مشن بائیکاٹ مہم: مسلمان کوامریکی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں

ذاکر حسین

(کنوینر مشن بائیکاٹ مہم)

مکرمی !

گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کئے جانے کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کو اس وقت کمی آئی، جب 128ممالک نے فلسطین کے حق میں ووٹ کیا۔بی بی سی کے امریکی وزارت خارجہ کے نامہ نگار کا کہنا ہیکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کااعلان ٹر مپ کا انتخابی وعدہ ہے۔ امریکہ کی ڈیلا وئیر یونیورسٹی میں مشر ق ِ وسطی کے امورکے ماہر ڈاکٹر مقتدر خان نے گزشتہ دنوں بی بی سی کے معروف پروگرام سیر بین میں ایک انٹر ویو دیتے ہوئے کہاکہ امریکی خفیہ اداروں، انٹیلی جنس اور فوجی حکام کا کہنا ہیکہ امریکہ کے اس اقدام سے خطے میں تشدد کا بازار گرم ہو سکتا ہے۔

 ڈاکٹر مقتدر خان نے مزید کہاکہ اندازہ لگایا جا رہاہیکہ اس اعلان کا شدید ردِ عمل سامنے آئے گااور اس کے نتائج بڑے ہولناک ہو سکتے ہیں۔ مسٹر خان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ فلسطینی مسلمانوں کے علاوہ یروشلم سمیت اسرائیل میں بیس فیصد آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے۔ جس کے وجہ سے امریکہ کے اس قدام سے عرب بھی مشتعل ہو سکتاہے۔ ہمارا ماننا ہیکہ اس معاملے میں تمام مسلم ممالک اور مسلم رہنمائوں کومتحد ہو کر بیت المقدس کے تحفظ کی لڑائی لڑنی چاہئے اور عام مسلمانوں کو اسرائیل اور امریکہ کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تاکہ دونوں ممالک کو مسلمانوں کی وجہ سے جو معاشی قوت حاصل ہو رہی ہے، وہ نہ حاصل نہ ہواور ان کی مسلم ممالک اور مسلمانوں کے خلاف جاری سازشوں اور کاموں پر قدغن لگے۔

 واضح رہے کہ’ الفلاح فرنٹ ‘کے ذریعہ گزشتہ کچھ دنوں سے ’مشن بائیکاٹ مہم چلائی جا رہی ہے اور مہم کا مقصد اسرائیلی اور امریکہ کومعاشی اعتبار سے کمزور کرنااور فلسطینی مسلمانوں، مسجدِاقصیٰ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ‘ہماری تمام مسلمانوں سے اپیل ہیکہ وہ مشن بائیکاٹ مہم سے جڑیں اور مہم کے پیغام کوملک کے کونے کونے تک پہنچائیں اور امریکی، اسرائیلی مصنوعات بالخصوص کوکا کولا کا بائیکاٹ کریں۔ یہ حقیقت ہیکہ اسرائیل نہ صرف فلسطین بلکہ د یگر مسلم ممالک میں بھی تشدد کو ہوا دے رہاہے، اس کی سب سے بڑی مثال میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث بودھسٹ دہشت گردوں کواسرائیل کا ہتھیا ر فراہم کرنا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل بودھسٹ دہشت گردوں کو ہتھیار سپلائی کرتا ہے اور عالمی سطح پر جب اسرائیل کے اس اقدام پر اعتراض ظاہرکیا گیاتو اسرائیل نے بودھسٹ دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے خود کو روکنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ’ہم دہشت گردی کا درد جانتے ہیں ‘۔

اب مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہیکہ کیا ہمیں اسرائیلی مصنوعات کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال میں لانا چاہئے یا پھر ان کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے۔ مسلمانوں کو اسرائیل اور امریکی مصنوعات پر منحصر ہونے کے بجائے اپنی مصنوعات بازار میں لاناچاہئے اور ان مصنوعات کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی شامل کرنا چاہئے۔ کہا جاتا ہیکہ ’ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے‘اگرمسلمانوں نے امریکی اور اسرائیلی اشیاء کو مکمل بائیکاٹ کر دیاتوانہیں اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے نئی چیزوں کی ایجاد اور بازار میں اپنی مصنوعات لانے کی ضرورت محسوس ہوگی۔ مسلم بچوں کو سائنس، ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ّآنا چاہئے  اور دیگر مسلمان مارکیٹ میں اپنے پرڈکٹس لانے کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے۔

یہ حقیقت ہیکہ آج مسلمان اسرائیل اور امریکہ کی جو اشیاء خرید کر اسے پیسے دیتے ہیں وہ انہیں پیسوں کا استعمال مسلمانوں کے قتل ِ عام میں استعمال کرتے ہیں۔ اسلئے مسلمانوں نے گذارش ہیکہ آپ امریکی اور اسرائیلی مصنوعات (کوکا کولا، پیسی، میک ڈونانلڈ، کے ایف سی، انٹیل، ، نیسلے، لیز، کٹ کیٹ، لیوائز، پولو، موٹو رولا، گارنیئر، ڈِ س نیپ وغیر ہ )کا جہاں تک ممکن ہومسلمان ان کے استعمال سے پرہیز کریں اور کوکا کولا سمیت اسرائیل اور امریکی اشیاء کا استعمال کر کے روہنگیا، فلسطینی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے قتل میں شامل نہ ہوں۔

واضح رہے کہ اقوام ِ متحدہ بیت المقدس پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتااور اس کا ماننا ہیکہ یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے، جس پر اسرائیل قابض ہے۔ فلسطین سمیت پوری دنیا کے مسلمان کسی طر پربیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اب مسلمانوں سے سوال یہ ہیکہ کیاآپ اپنے فلسطینی مسلمانوں اور مسجدِ اقصی ٰکے تحفظ کیلئے ہم اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے۔



⋆ ذاکر حسین

ذاکر حسین

الفلاح فرنٹ (کنوینر: مشن بائیکاٹ مہم )

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

کیا شبلی کالج کے منتظمین اور طلباء مسلمانوں کے تعلق سے سنجیدہ ہیں؟

شیلا دیکشت کا خیر مقدم کرنے والوں کو شیلا دیکشت سے یہ بھی پوچھنا چاہئے تھا کہ ۱۹۶۴میں جب گجرات میں مسلم کش فساد ہوا اس وقت مرکز اور ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی لیکن کانگریس مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی نتیجے کے طور پر پانچ ہزار مسلمان شر پسندوں کے ہاتھوں کیوں اپنی جان کھو بیٹھے ؟پھر گجرات میں ہی ۱۹۸۵ میں مسلم کش فساد ہواپھر سے کانگریس کی مرکزاور ریاست میں حکومت۔ لیکن مسلمان کا لہواور مسلمانوں عورتوں کی عصمتیں شدت پسندوں کے ہاتھوں کیوں نیلام ہوتی رہیں ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے