مراسلات

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

شہاب مرزا

ملک کے حالات کتنی تیزی سے بدل رہے ہیں اس کا اندازہ ججوں میں پائی جارہی بے چینی سے لگایا جاسکتا ہے یہ بے چینی پہلے عام ہندوستانی سے شروع ہوئی پھر صحافی، فلم کار، ادیب تاجر اور اب ملک کی سب سے بڑی عدالت ’’سپریم کورٹ‘‘ کے ججس تک پہنچ چکی ہے جس نے ملک کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ یہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے جب کسی عدالت کے ججس کو پریس کانفرنس کرکے کہا کہ عدالت ہال میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔

وزیراعظم جس اچھے دن کی بات کرتے تھے شائد اس سے اچھے دن ہندوستان نے نہیں دیکھے جب عدالتوں کا وقار دائو پر لگا اس حکومت کے دور اقتدار میں صحافیوں اور ادبی خیمے سے ایوارڈ واپسی کی شروعات ہوئی تھی شائد آج ہر شخص اس تانا شاہی سے خود کو بے چینی محسوس کررہا ہے اور کرنا بھی چاہئے جس ملک کا حکمراں قاتل اور اسی پارٹی کا صدر تڑی پار ہو تو پریشانی سب کو ہونی ہے جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہو وہی آج ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔  ان چاروں ججوں نے دیر کردی مگر سچائی بیان کردی جسٹس چلیمشور نے پریس کانفرنس میں کہا’’عدلیہ اور قوم کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ان حالات سے عوام کو واقف کروائیں ایسا نہ ہو کہ اگلے ۲۰؍ سال بعد ملک کے شہری یہ کہے کہ ہم نے اپنا ضمیر بیچ دیا تھا۔اور کہا موجودہ چیف جسٹس کی جانب سے اہم مقدمات جو راست طور پر ملک اور قوم سے تعلق رکھتے ہیں منتخب خصوصی بنچوں کے سپرد کئے جارہے ہیں اور اکثر مقدمات کی سماعت خود چیف جسٹس کررہے ہیں ان میں ممبئی ہائی کورٹ کے جج جسٹس لوئیا کی مشتبہ موت کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ جو سہراب الدین فرضی انکائونٹر معاملے کی سماعت کررہے تھے اور سہراب الدین فرضی انکائونٹر میں قابض پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ ملزم ہے۔ او رملک کی سب سے بڑی عدالت کے سینئر ترین ججس کی جانب سے کہا جائے کہ جمہوریت خطرے میں ہے تو اس سے اندازہ لگانا کوئی دشوار نہیں ہے کہ ملک میں ایک مخصوص نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے عدالتیں بھی محفوظ نہیں ہے۔

حالیہ دنوں میں راجستھان کے ادے پور ہائیکورٹ پر قاتل شمبھو ریگر کے حامیوں نے بھگوا جھنڈا لگایا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ اب عدلیہ کو بھی اپنے باپ کی جاگیر سمجھنا شروع ہوگیا ہے۔ عدالتیں تنقیدوں سے آزاد ہوتی ہے۔ اور عدالتوں کا فیصلہ ماننا ہر ہندوستانی شہری کے لئے لازم ہے۔ انصاف نا ملنے کی صورت میں اعلی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے مگر دیگر کوئی ادارے سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت جمہوریت کا ایک ستون ہے اور خود مختار ادارہ ہے۔ اس لئے ملک کی عوام کا اس پر بھرپور اعتماد بھی ہوتا ہے۔ اور اسی ادارے سے ایسی باتیں سامنے آئے تو پھر عدالتوں کے فیصلے کا خیر مقدم کون کرے گا اور عدالتوں کا کون جائے گا۔ چاروں ججس نے الزام عائد کیاہے کہ ہر معاملے میں چیف جسٹس کی مداخلت بڑھ گئی ہے اور وہ مخصوص بنچوں کو ہی مقدمات سپرد کررہے ہیں جس کے اثرات سیدھے ملک وہ قوم پر پڑھنے والے ہیں۔  ان چاروں ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد دلال میڈیا نے ان پر تنقید کی کئی اور انہیں کٹہرے میں کھڑے کردیا اور ۲۰؍ ججس بھی ہے سپریم کورٹ میں انہوں نے پریس کانفرنس کیو ں نہیں کی۔

سپریم کورٹ کے چاروں فاضل واعلیٰ جسٹس چیلمیشور، جسٹس رنجن گو گوئی،جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزوف جو خود میڈیا کے سامنے پیش ہوئے وہیں دلال میڈیا کے الزامات کا شکار ہوئے۔ آج تک مسلمان دلت مدرسے کالجس مساجد فتوے سبھی کے خلاف زہر اگل چکے ہیں مگر آج ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کے ججس پر سوالات اٹھانا انتہائی شرمناک ہے اور آج نیوز اینکر خود ہی ججس بنے بیٹھے ہے جو معاملے کی تہ تک نہ جاکر خود ہی سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کررہے ہیں رویش کمار ونوددما اور دیگر چند صحافیوں کو چھوڑ کر باقی سبھی حکومت کی گود میں بیٹھے ہے اور حکومت کے اشاروں پر کام کررہے ہیں یہ ہندوستانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ جب عدالت عظمی کے ججس میں بے چینی کی کیفیت ہے اور انھیں عوام کے سامنے انصاف کی گہار لگانی پڑی۔ آخر کیا ہورہا ہے معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے؟

اب جبکہ صورتحال سنگین ہوچکی ہے جمہوریت پر خطرہ منڈلارہا ہے۔ سبھی دانشوروں صحافیوں ڈاکٹروں وکیلوں علمائوں مفلروں اور حکمراں طبقے کے منصف مزاج افراد کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ کیونکہ  یہ صورتحال ملک میں انصاف وآزادی پر ضرب کاری ہے۔ ایک اضطراب کی کیفیت سے ملک کا ہر شعبہ متاثر ہوچکا ہے لیکن اس اضطرابی کیفیت سے نجات ضروری ہے اور اس صورتحال کا تدارک ضروری ہے کیونکہ ہم جیسا عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اب ہمیں انصاف کب اور کہاں ملے گا جو انصاف کرنے والے تھے وہ خود ہم سے انصاف مانگ رہی ہے اور اگر اور سپریم کورٹ کے ججس پر شک کیا جائے تو ابھی حالیہ میں ہی جسٹس کورین جوزف نے طلاق ثلاثہ پر فیصلہ سنایا تھا۔ اور عوام سمجھیں گی کہ مخصوص سوچ کے ججس نے مخصوص فیصلہ سنایا ہوگا۔اور آگے بھی بابری مسجد اور رام جنم بھومی پر فیصلہ آنا باقی ہے تو پھر مسلمان کس طرح یقین کریں گے فیصلہ غیر جانبدار رہے گا۔اس مناسبت سے ڈاکٹر راحت اندوری نے خوب کہا ہے۔

انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا

یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close