اسکے یکجہتی کو قائم و دائم رکھا جائے گا.”

    1971میں اندرا گاندھی نے آئین کے زیور میں سیکولر لفظ کے قیمتیموتیکااضافہ کردیا جس کے باعث دنیا بھر میں اس دستور کو خوب سراہا گیا اور اسے روا داری پر مبنی برانصاف آئین قرار دیا گیا۔

    اصول ہند کے رو سے ہر بھارتی بلاتفریق مذہب وملت یکساں و برابر ہے. تمام مذاہب کا احترام کیا جائے گا  اور مذہب کی بنا پر کسی بھی قسم کا کوئی امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے گا. دستور کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لیے یہ اصول بلکل کامل ووافی نظر آتے ہیں۔

    آزادی ہندکےمعماروں نےاپنیآنکھوں میں ایک پرنما ورترقی یافتہ بھارت کا سنہراخواب سجا کر اب دینیند کی چادراوڑھلی. انکی دلی تمنا تھی کہ ہماختلافات کے سامراجی دربارکوکھنڈرمیں تبدیل کرکےاتحادکاعظیم الشان تاج محل تعمیرکریں۔ انکی خواہش تھی کہ ہندوستان ایساملک بنےجہاں ذات پات کی اونچنی چاوررنگونسل کا بھید بھاؤ نہ ہواورتمام مذاہب کے پیر وباہم ییگانگت کے ساتھ ا پنے مذہب یرسوماتاداکرنےمیں افتخارکریں۔

     سارے جہاں سے اچھا ہندوستان جوں جوں دہلیز شباب کی جانب قدم بڑھاتا گیا، خوب سے بد ہوتا گیا جب کہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کی ترقی کے میدان کا علمبردار ہوں اور اپنی ذات میں ید طوبی کا مالک ہو۔

    مگر افسوس کہ  ایسا نہیں ہوا. اسے سیاستدان کی نااہلی کہ لیں یا عوام کی بد انتخابی کہ حالیہ دور میں ہندوستان خانہ جنگی کی کگار پر کھڑاخون کے آنسو رورہاہے. آج کل سیاست نے بھی اپنی شکل و صورت تبدیل کر رکھی ہے. ان دنوں سیاستداں اپنی بساط پر فرعون کا کردار ادا کر رہے ہیں . نہ جانے مذہبی تعصب کی آنکھ مچولی کب تک چلتی رہے گی. دعویٰ یہ کیا جارہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے رہنے کا کوئی حق نھیں ھے جبکہ گلستان ہند کی ہر بہار گواہ ہے کی اس کی شادابی بھی مسلمانوں کے بھی لہو کام آئے ہیں   اور اس کی نگہبانی  میں اہل اسلام نے بھی اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔

    یہ تصور بھی جرم ہے کہ ہندوستان کسی ایک فرقے کی جاگیر ہے. گنگا جمنی تہذیب کو روندا جا رہا ہےاور مہاتما گاندھی کے مشن کو کچلا جارہا ہے. نہ جانے خوابو کے اس عزیز وطن اور گنگا جمنی تہذیب کے اس سنگم کو کس بد نظر کی نذر لگ گئی. دشمن مسلسل اپنی ابلیسی تخریب کاری کے ذریعے ان بے لوث مجاہدین  آزادی کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے کی راہ میں روڑے ڈال رہا ہے اور ہمارے سیاستدان ہیں کہ ان کی جی حضوری میں اپنا شرف سمجھتے ہیں۔

    گاندھی جی کی روح تڑپتی ھوگی کہ آج میرے خوابوں کے شاندار محل ویران کیا جارہا ہے. اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کیا کہ آپ کا دل انسانیت کے لیے دھڑکتا تھا اور آپ ہر بھارتی کے درد میں برابر کے شریک تھے. لیکن سر دست ہندوستانکی حالت یہ ہے کہ آپسی اختلافات کو ہوا دے کر جمہوریت کو مجروح کیا جارہا ہے، اور سیاستمدار ہیں کہ مسلسل بیجا خاموشی کا ثبوت پیش کیے جارہے ہیں لیکن یہ مسلم ہے کہ اندھیرے کبھی اجالوں کو نگل نہیں سکتے ہیں اور

    دوچار امیدوں کے دیئے اب بھی ہیں روشن

    ماضی کی حویلی ا بھی ویران نہیں ہے

  • سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

    عظمت علی

    آج پوری کائنات میں تقریبا  ۱۹۶؍ممالک پائے جاتے ہیں ۔ہر ایک کی الگ الگ خاصیت ہوتی ہے ۔جن کی وجہ سے وہ جانے پہچانے جاتے ہیں ۔انہیں میں سے ایک ہندوستان بھی ہے ۔یہ ملک ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہونے کے باوجود دنیا کی دوسری سب بڑی تعدا دکا مالک شمار ہوتا ہے ۔اس میں کچھ ایسی امتیازی خاصتیں پائی جاتی ہیں جو دیگر ممالک میں نہیں ہیں ۔اس وقت بہت سے ایسے چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں جہاں امن و امان کا کوئی گزربسر نہیں ہے ۔بلکہ دہشت گردی اور معصوم انسانوں کوقتل عام ہوتا رہتاہے اور حکومت تماشائی بنی رہتی ہے ۔جبکہ ہمارے یہاں کثیر تعداد ہونے کے ساتھ ساتھ ہر جگہ چین و سکون کی فضا نظر آتی ہے ۔جہاں امیر اپنے دولت کدہ میں رات گزارتا ہے وہیں ایک فقیر اور فاقہ کش بھی آسمان تلے سڑک کنارے بے خوف سوجاتا ہے ۔

     ہمارے پیارے وطن میں جہاں کثیر تعداد ہے وہیں مختلف اقوام ومذاہب بھی وجود رکھتے ہیں اور آئین ہند کے مطابق ہر مذہب کو اپنے رسومات اداکرنے کی مکمل اجازت حاصل ہے ۔مسلمان، ہندو، سیکھ اورعیسائی اپنے اپنے مذہبی فرائض کو بخوشی انجام دیتے ہیں ۔جبکہ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں اقلیتوں کو اپنے مذہب اور دینی رسومات کو آزادانہ انجام دینے کی اجازت نہیں ہے۔

