مراسلات

عظیم جمہوری ملک ایک ڈکٹیٹر کی مہمان نوازی میں

محمد فراز احمد

عظیم جمہوری ملک ہندوستان غیر محسوس طریقے سے آج روسوائی کا شکار ہے ، ہندوستان اس شخص کی مہمان نوازی میں مصروف ہے جس نے جمہوریت کی دھجیاں اڑاکر رکھ دی ، جس نے غداری کا ثبوت دیتے ہوئے ملک کے ایک عظیم اور مخلص لیڈر کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ذمہ داری سے غیر قانونی طریقہ سے معزول کردیا، 

پورا مراسلہ پڑھیں

نہ صرف یہ بلکہ صدر کے ساتھ ساتھ کئی ہزار افراد کو قید خانوں میں بند کردیا گیا ، ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنی گدی کو سنبھالے ہوئے ظالم آج جب معاشی کمزوری کا شکار ہیں تو ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کی جانب مدد کے منتظر ہوئے اور افسوس بھی اس بات کا ہیکہ ہندوستان نے بھی اسکا دونوں ہاتھوں سے استقبال کیا اور لفظ "جمہوریت” کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے شرمی و بے حسی کا ثبوت دیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملک کا باشعور طبقہ جس میں انسانی ہمدردی باقی ہو وہ سامنے آتا اور عبدالفتاح سیسی کی آمد کے خلاف احتجاج کرتا اور اپنے ضمیر کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کرتا، لیکن کسی نے بھی ان نہتے اور مظلوم مصری عوام کا درد محسوس نہیں کیا اور احتجاج کے لئے سامنے نہیں آئے ، گزشتہ سال بھی جب سیسی نے اپنا دورہ ہندوستان منسوخ کر دیا تھا اس وقت بھی چند ایک ملی تنظیم کے کسی نے بھی اس ظالم ڈکٹیٹر کی آمد کے خلاف احتجاج نہیں کیا، یہ بات کوئی معمولی نہیں کہ کوئی آیا اور چلا گیا ، ہم اس خاموشی کو کیا سمجھیں؟ اس ملک میں جہاں اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے اور کسی خاص ذہنیت کو ملک پر نافذ کرنے کی بات آتی ہے تو ذرائع ابلاغ بالترتیب تعزیتی و مذمتی کلمات سے بھرا ہوتا ہے پھر کیوں اس وقت اتنا سناٹا ہے ؟ کیا ملک ہندوستان بھی ڈکٹیٹروں کی تائید میں ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقینا”ملک کی جمہوری ساخت شرمسار ہوئی ہے ۔ ہندوستان کو اس بات پر غور کرنا ہوگا اور اپنے مہمان خانوں کو ایسے ڈکٹیٹروں کے لئے بند کرنا ہوگا۔
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد فرازاحمد

محمد فراز احمد رکن ایس آئی او ،نظام آباد. سابق مدیر اعلیٰ ماہنامہ رسالہ "التوحید".

متعلقہ

Close