مراسلات

پیسہ پھینکو ڈگری پاﺅ

محمد سعد 
مکرمی! 16 مارچ کو یو پی بورڈ کا امتحان شروع ہو چکا ہے ۔ ہائی اسکول میں کے طلبہ کل تعداد 3404715 اور انٹر میڈیٹ میں کل 2656319طلبہ امتحان دینے والے ہیں اور وہیں پر امتحان میں کسی طرح کی حرکت اور نقل سے پاک کرانے کے لیے امتحانی مرکز پر ایک لاکھ نگراں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ امتحان کسی طرح کی نقل نہ ہو سکے ۔

ابھی حالیہ دنوں خبر ملی ہے کہ امتحان میں فرضی ٹیچر پکڑے گئے ہیں وہیں پر کچھ ایسی جگہوں پر امتحان میں ایسی سختی کی جارہی کہ طلبہ امتحان میں بہت کڑا ئی کی وجہ سے امتحان میں دینے کو تیار نہیں خیر موضوع یہ نہیں ہے آج کا ٹاپک ہے وہ ہے ”پیسہ پھینکو ڈگری پاﺅ “۔ اسکول اور کالج میں ایک بھاری طلبہ کی تعداد ایسی ہے جو صرف نقل کے بھروسے(Confidingly )اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو صرف ان کا مقصد مار ک شیٹ حا صل کرنا ہے اور کچھ ایسے لوگ ہیں جو سال بھر میں صرف دوچار مرتبہ اسکول جاتے ہیں ، جب امتحان آنے والا ہو تا ہے تو ان کی چہل قدمی شروع ہو جاتی ہے ۔

اسکول میں ’انٹری کارڈ‘ کے لیے ادھر ادھر دوڑتے پھرتے تو کبھی مار ک شیٹ کے لیے، تو کبھی مارک شیٹ کے لیے حالانکہ وہ اسکول سال بھر میں دوچار دن جاتے ہیں ۔اب امتحان تو ایسا ہونے لگا ہے جیسے ”پیشہ پھینکو تماشہ دیکھو “ جب امتحان ہو تا ہے بہت سے اسکول والے نقل کے نام پر بھاری بھاری رقمیں ایسے طلبہ وصولی(Receipt )کرتے ہیں جو نہایت ہی غریب ہوتے ہیں اور امیر لوگوں کی تو بات ہی الگ ہے ،اگر ان سے نقل کرانے کے لیے امتحانی نقل کے پیشہ مانگ دیا جائے وہ فوراً تیار ہو جا تے ہیں دینے کے لیے اور غریب طلبہ کے ماں باپ کوادھر ادھر سے جٹا کر کے مجبوراً دینا پڑتا ہے ۔

اگر ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو دیکھا جا ئے تو لگ بھگ 30% ایسے ہیں جو نقل سے پاس ہوتے ہیں 20%یسے طلبہ ہیں جو نقل کے انتظار میں رہتے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ امتحان کا سینٹر ایسی جگہ جائے جہان پر بھر پور نقل ہوتی ہو چونکہ ان کو ڈگری ملنی چاہیے چاہے ان کو نقل کے لیے زیادہ سے زیادہ پیشہ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ امتحان کی ڈیوٹی پر تعینات نگراں حضرات بھی امتحان کے وقت بے فقر رہتے ہیں کہ کہاں پر نقل ہوتی ہے کہاں پر نہیں ہوتی ہے۔ اب توا یسا ہوگیا کہ ڈاکٹر ی،انجینئر کی ڈگری لینے لیے ’پیشہ دو اور ڈگری پاﺅ‘ بے چارے غریب ڈگری پاکر بھی ان عہدوں پر منتخب نہیں ہو پاتے ہیں ۔اس لیے میں انتظامیہ سے درخاست کرتا ہوں کہ ان ٹیچروں کے خلاف کارروائی کریں جو نقل کے نام پر پیشہ وصولی کرتے ہیں کیونکہ طلبہ کے مستقبل نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، طلبہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر پڑھائی لکھائی کریں نہ نقل کریں نہ نقل اور ٹیچروں سے التماس کرتا ہوں کہ امتحان میں بالکل نقل نہ کرائیں کیوں ماں باپ اگر کوئی بچوں کی تربیت دینے والا ہے وہ ہے معلم ہی ہے اگر آپ ہی بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کریں گے تو طلبہ کا کیا حا ل ہو گا ٹیچر بچوں کی پڑاھائی لکھائی میں ان کاتعا ون(cooperation) کریں ۔