     جس طرح عرب مہان نوازی میں مشہور زمانہ ہیں اسی طرح ہمارے یہاں بھی مہمان حضرات کو بہت ہی عزت واکرام سے نوازا جاتا ہے ۔بلکہ بعض لوگ تو انہیں دیوتا اور بھگوان کے مثل مانتے ہیں ۔حالانکہ اس وقت روئے زمین پر ایسا ملک بھی وجود رکھتا ہے جہاں کی چوکھٹ پر ہی باعزت مہمانوں کی عز ت کی کھلواڑ کیاجاتاہے۔

      ہمارے ہندوستان کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہاں ہر قسم کے افرادکا گزر بسر ہے ۔غریب سو روپیہ بھی کمائے تو وہ شکم سیر ہوکر اطمینان کی نیند سوجاتاہے۔اور امیر ہزاروں روپیہ حاصل کرے تو وہ بھی خوشحالی سے شب گزارلیتاہے ۔اس کے برخلاف فی الوقت ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں غریبو کی زندگی مشکل سے کٹ رہی ہے تو رئیس افراد کی پوری زندگی ایک کاش پر ختم ہوجاتی ہے کہ اے کاش ! کوئی دن سرور کا بھی گزر جائے !

    جہاں بھارت اپنے دامن میں اتنے سارے کمالات سموئے ہوئے ہے وہیں کچھ برائیاں بھی ہیں منجملہ رشوت خوری، کالادھن اور سب سے اہم اہل علم وفن کی ناقدری ہے ۔۔۔جس کے باعث اہل فن کی ایک بھاری تعداد ترک وطن کرکے دیگر ممالک میں پناہ لے رہی ہے اور وہ اپنی لیاقت سے ان ممالک کے نام پر چار چاند لگارہے ہیں ۔اور پھر یہ ہوتاہے کہ خون پسنیہ کسی اور کا اور طمغہ کسی اور کے نا م !

    اگر رشوت خوری اور کالادھن جیسے عظیم جرائم پر سر کار وک تھام لاگادے تو ہر ہندوستانی کے دل کی یہی آواز ہوگی:

    سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

    ہم بلبل ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

  • اسرائیلی وزیرِ اعظم کا دورۂ ہندوستان

    محمد وسیم

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتین یاہو نے ہندوستان کا 6 روزہ دورہ کیا، اسرائیلی وزیرِ اعظم کا جہاز ایئر پورٹ پر لینڈ ہوتے ہی ہندوستان کے وزیرِ اعظم نے بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا، بنجامن نتین یاہو کے ساتھ اس کی بیوی اور 130 رکنی وفد بهی تها، اس سے پہلے 2003 میں اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔

    چند مہینے پہلے ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بهی بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا تها، غرض کہ اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات برسوں سے قائم ہیں، مگر اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بڑی شدت آ گئی ہے، حیرت تو یہ ہے کہ یہ وہی گاندھی کا ملک ہے جس نے اسرائیل کو بطورِ ملک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، مگر اب ہندوستان اسرائیل کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے بیقرار ہے۔

    ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان مختلف شعبوں کے علاوہ دفاعی شعبے کے میدان میں بهی بڑی تیزی آ رہی ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے ‘تین مورتی چوک’ کا نام تبدیل کر کے ‘تین مورتی حیفہ چوک’ اور ‘تین مورتی مارگ’ کا نام ‘تین مورتی حیفہ مارگ’ رکھ دیا گیا ہے، یاد رہے کہ ہندوستان کی تین ریاستوں جودهپور، حیدرآباد اور میسور سے اسرائیل میں بھیجے گئے فوجیوں کے نام پر تین مورتی چوک کا نام رکھا گیا تھا، تینوں ریاستوں کے فوجیوں کو ترکوں کے خلاف لڑنے کے لئے حیفہ بهیجا گیا تھا، جس میں ترکوں کی شکست ہوئی تھی اور 44 ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے، غرض کہ دو باطل طاقتیں اب دنیا کے سامنے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے بے چین ہیں۔

    ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوےء 25 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور 25 سالہ جشن میں اسرائیل کا وزیرِ اعظم ہندوستان میں موجود ہے، جہاں ’25 کروڑ بے حیثیت مسلمان’ بهی بستے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کی بنیاد محض اسلام و مسلمان دشمنی پر مبنی ہے، دونوں ممالک مسلمانوں کی تباہی کے منتظر ہیں، جہاں فلسطین میں اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے معذور فلسطینی مسلمان کو محض 20 میٹر کی دوری سے اس کے سر اور سینے میں بڑی بے دردی سے گولیاں مار دی جاتی ہیں، تو وہیں ہندوستانی فوجیوں کے ذریعے بهی کشمیری مسلمانوں کی آنکھوں کو پیلیٹ گنوں سے اندھا کر دیا جاتا ہے، اس کے باوجود بھی ظالموں کو تسلی نہیں ہوتی، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ زمین مسلمانوں کے لئے قبرستان بنا دیں، مگر ہمارا ایمان ہے کہ جس دن زمین پر ایک مسلمان نہ رہے گا، وہی دن دنیا کے خاتمے کا آخری دن ہوگا۔

    قارئینِ کرام !

    اسرائیل اور ہندوستان کے بڑھتے تعلقات نہ صرف ملک بلکہ مسلمانوں کے لئے بهی انتہائی خطرناک ہیں، اس سے پہلے اسرائیلی صدر ریونین ریولین نے نومبر 2016 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا، اس دوران بهی اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان کئی معاہدے ہوئے تھے،  اسرائیل سے دن بہ دن بڑھتے تعلقات ہندوستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، کیوں کہ یہودیوں کی فطرت میں تخریب کاری شامل ہے۔

    اسرائیل اور ہندوستان دونوں ایسے ممالک ہیں، جن کو ابھی اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق متنازع علاقے حل کرنا ہے، اسرائیل کو فلسطین تو ہندوستان کو کشمیریوں کے ساتھ انصاف کرنا ہے، فلسطین و کشمیر کے معاملات دنیا کے امن سے وابستہ ہیں، اس لئے اقوامِ متحدہ کو ثالثی بن کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا، آخر میں میں انسانیت کے دعویداروں اور جمہوریوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم ظالم اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر کیوں خاموش ہو ؟ کیا تمہاری انسانیت اور جمہوریت کی ضمیریں مردہ ہو چکی ہیں ؟ تم تو مردہ مچھلیوں پر بھی تڑپ اٹھتے ہو، مگر ظالم اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مظالم اور دہشت گردی پر کیوں خاموش ہو…؟؟

