ادب

اردو اور دیگر زبانوں کا لسانیاتی اشتراک

مقصود حسنی

 اردو کے متعلق یہ نظریات معروف چلے آتے ہیں کہ
وہ لشکری زبان ہے۔
وہ پنجابی سے نکلی ہے۔
لفظوں کے اشتراک سے گمان گزرتے لگتا ہے کہ اردو ان زبانوں سے ترکیب پائی ہے یا ان سے نکلی ہے۔ اپنی اصل میں یہ کسی زبان سے نہیں نکلی یا دوسری زبانیں اس سے برآمد نہیں ہوئیں۔ زبانیں علاقائی ضرورت کے تحت ترکیب و تشکیل پاتی ہیں۔ ان کے ہر لفظ کا اپنا کلچر ہوتا ہے اور وہ اس علاقہ کے ماحول’ حالات’ ضروریات’ معاملات’ حوادث اور موسموں کا پرتو ہوتا ہے۔ بدلتے حالات کے تحت ان میں معنوی’ نحوی اور ہئتی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ بعض الفاظ زندگی کے بدلتے سیناریو کے تحت’ متروف ہو جاتے ہیں’ یا کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں۔ مقامی اور بدیسی زبانوں کے الفاظ’ ان میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ تلفظ معنی استعملالت میں’ انہیں اس زبان کی انگلی پکڑنا پڑتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی زبان دیکھ لیں’ وہ اس سے برعکس نہ ہوگی۔ اس کے ذخیرہءالفاظ میں ان گنت بدیسی یعنی مہاجر الفاظ میں ہیئتی اور تفہیمی تبدیلیاں نظر آئیں گے۔ عربی اور فارسی والوں کا’ برصغیر سے عرصہ دراز سے تعلق چلا آتا ہے۔ ان کی زبانوں نے’ یہاں کی زبانوں پر’ اپنے اثرات مرتب کیے. ان کی زبانوں کے بےشمار لفظ’ یہاں کی زبانوں میں داخل ہو گیے’ جو آج ان زبانوں کا’ حصہ لگتے ہیں۔ درج سطور میں’ کچھ زبانوں کے لسانی اشتراک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ممکن ہے یہ حقیر سا کام’ زبانوں پر کام کرنے والوں کے کسی کام کا نکلے۔
………………..
اردو
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
غالب
ہے کی کا
کس
کس’ کسے سے ماخذ یا اس کی مترداف صورت
کس شخص’ جانور راس’ جب کہ چیز کے لیے عدد مستعمل ہے۔ مثلا فی کس ایک شخص مرد اور عورت دونوں کے لیے’ ایک راس بیل گائے یا کوئی بھی جانور’ ایک عدد ٹی وی نمبری۔۔۔۔۔
کس میں کاف کے نیچے زیر ہے۔ یہ شخص کے لیے مستعمل ہے۔ مثلا
یہ گائے کس کی ہے۔
یہ گاڑی کس کی ہے۔
یہ بات اب کس کس کو بتاؤں۔
یہاں تو پورا معاشرہ ہی متاثر ہے کس کس کی خبر لی جائے۔
چاروں جملوں میں کس سے مراد شخص ہے۔ کسی’ کسے’ کسو اسی کی اشکال ہیں۔
بلوچی
ﯾﮏ ﺷـﭙﮯ ﭼﻨـﺪﮮ ﻫﻢ خیالیں ﯾﺎﺭ
ﻫـﻤﺪﻝ ﻭ ﻫـﻤﺼﺪﻕ ﻭ ﺳﺨﻦ ﺳﯿﻨﮕﺎﺭ
ﺩﻝ ﭘﺮ ﺍﺯ ﻣﻬﺮﺀُ ﻗﻮﻣﯽ ﻫـﻤﺪﺭﺩﯼ
ﺁﺗﮏ ﺍﻧﺖ ﭘﻪ ﻗﺼـﺪ ﮔﻨﺪﮎ ﻭ ﺩﯾـﺪﺍﺭ
مولانا عبدالله روانبد
(سعدی بلوچستان)
اردو میں مستعمل لفظ
ﯾﮏ’ ﯾﺎﺭ’ ﻫـﻤ ﺪﻝ’ ﻭ ﻫـﻤ ﺼﺪﻕ’ ﻭ ﺳﺨﻦ’ ﺩﻝ’ ﭘﺮ’ ﺍﺯ’ ﻣﻬﺮﺀُ’ ﻗﻮﻣﯽ’ ﻫـﻤ ﺪﺭﺩﯼ’ ﭘﻪ’ ﻗﺼـﺪ’ ﺩﯾـﺪﺍﺭ
ﺁﺗﮏ ﺍﻧﺖ
ﺷـﭙﮯ’ ﭼﻨـﺪﮮ’ ﻫﻢ خیالیں’ ﺳﯿﻨﮕﺎﺭ
ﺷـﭙﮯ
پے پ’ بے ب کی متبادل آواز ہے شب سے شبے
یک شبے یک شب
ایک رات
خیالیں مترداف ہم خیالوں
ی واؤ کا تبادل ہے۔
خیالیں مترداف ہم خیالوں
ﺳﯿﻨ’ میں ہ گرا دی گئی ہے۔
سین گار’ سینہ گار: من کی کہی کے جاننے والے۔ جن کے سینوں میں ایک سی چل رہی ہو۔
ﻫﻢ
اردو کا معروف سابقہ ہے۔ مثلا ہم راز’ ہم درد’ ہم نشین وغیرہ
بلوچی میں ہلکی آواز ہ اور بھاری آواز ھ مستعمل ہیں۔
ہلکی آوازوں کی جگہ بھاری اور بھاری آوازوں کی جگہ ہلکی’ آوازوں کا استعمال’ اردو میں بھی ہوتا آیا ہے۔ یہ کوئی الگ سے بات نہیں۔
گار
ﺳﯿﻨﮕﺎﺭ: گار’ اردو میں استعمال کا لاحقہ ہے۔ مثلا بیگار’ روزگار’ خدمت گار’ کامگار
گار اپنی اصل میں کار کا مترادف اور ہم مرتبہ لاحقہ ہے۔
خیالیں’ ہمخیال’ ہم خیال

ﻫـﻤﺪﻝ ﻭ ﻫـﻤﺼﺪﻕ ﻭ ﺳﺨﻦ ﺳﯿﻨﮕﺎﺭ
لفظ ساتھ ملا کر لکھنے کا انداز اردو میں بھی مستعمل رہا ہے۔
واؤ الگ سے نہیں بولتے اردو کی طرح ملا کر بولتے ہیں جیسے شب و روز’ عدل و انصاف’ بندہ و آقا۔ یہ طور اردو کے مطابق ہے.
پنجابی
جس دلے عشق نہ رچیا کتے اس تھیں چنگے
مالک دے گھر راکھی کر دے صابر بھکے ننگے
میاں محمد بخش
اردو میں مستعمل لفظ
جس’ عشق’ نہ’ کتے’ اس’ مالک’ گھر’ کر’ صابر’ ننگے
اشکالی تبدیلیاں
رچیا’ دلے’ راکھی’ دے’ بھکے
دلے
دل میں’ کے لیے ے کا اضافہ۔ لفظ دل لے ہے’ لام مشدد ہے۔ لفظ دلے میں’ دل واضح آواز میں ہے اور یہ اردو والوں کے لیے غیرمانوس نہیں
دے
کاف کا تبادل د ہے۔
راکھی رکھوالی
رکھ رکھنا سے ہے اور رکھنا تحویل کے لیے بھی ہے۔
بھکے بھوکے
بھکے میں واؤ کی آواز گرائی گئی ہے۔
تھیں
تھیں مترادف سے
چنگے
چنگ سے ترکیب پایا ہے اور یہ لفظ’ پنجابی نہیں۔ چنگڑ ایک قوم بھی ہے۔
رچیا
رچ بس جانا
رچنا بسنا
نفس شیطان نیں بیلی تیرے’ دنیا تیری حور
کھوتے گھوڑے اک برابر’ پٹھے نیں دستور
صدیاں سولی تے ٹنگے بندے بےقصور
ظلم’ ستم تے جبر قہر دی ہر پاسے للکار
مالک دے دربار جانا مالک دے دربار
صوفی نیامت علی
اردو میں مستعمل لفظ
نفس’ شیطان’ تیرے’ دنیا’ تیری’ حور’ گھوڑے’ اک’ برابر’ دستور’ صدیاں’ سولی’ بےقصور’ ظلم’ ستم’ جبر’ قہر’ ہر’ للکار’ مالک’ دربار’ جانا
بیلی
بیلی میں بے سین کی اور ی حے مقصورہ ہ کی متبادل آوازیں ہیں گویا یہ لفظ اپنی اصل میں سہیلی ہے۔ یہاں ہمارے ہاں سہیلی عورتوں کی باہمی دوستی اور بیلی مردوں کی باہمی دوستی کے لیے مستعمل ہے۔
بندہ
بندہ کی پنجابی میں جمع بندے ترکیب دیتے ہیں اور اردو میں لفظ بندے غیر مانوس نہیں۔
بندہ’ خاوند کھسم کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اردو میں’ مکتوبی صورت خصم ہے اور اس کے عربی معنی دشمن ہیں۔ دشمنی کے لیے خصومت ہی مستعمل ہے۔
تے’ دے
تے’ دے: تے اور دال کاف کی متبادل آوازیں ہیں۔
پشتو
وړم مســــتقبل ته د مـاضي روايات
زه د خپل حـال د ولـــولـو ســره ځم
بابا غنی
اردو میں مستعمل لفظ
وړم’ مســــتقبل’ مـاضي’ روايات’ حـال’ ولـــولـو
سرائیکی
کیا شئے ہئی اوقات’ اڑائیں رکھ آیاں
میں تاں اپنی ذات اڑائیں رکھ آیاں
اقبال سوکڑی
کیا شئے ہے اوقات’ وہاں رکھ آیا ہوں
میں تو اپنی ذات وہاں رکھ آیا ہوں
اردو میں مستعمل لفظ
کیا’ شئے’ اوقات’ رکھ’ اپنی’ میں’ ذات
