ادباردو سرگرمیاں

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کا منفرد پروگرام بعنوان "مناظرِ قدرت”

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

7 جولائی 2018 بروز ہفتہ بوقت پاکستان 7 بجے شام و ہندوستان 7.30 شام واٹس ایپ پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا اس پروگرام میں شعراء اکرام نے قدرت کے حسین مناظر، موسم و کائنات پر اپنی اپنی کاوشیں پیش کیں یوں تو شعراء اکرام کو ادارہ کی جانب سے ایک مصرع طرح "ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے” بھی دیا گیا تھا جس میں "ردیف” کرتا ہے و "قافیہ” سلام، کلام، جام، وغیرہ تھے اس کے علاوہ یہ بھی چھوٹ دی گئی تھی کہ جو شعراء طرحی کلام نہ کہنا چاہیں وہ عنوان کے مطابق غیر طرحی کلام نظم، یا غزل پیش کر سکتے ہیں اور پروگرام میں شرکت فرما سکتے ہیں۔

پروگرام کی مسندِ صدارت پر محترم سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا جلوہ افروز تھے جبکہ ادارہ کے بانی و چیف ایڈمن محترم توصیف ترنل صاحب ھانگ کانگ سرپرست کی حیثیت سے شامل تھے پروگرام کا آئڈیا محترم شمس الحق ناطق صاحب لکھنوی انڈیا کا تھا جبکہ پروگرام کے آرگنائزر محترم علی اکبر صاحب ملتان پاکستان تھے نظامت کے فرائض مشترکہ طور پر بہت خوبصورتی کے ساتھ محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان و محترم علیم طاہر صاحب ہندوستان نے انجام دئے جبکہ پروگرام کی رپورٹ احقر ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا نے تیار کی جبکہ شعراء اکرام کے پیش کردہ کلام پر تنقیدی بات چیت کے لیے محترم شفاعت فہیم صاحب انڈیا و محترم مسعود حساس صاحب کویت کو مدعو کیا گیا تھا ناقدین کے دیر سے پہنچنے کی وجہ سے سبھی شعراء کے کلام پر تنقید نہ ہو سکی۔

پروگرام میں مہمانانِ خصوصی محترمہ ڈاکٹر صابرہ شاہین صاحبہ پاکستان و محترم ڈاکٹر سمی شاہد صاحب کشمیر پاکستان تھے جبکہ مہمانانِ اعزازی محترمہ سیما گوہر صاحبہ رامپور انڈیا، محترم علی شیدا صاحب کشمیر پاکستان و محترمہ صبیحہ صدیقی صاحبہ ہندوستان تھے۔

مشاعرہ کے آخر میں محترم غزالہ انجم صاحبہ پاکستان کو ان کی بہترین کاوش "سنو لوگو” کے لئے ادارہ کی جانب سے توصیف نامی سندِاعزاز برائے ادبی خدمات پیش کیا گیا۔

قاری کی دلچسپی کے لیے شعراء حضرات کا نمونہء کلام اور اس پر کی گئی ناقدین کی تنقید کے اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔

پروگرام حمد باری تعالیٰ سے شروع کیا گیا جس کے لئے محترم اطہر حفیظ فراز صاحب پاکستان کو دعوت سخن دی گئی۔

حمد

زمیں آسماں اور ہوا دوستو

سبھی کچھ خدا کی عطا دوستو

اسی کے تصرف میں ہر موج ہے

اسی کے ہیں ارض و سما دوستو

**********

اسکے بعد نعت رسول پیش کر نے کے لئے محترمہ غزالہ انجم صاحبہ پاکستان کو دعوت سخن دی گئی۔

نعت رسول

کسی بھی اور نظارے کی آرزو نہ رہے

 مدینہ قلب و نظر میں بسالیا جائے

نہیں ہے چین میسر ہمارے دل کی کہیں

کہ اب تو کوئے محمد بلا لیا جائے

**********

اس کے بعد باقاعدہ مشاعرے کا آغاز کیا گیا:

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا (صدرِ مشاعرہ)

نظم "بہار کا موسم"

چمن میں جھونکا ہوا کا خرام کرتا ہے

کلی و پھول سے دلکش کلام کرتا ہے

زمیں کے جسم پہ یہ ارتسام کرتا ہے

نظر و دل و زباں سے کلام کرتا ہے

ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے

**********

محترمہ صبیحہ صدف  (بھوپال ،ہندوستان)

جو فصلِ گل میں بہاروں میں شام کرتا ہے

اسے بہار کا موسم سلام کرتا ہے

یہ آبشارِ ترنم کی نغمگی کا فسوں

جواں دلوں کو یہ موسم غلام کرتا ہے

**********

محترم علی شیدا  (کشمیر بھارت)