  • لٹتی عزتوں کا محافظ ‘اسلام’

    شیخ فاطمہ بشیر

    حالیہ دنوں پڑوسی ملک کے قصور علاقے میں ننھی معصوم پری زینب کے ساتھ ہوئے دردناک اور فسوں انگیز واقعے نے ہر عاقل و بالغ انسان پر سکتہ طاری کر دیا۔ ایک سات سالہ دوشیزہ جو سیپارہ پڑھنے گھر سے نکلتی ہے اور تین دن بعد لاش کی صورت میں کوڑے کے ڈھیر سے برآمد ہوتی ہے۔ ہوس و جنس پرستی کے کھیل میں ڈوبے وحشی نما انسانوں نے اس معصوم سے اُس کا بچپن چھین لیا۔ آج ہم ملکی حالات پر نظر دوڑائے تو احساس ہوگا کہ اسکولوں اور دفاتر حتٰی کہ گھروں میں بھی بنات حوّا محفوظ نہیں۔ وطنِ عزیز میں رسمِ زنا ایک عام چلن بن چکا ہے۔

    جنسی زیادتی، لٹتی عزت و آبرو، بچپن و معصومیت کا بےدردی سے قتل اور ظلم و بربریت کے گھناؤنے کھیل نے انسانیت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا۔ اور ابنِ آدم ہوس کو چاہت کا نام دے کر اپنی پیاس بجھانے میں مصروف ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس صرف جنوری کے مہینے میں کل 147 ریپ کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ اسکے علاوہ وطن میں روزانہ کل 92 عورتیں زنابالجبر کا شکار ہوتی ہیں اور دارالحکومت دہلی میں یومیہ ایسے 6 واقعات درج کیے جاتے ہیں۔ ۶2017 میں زنابالجبر کے 11 بڑے سانحات ایسے ہیں جن میں رشتےدار اور دوست ملوث رہے، اور کمسن بچیوں سے 60 سال تک کی عمر رسیدہ خواتین اُن کا شکار بنی۔ غرض ننھی بچیاں بھی اس حیوانیت اور زبردستی سے محفوظ نہیں اور اپنوں پر بھروسہ کرنا آج کے دور میں ممکن نہیں کیونکہ

     ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو

     آج ہر قسم کی زیادتی کے بعد بھی مجرمین کھلے عام گھومتے اور عیش کرتے نظر آتے ہیں نتیجتاً کوئی دوسری بیٹی بربریت کا شکار ہوتی ہے، اُسکی زندگی داغدار ہوجاتی ہے یا اسے ظلم کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ عورت کے جسم میں پلنے والا مرد، عورت ہی کے جسم سے زبردستی کھیل کر اسے سماج و معاشرے میں بدنام کردیتا ہے۔ کیونکہ دوسروں کی بیٹیوں کی عزتِ نفس مجروح کرکے سکون سے رہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت  پہیہ گھومتا ہے اور ہر ظلم لوٹا دیتا ہے۔ معصوم زینب کے لیے ہر طرف سے لگاتار انصاف کی صدائیں بلند ہورہی ہیں اور پھانسی یا دردناک سزاؤں کا مطالبہ زبانِ عام ہے۔

    اگر آج ہر ملک زنا کے خاتمے کے لیے مجرموں کو اسلامی شریعت کے تحت سزا دینے کا رواج عام کردے اور امن و ترقی کا سرچشمہ”مذہبِ اسلام” کے ذریعے مقرر سزائیں لاگو ہوجائے تو ہر زینب کا لٹتا بچپن محفوظ ہوگا اور عورتوں کی عزتیں نیلام نہ ہوگی۔ لوگوں کے مجمع میں شادی شدہ زنا کے مجرمین کو سنگسار (رجم) یا پھانسی کی سزا ہو اور غیر شادی شدہ زنا کے مرتکبین کو 100 کوڑے لگائے جائے تو دوبارہ کوئی انسانی بھیڑیا اس زیادتی کی ہمت نہ کرسکیں اور نہ ہی کوئی معصوم جان ہلاک ہوگی۔ کیونکہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا بہترین حل پیش کرتا ہے اور دل سے یہ صدا نکلتی ہے کہ بےشک

     سلیقہ زیست کا انسان کو اسلام دیتا ہے

  • دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے

    محمد ریحان ضیاء قاسمی نیموی

    الدنيا سجن المؤمنين وجنة الكافر .أو قال كما عليه السلاة و السلام

    ترجمہ  دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافروں کے لیے جنت

    عزيزگرامی!

    آج دنیا کس موڑسے گزر رہی ہے ہمیں کچھ بھی خبر تک نہیں ہے اے مسلمان تجھے کچھ خبر بھی کہ ہمیں کفار ہند دھشت گرد قرار دے رہی ہے ایسا کیوں ہورہا ہے ہم مسلمان کے ساتھ ایسا ظلم و ستم کیوں ہو رہا ہے حلاکہ جب بھی اس ھندوستان میں خون کی ضرورت پڑی گردن ہماری کٹی ان علماء کرام کے خون تمہیں یاد نہیں اے مسلمان کہ جب چاندنی چوک سے لیکر خیبر تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس شجر پر ہمارے معزز علماء کرام کی گردن نہ لٹ کی ہوئ ہو لیکن آج ہمیں حکومت ہند کبھی کچھ ظلم دےرہے ہیں تو کبھی کچھ لیکن افسوس صد افسوس اگر ہم اپنے ہی گرہبان میں چھانکے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھی کتنے بڑے اغلاط میں مبتلا ہیں  جو گمراہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے.