امتحانات سے قبل اچھے طریقے سے طلبہ کو تیاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امتحان کے وقت ان کو بوجھ نہ معلوم ہو۔امتحان میں اگر کامیاب ہونا ہے تو اس کی اچھے ڈھنگ سے تیاری بھی ضروری ہے۔ میں تما م اسٹوڈنٹ سے گزارش کرتا ہوں کہ امتحان ہو چاہے ٹیسٹ ہو اگر آ پ کو اپنا کیریئر اچھا بنا نا ہے تو فرضی ڈگری سے نہ بنا کر پاک صاف ڈگری سے بنانے کی ضرورت ہے چونکہ ، آپ فرضی ڈگری تو لے سکتے ہیں لیکن آپ کا آنے والا مستقبل مہلک (Deleterious ) ثابت ہو سکتا ہے۔

حیرت وتعجب اس پر ہوتا ہے کہ جب طلبہ پیپر دیتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے ”اگر متحان میں پاس ہونا ہے تو روپیہ جمع کرو نہیں تو امتحان میں فیل ہو جاﺅ گے“ اگر مان لیجیے اگر جتنے طلبہ کلاس میں بیٹھ کر امتحان دے رہے ہیں ان میں 45%طلبہ نہایت ہی غریب ہیں ان کے ماں باپ بہت ہی مشکل سے اپنے بچوں کی پڑھائی لکھائی کے لیے روزی روٹی کی کماکر لاتے ہیں اور ان کے بچوں سے امتحان میں نقل کے نام پرایک ہزار سے دو ہزار تک روپیہ مانگنے لگتے ہیں اب وہ کہاں سے اتنا پیشہ لےکر آئیں جو ان کو دے سکیں ۔ اگر غریب طلبہ پیشہ دینے سے انکار کرتے ہیں تو ان کو کلاس سے باہر بیٹھا دیا جاتا ہےتاکہ پیشہ نہیں دیا ہے تو نقل بھی نہ کر سکیں ۔

طلبہ سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اگرامتحان میں نقل ہی کرنی ہے تو پھر آ پ ڈگری تو لے سکتے ہیں لیکن اس سے کو ئی فائدہ ہو نے والا نہیں ہے ۔مثا ل کے طور پر یوں سمجھ لیجیے کہ اگر آپ نقل کے ذریعہ ڈاکٹری کی لے کر کسی مریض کا نبض (Heartbeat)دیکھ کر چیک کرتے ہیں تو آپ کو اک کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ کون سا مریض ہے اس کو بخار ہے یا پھر کچھ اور کیوں اگر بہت تجربہ گار ڈاکٹر ہوگا وہ فوراًپکڑ لیگا کہ اس کو کتنے ڈگری کا بخار ہے کیوں کہ اس نے پڑھائی لکھائی بہت اچھے ڈھنگ سے کی تھی روز کی روز کلاس کرتا رہاہے ، امتحان میں عقل سے نہیں نقل سے ڈگری والے ڈاکٹر ڈگری کو ڈگری تو مل سکتی ہے لیکن آپ کی یہ ڈگری مریض کے لیے مضر ثابت ہوگی کے کیونکہ فرضی ڈگری لی ہے۔ اگراسکول میں عقل سے پڑھائی کرتے تو امتحان میں نقل کی ضرورت نہیں پڑتی عقل کی ۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ گھر ہی پر بیٹھے بیٹھے ڈاکٹری کی ڈگری ،انجینئروغیرہ کی ڈگری حاصل کر لی جائے اس سے روز روز کلاس کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں ایسے لوگوں کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ جو صرف پر پیشے کے ذریعہ ڈگری لیتے ہیں آپ کا آنے والا وقت(future (کیریئر مکمل تباہ طور پر تباہ نہ ہو جائے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے امتحان میں نقل وغیرہ کو مکمل طور Full-Length ختم کرنے کی ضرورت ہے، انٹر میڈیٹ کا امتحان ہو یا انجینئرنگ کا امتحان ہر طرح سے نقل سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


ٹیگ
مزید دکھائیں

متعلقہ

Close