ادبدیگر نثری اصناف

اردو ناول: نذیر احمد سے پریم چند تک ایک سرسری جائزہ

چوہدری امتیازاحمد

 تاریخ شاہد ہے کہ زمانہ قدیم میں لوگوں کے پاس فرصت زیادہ تھی۔ لوگ وقت گزاری کے لئے خیالی قصے کہانیاں سنتے سناتے ۔ شہر کے کسی میدان میں یا گاؤں میں کسی کے گھرمیں جمع ہوکر سب لوگ باری باری اپنی کہانیاں پیش کرتے اور ان سے لطف اندواز ہوتے تھے ۔ اردونثر کاآغاز داستان سے ہی ہواہے داستان کی خامی یہ تھی کہ اس میں خیالی قصے پیش کئے جاتے جن کا حقیقت سے کوئی میل نہیں ہوتا۔ ناول کی وہ خصوصیات جو بادی النظر میں اسے داستان سے ممتاز کرتی ہیں حقیقت نگاری کردار کی اہمیت اورفلسفیانہ گہرائی ہے۔ حقیقت اگرچہ کسی نہ کسی  داستان میں بھی موجود ہے مگر مجموعی اعتبار سے  داستان میں محیر العقول واقعات  وکردار پیش کئے جاتے ہیں جن کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ اس طرح وہاں عام حقیقتوں کو بھی تخیلی دنیا میں اس طرح پیش کیا جاتاہے کہ نہ صرف ان کی اصلیت مجروح ہوجاتی ہے بلکہ ان کا ایک رخ ہی سامنے آتا ہے ۔ اس کے برعکس ناول میں تخیل اس دنیا کی حقیقتوں کی بازیافت یا ممکنہ ترتیب وتشکیل کے فرائض انجام دیتا ہے ۔ناول میں  توجہ کا مرکز کردار ہوتے ہیں جن کا تعلق اسی دنیا کے جیتے جاگتے انسانوں سے ہوتاہے اس میں واقعات اگرچہ کردار کے تابع ہوتے ہیں لیکن ان کے مابین ایک قابل شکست رشتہ موجود رہتا ہے۔

 اردوناول کی  بنیاد نذیر احمد کے ناول مراۃ العروس سے پڑی جو 1869 میں لکھا گیا ۔ اگرچہ اس سے پہلے مولوی کریم الدین’’خط تقدیر‘‘ لکھ چکے تھے اورمختلف ناقدوں نے اس کو ناول مانا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’خط تقدیر‘‘ناول پر کھرا نہیں اترتا۔ اس میں ان اجزائے ترکیبی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے اسے پہلا ناول تسلیم نہیں کیا گیا۔ مولوی نذیر احمد کا ناول’’مراۃ العروس‘‘ انہوں نے اپنی بیٹی کے لئے لکھا نذیر احمد جب یہ قصہ لکھ رہے تھے تب انہیں یہ معلوم نہیں تھاکہ وہ اردو کا پہلا ناول لکھ رہے ہیں ۔ انہیں اپنی تصانیف کی طباعت کا شوق بھی نہیں تھا۔اتفاقاً نذیر احمد ملازمت کے سلسلے میں کسی دور پر تھے ۔ وہیں ناظم تعلیمات بھی اپنے کسی کام کی وجہ سے آئے تھے ۔ صبح جب وہ سیر کونکلے تو نذیر احمد کے فرزند بشیر بھی ان کے ساتھ نکلے ناظم تعلیمات کمپسن نے چند پند اورمراۃ العروس کے نام بتائے ۔ چند بند نذیر احمد نے اپنے بیٹے کے لئے ایک کتاب لکھی تھی۔ مسٹر کمپسن نے جب ان کتابوں کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے بشیر سے کتابیں لے کر اپنے پاس رکھ لیں دوسرے دن جب مسٹر کمپسن سے نذیر احمد کی  ملاقات ہوئی تو انہوں نے نذیر احمد کے ناول کی اشاعت کا مشورہ دیا۔ نذیر احمد کو اس ناول کی اشاعت پر ایک ہزار کا انعام ملا۔اور اس کی دوہزار جلدیں حکومت نے خریدلیں خود نذیر احمد کے الفاظ میں ’’شیر کے منھ کو خون لگ گیا‘‘ یعنی انہیں انعام ملا وہ خوش ہوئے اور مزید ناول لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے چھ ناول اور لکھ ڈالے ۔ نبات النعش(1872ئ)، توبتہ النصوح(1877)،فسانہ مبتلا(1885)، ابن الوقت(1888)،  ایامی (1891) اور رویائے صادقہ (1894)۔

 نذیر احمد کے قصوں میں حقیقت نگاری کا یہ جذبہ زندگی کی تصویر کشی کارجحان اس کاارضی اور حقیقی فضا ٹھوس حقیقتوں کا معروضی بیان اور ہم اور آپ سے ملتے جلتے کر دارپیش کرنے ک احساس کسی اتفاقی حادثہ کانتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک طویل عمل اوران کے فنی شعور کا مرہون منت ہے افسانہ کی دنیا میں یہ شعور پہلی مرتبہ نذیر احمد کے ناولوں میں سامنے آیا تھا۔ اس اعتبار سے نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں ۔

نذیر احمد کے بعد پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اس روایت کو آگے بڑھایا ۔ ان کے ناولوں کی فہرست حسب ذیل ہے ۔

 جام سرشار ، سیرکہسار ، خدائی فوجدار، کامنی ، پی کہاں ، رنگ سیاہ ، طوفان بے تمیز، کڑم دھڑم ، شمس الضحیٰ، فسانہ آزاد بچھڑی دلہن وغیرہ

 سرشار نے ’’زندگی کے پھیلاؤ اور اس کی گہرائی کا احاطہ کرنے کی طرح ڈالی۔ گو انہوں نے  صرف لکھنؤ کے معاشرے اوراس کی زندگی کو پیش کیا ہے لیکن اس معاشرے کی یہ ایسی مکمل اورجامع تصویر ہے کہ اس میں زندگی کا ہر پہلو ملتا ہے ہر جذبہ ملتاہے ۔ اس میں محلوں سے لے کربازار تک زاہدان خشک سے رنگین مزاجوں تک ، بیگمات سے لے کرمہریوں تک ،  حرم سراؤں سے کوٹھوں تک ، معشوق اور عشق پیشہ کی عیاشیوں سے لے کر حسن پردہ نشین کی سادہ پرکاریاں تک ، ہر مقام اور ہر شخص کا حال سچا بھی ہے اور دلآویز ہے اس طرح سرشار کے ہاں ’’دیوزادوں کی وسعت خیال ملتی ہے زندگی کے مختلف  پہلو سرشار اسلئے پیش کرنے میں کامیاب ہوسکے کہ وہ خود ایک رند مشرب آدمی تھے ۔ انہوں نے ہررنگ اور ہر صحبت کو دیکھاہے  دراصل سرشار کی کامیابی کی گواہی’’فسانۂ آزاد‘‘ کے ڈھائی ہزار صفحات ہیں ۔ سرشار کی مقبولیت دیکھ کر اہل قلم کا ایک گروہ ناول کی کاکل آرائی کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اس مشاطگی میں شہرت حاصل کی مولانا عبدالحلیم شرر، محمد علی طبیب، سجاد حسین، مرزا عباس حسین ہوش اورمرزا محمدہادی رسواؔ خاص طورپہ قابل ذکر ہیں ۔

عبد الحلیم شرر کی ناول نگاری 1885سے شروع ہوکر 1925ء پر ختم ہوتی ہے۔1885ء میں انہوں نے اپنا پہلا ناول دلچسپ لکھا ۔ پہلا تاریخی ناول’’ملک العزیز ورجینا‘‘1888ئ، ’’حسن انجلینا‘‘1889ئ، ’’منصور وموہنا‘‘1890ئ، ’’قیس ولبنیٰ‘‘1891ء ،1892سے 1896ء تک ’’دلکش ‘‘،’’یوسف نجمہ‘‘اور ’’فلورافنڈا‘‘ لکھے ۔ 1898ء میں ایام عرب کا پہلا حصہ 1899ء میں ’’فردوس بریں ‘‘اور1900ء ایام عرب کادوسرا حصہ اور مقدس نازنین لکھے ۔ اس کے علاوہ ان کے ناولوں میں فلپانہ1910ء ماہ ملک 1910غیب داں دلہن1911ء زول بغداد1912ء ، عزیز مصر1913ئ، حسن کا ڈاکو1913ء پہلاحصہ رومتہ الکبری1913ء حسن کاڈاکو1914ء دوسرا حصہ ۔ اسرار دربارحرام پور1914ئ، بابک خرمی بدرالنساء کی مصیبت آغا صادق کی شادی مینابازار1925ء کے نام سے تحریر کیا جوشائع نہ ہوسکا اس کا مسودہ ادارہ فروغ اردو لکھنؤ کے پاس موجودہے ۔ شررنے تاریخی ناول لکھ کر نہ صرف ناول کی ایک روایت قائم کی بلکہ ان کی وجہ سے افسانوی ادب کادامن ماضی کے تاریخی مواد سے پرُ ہوجاتاہے اور  قصہ گوئی پلاٹ سازی کی روایات کے علاوہ مکالمہ نگاری۔ بیانیہ نگارش ۔ منظر نگاری کو ناول کاجزُ بناتے ہیں اوراپنے پیش رو ناول نگاروں کے مقابلے میں فن کے زیادہ بہتر اورمکمل نمونے پیش کرتے ہیں اور مغربی صنف ادب کو مشرقی مزاج کے سانچوں میں ڈھال کرایک نئی  راہ نکالتے ہیں اس اعتبار سے ان کی اہمیت ہردورمیں مسلم رہے گی۔

 شرر کے مقلدین میں محمد علی طبیب کانام آتا ہے طبیب نے بھی شرر کی طرح معاشرتی اورتاریخی ناول لکھے ہیں  ان کا پہلا ناول جعفر وعباسہ ہے ۔ طبیب کے دوسرے ناول خضر خان ویول دیولالوی میں علاؤ الدین خلجی کے زمانہ کے ایک تاریخی واقعہ خضر خان ویول دیولالوی کے واقعات عشق کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ طبیب کاتیسرا ناول رام پیاری ہے ان کے دوسرے ناولوں میں نیل کا سانپ ، عبرت حسن اور سردار اختر وغیرہ ہیں ۔ مجموعی اعتبار سے اگر طبیب کے ناولوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کے یہاں فنی شعور کے گہرے نقوش کہیں نظر نہیں آتے  ان کے ناولوں کے قصے اوسط درجہ کے پلاٹ سیدھے سادے پیچیدگیوں سے عاری ۔ ڈھیلے ڈھالے اور سپاٹ ہیں ۔ اور نہ ہی ان کے یہاں کوئی ایسا کر دار ہے جو زندہ رہ سکے طبیب کے ناول کواب پڑھنے والا کوئی نہیں ہے ا ن کے ناولوں کاذکر صرف کتابوں تک ہی محدود ہے۔

 منشی سجاد حسین کے ناولوں میں حاجی بغلول ، احمق الذین، کایا پلٹ اور میٹھی چھری شامل ہیں یہ تمام ناول 1902ء سے پہلے چھپ چکے تھے جیسا کہ ذکر کیا جاچکاہے۔ یہ ناول اپنے مختلف موضوعات نئے تصورات اور رجحانات کے لحاظ سے بیسویں صدی کی ناول نگاری کی اہم خصوصیات اپنے اندر رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے ناول اب تک صرف  مزاحیہ سمجھے جاتے رہے ہیں ۔ علی عباس حسینی نے ان کے ناولوں کو اَلۂ تفریح وتفنن سمجھتے  ہیں ۔ ڈاکٹر احسن فاروقی کہتے ہیں کہ ان کے ناولوں کے کردار ہمیشہ ہنساتے رہیں گے ۔ ان دونوں سے آگے بڑھ کر سہیل بخاری یہ کہہ جاتے ہیں کہ ’’سجاد حسین کا مقصد ہنسنے ہنسانے کے سوا کبھی کچھ اور ہوتا ہی نہیں ۔‘‘کچھ حد تک یہ اعتراض بجا بھی ہے لیکن اس کے علاوہ بے شمار خصوصیات ایسی ہیں جو انہیں دیگر ناولوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔

 قاری سرفراز حسین عزمی دہلوی بھی ان ناول نگاروں میں سے ہیں جو  باوجود اردوناول نگاری کو بہت کچھ دینے کے مؤرخین اور ناقدین کی بیگانہ وشی کے شکار ہیں اس میں شک نہیں کہ شاہد رعنا کے سوا کوئی بھی دوسرا ناول ایسانہیں ہے جو اہمیت رکھتا ہو لیکن خود شاہد رعنا انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے ان کے دوسرے ناولوں میں سعید ، بہار عیش، ممتاز عیش، سراب عیش، سزائے عیش شامل ہیں ۔

مرزا عباس حسین ہوش کے دوناول ربط ضبط اور افسانہ نادر جہاں ، زیادہ مشہور ہیں ۔ المیمون 1904ء بھی ان کا غیر معروف ناول ہے۔ علی عباس حسینی نے اپنا ناول سرسید احمد پاشاہ خاف کی پری 1919 لکھا۔ ناول کے ہیرو سیرسید احمد پاشا یا خاف کی پری1919 لکھا۔ ناول کے ہیرو سرسیداحمدپاشاہ اور ہیروئن طیبہ کے جذبات کو ناول نگار نے بع جگہ بڑی عمدگی سے پیش کیا ہے اس ناول کابہتر حصہ وہی ہے جس میں ان دونوں کی محبت دکھائی گئی ہے۔ اس لئے مجموعی طورپر ’’سرسید احمد پاشا‘‘کو کامیاب ناول نہیں کہاجاسکتا۔

 مرزا محمد ہادی رسوا کاناول کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں ہندوستانی ذہن زندگی کی ایسی نہج پر پہنچ جاتا ہے  جیسے نئے سفر کا لفظہ آغاز کہہ سکتے ہیں اس میں بھی داخلی اور خارجی قوتوں کی تحقیق و تلاش کاکام حقیقت پسندانہ انداز میں کیاجانے لگتا ہے۔ ذہن کی اس تبدیلی کا آغاز سب سے پہلے مرزا محمدہادی رسوا کے ناولوں میں ہوتا ہے ۔

اس تلاش وتحقیق کے لئے رسوا نے ناول نگاری کا سہارالیا اوراپنا پہلاناول ’’افشائے راز‘‘ کے نام سے لکھاجواپریل1896ء میں شائع ہوا لیکن یہ ناول نامکمل رہا۔ رسوا اس ناول میں صرف ایک راز افشا کرکے رہ گئے اوران کاذہنی عمل اور فکری کاوش پوری طرح ابھر کر منظر عام پر نہیں آسکی اس تشنگی کو دورکرنے کے لئے انہوں نے اپنادوسراناول امراؤ جان اور تصنیف کیا جو ان کا نمائندہ ناول ہے۔

’’امراؤ جان ادا‘‘ پہلاناول ہے جس کے ساتھ اردوناول عہد جدید میں داخل ہوتاہے اور کشمکش وآویز ش کی نو عیت میں تبدیلی آئی ہے خارجی عناصر کے ساتھ داخلی عناصر کو بھی ناول میں شامل کیاجاتا ہے ۔ رسوا کے ناول افشائے راز اور امراؤ جان ادا کو پڑھنے کے بعد یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ کسی طوائف نے مرزا کومتاثر کیاہے ممکن ہے کہ لکھنؤ کی مشہور طوائف امراؤ جان ہی نے ان کو متاثر کیاہو۔ اس ناول کی کامیابی کاراز رسوا کی اپنی شخصیت اورذات کا وہ اظہار ہے جو وہ سب سے مخفی رکھنا چاہتے تھے ۔ نام نہاد امراؤ جان  ادا کے کہنے کے مطابق ’’یہ وہ شخص ہیں جو اپنا نام تک لوگوں سے چھپاتے ہیں ‘‘ اس ناول کے کرداروں میں کوئی کردار غیرفطری نہیں سب ایسے ہیں جیسے ہم آپ  روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں ۔ پھر بھی ان میں سے امراؤ جان ادا خانم اور گوہر مرا کے کردار ضرور ایسے ہیں جو مدت العمر نہیں بھلائے جاسکتے رسوا نے اس ناول میں اپنی شخصیت کو داخل کرکے بڑا فائدہ اٹھایا ہے پوری تصنیف حقیقت کا آئینہ  ہوگئی ہے۔

رسوانے اپنا تیسرا ناول’’ذات شریف‘‘1900ء میں پیش کیاہے اس کے پس منظر میں وہ لکھنؤ تہذیب ومعاشرت کے مختلف پہلوؤں تعیش پسندی ملاسیانوں کی عیار ما ماؤں کی سازشوں وغیرہ کے جیتے جاگتے مرقع پیش کئے ہیں ۔

ان کاچھوتھا ناول شریف زادہ 1900ء میں شام اودھ لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اس ناول میں سوانحی اندازمیں عہد جید کے ایک ایسے انسان کوپیش کیا جس کے لئے بے مشقت دولت ہاتھ آنے کے لئے تمام ذرائع مسدود ہوچکے ہیں لیکن عمل کے دروازے کھل گئے ہیں اور وہ اب تمام قوتوں کو مجتمع کرکے قسمت اور سماج کو شکست دیتاہے ۔ اوراپنے لئے ایک نئی حکم بناتا ہے۔

ان کے دوسرے ناولوں میں اختری بیگم1924ء کو بہرام کی رہائی خونی عاشق ، خونی بھید اور طلسمات وغیرہ ہیں ۔ مرزا رسوا حالانکہ شاعر بھی تھے لیکن ان کی شاعری میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ لوگوں سے یاد رکھتے ۔ البتہ ناول نگاری کی حیثیت سے ان کانا م اردو ادب میں  ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

 اس عہد میں اور بھی بے شمار ناول لکھے گئے لیکن ان کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوا ۔ان ناول نگاروں کے نام درج ذیل ہیں ۔سجاد حسین انجم کا ناول نشتر ، آغا حشر کے ناول ہیرے کی کنی 1900ء ، ناہید ،ارمان ، نقلی تاجدار وغیرہ راشد الخیری کے ناول صبح زندگی 1907شام زندگی۔ جوہر قدامت ، ستونتی ، سوکن کاجلاپہ ، شب زندگی وغیرہ ہیں ۔

 مرزا محمد سعید کے ناول خواب ہستی 1905ء پہلاناولٹ ۔ دوسرا ناولٹ یاسمین1908ء ہیں ۔ نیاز کے ناولٹ ایک شاعر کاانجام1913ء پہلا ناولٹ ، شہاب کی سرگزشت ناولٹ۔ کشن پرشاد کول کے ناول شاما، محمد سجاد مرزا بیگ کے دو ناول دلفگار اور تمنائے دید ، محمدامجد حسین المعروف خواب کلکتہ ، یہ ہمایوں مرزا وغیرہ ہیں ۔

ناول کے ارتقاء میں پریم چند کی خدمات کو فراموش نہیں کاجاسکتا ۔ پریم چند سے قبل نذیر احمد، سرشار ، شرر اورمرزا رسوا نے اردو ناول کے فروغ میں اہم روال ادا کیا ہے ۔ پریم چند اردوناول میں ایک عہد کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ پریم چند کے ناولوں میں وہ تمام رجحانات کسی نہ کسی صورت میں نمایاں ہوتے رہے ہیں جو ابتدائی بیسویں صدی سے 1936ء تک اردوناول میں رہے اس طرح ان کی ناول نگاری ایک عہد کی عکاسی کرتی ہے ۔ یوسف سرمست نے بجا فرمایا ’’پریم چند نے ساحل سے طوفان کا نظارہ نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے طوفان کے تھپیڑے بھی کھائے تھے ۔‘‘

پریم چند کو شروع سے ہی ہندوستان کے محنت کشوں اورکسانوں کی خستہ حال زندگی کی فکر تھی۔ ان کی زندگی ہندوستان کے سیاسی ، سماجی اورمعاشرتی حالات کے طوفان سے عملی طورپر نبر د آزما ہونے میں گزری ملکی اورقومی معاملات سے وابستگی کا نتیجہ تھا کہ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’سوز وطن 1908ء انگریزی حکومت کو اس قدر پریشان کردیتا ہے کہ حکومت اسے ضبط کرلیتی ہے اس وجہ سے ’’نواب رائے‘‘ کو پریم چند کانام اختیارکرنا پڑا۔لیکن اس واقعہ کے بعد بھی پریم چند  اپنے ناولوں کے ذریعہ ملکی اور قومی خدمات انجام دیتے رہے ۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ہندوستان کی آبادی کا بڑا حصہ محنت کشوں پرمشتمل ہے جو بارہ گھنٹے کام کرنے یا محنت کرنے کے بعد یا تو ناول ہی پڑھ سکتاہے یا کچھ بھی نہیں پڑھتا۔ اس لئے پریم چند نے ناولوں کے ذریعے سیاسی ، سماجی اورمعاشی مسائل پیش کئے ۔ پریم چند کے دل میں ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ تھا۔ انہوں نے جلد ہی ملازمت سے استعفیٰ دے کر1921ء عدم تعاون کی تحریک میں حصہ لیالیکن چونکہ ان کی تربیت کتابیں لکھنے اور صحافت پر محدود تھی۔ اس لئے وہ اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ ملکی وقومی حالات کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں شریک ہوجاتاہے ۔

پریم چند کے ناول میں اردوناول کے کم وبیش تمام مختلف اورمتضاد رجحانات سخت آئے ہیں ۔اس لئے ان کے پاس رومانیت بھی ہے حقیقت نگاری بھی ان کا پہلا ناول’’اسرار معابد‘‘1903ء تا1905 ہندوستان میں مذہبی اورسماجی اصلاحی کوششوں کو ظاہر کرتاہے۔ اسرار معابد کا موضوع مذہبی پیشواؤں کی وجہ سے جو معاشر کاخرابیاں ہیں ان کا پردہ چاک کرنا تھا۔1906ء میں اپنا ناول  ہم خرما و ہم ثواب لکھ ڈالا جس میں معاشرتی اصلاح کو موضوع بنایا جاتا ہے ۔ ان کا ایک اورناول کشنا1908ء میں لکھا گیا۔ جلوہ ایثار 1912ء میں لکھا گیا جس کا موضوع دیہاتوں اور کسانوں کی زندگی ہے ۔ جلوہ ایثار کے بعد بازار حسن1916 میں لکھنا شروع کیا ’’بازار حسن‘‘ کا موضوع ایک بار پھر سماجی اصلاح بن گیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہندوستا ن کی سیاسی فضا بڑی حدتک پر سکون تھی اور ملک وقومی معاملات میں اصلاحی کاموں پر زیادہ توجہ کی جارہی تھی۔ اسی وجہ سے بازار حسن میں سماجی اصلاح اورخاص طورپر یہ عورتوں کے سماجی مسائل کو موضوع بنایاہے ۔

 بازار حسن کے بعد پریم چند ’’گوشہ عافیت‘‘سے اپنے فن کے شباب پر پہنچ جاتے ہیں ۔ پریم چند نے یہ ناول2مئی1918سے لکھنا شروع کیا تھااور25فروری1920کو اس کو ختم کردیاتھا۔گوشہ عافیت کسانوں کی بیداری کی کہانی ہے ۔ نرملا1921ء میں لکھا گیا ایک اور ناول ہے اس میں سماجی مسئلہ کو اپنے ناول کاموضوع بنایا ہے ۔ نرملا کے بعد چوگان ہستی لکھا  یہ ناول یکم اپریل 1924ء کو ختم کردیتے ہیں  نرملا ایک مختصر ناول ہے۔ لیکن چوگان ہستی طویل ناول ہے ۔ چوگان ہستی میں ہندوستانی زندگی زندگی کے سارے پہلو آگئے ہیں ۔ چوگان ہستی پریم چند کا ضخیم ترین ناول ہے ۔ چوگان ہستی ہندوستان کی سیاسی جدو جہد کا مکمل اشاریہ ہے اورگاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کی بھرپور تفسیر ہے۔ عدم تشدد کی وجہ جنگ جو مہاتماگاندھی کی سرکردگی میں ابتداء سے اس ناول کے لکھے جانے تک لڑی گئی اس کی پوری تصویر چوگان ہستی میں ملتی ہے۔

چوگان ہستی لکھنے کے فوراً بعد 10؍اپریل 1924ء کوپردہ مجاز لکھنا شروع کیا اور 31؍جنوری1925ء کو ختم کیا یہ ناول اس وقت لکھنا شروع کیا جب کہ ہندوستان میں سیاسی جدوجہد ۔ داخلی  خلفشار کی وجہ سے سست پڑ گئی تھی پردہ مجاز میں دو کہانیاں ایک ساتھ چلتی ہیں ایک دیوپریاں اور راجہ مہیند کمار کی کہانی ہے اور دوسری منورما اورچکر دھر کا قصہ ہے۔