اوقات’ اردو میں بھی وقعت اور حیثیت کے لیے مستعمل ہے۔ مثلا اپنی اوقات میں رہو۔ یعنی اپنی حیثیت میں رہو۔
آیاں
آیاں: میں ں حشوی نہیں’ بل کہ ہوں کے لیے ہے۔ اس میں ہو گرا دیا گیا ہے اور ں ہوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔
اڑائیں: اڑائی’ دور کر دی’ ترک کر دی’ گزار دی’ توجہ نہ دی۔ مثلا اس نے میری بات ہوا میں اڑا دی۔ ں کا حشوی استعمال ہوا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔
یہاں مراد وہاں ہے یعنی جہاں تھا’ وہیں۔
رکھ آیاں: بامعنی رکھ آیا ہوں’ عام استعمال کا محاورہ ہے۔
تاں: تو
ہئی ہے کا مترادف ہے۔
سندھی
وحدتاں کثرت تی’ کثرت وحدت کل
حق حقیقی ھیکثرو’یو لایئی می پل
ھو ھللا چوھل’ باالله سندوسحیٹین
شاہ عبد الطیف بھٹائی
اردو میں مستعمل لفظ
کثرت’ کثرت’ وحدت’ کل’ حق’ حقیقی’ باالله
ھو ھلا چوھل’ معروف مہاورہ ہے۔ جب وحدت میں کثرت یا کثرت میں وحدت کا چرچا ہو تو حال کا آنا اور ہونا فطری سی بات ہے۔ کمال کے لیے عش عش یا واہ واہ کا منہ سے نکلنا اختیاری نہیں۔ انصاف کا تقاضا بھی یہ ہی ہے۔
چے’ تے اور سین کی متبادل آواز ہے۔
ھو ھلا تو ھل’ ھو ھلا سوھل
سندوسحیٹین: فقط الله ہی ہے جب عرف میں آئے تو اس سے خرابی ختم ہوگی تو سندوسحیٹین یعنی امن امان حسن بہتری وغیرہ تو گی۔ یہ ہی تو حق اور سب سے بڑی سچائی ہو گی۔
وحدت اں ھی کثرو: اکائی اپنے اندر بہت کچھ رکھتی ہے۔ تاثیر’ کمال تصرف کی بےشمار صورتیں۔ یعنی وہ ایک ہے اور وہ ایک اپنے باطن میں بہت کچھ لیے ہوئے ہے۔ ان کا اظہار بھی کثرث میں آئے گا۔ اظہار کی کثرت احد پر سند ہو گی۔ کثر ث سے ہے نہ کہ سین سے۔ ث جمع کے لیے ہے اور سین نفی کے لیے۔
عربی
مرُیدیِ ھَمّ وَ طبِ واشطحْ و غَنّی
وَاَفعَلْ ماَ تَشَا فَا لاسمُ عَالی
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
اردو میں مستعمل لفظ
فعَلْ مرُیدیِ’ و’ طبِ’ عَالی’ غَنّی
لاسمُ: اسم
فارسی
خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
امیر خسرو
اردو میں مستعمل لفظ
خدا خود میر مجلس اندر لامکاں خسرو’ محمد’ شمع’ محفل’ شب جائے’ کہ
بود’ من’ بودم
جائے جائے نماز’ جائے پناہ
جا ہرجا
اے محقق ذات حق با صفات
بے تجلی ہیچ کہ اظہار نیست
لعل شہباز قلندر
اردو میں مستعمل لفظ
اے’ محقق’ ذات’ حق’ باصفات’ بےتجلی’ ہیچ’ کہ’ اظہار
نیست
نیستی کا مارا عمومی استعمال میں ہے تاہم مفاہیم بدل گیے ہیں اور یہ کوئی انوکھی اور الگ سے بات نہیں۔ غریب مفلس’ خصم خاوند’ رقم پیسوں وغیرہ ایسی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ نہوست کے حوالہ سے بھی’ لفظ نیستی بولا جاتا ہے’ تاہم نہی اور بےکار کے زیادہ قریب ہے۔
با اور بے’ دونوں سابقے اردو میں باکثرت استعمال میں آتے ہیں۔ مثلا
با: باکردار’ باہوش’ بامعنی
بے: بےکار’ بےوقوف’ بےمطلب
گوجری
شعراں کا یہ منکا موتی دل تروڑ بنایا
تند پریمی وچ پرویا بنیا غزل نمونا
رفیق شاہد