    ہاں مسلمانان ہند میں سچ کہ رہا ہوں  مجھے کہ لینے دو مجھے آج کلام حق کرنے سے انکار نہ کرو اے مسلمان تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ تو اپنے نبی (خاتم الانبیاء سرکار دوعالم جناب حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم )کے دین کو بھلا بیٹھا ہے جس کے اوراق  خون کے رنگ سے رنگ دیا تھا وہ طائف کا منظر یاد ہے تمہیں جسمیں ہمارے نبی پاک صلى الله عليه وسلم کے جسم اطہر کو خوں سے لہو لہان کر دیا گیا تھا ارے مسلمانوں زرا سوچو کہ اس خون کے متعلق تم کیسے آج بازاروں اس کی قیمت لگائے پھرتے ہو ارے تم دین کا مذاق اڑاتے پھرتے ہو تم جوا کھیلتے شراب پیتے ہو گا نا بجانا کرتے ہو غیر محرم عورتوں سے جما کرتے ہو تمہیں شرم نہیں اتی ہے یہ دین کا مذاق نہیں تو ارو کیا ہےکیا ہمارے نبی یہی دین اسلام دیکر گئے ہیں نہیں میر ےبھائ نہیں تم اس چھوٹی سی دنیا کو پانے کیلئے اپنے نبی کے دین کو نہ بھولو ورنہ تم نہ ادھر کے رہوگے اور نہ ادھر کے. ایک شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

    نہ خدہی ملا نہ وصلا صنم 

    نہ ادھر کے رہے اور ادھر کے رہے ہم

    بہر کیف میرے بھائ یہ دنیا مسلمانوں کے لئے صرف کھیتی کرنے کی جگہ ہے ہمارے نبی پاک صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے (الدنيا مزرعة الاخره)۔ترجمہ  دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔

      یعنی اس دنیا کے چہار دیواری کے اندر  تم صرف خدا کا نام لیوا بن جاو کسی غیر کو نہ پکا رو ہر قدم پر خدا کو پکا رو خدا کی عبادت میں تم زیادہ سے زیادہ  اپنے اوقات کو لگا دو پھر دیکھو تم  کو کون ٹوچر کر تا ہے  ایک مقولہ میرے استاز محترم کہا کرتے ہیں جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے.

    میرے بھائ یہ زندگی آج ہے کل نہیں کل ہے اور آج نہیں صرف ہمارے جسم اور زندگی میں صرف ایک چھوٹی سی ھو ا کا فرق جو سانس کے نام سے جانا جاتا ہے وہ جس دن خدا کے حکم سے رکے گی تو رکی رہجائے گی اسلئے میرے بھائ اب بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنی زندگی کو خدا کے لئے قربان کر دیں خدا کے ہر حکم بجا لائیں۔

  • حق کا دفاع ضروری ہے

    عظمت علی

     دورحاضر کا انسان  اگر تعصب کی عینک اتارکے دین اسلام کا مشاہدہ کرتا توا سے ہر آن "جا ء الحق وزھق الباطل "کی صدائے بازگشت سنائی دیتی۔ مگر کیاکریں !دشمن افراد نے اس کے حسین چہرے پر اس قدر بد نما دھبے لگائے کہ غیر تو غیر اپنے ہم مذہب افراد بھی اس سے کراہت کااظہارکرنے لگے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے تھاکہ مسلمان اپنے کردار کی بناء پر فخر سے سر اونچاکر کے چلتا۔ لیکن آج امت مسلمہ کف افسوس مل رہی ہے۔

    آج نام نہاد مسلمان جہاد کےنام پر دنیا کے گوشہ و کنار میں بے گناہوں  انسانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ اسی باعث غیر مسلمین نے یہ کہنا شروع  کردیاہے کہ اسلام نےجہاد کوقانونی قرار دے کر مسلمانوں کو جارحیت کی کھلی آزادی دے رکھی ہے۔ لہٰذا،و ہ طاقت کے بل بوتے پر ہر ایک کواسلام قبول کرنے پرمجبور کررہے ہیں۔ جبکہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے اور اس کا حقانیت سے کوئی سروکا ر نہیں۔ اس لئے اگر ہم اپنے مذہب کے قوانین اور بانی اسلام کی سیرت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوجائے گی کہ دونوں میں کہیں بھی جارحیت کی طرفداری  نہیں پائی جاتی۔ بلکہ "من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا۔ "

    جوشخص کسی نفس کو کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے سارے انسانوں کو قتل کردیا۔ (سورہ مائدہ 32)

    چونکہ دین اسلام میں جہادکو شرعی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا! ہر صاحب فکر و نظر کے ذہن میں سوال جنم لیتاہے کہ جہاد یعنی چی؟

    یہ بات ذکر کردینا فائدہ سے خالی نہ ہوگی کہ جہادکی دوقسمیں ہیں۔ جہاد ابتدائی اور جہاد دفاعی۔

    آپ پوری تاریخ اسلام کابغور مطالعہ کرلیں مگر انبیا ء، ائمہ اور علماء کے کردار سے قتل و غارت گری کی بو نہیں آتی۔ سرکار دوعالم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی حیات طیبہ کا حرف بحرف اور باربار مطالعہ فرمالیں کہ "بہ ہیچ وجہ "انہوں نے کسی بھی کافر ومشرک پر حملہ کرنےکا حکم نافذ نہیں کیا۔ مگر یہ آغاز مد مقابل سے ہو۔ اس کے برعکس تاریخ اسلام نے اس بات کوبڑے ہی جلی

    حرفوں میں لکھا ہے کہ ایک مرد شامی امام حسن کی خدمت میں آیا اور کچھ تلک آپ کی شان میں گستاخیاں کرتا رہا۔ جب اس کے ناشائستہ الفاظ، جملات اور ترکیبات کی لغت میں کچھ بھی کہنے کو باقی نہ رہا تو تب چپ ہوا۔

     امام حسن نے مسکرا کر فرمایا:ایسامحسوس ہورہا ہے کہ اجنبی ہو!اگر گھر، کپڑااور خوردو نوش یاکسی بھی چیز کی ضرورت ہوتو میں حاضرہو ں۔ جب اس نے امام کایہ اخلاق دیکھاتو ہکا بکارہ گیا، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور منھ کاکھلا کھلا رہ گیا اور سکتہ میں آگیا۔ جب اس کے حواس یکجا ہوئے تو زبن کھولی اور اما م کی تعریف کےسواکچھ ادا نہ ہوا۔

    ہادیان برحق کی زندگی میں جتنی بھی جنگیں آئیں۔ اگر آپ ان سب صرف پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ انہوں نے ہمیشہ اپنا اوراپنے مقدسات کا دفاع ہی کیا ہے اور بس !

