ادب

اردو کے ادبی جرائد(1950ء سے 1970ء تک): رجحان اور رویّے

صفدرامام قادری

ادبی رسائل شعر وادب کا نبض پیما ہوتے ہیں۔ان کے دفینوں میں موجو دادبی نمونوں سے ہم آسانی کے ساتھ یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ اس زمانے کا ادب کون سی کروٹ لے رہا ہے اور عمومی یا خصوصی کون سے ادبی رویّے نمودار ہورہے ہیں۔ اس بات کا بھی اندازہ آسان ہوجاتا ہے کہ تخلیق کاروں کی تازہ کار نسل کس طرف رخ کررہی ہے یا ایک خاص زمانے میں مختلف نسلوں کے درمیان تصادمات اور آویزشیں کس حد تک تھیں یا ہیں؟ ادب کے مورّخ کے لیے ادبی رسائل وجرائد سے براہِ راست واقف ہونا اور ان میں شائع شدہ سرمایے کا آزادانہ احتساب کرنا اس لیے بھی لازم ہوجاتا ہے کیوں کہ اس کے بغیر کوئی مورّخ پتا ہی نہیں لگا سکتا کہ شعروادب کا قافلہ کس سمت رواں ہے۔
ہندستان کی ادبی صحافت کی تاریخ یوں تو سوبرس سے اوپر ہوچکی لیکن یہ عجب اتّفاق ہے کہ صحافتی جائزوں میں ادبی رسائل وجرائد کا حصّہ بہت حد تک حاشیائی ہوجاتا ہے۔ ادبی رسائل کی خدمات کے احتساب کے سلسلے سے سرد مہری کے باوجود اس سچّائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صاحبانِ تحقیق وتنقید نے پچھلی دودہائیوں میں ادبی رسائل کی اشاریہ سازی، ان کے انتخابات اور تجدیدِ اشاعت جیسے کاموں کا ایک سلسلہ قائم کررکھا ہے۔ خاص طور سے پُرانے رسائل وجرائد کے اشاریوں یا انتخابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے کیسے گہرہاے آب دار اِن رسائل کے صفحات میں موجود ہیں؟ ادبی تاریخ کی کتنی گُم شدہ کڑیاں ان میں ہماری توجّہ کے لیے منتظر ہیں لیکن یہ مسئلہ پھر بھی قائم ہے کہ قدیم رسائل کی حفاظت کا عمومی انتظام سماج نے سلیقے کے ساتھ نہیں کیا اور اب چنندہ کتب خانوں کے علاوہ ان اہم رسائل وجرائد کے شمارے تقریباً معدوم ہیں۔
ادبی رسائل کی عمر کے بارے میں جب عمومی گفتگو ہوتی ہے تو یہ کُلّیہ مان لیاجاتا ہے کہ یہ رسائل بند ہونے کے لیے ہی نکلتے ہیں۔ واقعہ بھی ہے کہ بلند بانگ دعووں کے ساتھ جن رسائل کا ہم نے پہلے شمارے میں بہت آب وتاب کے ساتھ استقبال کیا تھا، وہ کبھی دوسرے اور کبھی تیسرے چوتھے شمارے میں ہمیشہ کے لیے غائب ہوچکے ہوتے ہیں؟ آج سے ایک صدی پہلے کے منظر نامے پر غور کریں تو ایسا محسوس ہوگا کہ اُس زمانے میں ایسی صورت نہیں تھی یا کم تھی۔ آزادی کے پہلے نکلنے والے اردو کے مشہور ادبی رسائل کی عمر اوسط کے اعتبار سے اکثروبیش تر سو شمارے سے زیادہ ہی ہوتی تھی۔ دل گداز ،مخزن، ادبِ لطیف، نگار، شاعر، ادبی دنیا، ساقی اورنیرنگِ خیال جیسے رسائل کی مقبولیت اور لگاتار نکلتے رہنے کی وجہ شایدآزادی سے پہلے کی وہ ادبی صورتِ حال ہے جس میں اردو کے لیے ایک موافق اور ناگزیر ماحول تھا۔ اُس زمانے کے رسائل اسی لیے پھلے پھولے اور انھوں نے ادیبوں اور شاعروں کی متعدّد نسلوں کی تربیت میں نمایاں حصّہ لیا۔ ان رسائل میں کچھ ایسے جی دار تھے جو اَب بھی حالات کی دھوپ اور چھانوکے باوجود زندہ ہیں۔ ’شاعر‘ اور ’نگار‘ تو اب بھی کسی نہ کسی شکل میں اپنا کام کررہے ہیں۔
