مسلمانوں کی پسماندگی اور ہم سب 

ذاکر حسین

مکرمی !

آج ملک کے مسلمانوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے اور جگ جگہ مسلمانوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ یہ حقیقت ہیکہ مسلمانوں کی بد حالی کی وجہ مسلمانوں کی تعلیم سے بے رغبتی ہے۔ آج مسلم نوجوانوں اور مسلم لڑکیوں کی تعلیم سے بے رغبتی تشویش اور فکر کا موضوع ہے۔ آج ہمیں مسلم نوجوان ہر نکڑ اور پان فروش کے پاس بیٹھے موبائل میں مصروف نظر آئیں گے اور حد تو یہ ہیکہ موبائل کے استعمال کا یہ سلسلہ نوجوانوں سے نو عمر بچوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاتا ہے اورمسلم انہیں دہشت گرد بتا کر پولس انکائونٹر کرتی ہے اور ہم موبائل میں اور اپنی عیش کی دنیا میں بد مست رہتے ہیں۔

افسوس تو اس بات کا ہیکہ آہستہ آہستہ اور خاموش طریقے سے ہمارے اندر سے قوم کے لئے قربانی، انسانیت سے محبت اور قوم کوبلندی پر پہنچانے جیسے جذبات رخصت ہو رہے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہے۔ قوم کے بچے کتابوں کے بجائے اپنا وقت موبائل اسکرین پر ضائع کرتے ہیں تواس کی ذمے داری بچوں کے والدین پر عائد ہوتی ہے والدین کو چاہئے کہ موبائل کے نقصانات سے بچوں کو آگا ہ کریں اور انہیں موبائل سے صرف دور نہیں بلکہ بہت دور رکھا جائے۔

جب کبھی دہشت گردی کے الزام میں کسی مسلم نوجوان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس وقت قوم کے رہنما کسی مسلم وکیل کو مقدمات کی پیروی کے لئے ڈھونڈھتے ہیں تو انہیں قوم کی تعلیمی پسماندگی پر آنسو بہانے پڑتے ہیں کیونکہ انہیں جلدی کوئی معیاری مسلم وکیل نہیں ملتا۔مستقبل میں مسلم قوم میں تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہونے کے خدشات اس لئے ہیں کہ مسلم قوم کے بچے موبائل کو اپنی زندگی کا ضروری جز بنا چکے ہیں۔ قوم کے نوجوان طالب علمی کے زمانے میں موبائل میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جب ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے تو آنکھوں میں بڑے آدمی بننے کا خواب سجائے باہری ملکوں کی راہ پکڑتے ہیں یہ ان کی عظیم ترین حماقت ہوتی ہے۔

محترم جب آپ نے زندگی بھر کتابوں سے دوری بنائے رکھی اور ہر وقت موبائل فون پر مصروف رہے تو اب کیسے ایک اچھی اور خوشحال زندگی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب ضرورت ہیکہ قوم کے افراد قوم کو پسماندگی کے دلدل سے نکالنے کیلئے موبائل نہیں بلکہ کتاب کو اپنی مصروفیات میں شامل کریں۔ آج کل جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ کے گیارہویں اور ایل ایل بی سمیت دیگر کورسیز کے داخلہ امتحان فارم بھرے جا رہے ہیں۔ آپ کسی بھی طرح کے تعاون کیلئے  الفلاح فرنٹ کے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔



⋆ ذاکر حسین

ذاکر حسین
الفلاح فرنٹ (کنوینر: مشن بائیکاٹ مہم )

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

عارض خان عرف جنید: چند اہم سوالات

عارض خان عرف جنید کے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ی کے بعد ایک بار پھر اعظم گڑھ اور ملک کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق گزشتہ روز عارض خان عرف جنید کو دہلی پولس کے اسپیشل سیل اور این آئی اے نے مشترکہ کوششوں کے بعد گرفتار کیا ہے۔ معاملے کو لیکربحث مباحثے کا دور جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے