مراسلات

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

عظمت علی

 بھارت غلامی کے ایسے دلدل میں پھنس گیا تھا جہاں سے نجات مشکل نظر آرہی تھی۔ ۔۔روح فرسا محنت کوئی کرتااور فائدہ کسی اور کو ہوتا گویا نفع ان کے حصہ میں اور خسارا ہمارے نصیب میں ۔ ایک صدی تک ہمیں غلامی کے زنجیر میں جکڑا گیا تھا۔ اس طویل عرصہ میں انہوں نے ہم پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے۔ ایسا گھٹن کا ماحول بنادیاتھا کہ آواز حق بلند کرنا نقارخانے میں صدائے طوطی!

 جب کوئی ہندوستانی اپنے پامال شدہ حقوق کا مطالبہ کرناچاہناتھا تواسے زنجیروں میں جکڑ دینے کی سزا سے ڈرایادھمکایاجاتا۔ لہٰذا،منادی حق ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے دریغ کرتے جو کسی بھی عنوان ان کے خلاف ہو۔مظالم کاسلسلہ جاری و ساری رہالیکن کب تک اذیت ناک زندگی پر گزاتاہوتا۔ اب تو صبر کا پیمانہ بھی پر ہوچکاتھا۔ ۔۔اردو کی کہاوت ہے کہ چیونٹی بھی دبنے پر کاٹ لیتی۔ اب کیا تھا ہندوستانیوں نے آواز حق بلند کی اور اپنے حق کے لئے قیام کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ۲۴؍ستمبر ۱۵۹۹ء کوقائم ہوئی تھی، جس میں لندن کے دو سو سے زیادہ تاجر اور امراء شریک کار تھے۔ ۔۔۔چنانچہ ۱۶۱۲ء میں انہوں نے سورت نامی مقام پر باقاعدہ اپنے کاروبار کاآغاز کردیا۔ ہندوستانی فرماں روان خارجی تاجروں کے ساتھ دریا دلی سے کام لیا۔ لیکن بعد کے ایام میں ان کے حق خیراندیشی خود امراء ہند کے لئے ناعاقبت اندیشی ثابت ہوئی۔ انگریز تو رفتہ رفتہ تو اپنے پائوں تو پھیلاہی رہے تھے لیکن اورنگ زیب کی حکومت ان کے آڑے آرہی تھی اس لئے انہیں باقاعدہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ ۔۔۔مگر جب دہلی کامرکز کمزور پڑگیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے بال و پر پھیلانا شروع کئے جس کے باعث ۱۷۵۷ء میں پلاسی کا افسوسناک سانحہ پیش آیا اور نواب سراج الدولہ کی فوجیں اپنوں کی در پردہ سازشوں کا شکار ہوکر مٹھی بھر خارجی فوجوں سے شکست کھانی پڑی۔ ۔۔۔اس کے بعد اب صرف ٹیپوسلطان کی حکومت ان کے لئے وبال جان بنی ہوئی تھے اور وہ اسے راستہ کا پتھر سمجھ کر اسے ہر ممکنہ صورت میں ہٹاناچاہ رہے تھے۔ ٹیپو کو تو اس بات کاعلم ہو ئی چلاتھا کہ گھر کابھیدی لنکاڈھاتاہے لہٰذا اب ان سے کسی بھی طرح کی نرمی روا رکھنے خطرہ سے خالی نہیں تھا۔حیدر علی ارو ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے چار جنگیں لڑیں ۔ ٹیپو سلطان۱۷۸۲ء میں حکمراں ہوا اور ۱۷۸۳ء میں دشمنوں سے پہلی جنگ لڑی جس میں مقابل کو منھ کی کھانی پڑی۔ انگریز کو ٹیپو سلطان سے بہت بڑا خطرہ در پیش تھا۔ اس لئے کہ وہ ان کے سارے غلط منصبوں کو نقش برآب کرنے پر ہمہ تن آمادہ ہوچکے تھے اور کسی بھی قیمت پر ان کی اسیری اوران کے رحم و کرم پر زندگی گزارنا گیڈر کی زندگی سمجھا۔ جیسا کہ خودان کا مشہور قول ہے کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی صد سالہ زندگی سے بہترہوتی ہے۔ جب جرنل ہارس کوسلطان کی خبر شہادت ملی تو اس نے ان کے نعش پر یہ جملہ کہا :’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ ‘‘

  ۱۸۵۷ء میں پہلی جنگ آزادی جسے انگریزوں نے غدر کا نام دیاتھا اور اس عنوان پر اسی نام سے ایک فلم بھی ریلیز ہوچکی ہے۔ عموما اس کے دو اہم اسباب بتائے جاتے ہیں :

اول :ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے صوبوں اور کئی ریاستوں کویکے بعددیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لیاتھا جس کے باعث عوام الناس نے اس کی کالی کرتوتوں کو بھانپ لیا۔

دوم :فوجیوں کو جو کارتوس دیئے جاتے وہ سور اورگائے کی چربی سے آلودہ ہوتے اور انہیں بندوق میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتاجس کے چلتے مسلمان اور ہندو افواج نے اس کو استعمال کرنے سے منع کردیا۔ اس لئے انہوں نے ان حضرات کو ان کے معزز عہدے سے بے دخل کردیا۔یہ واقعہ سب سے پہلے بنگال میں ڈمڈم اور بارک پور میں رونما ہوااور پھر یہی سانحہ لکھنو میں بھی پیش آیا۔ برخاست شدہ فوجی ملک میں متعدد مقامات پر پھیل گئے اورلوگوں کو اس غلط کام کے خلاف آواز حق بلند کرنے کے لئے ابھارنا شروع کردیا۔ اس کام میں تمام لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اورمتضاد عناصر، مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا توہوگئے لیکن آداب جنگ اورکسی بابصیرت قیادت کی عدم موجود گی۔ ۔۔کے سبب اپنی منزل مقصود کورسائی نہ کر سکے۔ ۔۔۔

