ادبغزل

آنکھ سے آتا ہے اب میری نظر دو بٹہ تین

احمد علی برقیؔ اعظمی

آنکھ سے آتا ہے اب میری نظر دو بٹہ تین
منزلِ عمر کا کٹ جائے سفر دو بٹہ تین

کرۂ ارض ہے اب زیر و زبر دو بٹہ تین
جس کو کہتے ہیں بشر اُس میں ہے شر دو بٹہ تین

جس کو میں اپنا سمجھتا تھا پرایا نکلا
کرلیا غصب مرا اُس نے ہی گھر دو بٹہ تین

وقت یکساں نہیں رہتا ہے ہمیشہ سب کا
گھٹ کے رہ جاتے ہیں یہ شمس و قمر دو بٹہ تین

سیرِ حاصل میں کروں تجزیہ اُن کا کیسے
قابلِ دید ہیں یہ لعل و گُہر دو بٹہ تین

چار دن کی ہے فقط چاندنی یہ عمرِ عزیز
جو بچی ہے اُسے کرلیں گے بسر دو بٹہ تین

میں مکمل نہیں کر سکتا بھروسہ اُس پر
وہ ہے برقیؔ مرا منظورِ نظر دو بٹہ تین

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close