اردو میں مستعمل لفظ
کا’ یہ’ منکا’ موتی’ دل’ بنایا’ تند’ غزل’ نمونا’ پریمی
شعراں’ تروڑ’ پریمی’ وچ’ بنیا
تروڑ: توڑ یہاں مراد توزنا نہیں ہے بل کہ متاثر کرنے کے لیے ہے۔
پرویا: مراد پرو دیا۔ پرویا اردو والوں کے لیے اجنبی اور غیر مانوس نہیں۔
وچ: میں’ اندر
شعراں: شعروں’ جمع بنانے کے لیے واؤ کا تبادل ایف ہے اور یہ فارسی طور ہے۔ مثلا
چراغ سے چراغاں
ذوق قدح سے بزم’ چراغاں کیے ہوئے
پریم سے پریمی’ ی کا اضافہ کرکے مفہوم سے لیا گیا ہے تاہم اس سے مراد’ پریم کرنے والا ہے۔ اس لفظ کی بنیادوں میں مفہوم محبت ہے’ یہاں بھی محبت کا عنصر غائب نہیں۔
اردو میں یہ لفظ نامونوس نہیں۔
نمونا کو حائے مقصورہ کے ساتھ بھی لکھا جاتا ہے۔ نمونہ۔ حائے مقصورہ کا الف میں تبادل یا الف حائے مقصورہ میں تبادل کوئی نئی بات نہیں۔ مثلا پتا پتہ’ راجا راجہ’ پہرا پہرہ وغیرہ۔ آواز کے مطابق تجلی سے تجلا’ فاصلا فاصلہ’ حوصلا حوصلا
بنیا میں’ ی کا حشوی استعمال ہوا ہے’ ورنہ بنیا بھی ناموس نہیں۔
ہندکو
اندر یاداں کہر مچایا
دوروں دوڑ کے نہیری آئی
اجمل نذیر
اردو میں مستعمل لفظ
اندر’ مچایا’ دوڑ’ کے’ آئی
یاداں’ کہر’ دوروں’ نہیری
یاداں
یاداں یادیں’ یادوں
دوروں: دور سے
نہیری: آندھی
کہر
ق کے لیے’ ہم صوت ہونے کے سبب’ ک بھی مستعمل ہے. جیسے قصور رومن میں کے سے رواج میں ہے’ جب کہ ق کے لیے کیو اور یہ آواز موجود ہے. قبر’ صوت میں کبر بھی سننے کو ملتا ہے’ جب کہ زیر کی صورت میں’ مفہوم کچھ اور ہو جاتا ہے۔ قابض کے لیے کابض بھی سننے کو ملتا ہے۔
یاداں
یاداں میں واؤ کی متبادل آواز الف سے کام لیا گیا ہے۔
مخلوط
انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جاناں
امام احمد رضا خاں بریلوی
انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم
اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم
دو بوند ادھر بھی گرا جانا
انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم
فی
فی: اردو میں بھی مستعمل ہے۔ جیسے فی الوقت’ فی زمانہ’ فی کس۔ تینوں کی استعمالی استعمالی صورتیں’ الگ تر ہیں۔
عَطَش
ع کی متبادل آواز ت ہے۔ جیسے تش پیاس کے لیے ہے اور پیاسے کو تشنہ کہا جاتا ہے۔
و
و: شب و روز
سَخَاک
سَخَا: جود و سخا
اَتَم: اتمام حجت اردو میں مستعمل ہے۔
برسن ہارے رم جھم رم جھم
برسن برسنا
اردو میں ہارے عمومی استعمال میں نہیں’ ہاں البتہ اردو گیتوں میں’ اس سے بہت سے لفظ’ پڑھنے اور سننے کو مل جائیں گے۔ لے اور اسلوبی اعتبار سے’ یہ نعتیہ کلام’ صنف گیت سے قریب ترین ہے’ اس لیے یہ لفظ متن میں اپنے مفاہیم واضح کر رہا ہے۔ مرکب رم جھم’ ہارے اور برسن کے مفہیم تک رسائی میں معاونت کر رہا ہے۔
اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
یہ ٹکڑا’ باطور فارسی داخل متن ہے’ جب کہ اردو والوں کے لیے نیا نہیں’ بل کہ اردو کا ہی معلوم ہوتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close