    ہمار ے رہبران قوم و ملت ہمیشہ صلح و مصالحت کے علمبرداررہے ہیں۔ رسول خدا کاکفار مکہ اور امام حسن کامعاویہ سے صلح  کرنا۔ ۔ ۔ یہ ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ اب اگر دشمن جنگ کرنے پر مصر ہے تو ہمارا فر یضہ ہے کہ ہم اپنے جان و مال اور عزت وآبر و کےدفاع و حفاظت میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیں۔ جیسا یزید کی پلید سیاست میں امام حسین کو جنگ ہی کرناپڑی۔ درآنحالیکہ آخت وقت تک آپ صلح وآشتی کے حامی رہے۔

     مذکورہ نظریہ کی تائید دنیا کو ہر صاحب و فکر ونظر کرتارہے گا۔ چاہے وہ جس قوم و قبیلہ سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہو۔ کیوں کہ حق کادفاع بہر حال ضروری ہے۔ اسی باعث دنیا کا ہرملک اپنی خاص دفاعی فوج اور کچھ اہم  افراد رکھتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے ملک کا دفاع کرتاہے۔ وگرنہ  ہر کس و ناکس فرعون زمانہ ہوتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین لاشوں سے پٹ جاتی اور جنازے زیادہ اور زندہ آدمی کم ہوتے !المختصر ! ہر طاقت ور آدمی یزید و صدام ہوتا اور ہرزمین کربلاو عراق ہوتی!

      خلاصہ یہ ہےکہ دین کہتاہے کہ کبھی بھی کسی کو اذیت نہ دوچہ جائیکہ کسی کا خون بہاؤ! لیکن اگر ظلم کوچلن ہوہی جائے تو "ردو الحجر من حیث جاء "

  • نشہ کے دلدل میں دھنستے ہمارے بچے، ذمہ دار کون؟

    سید فاروق احمد سید علی

    محترم قارئین کرام!

    امید کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے۔ پچھلے کچھ سالوں سے اخبار کی کچھ جلی سرخیوں نے کافی پریشان کر رکھا ہے، کہ نشہ میں چور نوجوان نے اپنے ہی دوست کا گلا کاٹ دیا، نشہ آور اشیاء  نہ ملنے پرپڑوسی کے ہی گھر میں چوری، اور بھی کئی ایسی شہ سرخیاں پڑھنے ملی ہے۔ مگربہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام جرائم میں ملوث مسلمانوں کا تناسب بہت زیادہ بڑھتا جارہا ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ شہر کے مختلف علاقوں ، مختلف مارکیٹوں اور مقامات زندگی پر منشیات کے عادی افراد گرے پڑے نظر آتے ہیں۔ ان افراد کی ایک واضح اکثریت چوکوں اور شاہراہوں پر گداگروں کی صورت میں بھیک مانگتے بھی نظر آتی ہے جو لوگوں سے اللہ اور رسول کے نام پر صدقہ خیرات کی رقم اکٹھی کرنے کے بعد اس سے منشیات خریدتے ہیں اور اس کو اپنی رگوں میں اتار کر موت کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

    نشے کا استعمال معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ منشیات کے استعمال کی وجوہات، نقصانات، معاشرے پرپڑنے والے اثرات اوراسکے روک تھام کے حوالے سے معاشرے کے ہر فرد کو آگاہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ نشہ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے اور قوموں کی ترقی کا پہیہ جام ہو جاتا ہے۔ یہ افراد صرف چرس، ہیروئن اور دیگر اقسام کی منشیات ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ میڈیکل اسٹوروں سے نشہ آور ادویات آسانی سے بغیر کسی ڈاکٹری نسخے کے خرید کر نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ کسی بھی گھرانے کو اچانک یہ خبر ملے کہ ان کا بچہ نشہ کرتا ہے تو یہ خبر والدین پر بجلی بن کر گرتی ہے کیونکہ نشے کی لت ایسا روگ ہے جو اس کے شکار فرد کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ پورے گھرانے کی خوشیاں اور سکون کو برباد کردیتی ہے۔

    نشہ کرنے والے اپنے نشے کی عادت کو کافی عرصے تک اپنے گھر والوں سے چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ جب اہل خانہ کو مریض کے نشے کا علم ہوتا تو اس وقت تک بات بہت آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ یہ بات اور زیادہ لمحہ فکریہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے ہائی کلاسز کے بچے بھی کئی اقسام کی منشیات کے استعمال میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ اور روز افزوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ملک میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، بالخصوص اس میں بڑی تعداد 21 سال سے 30 سال کے عمر کینوجوانوں کی ہے۔ منشیات میں چرس کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ لاعلمی کی بنیاد پر چرس کو ایک بے ضرر نشہ سمجھا جاتا ہے، نوجوان گٹکا کھانے کے نفع ونقصان کو جانے بغیر تفریح اور شوق کے طور پر گٹکا کھانے لگتے ہیں اور۲۰-۲۵ سال کی عمر تک پہونچتے پہونچتے اپنی زندگی کو سنگین مصیبت میں ڈال دیتے ہیں ۔ گٹکے کے عادی نوجوانوں کے منہ کی کھال سخت ہوتی ہے۔ اور آخر کار وہ کینسر کے مرض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔ جب کہ تحقیق بتاتی ہے کہ 90 فیصد لوگوں نے نشے کا آغاز چرس سے کیا ہوتا ہے۔ شراب اور چرس کے استعمال کے ایک جیسے نقصانات ہوتے ہیں اور یہ دونوں انسانی دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔

    21 سال سے 30 سال کی عمر میں نوجوان جب چرس کا نشہ کرتے ہیں تو ان میں سیکھنے اور مسائل کے حل کی صلاحیت نہ صرف ختم ہوجاتی ہے بلکہ اسے دوسرے جسمانی امراض میں مبتلا کردیتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عمر کا یہی حصہ سیکھنے کے عمل میں زیادہ اہم ہے۔ نشے کا آغاز عام طور پر تفریحاً کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے دوست و احباب نشے کی دعوت دیتے ہیں یا کسی کی دیکھا دیکھی یا چوری چھپے انسان اس غلط عادت کو اختیار کرلیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے، مستقل نشہ کرنے کی صورت میں نشہ کرنے والوں کا جسم تیزی سے نشے کی مقدار کو ضائع کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے اس طرح نشہ کرنے والے مجبوراً اس کی مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں ۔ اس طرح مختلف نشے کرنے والوں کی زندگی کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں اور نشے باز کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیتے ہیں ۔

