مراسلات

کاس گنج فساد کے زمینی حقائق

ذاکر حسین

یومِ جمہوریہ کے دن فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں جھلسنے ولا کاس گنج اب بھی نفرتوں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ وہاں سے موصول ہونے والی خبر وں کی مانیں توکاس گنج کے مسلمانوں کو فساد کی مار جھیلنے کے بعدبر ق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر کے مصداق اب پولس کی یکطرفہ کارروائی سے انہیں مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیومیں پولس کا بھیانک روپ سامنے آیاہے، وائرل ویڈیو میں دکھایا گیاہیکہ پولس زبردستی ایک مسلمان کا گھر کے دروازہ توڑ کرمکین کی اجازت کے بغیر دندناتی ہوئی گھس گئی۔ مقامی مسلمانوں کا الزام ہیکہ مسلمانوں کو فرضی مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں ٹھونسا جارہاہے۔ کاس گنج واقعہ کے بعدسیکولر سیاسی جماعتیں بھی سوالوں کے گھیرے میں ہیں؟ کیونکہ خود کو مسلمانوں کی ہمدردبتانے والی سیکولر جماعتوں اور رہنمائوں کی جانب سے ابھی اس معاملے میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔

بتایا جا رہاہیکہ علاقے میں مسلمانوں کی کوئی فعال لیڈر شپ نہ ہونے کے سبب بھی انہیں مسائل کا سامنا ہے۔ مقامی مسلمانوں کے مطابق کاس گنج میں ہندئوں کی قیادت کا دعوی کرنے والے مکمل طور سے متحرک ہیں اور اپنی برادری کے ساتھ ہر وقت کھڑے رہتے ہیں ۔ کاس گنج میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا، نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے لیکن جو ہوا، اس کے بعد پولس انتظامیہ اور حکومت کو سبق لیتے ہوئے مزید کسی قسم کے حادثے سے بچنے کیلئے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے تھی۔ لیکن حکومت اور  پولس انتظامیہ یکطرفہ کارروائی کر کے کاس گنج کی ٖفضا میں چھائے بھیانک سکوت کو مزید گہرا کر نے کی تشویشناک حرکت کی مرتکب ہورہی ہیں ۔ گذشتہ دنوں ملی وفدنے کاس گنج کا دورہ کر وہاں کے زمینی حقائق سامنے لانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔

ملی وفد کی پورٹ کے مطابق یوم ِ جمہوریہ کے دن بھڑکی تشدد کی آگ میں چار پانچ دن گذرنے کے بعد بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے اور علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ مسلم فرقہ جو فرقہ وارانہ تشدد اور زیادتی کا شکار ہوا وہی اس وقت بھی یکطرفہ طور پر فرقہ پرستوں کی افواہوں ، تشدد، لوٹ مار اور سازشوں کا نشانہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف انتطامیہ بھی انہیں کے معصوم و بے گناہ افراد کو ہی گرفتار کر رہی ہے۔ پورٹ میں یہ بھی کہا گیاہیکہ مسلمانوں میں کوئی سرگرم مقامی لیڈرشپ نہیں ہے۔ ہندووں کے جن افراد کو پولس گرفتار کرتی ہے ان کی طرف سے سیاسی وسماجی رہنما پولس پر دبائو  بنا کر انھیں چھڑا لاتے ہیں ، جب کہ مسلمانوں کی مددکیلئے کوئی آگے آنے کی ہمت نہیں کرپا رہا ہے۔ ایک کارپوریٹر جناب محمد شاہد (عرف گڈو) نے جب  متاثرین کے گھروں تک آلو اور آٹا پہنچانا شروع کیا تو ان کو ان کے گھر سے پولس نے گرفتار کر لیا۔ ۔

 وفد کی تحقیق کے مطابق فساد منصوبہ بند طریقے سے کرایا گیا۔فرقہ پرستوں نے جو ترنگا ریلی نکالی اس کی انتظامیہ سے اجازت نہیں دی تھی۔ پھر مسلم علاقہ سے نکلنے پر اس نے اصرار کیا اور جس تیراہے پر مسلمان خود یوم جمہوریہ پروگرام منعقدکر رہے تھے وہیں سے یاترا نکالنے کی ضد کرنے لگے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہمارا پروگرام ختم ہو  جانے کے بعد آپ یہاں سے لے جا سکتے ہیں لیکن انہوں نے ایک نہیں مانی، زبردستی کرنے لگے، گالیاں دیں اور لوگوں سے مطالبہ کرنے لگے کہ وہ وندے ماترم کہیں اور جے شری رام کا نعرہ لگائیں ۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کاس گنج کے ویر عبدالحمیدتراہے پر چندن کو گولی نہیں ماری گئی اور کسی مسلمان نے گولی نہیں چلائی۔ دوسرے دن چندن کی لاش کے کریاکرم کے بعد جو بھیڑ واپس لوٹی اس نے چن چن کر مسلمانوں کی دوکانوں کو جلانا  اور لوٹنا شروع کر دیا حالانکہ پولس موجود تھی لیکن اس نے مشتعل بھیڑ کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

تقریب 8 بڑی اور متعدد چھوٹی دوکانیں اور کھوکھے نذر آتش کر دئے گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملہ مقامی ایم ایل اے اور کلیان سنگھ کے بیٹے راجبیر سنگھ اور وی ایچ پی کے رہنما گوری شنکر شرما کا رول انتہائی اشتعال انگیز اورتشدد کو مزید ہوا دینے والاتھا۔ غیر مسلم علاقوں میں جومسلمان کرائے پر رہ رہے تھے وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر مسلم علاقوں میں بھاگ آئے۔ جو بڑی دوکانیں جلی ہیں ان میں تقریبا 70 سے 80 لاکھ مالیت کا سامان بھی خاکستر ہو گیا۔ اب پولس چن چن کر مسلمانوں کو گرفتار کر رہی ہے اور ان پرقتل (302 )اوراقدام ِ قتل(307 )کی دفعات لگائی جارہی ہیں۔

 یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ چندن کا قتل کسی مسلمان نے کیا ہے۔ ایک مسلمان کے گھر سے اسلحہ بھی ضبط کیا گیا حالانکہ ان کے پاس اس کا لائسنس موجود ہے۔ منصور احمد شیروانی کی جوتوں کی دوکان کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کر دیا گیا۔متاثرہ کا سگنج کے دورے کے دوران وفدمیں شامل افراد نے متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور ریلیف اور سروے کے لئے ایک ٹیم کو متعین کیا۔ وفد نے کاسگنج سے واپسی پر راشٹریہ علما ء کونسل کے علی گڑھ کے فعال لیڈر مولانا نثار احمد کی رہنمائی میں میڈیکل کالج علی گڑھ میں زیر علاج حبیب اکرم اور شاہنواز سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تسلی دی۔

وفد نے متاثرین کو حوصلہ رکھنے اور مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔ جماعت اسلامی ہند نے فوری ریلیف کے لئے اقدامات کرتے ہوئے اپنے ناظم علاقہ اور سیکریٹری حلقہ کو کاسگنج میں متعین کر دیا اور ان کو ذمہ داری دی کہ وہ  جلد از جلد جتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان کی فہرست بنائیں ، وکلا کی ایک ٹیم تیار کر ان کے معاملات کی پیروی شروع کر یں ، اس کے علاوہ ایک سروے فارم بنا کر اس ٹیم کے حوالے کیا گیا کہ وہ نقصانات کی فہرست، ان کی مالیت کا تخمینہ تیار کرے اور اس کی ایف آئی آر درج کر ائی جائے اور معاوضہ کے لئے انتظامیہ اور ریاستی حکومت کو فوری میمورنڈم دیا جائے۔جماعت اسلامی کی طرف سے علی گڑھ میں مقیم زخمی افراد کو فوری طور پر مالی مدد بھی کی گئی۔ وفد نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ملنے کے لئے وقت مانگا لیکن انہوں نے رات میں وقت دیا جس کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

 حادثہ کے چوتھے دن بھی مسلمانوں کی دوکانیں بند تھیں اور لوگوں میں خوف و حراس کا ماحول تھا۔ گرفتار یوں اوریکطر طرفہ کارروائی سے لوگ سہمے ہوئے ہیں ۔ وفد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کی اعلی سطح کی جانچ کسی ہائی کورٹ کے جج سے کرائے، جن افراد کی دوکانیں اور کھوکھے جلا دئے گئے ان کو پورا پورا معاوضہ دے۔ جن شرپسندوں نے کاسگنج کو اس حالت تک پہنچادیا ان کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ ملی وفد کے علاوہ کاس گنج کا اب تک راشٹریہ علما ء کونسل کی مقامی یونٹ اور گزشتہ روز یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ سے وابستہ افراد نے دورہ کیا۔

 ہم گزشتہ روز کاس گنج کا دورہ کرنے والے جماعت ِ اسلامی ہند کے سیکر یٹری محمد احمد صاحب،مسلم مجلس مشارت کے صدر نوید حامد صاحب، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قاسم رسول الیاس صاحب، راشٹریہ علما ء کونسل کے قومی جنرل سیکریٹری مولانا طاہر مدنی صاحب، مولانانثار احمد صاحب، یونائیٹید اگینسٹ ہیٹ کے ندیم خان صاحب، جناب موہت پانڈے صاحب کے علاوہ جناب اسد حیات صاحب، سابق ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری صاحب، امت سینو گپتاصاحب، علیم اﷲخان صاحب، حسن البنّاصاحب ودیگر کو ہم سلام پیش کرتے ہیں کہ آپ لوگوں نے کاس گنج کا دورہ کر مظلومین کو ڈھارس، حوصلہ دیااورسچائی کو سامنے لانے میں اپنا اہم مثبت کردار اداکیا۔لیکن حقیقت یہ ہیکہ ابھی کا س گنج میں کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے خاص طور سے وہاں کے مسلمان یکطرفہ گرفتاری سے خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ۔

اسلئے مسلم سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ لیڈران اور ملی تنظیموں کے سر فہرست رہنمائوں کو وہاں کا دورہ کر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیکر اس مصیبت کی گھڑی میں مسلمانوں کو ہمت وحوصلہ دینے اور ان کی مدد کیلئے آگے آنا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ذاکر حسین

الفلاح فرنٹ (کنوینر: مشن بائیکاٹ مہم )

متعلقہ

Close