 دہلی پر قابض ہوجانے کے بعد انگریز فوجوں نے اہل وطن کا بے دریغ قتل وخوں کرنا شروع کردیا۔ سینکڑوں کوپھانسی لٹکایا، ہزاروں نفوس گولیوں سے اڑادیئے گئے، بے شمار لوگوں کو قیدی بنا کر ان کے جسموں میں طوق و سلاسل پہنادئے گئے اور مسلمانوں کو چن چن کر شہید کرنے لگے۔ لیکن کسی بھی محبان وطن نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا یااورکسی بھی صورت میں میدان جنگ سے راہ فراراختیار نہیں کی بلکہ عزم وارادہ کے دھنی، ہمت کے پہاڑاور ہندوستان سے بے لوث محبت کرنے والے مسلمانوں نے اپنے سرخ لہو سے اس چمن کوترو تازگی بخشی اور سیاہ فام غداروں کو ہندوستان سے مار بھگایا۔

 ۱۸۵۷ء میں شاہ ولی اللہ، عبدالعزیز دہلوی اوردیگر محبان وطن کی محبت رنگ لائی جس کے باعث مولانا فضل حق خیرآبادی نے دشمنوں کے خلاف جہاد کوفتویٰ صادر کیااوردہلی کے تمام علما ء کے دستخظ بھی لئے۔ ۔۔۔یہ کشت کشتار کا سلسلہ روں دواں رہا۔ وقت گزرتا گیا لوگ آتے گئے اوراپنی جان کو نذرانہ پیش کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ تاریخ نے لکھا ہے کہ دہلی جامع مسجد سے لے کر پشاور تک درختوں پر ان کی گردنیں لٹکی ہوئی تھیں ۔

یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جنگ آزادی میں ہندو، مسلم، سیکھ، عیسائی اور تما م ہندوستانیوں نے اپنی جان نچھاور کی لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ شہیدان وطن میں مسلمانوں کی تعداد قدرے اضافی رہی ہے۔

۱۹۱۹ء میں تحریک خلافت وجود میں آئی جس میں محمد جوہر، گاندھی جی اور دیگر جیالوں نے تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کردیا۔ ۱۹۲۰ء میں گاندھی اورمولانا ابو الکلام آزاد نے غیرملکی اموال کا بائیکاٹ اور نان کوآپریشن (Boycott and non co-operation)کی تجویز پر عمل درآمد کیا جو دشمنوں کے خلاف بہت کارگراسلحہ ثابت ہوئی اور اسی وقت ان کو احساس ہوچلاکہ اب ہمارابیڑا غرق ہونے کوہے۔ ۱۹۲۱ ء میں موپلا بغاوت ۱۹۲۲ء میں  چوراچوری میں پولیس فائرنگ ۱۹۳۰ء میں تحریک سول نافرمانی اورنمک آندولن۔ ۱۹۴۲ء میں ہندوستان چھوڑو تحریک (Quit India movement)۔ ۱۹۴۶ء میں ممبئی میں بحر ی بیڑے کی بغاوت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پر پولیس فائرنگ کے دوران ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔ انگریزوں کی قید بند جھیلنے اور ان کی گولیوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد کاصحیح شمار محال نہ سہی مشکل ضرور ہے۔ لیکن علماء کی تعداد بیس سے پچاس ہزار تک بتائی جاتی  ہے۔ جن میں قائدانہ صلاحیتوں کے مالک افراد کے اسماء آب زر سے تحریر کرنے کے قابل ہیں اوروہ مندرجہ ذیل ہیں :

مولانا ابو الکلا م آزاد، مولانا محمد علی جوہر، بہادر شاہ ظفر، بیگم حضرت محل، نواب سراج الدولہ، مولانا حسرت موہانی، مولانا فضل حق خیرآباد ی وغیرہ۔۔۔

ایک صدی سے زائد برسوں تک مسلسل جانفشانیوں اور قربانیوں کے بعد ۱۴ ؍اور ۱۵؍ اگست کی درمیانی شب کو ہمارا سارے جہاں سے اچھا وطن انگریزوں کی تمام تر قید وبند اورطوق و سلاسل سے آزادہو۔

الغرض !رنگ وروپ اورنسل و قوم کی تمام تر اونچ نیچ کو بالائے طاق رکھ کر ہندو، مسلم، سیکھ، عیسائی اور تما م محبان وطن کے باہمی اتحاداور بے پناہ قربانیوں کے سبب اس ملک ہندوستاں کو حیات نو عطا ہوئی۔ مسلمانوں نے عقابی نگاہوں سے فرنگی شاطرانہ چال کو نقش برآب کردیا اور تن کے گورے دل کے کالے انگریزوں کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے قیمتی خون سے اس گلستاں کی آبیاری کی ہے جس کی فتح و ظفر کی گواہی آج بھی سرخی آفتاب پر نمایاں نظر آتی ہے۔ لہٰذا! ہمیں چاہئے کہ اختلافات کی دیوار کوگراکر ہندوستان کی ترقی میں شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں اور ہر شر پسند عناصر کو دندان شکن جواب دے کر اپنے ملکی اتحاد کا ثبوت فراہم کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. ماشاء اللہ عظمت صاحب!
    محبان وطن کو ایک عظیم تحفہ دیا آپ نے.
    اللہ آپ کے قلم میں مزید بالیدگی عنایت فرمائے!
    ہماری دعا یہی ہے.

متعلقہ

Close