مراسلات

ایم جے اکبر کو ایک صحافی کا خط

عبدالعزیز

 شری ایم جے اکبر ایم پی

 آداب!

 ’طلاق بل‘ پر لوک سبھا میں آپ کی تقریر سن کر بیحد تکلیف ہوئی کہ آپ اپنے بھاجپائی دوستوں کو خوش کرنے کیلئے ہندستانی مسلمانوں پر نشانہ سادھا کہ 1947ء سے پہلے یہ نعرہ بلند کیا کہ اسلام خطرہ میں ہے اور ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اسی نعرہ کو پھر بلند کرکے سوسائٹی اور انسانیت کو تقسیم کر رہے ہیں۔

 میرے بھائی ! اسلام کبھی خطرہ میں نہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔ اسلام کا دوسرا نام حق ہے۔ حق کو کبھی خطرہ لاحق نہیں ہوتا ہے اور نہ حق ناکا م ہوتا ہے ناکام وہ دنیا ہوتی ہے جو حق ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔ مسلمانوں نے پہلے بھی نہ یہ نعرہ بلند کیا تھا اورنہ آج بلند کر رہے ہیں۔ یہ آپ جیسے لوگوں کا سیاسی نعرہ ہے جو مسلمانوں کو چڑانے کیلئے کرتے ہیں اور اپنے زعفرانی دوستوں کو خوش کرنے کیلئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جب پارلیمنٹ سے باہر آرہے تھے۔ آپ کے دوستوں نے تالیوں سے آپ کا خیر مقدم کیا۔ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بولنے پر بدھائی دی۔ ملک کو جن لوگوں نے تقسیم کیا۔ اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ آپ کے ویر ساورکر نے سب سے پہلے دو قومی نظریہ (Two Nation Theory) کی بات کی تھی جسے بعد میں محمد علی جناح یا ان کی پارٹی نے اپنایا وہ سب پاکستانی ہوگئے ہیں۔ ہندستانی مسلمانوں نے اسی ملک میں جینے اور مرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی خاکِ وطن میں وہ مرکر دفن ہوں گے۔ یہ ان کا اپنا ملک ہے یہ کسی ایک فرقہ یا مذہب کی جاگیر نہیں ہے۔

 آپ کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کیلئے اس وقت ہندستان میں کون خطرہ ہے اور کون سی جماعت بھاجپا کی مدر تنظیم (Mother Body) ہے وہ کس مقصد کیلئے بنی ہے اور وہ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد آپ کسی اور کتاب کو پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی پرانی کتاب Riot ofter Riot  کھول کر پڑھ لیجئے۔

 اگر آپ کو اپنی کتاب پڑھنے میں دقت ہے تو گولوالکر کی کتاب "Bench of Thought” پڑھنے کی زحمت گوارا کریں۔

  سابق آئی جی مہاراشٹر پولس مسٹر ایس ایم مشرف (S.M.Mushrif) کی کتاب ’’آر ایس ایس ہندستان کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم‘‘ کا مطالعہ فرمالیں۔ آپ کو اچھی طرح سے معلوم ہوجائے گا کہ مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کی کیا دہشت گردی ہے؟

 مشہورمارکسی تاریخ داں عرفان حبیب نے پرمود بھون کلکتہ میں 28دسمبر کو آر ایس ایس کے فلسفہ اور نازی جرمنی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا:

          "Nazi Germany made people belive Jews are the root of all evil. BJP-RSS say the same for Muslim.” (The Times of India. 29 December 2017)

 شری نریندر مودی کی حکومت کو ساڑھے تین سال سے زیادہ ہوگئے۔ اس دوران اخلاق سے لے کر افروزل تک جو مسلمان دہشت گردانہ حملے سے قتل ہوئے ہیں ان کی تعداد 40سے تجاوز کرتی ہے اور میڈیا میں جو رپورٹ نہیں ہوئی وہ شاید اس سے کم نہیں ہوگی۔

 در اصل آپ کی پارٹی کو اسلام اور مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ آپ جیسے زعفرانیوں کا نعرہ ہے ’’اسلام اور مسلمان باطل پرستوں کیلئے خطرہ ہیں‘‘۔ یہی تو وجہ ہے کہ اسلامی شناخت مٹانے کی کوشش ہورہی ہے اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا منصوبہ ہے۔ ہر شیطان اور ہر زمانے کے شیطان ہمیشہ یہی کہتا رہا اور کہتا ہے  ؎

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ ہُو

ہے مجھ کو خطرہ کوئی تو اس امت سے ہے

جن کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close