    ہمارے شہر اورنگ آباد میں بھی نشہ کی لت کا شکار کافی زیادہ تعداد میں نوجوان اور ۰۱? سال کی عمر کے بچے بھی پکڑے گئے ہیں۔ یہ بچے مسجدوں کے باہر اور دکانوں پر بھیک مانگ کر یا گھر کا کچھ بھی سامان بھنگار وغیرہ میں بیچ کر اپنی نشہ کی پیاس بجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ شراب نوشی کے علاوہ جس کی سب سے زیادہ لت کا شکار ا?جکل نوجوان ہے وہ پٹرول کا نشہ، StickFastکانشہ، Whitnerکا نشہ، Wicksسے نشہ، اور میڈیکل پر ملنے والی مختلف ادویات کو نشہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ نشے کی خاطر غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں تک میں ملوث ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں والدین رونے دھونے، چیخنے چلانے، دھاڑنے،  لعنت ملامت، زور زبردستی، تنقید، منت و سماجت، دھمکیوں ، دھونس، آنسو، وعظ و نصیحت جیسے تمام حربے استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نشے کا مریض نشے کے زیر اثر ہوتا ہے، اسے اپنے ارد گرد کے حالات کا شعور نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ہر دو ماہ تین ماہ میں جلسہ اصلاح معاشرہ کے نام سے مختلف تنظیموں کی جانب پروگرام کرائے جاتے ہیں وعظ ونصیحت کرتے ہیں ۔ ۔ مگر پھر نتیجہ جوں کا توں ۔ ۔ ۔

    ایسے حالات میں عموماً والدین خود ہی یہ تصور کرلیتے ہیں کہ وہ اولاد کو جنم دے کر کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں ۔ بعض والدین بدنامی کے ڈر سے کسی کا تعاون بھی حاصل نہیں کرتے۔ لوگ بھی والدین سے اتفاق کرنے کے بجائے بچوں کی خراب تربیت کا قصور وار قرار دے کر انھیں گہرے احساس گناہ میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ ایک ہی ماں باپ کے زیر سایہ تربیت پانے والے ایک یا دو بچے نشے میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جب کہ باقی بچے نہ صرف اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ فرمانبرداری میں بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، یقیناً اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا۔

    عام طور پر یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ بچے وہ ہی بگڑتے ہیں جو احساس محرومی، عدم توجہی اور زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ۔ آپ کو بگڑے ہوئے بچے متوسط طبقے سے لے کر اعلیٰ طبقات ان پڑھ سے لے کر پڑھے لکھے سخت گیر گھرانوں سے لے کر نرم خو گھرانے تک دینی لا دینی، اکلوتے بہن بھائیوں والے سب ہی طرح کے لوگوں میں ملیں گے۔ ایسے لوگ جن کے بچے نشے کی لت کا شکار ہیں وہ نشے کی وجوہات کو جاننے پر اپنی توانیاں صرف کرنے کے بجائے اس بات پر سوچ بچار کریں کہ نشے کی لت سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔

    نشے کی عادت سے چھٹکارہ پانے کے لئے گھر والے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں ڈاکٹرس کو بتاتے ہیں حکیموں سے علاج کرواتے ہیں ۔ مولانا حضرات سے اس تعلق سے مشورہ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ دنوں بعد والدین ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ کیونکہ مریض چوری چھپے اپنی پھر وہی پچھلی عادات پر واپس آجاتا ہے۔

    میرا یہ ماننا ہے کہ مریض کو اس خود فریبی کے جال سے نکالا جائے اگر مریض خود اپنی قوت ارادی اور فیصلہ کرنے کی طاقت سے خود فریبی سے نکلنے کا فیصلہ کرلے تو 100 فیصد وہ نشے سے نجات حاصل کرسکتا ہے بعض نشے باز نشے کی مقدار کنٹرول یعنی کم سے کم کرنے کی کوشش کے ذریعے نشے سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طرح سے علاج محض چور سپاہی کا کھیل ہوتا ہے ایسا کرنے سے علاج مکمل طور پر ختم نہیں ہوپاتا۔

     منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کیلئے نوجوانوں کو تیار کرنا ہوگا کیونکہ نوجوان قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور زیادہ تر نوجوان ہی اس کا شکار ہوتے ہیں ۔ شہر کی ہر مسجدمیں جمعہ کے خطبوں میں خطیبوں اور اماموں کو چاہئے کہ وہ نشہ کے عنوان سے اپنے تاثرات رکھے۔ اس جانب تمام اصلاحی کام کرنے والی تنظیموں کے علاوہ امارت شرعیہ کو بھی اس جانب زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی ایکدم نہیں آتی بلکہ کوشش کرنے سے معاشرے میں آہستہ آہستہ سدھار لایا جا سکتا ہے۔ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک اوروجہ ہمارے معاشرتی روئیے بھی ہیں ہمیں چاہئے کہ ایسے افراد جو نشے کے عادی ہو چکے ہوں انہیں نتقید کا نشانہ بنانے کے بجائے انہیں درست سمت کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ نشے کے عادی افراد کے ساتھ بیٹھ کر خود بھی نشہ کے عادی بننے کے بجائے انہیں بھی نشے سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر فرد کو اس لت سے دور کیا جائے تو اس سے نہ صرف ایک گھر کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ یہ ایک صدقہ جاریہ بھی ہے۔ والدین کو چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کیساتھ دوستانہ ماحول پیدا کریں اور انکی ہر سرگرمی پر نظر رکھیں کسی نے کیا خوب کہا ہیکہ علاج سے احتیاط بہتر ہوتا ہے۔ نشے کی لت سے خود بھی بچیں اور اپنے معاشرے کو بھی اس سے بچا کر ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں ۔ کیونکہ نشے سے انکار ہی درحقیقت زندگی سے پیار ہے۔

    بولا چالا معاف کرا۔ ۔ ۔ ۔ پھر ملاقات ہوگی۔ ۔ ۔ زندگی باقی تو بات باقی۔ ۔ ۔ ۔ اللہ حافظ

  • کیا شبلی کالج کے منتظمین اور طلباء مسلمانوں کے تعلق سے سنجیدہ ہیں؟

    ذاکر حسین

    مکرمی !