 پردہ مجاز کے بعد پریم چند نے ’’بیوہ‘‘ لکھا۔ بیوہ اصل میں ’’پرتگیا‘‘ نام سے ہندی میں 1927ء میں شائع ہوا۔ یہ کوئی بالکل نیا ناول نہیں ہے بلکہ مدن گوپال کے الفاظ میں ’’نئی بوتل میں پرانی شراب ہے‘‘ یہ ناول پریم چند کے ابتدائی ناول’’ہم خرما وہم ثواب ‘‘پر استوار کیا گیا ہے ۔

 ’’بیوہ ‘‘ کے بعد پریم چند نے غبن لکھا ۔ غبن بھی ضخیم ناول ہے غبن میں پریم چند کے فنی ارتقاء کے ایک خاص پہلو پرروشنی پڑتی ہے وہ  یہ کہ پریم چند راست طورپر یہ سیاسی ہلچل خود پیش کئے بغیر بھی اس زمانہ کی روح کو اسیر کرلیتے ہیں پریم چند کوناول کے فن پر جو گرفت حاصل ہوگئی تھی یہ اس کی ایک مثال ہے۔

 ’’میدان عمل‘‘پریم چندنے1929ء میں لکھنا شروع کیا اور1931ء میں ختم کیا ۔ اس ناول میں بھی متوسط طبقہ کے نو جوان کا شتکاروں مزدوروں اور دوسرے تمام افراد کی قومی جد وجہد کو پورے فنکارانہ طریقہ سے پیش کردیا ہے۔میدان عمل کے بعد پریم چند نے اپنا شاہگار ناول ’’گئو دان‘مکمل کیا یہ ناول انھوں نے1932ء میں شروع کیالیکن نومبر 1934ء تک بھی اس کے آخری صفحات لکھے جانے باقی تھے اس لئے ان کا خیال ہے کہ یہ ناول پریم چند نے ممبئی سے بنارس آنے کے بعد یعنی1935ء میں مکمل کیا ہوگا۔گئودان میں پریم چند نے کسانوں کے انقلابی شعور کو پیش کیا ہے ہورہی کے کردار میں جو اس ناول کا مرکزی اوراہم کردا رہے کسی قسم کا کوئی بھی انقلابی شعور نہیں ملتا۔گئو دان پریم چند کا فنی معجزہ اس لئے بن گیا ہے کہ اس میں انہوں نے کسانوں کی زندگی کو پیش کرتے ہوئے اس حقیقت کو اتنہائی سلیقہ سے ظاہر کردیا ہ کہ کسانوں کی محنت کے استحصال پر جاگیر دارانہ اورسرمایہ دارانہ نظام قائم ہے اس ناول میں پریم چندنے مجموعی طورپر یہ اس نظام سے بیزار گی کااظہار کیاہے ۔ لیکن جاگیر دارانہ نظام کے لئے وہ اپنے دل میں ہمدردی ضرور رکھتے ہیں ۔ گئودان میں پریم چند کا فن ان کی حقیقت نگاری کی وجہ سے بہت نکھرآیا ہے ۔گئو دان ہر لحاظ سے پریم چند کا ایسا شاہکار بن گیا ہے جس میں ان کا فن اپنی بلند ی کی انتہا کو پہنچ گیا ہے ۔ شاید وہ زندہ بھی رہتے تو اس سے اعلی ٰ فن پارہ تخلیق نہ کرسکتے گو ان کے نامکمل ہندی ناول منگل سوتر کے چار باب ہی لکھے گئے تھے ۔ لیکن اس کے موضوع کو سامنے رکھ کر ڈاکٹر قمررئیس نے یہی اندازہ کیاہے وہ فنی تکمیل کے معیار کے لحاظ سے گئو دان سے بلند نہیں ہوسکتاتھا۔

 مختصراً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ناول کی ابتداء یعنی نذیر احمد سے پریم چند تک اردوناول کا سنہری دوررہاہے ۔ اس عہد کے ناول نگاروں کو اردو ناول نگاری کی تاریخ میں یا آغاز وارتقاء میں ہمیشہ یاد کیاجاتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

چوہدری امتیازاحمد

مضمون نگار الہ آباد یونی ورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Close