شباب و رنگ کو خوشبو کو عام کرتا ہے

ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے

تمہاری سمت سے آتا ترا خیال ہے یہ

سرور و کیف جو شب بھر قیام کرتا ہے

موصوف کے کلام پر ناقدین حضرات نے کچھ اس طرح روشنی ڈالی

محترم شفاعت فہیم صاحب نے فرمایا کہ مطلع میں مصرع اولی’میں لفظ "کو” دو بار آگیا جو مناسب نہیں ہے اور دونوں مصرعوں میں آپس میں ربط نہیں ہے۔

دوسرے شعر میں مصرع اولی’ میں تمہاری اور ترا کا استعمال غلط ہے اس کو شتر گربہ کہا جاتا ہے یہاں تمہاری کے ساتھ تمہارا ہوتا یا تیری کے ساتھ تیرا ہونا چاہیے تھا۔

خمارِ ابر بہاراں چھلکتی آنکھوں سے

اسی پہ ناز یہ میخاں یہ جام کرتا ہے

دوسرے مصرعے میں لفظ "میخاں "کیا ہے یہ کوئی لفظ نہیں ہے شاید میخانے کا مخفف کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو غلط ہے.

آخری شعر بھی چسپاں نہیں ہے.

محترم مسعود حساس صاحب نے فرمایا کہ مطلع کے دونوں مصرعے غیر مربوط ہیں.

مطلع کے پہلے مصرعے میں” کو” دو بار آیا ہے

تمہاری سمت سے آتا ترا خیال ہے یہ

اس مصرع میں شتر گربا ہے کہ اک جگہ تمہاری کا استعمال کیا گیا ہے اور پھر آگے ترا لفظ کا استعمال کیا گیا ہے.

 تمہاری کے ساتھ تمہارا ہونا چاہیے تھا یا تیری کے ساتھ ترا ہونا چاہیے تھا دوسرے مصرعے میں سرور و کیف اضافی ہے جو نہیں آنا چاہیے تھا.

**********

محترم ڈاکٹر ارشاد احمد خاں

ہوا بھی ہر جا پکار آئی بہار آئی بہار آئی

فضا میں زنجیر کھنکھنائی بہار آئی بہار آئی

نسیمِ سحری جو صبح گاہی قریب میرے جو گنگنائی

کلی بھی ہولے سے کھلکھلائی بہار آئی بہار آئی

محترم مسعود حساس صاحب نے اس کلام پر کافی طویل تنقیدی گفتگو کی جس کو جناب ارشاد احمد خان صاحب نے دلائل سے مسترد کردیا پھر دونوں جانب سے لمبی بحث وتکرار کا سلسلہ جاری رہا جس کو رپورٹ میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ رپورٹ بہت زیادہ طویل ہوجائے گی.

**********

محترم اطہر حفیظ فراز  (پاکستان)

جہاں جہاں بھی یہ آتا قیام کرتا ہے

ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے

چمن چمن میں شگوفے نکھر گئے ہر سو

یہ کون ہے جو نظاروں کا اہتمام کرتا ہے

**********

محترم امین ایڈرائی

کہیں یہ صبح کہیں جاکے شام کرتا ہے

وہ ایک ہجر جو سب میں قیام کرتا ہے

یہ آبشار یہ ندیاں، پہاڑ، پھول اور پھل

کوئی تو ہے کہ جو ان سے کلام کرتا ہے

**********

محترمہ غزالہ انجم  (پاکستان)

نے "سنو لوگو”عنوان سے نظم پیش کی۔

محبت کا نگر صحراؤں میں زمزم کے جیسا ہے

محبت کا نگر تکلیف میں مرہم کے جیسا ہے

محبت کا نگر مسحور کن پونم کے جیسا ہے

محبت کا نگر تو دلنشیں سرگم کے جیسا ہے

محترمہ کی اس نظم کی بہت پزیرائی کی گئی

محترم مسعود حساس صاحب نے اس نظم کو ایک بیانیہ قرار دیا ہے پوری نظم ایک اچھی نظم ہے یہاں الفاظ کی جادوگری دکھائی گئی ہے بہترین الفاظ کا چناؤ ہے بالیدگی ہے،اچھی تشبیہات ہیں، شروع سے آخر تک چار لفظوں کا تکرار ہے۔

 "محبت کے نگر میں خوش گلو طیّور رہتے ہیں”

یہ مصرعہ بحر سے خارج ہے کیوں کہ اصل لفظ طیور ہے طیّور نہیں ہے۔

محترمہ غزالہ انجم صاحبہ کو بہترین کاوش پیش کرنے پر ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے "توصیف سند اعزاز برائے ادبی خدمات” پیش کیا گیا۔

**********

محترمہ گلِ نصرین

کاگا چوری کھائے رے

اور پپیہہ گائے رے

تیرے ہجر کے رستے میں

موسم بیتا جائے رے

محترم شفاعت فہیم صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ایک چھوٹی مترنم بحر کی غزل ہے جو تغزل سے بھرپور ہے ہجر کا خوبصورت ذکر ہے اچھا انداز ہے اچھے الفاظ استعمال کئے ہیں بہاریہ انداز میں سیدھی سیدھی بہت عمدہ غزل ہے۔

**********

محترم علی اکبر  (پاکستان)

ہم بتاتے ہیں کہکشاں ستاروں کی

ہمارا چاند جو اس میں قیام کرتا ہے

ہوا ہے پیار سے مخمور مے کدہء دل

پیش ہر رند کو محبت کا جام کرتا ہے

**********

محترم عامر حسنی  (ملائشیا)

آ جھرنوں کی جھنکار سنیں

آ چڑیوں کی چہکار سنیں

جو میٹھی تان سناتے ہیں

جو دل میں پھول کھلتے ہیں

یہ چشموں کا میٹھا پانی

 اور راتوں کی خوشبو رانی

محترم شفاعت فہیم صاحب کہتے ہیں کہ بہاریہ نظم ہے اچھی رواں دواں ہے لیکن جھرنوں کی جھنکار نہیں ہوتی جھنکار ساز کی ہوتی ہے تیسرے شعر کا مصرع اولی'”اور راتوں کی خوشبو رانی” سمجھ میں نہیں آیا رات کی رانی میں تو خوشبو ہوتی ہے۔

نظم کا تسلسل اچھا ہے۔

**********

محترم امین جسپوری (انڈیا)

ہر ایک طبقہ گلوں کا امام کرتا ہے

چمن ہنسی کا بڑا اہتمام کرتا ہے

ہماری ذات کا خوشبو طواف کرتی ہے

شگفتہ پھول ہر ایک نزرِ جام کرتا ہے

ہمیں بہار کا موسم سلام کرتا ہے

**********

محترم وسیم احسن ( بہار، ہندوستان)

غنی کسی کو کسی کو غلام کرتا ہے

کسی کا چاہے تو اونچا مقام کرتا ہے

کھاتا پھول ہے کانٹوں کی آستینوں میں

وہ ایسے اپنے تصرف کو عام کرتا ہے

محترم مسعود حساس صاحب فرماتے ہیں کہ غنی کے مقابلے فقیر، اور غلام کے مقابلے آزاد آنا چاہیے تھا یہاں شاعر مفہوم کو ٹھیک طرح سے پیش نہیں کر پایا کانٹوں کی آستین نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آستین چاروں طرف سے مکمل بند ہوتی ہے جبکہ کانٹے پھول کا احاطہ نہیں کرتے "جو اپنے ڈھب سے درِ رب قیام کرتا ہے” اس مصرع میں کوئی مفہوم واضح نہیں ہے۔

**********

محترم شمس الحق ناطق  لکھنوی (انڈیا)

سندیسے بہاروں کے آنے لگے ہیں

گھر اپنا پرندے بسانے لگے ہیں

مناظر بہت خوب دیکھے جو ہر سو

دلوں کو وہ بے حد لبھانے لگے ہیں

*********

محترم نصیر حشمت گرواہ (چنیوٹ پاکستان)

کہاں یہ اور بھلا کوئی کام کرتا ہے

تجھے ہی یاد یہ دل صبح شام کرتا ہے

میں ساری عمر اسی شخص پر لٹا دونگا

وہ ایک شام اگر میرے نام کرتا ہے

**********

محترم اصغر شمیم (کولکاتا ہندوستان)

اندھیرا جب بھی نگلتا ہے آکے سورج کو

وہ روشنی کو ستاروں کے نام کرتا ہے

مرا خلوص ہی اس بات کی ضمانت ہے

امیرِ شہر بھی جھک کر سلام کرتا ہے

محترم مسعود حساس صاحب نے فرمایا کہ غزل کے مطلع میں اچھی تضمین ہے پوری غزل ہی اچھی ہے۔

**********

مشاعرہ کے آخر میں صدرِ مشاعرہ جناب ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا نے سبھی حاضرینِ محفل و شعراء حضرات کا شکریہ ادا کیا کیا اور اس کامیاب و شاندار مشاعرے کے لیے انتظامیہ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کو ادارہ کے چیف ایڈمن جناب توصیف ترنل صاحب ہانگ کانگ کو، پروگرام کے آرگنائزر جناب علی اکبر صاحب پاکستان، و مشاعرے کے ناظمین محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان و جناب علیم طاہر صاحب انڈیا کو و مہمانانِ خصوصی و مہمانانِ اعزازی و ناقدین جناب شفاف فہیم صاحب انڈیا و جناب مسعود حساس صاحب کویت کو کامیاب مشاعرے کے لئے مبارکباد پیش کی اور مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close