    گزشتہ دنوں بڑے شور شرابے کے بعدشبلی کالج کے طلباء یونین کے انتخابات اختتام پذیر ہوئے۔ یونین کے صدر کے عہدے کیلئے قمر کمال نے جیت درج کی۔ ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان سے خاکسار کی مودئبانہ گذارش ہیکہ ایک سال کے عرصہ میں کالج میں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں جو مسلمانوں اور علامہ شبلی نعمانی کی ترجمانی کرنے والا ہو۔ اس کے علاوہ راقمِ سطور کالج کے منتظمین حضرات سے بھی درخواست کرتا ہے کہ شبلی کالج میں تعلیم کا بہتر نظم اور کالج میں زیرِ تعلیم طلباء کی اچھے سے ذہن سازی کریں، تاکہ مستقبل میں وہ قوم کے لئے بہتر طریقے سے کام کرسکیں۔

    آج مسلمانوں کی حالات نہایت ناگفتہ بہ ہیں اور قوم کو پسماندگی کے دلدل سے نکالنے کیلئے ہم سب کو مل کر کوشش اور جد جہد کرنی ہوگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس کانگریس کی سینئر لیڈر اور دہلی کی سابق وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کی اعظم گڑھ آمد پر اعظم گڑھ شبلی کالج کے منتظمین نے جس طرح سے خیر مقدم کیااس سے ہماری سطحی اور احساسِ کمتری کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کہ بات کے سلسلے کوآگے بڑھایاجائے ماضی کے اوراق میں اعظم گڑھ سے وابستہ شرمناک داستان کا بھی آموختہ پڑھ  لیتے ہیں۔

    اعظم گڑھ آمد پر راہل گاندھی سے شبلی کالج کی چند مسلم طالبات نے قوم اور اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہوئے ہاتھ ملایاتھا۔نقاب پوش طالبات کا راہل گاندھی سے ہاتھ ملانے والا شرمناک نظارہ میڈیا کے لوگوں نے اپنے کیمرے میں قید کر لیا۔ دوسرے دن وہی ہوا جو عام طور سے میڈیا مسلمانوں کے ساتھ کررہاہے۔ راہل گاندھی سے شبلی کالج طالبات کاہاتھ ملانے والی تصویر ہندی روزنامہ ہندوستان نے پہلے صفحہ پر شائع کر کے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔جن لوگوں نے شیلا دیکشت کے استقبال میں قابلِ ذکر رول ادا کیاان سے خاکسار کا ایک سوال ہیکہ کہ اگر بٹلہ ہائوس انکائونٹرمیں مارے گئے عاطف اور ساجد آپ جگر کے ٹکڑے ہوتے تو کیاآپ لوگ شیلا دیکشت کے استقبال میں وہی رویہ اختیار کرتے جیسا شرمناک رویہ آپ نے اپنایا۔سب کو پتہ ہے بٹلہ ہائوس انکائونٹرمیں کانگریس اورشیلا دیکشت نے کیسا مذموم کردار ادا کیا تھا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شیلا دیکشت کی آمد پر بٹلہ ہائوس انکائونٹر معاملے پر شیلا دیکشت خیر مقدم گروپ شیلا دیکشت سے باز پرس کرتا اور ان محترمہ شیلاسے ابھی تک بٹلہ ہائو س انکائونٹر کی جوڈیشیل انکوائری نہ ہونے کی وجہ پوچھتے۔

     سب کو علم ہیکہ کانگریس نے بٹلہ ہائوس انکائونٹر کی جوڈیشیل انکوائری نہ کرواکے کانگریس نے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو شعلوں میں جھلسانے کا کام کیابلکہ کانگریس نے آئین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔آئین کی مجوعی کرمنل پروسیجر کوڈ (ضابطہ ء مجموعہ فوجداری)کی دفعہ ۱۷۶کے تحت پولس تصادم کی کسی بھی وارادت کی مجسٹریٹ جانچ کروانا لازمی ہے۔ ہمارا آئین کی اسی دفعہ کے تحت بٹلہ ہائوس انکوائونٹر کی جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ ہے۔

     اس کے علاوہ شبلی کالج کے منتظمین کو کانگریس کے ذریعہ آرٹیکل ۳۴۱پر لگائی گئی مذہبی پابندی کے معاملے میں شیلا دیکشت کوگھیرتے۔ واضح ہوکہ ملک کے پہلے وزیر اعظم اور کانگریس سربراہ جواہر لعل نہرو نے آرٹیکل ۳۴۱ پرمذہبی پابندی لگاتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ جو ہندو اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان بن گئے ہیں اگر وہ دوبارہ ہندو مذہب میں داخل ہو جائیں توانہیں ریزرویشن ملے گا۔اگر مسلمانوں ہندو نہیں بنتے ہیں تو انہیں ریزرویشن نہیں ملے گا۔ گویاسابق وزیر اعظم مسلمانوں کومرتد بنانے کی یہ ایک ناکام کوشش تھی۔

    شیلا دیکشت کا خیر مقدم کرنے والوں کو شیلا دیکشت سے یہ بھی پوچھنا چاہئے تھا کہ ۱۹۶۴میں جب گجرات میں مسلم کش فساد ہوا اس وقت مرکز اور ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی لیکن کانگریس مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی نتیجے کے طور پر پانچ ہزار مسلمان شر پسندوں کے ہاتھوں کیوں اپنی جان کھو بیٹھے ؟پھر گجرات میں ہی ۱۹۸۵ میں مسلم کش فساد ہواپھر سے کانگریس کی مرکزاور ریاست میں حکومت۔ لیکن مسلمان کا لہواور مسلمانوں عورتوں کی عصمتیں شدت پسندوں کے ہاتھوں کیوں نیلام ہوتی رہیں ؟

  • سنگھ پریوار میں درار اور توگڑیا کا ڈرامہ 

    فیصل فاروق

    دوستو!

