ہندوستانی مسلمانوں سے مخاطب ہوں!

0

محمد وسیم

 میں ڈاکٹر ذاکر نائک ہوں، پیشے سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں، مسلمان ہوں، مجھے اللہ نے توفیق دی، میں امن کا داعی بن گیا، دنیا کو بتانے لگا کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں، سب میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود ہے، دنیا کے تمام مذاہب امن و شانتی کی تعلیم دیتے ہیں، دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بھلائی کے لئے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور اسلام جیسی عظیم الشان نعمت دے کر دنیا کو بتایا کہ دنیا میں امن و سکون اور انسانیت کی بھلائی اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی ممکن ہے، ایک اللہ کی عبادت انسان کی زندگی کا مقصد اول ہے، اسلام کا داعی ہونے کی وجہ سے میں نے دنیا کو آواز دی کہ اسلام کا مطلب ہے امن و سلامتی، اور اسی اصول کے تحت میں نے انسانیت کو اسلام سے قریب لانے کی کوشش شروع کر دی، مجھے خوشی ہے کہ میرے ہندوستانی بھائیوں نے میری دعوت کو سمجھنے کی کوشش کی، وہ میرے قریب ہوےء، انهوں نے مجھے عزت دی، میری دعوت کی قدر کی، اسلام اور مسلمانوں سے قریب ہو کر مجھ سے محبت و ہمدردی کا اظہار کیا۔

ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لئے میں نے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن قائم کیا، پیس ٹی وی کی بنیاد ڈالی، اسکول قائم کئے، غرض کہ لوگوں کو اسلام سے قریب کرنے کے لئے میں نے وہ تمام ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے لوگوں کے ذہن سے اسلام سے متعلق غلط فہمی دور ہو، میری زندگی کا مقصد لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے معنی و مفہوم کو لوگوں تک پہنچانا تھا اور دنیا کو بتانا تھا کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کی بھلائی کا سب سے بڑا حامی ہے، اس لئے اسلام کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے، میں نے اپنی دعوت کا آغاز کیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے میری آوازِ امن نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی- اسکولوں، مدرسوں، کالجوں، یونیورسٹیوں تک میری آواز پہونچی، تعلیم یافتہ افراد کے علاوہ غیر تعلیم یافتہ افراد نے بھی میری آوازِ امن سنی، اس طرح سے میں امن کی ایک معتبر آواز بن گیا، میرا مقصد تھا کہ میں اپنی آوازِ امن "ہر گھر اور ہر فرد” تک پہونچاءوں، مگر امن کے دشمنوں، دہشت گردوں کے حمایتیوں، اسلام اور مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھنے والوں کو امن پسند نہیں تھا، وہ اسلام کی آوازِ امن کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

میری زندگی کا 1 جولائی 2016 وہ انتہائی دردناک اور حیرت میں مبتلا کرنے والا دن تھا، جس دن مجھے بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد قرار دے دیا گیا، پھر کیا تھا، خود اپنے ہی ملک کی میڈیا نے دن رات ایک ہی خبر پر لوگوں کے ذہن کو مرکوز رکھا، کہ ڈاکٹر ذاکر نائک دہشت گرد ہے، ستم بالائے ستم تو یہ کہ میرا تعلق داءود ابراہیم سے جوڑ دیا گیا، پھر غیروں کے علاوہ میرے اپنوں نے بھی مجھے دہشت گرد کہہ ڈالا، میں تو وہی ڈاکٹر ذاکر نائک ہوں، جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو صحیح راستے پر لانے اور انهیں دہشت گردی جیسی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے لئے انتھک کوششیں کیں، مگر یہ کیا کہ میرے دینی بهائیوں ہی نے مجھے ہدف تنقید کا نشانہ بنا ڈالا، کاش میرے اپنے میرے ساتھ غلط ارادہ تو نہ کرتے، ہم جس دین اور کلمے کی بنیاد پر بهائی بهائی ہیں، اسی دین کے بانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رہتی دنیا تک کے لئے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ‘مسلمان اپنے بهائی کو نہ تو بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے کفار کے حوالے کرتا ہے’، شاید وہ اس حدیثِ نبوی پر عمل کرتے- غرض کہ آج میں غیروں کے علاوہ اپنوں کے بھی نشانے پر ہوں، مجھے بھی تو روز نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اے میرے دینی بهائیو ! ایک تم ہی تو ہو جو دشمنوں کے ہر حملے کے لئے ڈهال بن سکتے ہو، اسی طرح ہندوستان کے میرے وہ ہندو بهائی جو میری دعوت کے طریقے کی حمایت کرتے تھے، وہ بھی میری آوازِ امن کی حمایت میں شامل ہو کر امن کے کارواں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

قارئینِ کرام ! عالمی میڈیا نے آزادیء اظہارِ رائے پر بہت زور دیا ہے، ہندوستان کے قانون میں بھی ہر شخص کو اس کے دین پر عمل اور عام کرنے کی آزادی حاصل ہے، مگر کیا وجہ ہے کہ میری آواز کو نہ صرف دبانے بلکہ مجھے سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انٹر پول کے ذریعے بھی مجھے گرفتار کرنے کی سازش ہو رہی ہے، یوں تو میرا سب کچھ اپنا ملک ہندوستان ہی تھا مگر آج مجھے ہندوستان میں قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے، جب کہ میں نے ہمیشہ ملک و عوام کی ترقی کے لئے کوشش کی ہے، کبهی کسی مذہب کے خلاف تقریر نہیں کی، دہشت گردی کی حمایت نہیں کی، یہاں تک کہ جب مجھ سے کسی ہندو بهائی نے سوال کیا تو میں نے اس کا استقبال کر کے نہایت خوش دلی سے اس کا جواب دیا، میری دعوت کی حمایت فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے عامر خان نے بھی کی، انهوں نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک امن پسند شخص ہیں، وہ دہشت گردی کی تعلیم نہیں دے سکتے، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں کتنے ہی ایسے غلط قسم کے لوگ ہیں جو سیکڑوں جرم کرنے، عدلیہ اور ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہونے کے بعد بھی پارلیمنٹ میں عزت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔

مجھے خوشی ہوتی اگر ہندوستان میں دینی جماعتوں کے قائدین ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے اور انصاف کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے- آخر میں میں ڈاکٹر ذاکر نائک اپنی قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہوں، اے میری قوم کے نوجوانوں ! مجھے تم سے بہت امیدیں ہیں، تمہیں ہر مشکل وقت میں قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینا ہے، تمہیں ہی ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو کر مقابلہ کرنا ہے، آنے والے وقتوں میں تم ہی اسلام کے سپاہی بن کر باطل کا مقابلہ کرو گے…ان شاء اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے