ادبنظم

اردو ادب کی شان تھے مشتاق یوسفی

اردو کے ترجمان تھے مشتاق یوسفی

احمد علی برقی اعظمی

اردو ادب کی شان تھے مشتاق یوسفی

اردو کے ترجمان تھے مشتاق یوسفی

طنز  و مزاح میں نہ تھا ان کا کوئی جواب

اردو میں جس کی جان تھے مشتاق یوسفی

خوانِ ادب پہ سب کی ضیافت تھا جن کا طرز

اک ایسے میزبان تھے مشتاق یوسفی

تھے جس کی زد میں عہدِرواں کے ستم ظریف

اُس طنز کی کمان تھے مشتاق یوسفی

خود کو سمجھ رہا ہے ادب میں یتیم جو

اک ایسا خاندان تھے مشتاق یوسفی

ان کی نگارشات ہیں عالم میں انتخاب

خوش فکر و خوش بیان تھے مشتاق یوسفی

جس کے بغیر ادھورا ہے عصری ادب کا ذکر

اک ایسی داستان تھے مشتاق یوسفی

جانے کے بعد دُھنتے ہیں اُن کے وہ اپنا سر

وہ جن کے سائبان تھے مشتاق یوسفی

چہرہ تھے اک عظیم وہ برِ صغیر کا

برقی کے ہم زبان تھے مشتاق یوسفی

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close