    اشتعال انگیز لیڈر کے طور پر اپنی شناخت بنانے والے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے جنرل سیکریٹری پروین توگڑیا کا میڈیا کے سامنے یہ اعلان کرنا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور ان کا انکاؤنٹر بھی ہو سکتا ہے، حیران کن ہے۔ توگڑیا کے اس اندیشے سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ کیا کسی کے دباؤ میں آکر توگڑیا نے یہ بیان دیا؟ کیا اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے توگڑیا کا یہ ایک منصوبہ بند ڈرامہ ہے؟ یا پھر واقعی میں ان کی جان کو خطرہ ہے؟

    ایک وقت تھا جب پروین توگڑیا اور مودی کی دوستی کا خوب چرچہ تھا۔ دونوں کے خیالات یکساں تھے۔ دونوں ایک اسکوٹر پر سوار ہو کر سنگھ کے کارسیوکوں سے ملاقات کرنے جایا کرتے تھے۔ دونوں ساتھ ساتھ سنگھ کی سبھاؤں میں حصہ لیتے تھے۔ ایک آر ایس ایس تو دوسرا وی ایچ پی میں تھا لیکن دونوں کے قدم ایک ہی سمت میں اٹھتے تھے۔ مودی پہلے گجرات کے وزیر اعلی پھر ملک کے وزیر وزیراعظم بن گئے اور توگڑیا ترقی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گئے۔

    اقتدار دونوں کی دوستی کے درمیان آ گیا اور رفتہ رفتہ دونوں کی مضبوط دوستی، دشمنی میں تبدیل ہو گئی۔ ہر عروج کو زوال ہے کہ کل تک جس شعلہ بیان لیڈر کو زیڈ پلس سیکوریٹی دی گئی تھی وہی آج اپنی موت کے خوف کے ساۓ میں انتہائی بےبس، لاچار اور مجبور ہے۔

    دراصل، دس سال پرانے ایک سنسنی خیز معاملے میں توگڑیا کو پہلے تو حیرت انگیز طریقے سے غائب بتایا گیا، پھر اسی شام احمد آباد کے شاہی باغ علاقہ میں واقع پارک میں بیہوشی کی حالت میں ملنے پر انہیں ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔ حالانکہ پولیس نے اس پورے واقعہ کو گرفتاری سے بچنے کے لئے ہائی پروفائل ڈرامہ قرار دیا ہے۔ کافی حد تک پولیس کی بات میں سچائی معلوم ہوتی ہے۔

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف یہ سوال بھی اٹھنے لازمی ہیں کہ کیا وہ اپنے مخالفین کو راستہ سے ہٹانے کے لئے قتل کرانے میں یقین رکھتی ہیں؟ اگرچہ آپس میں کچھ نظریاتی اختلافات ہوں، پھر بھی ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کو ایک اعلی سطحی تحقیقات کا حکم دینا چاہئے۔

  •  نتن یاہو کا دورۂ ہند اور اقدار وروایات کی پامالی

    محمد سالم قاسمی سریانوی

    دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد؛ بل کہ بابائے دہشت گرد ’’بنیامین نتن یاہو‘‘ اس وقت ہمارے ملک عزیز کے ۶/ یومیہ دورہ پر ہے، جو کہ انتہائی ذلت آمیز اور اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کا خون ہے،اور یہ ہمیں کسی بھی طریقہ سے منظور نہیں ہے، یہ چیز یہاں کی جمہوریت اور قدیم روایات واقدار کے خلاف ہے، ہمارا ملک ہمیشہ سے مظلوم وبے قصور فلسطینیوں کے ساتھ رہا ہے اور ہر موقع پر انھیں کی حمایت کی ہے۔

     اسرائیل؛ جو کہ ایک ظالم وغاصب حکومت ہے، جس نے غصب کرکے فلسطین کے ایک بڑے حصہ کو اپنے قبضہ ودخل میں کرلیا، اب اس کا موجودہ سربراہ؛ جو بلاشبہ اور حقیقی معنوں میں اِس وقت دنیا کا سب سے برا دہشت گرد؛ بل کہ بابائے دہشت گرد ہے ( قطع نظر نام نہاد اور لفظی ’’دہشت گردی‘‘ کے جس کا واسطہ براہ راست مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے)  اس ظالم وبابائے دہشت گرد ’’یاہو‘‘ کی قیادت میں موجودہ اسرائیلی حکومت نے جو ظلم وستم ، سفاکیت وبربریت، خون ریزی وقتل غاری مظلوم وبے قصور فلسطینی مسلمانوں پر کی ہے کہ اس کا احاطہ وشمار ناممکن ہے، جس کے تصور سے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور اس کا بدن اس کی کرب ناکی وہولناکی سے بے چین ہو جائے- جب کہ ان لا تعداد مظالم کی حقیقت کا صحیح علم اللہ ہی پاس ہے-یہ ان تعداد واخبار پر مبنی ہے جو انھیں کے ذرائع ابلاغ بہم پہنچاتے ہیں۔

     ابھی ماضی قریب میں ہوئے غزہ پٹی پر حملوں اور وہاں کی ناکہ بندی سے کون ناواقف ہے، اسی طرح ۲۰۰۴ء میں ہوئے ان پر مظالم کی داستان اتنی طویل ہے کہ اس پر ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے، ۲۰۰۴ء کے ایک اعداد و شمار کے مطابق غزہ پٹی پر حملوں میں دو ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے تھے، جب کہ گیارہ ہزار زخمی ہوئے تھے، اس کے علاوہ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں پینسٹھ ہزار (۶۵۰۰۰) افراد شش وپنج کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

     اب ایسی کرب ناک ودہشت ناک صورت حال میں ’’یاہو‘‘ کا دورۂ ہند کیسے ہضم ہوسکتا ہے! ہم کیسے اس کڑوے گھونٹ کو پی سکتے ہیں !  ہمارے ملک کے اس ظالم وغاصب ملک کے ساتھ بڑھتے تعلقات نہ صرف مسلمانوں کے لیے؛ بل کہ پوری دنیائے انسانیت کے لیے باعث شرم وننگ وعار ہیں ، ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں کہ ایسے دہشت گرد وزیرکو جلد از جلد ہمارے ملک سے واپس بھیجا جائے اور مسلمانوں سمیت پورے انسانیت کی بہی خواہی کی جائے، اور ہماری پرانی روایات واقدار کو باقی رکھا جائے، جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔

      یہ بات قابل تعجب ہے کہ اسرائیل-ہند تعلقات خاص طور سے بی جے پی ہی کے دور اقتدار میں فزوں تر ہوئے ہیں ، جو کہ اپنے ورے بہت کچھ حقائق رکھتے ہیں ، جہاں ایک طرف ’’یاہو‘‘ ’’قاتل مسلماں ‘‘ ہیں تو وہیں دوسری طرف برسر اقتدار وزیر بھی ’’قاتل مسلماں ‘‘کا لقب پاچکے ہیں ، اس معنی کے اعتبار سے دونوں میں کافی یکسانیت اور یگانگت پائی جاتی ہے، جو کہ ہر باضمیر وباشعور انسان کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

Close