لیکن آزادی کے بعد اردو کی ادبی صحافت کے لیے اسی طرح مشکل حالات کا سامنا رہا جس طرح برِصغیر کے باشندوں بالخصوص مسلمانوں کوتقسیمِ ملک کے زیرِ اثر دوچار ہونا پڑا۔ ادبی صحافت کا آزادی سے پہلے مرکز لاہور تھا جو اَب دوسرے ملک کا حصّہ تھا۔ اس صورتِ حال میں 1950ء کے آس پاس ہماری ادبی صحافت نئے سرے سے خود کو کھڑا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مشہور پُرانے رسائل اب دم توڑ رہے تھے یا دم توڑنے والے تھے لیکن مختلف جغرافیائی خِطّوں سے نئے رسائل کا سلسلہ بھی شروع ہورہا تھا۔ اس موقعے سے اردو کے ترقی پسند مصنّفین کی کوششوں سے متعدد رسائل اولاً سامنے آئے۔ اس وقت’ نیاادب‘ کی اصطلاح رائج تھی۔ خود ترقی پسندوں کا ترجمان ’نیا ادب‘ اپنے مخصوص اعتقادات کی وجہ سے ادبی محفلوں میں نرم گرم بحثوں کا مرکز آزادی سے پہلے ہی بن چکا تھا۔ سجاد ظہیر اور جوش ملیح آبادی دونوں اپنے طے شدہ ادبی رویّوں اور سخت گیر گفتگو کے لیے اپنی علاحدہ صحافتی شناخت رکھتے تھے۔ 1936ء کی ادبی صورت حال میں ترقی پسند ادیبوں کے ساتھ ہرنیا لکھنے والا شامل تھا لیکن اُن کی سخت گیری نے دھیرے دھیرے اپنے ساتھیوں کو الگ کرنا شروع کیا۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے اصحاب حقیقت میں ترقی پسندوں کی سخت گیری سے نئی جگہ جمع ہوتے چلے گئے۔ ادبی رسائل اور ادب کی تاریخ پڑھتے وقت 1936ء سے 1950ء کے دوران یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کیسے ترقّی پسندوں کے طوفان کے بیچ میں ہی ایک نیا ادبی رویّہ سامنے آگیا اور اس کے پاس نہ صرف یہ کہ لکھنے والوں کی ایک سرگرم ٹیم موجود ہے بلکہ اسی دوران ایسے ادبی رسائل بھی شائع ہونے لگے جو ترقّی پسندوں سے الگ نئے ادب کے تصوّر کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے اور دوسرے حلقے کے مصنّفین کی پشت پناہی کا فریضہ بھی انجام دے رہے تھے۔
اس عہد کے جدید ذہن کے رسائل کے مزاج کو سمجھنے کے لیے حلقۂ اربابِ ذوق کے پلیٹ فارم سے شعر وادب کی تفہیمِ نو کے اطوار پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ میرا جی اور قیوم نظر کی نظموں کے سالانہ انتخابات نے اردو کے ادبی رسائل کی بالواسطہ تربیت کا کام کیا۔ 1941ء سے سال کی بہترین نظموں کے انتخاب کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے نقّادوں اور مدیروں کو یہ شعور عطا کیا کہ شاعری کا انتخاب کیسے کیا جائے۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے ان انتخابات کے پہلو بہ پہلو متعدّد اداروں نے شعر وادب کے سالانہ انتخابات کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم کردیا جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ حلقۂ اربابِ ذوق کی نشستوں میںپڑھے گئے میراجی کے تجزیے، جو بعد میں ’اس نظم میں‘ کے عنوان سے شائع ہوئے، اس نے ادب شناسی کے نہ جانے کتنے نئے اصول قائم کیے۔ 1950ء کی ادبی صحافت پر غور کرتے ہوئے پس منظر کے طور پر حلقۂ اربابِ ذوق کے انتخابات اور نظمیہ شاعری کے لیے ماحول سازی کے معیار اور مباحث کو سامنے رکھنا لازمی معلوم ہوتا ہے۔ اس عہد کی پروردہ نسل ہی 1950ء کے بعد کے ادبی رسائل میں امتیازی شان سے اپنی شناخت قائم کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے1950ء سے 1970ء کے بیچ کے رسائل کی یہ گفتگو حلقۂ اربابِ ذوق کی پسندیدہ بزم سے شروع کی جاتی ہے جس کی بہترین مثال صمد شاہین کا پرچہ ’نیادور‘ تھا۔
’نیا دور‘ کئی بار نکلا اور صمد شاہین اور ممتاز شیریں کی ادبی ژرف نگاہی کا شناخت نامہ بن کرادبی تاریخ کا حصّہ بنا۔ آزادی سے پہلے ہی نیا دور کی اشاعت شروع ہوچکی تھی اور ترقّی پسندوں سے الگ ادبی رویّے کی آنچ اس کے صفحات پر محسوس ہونے لگی تھی۔ ’ٹیڑھی لکیر‘ کی اشاعت ایک بڑا ترقی پسندانہ واقعہ تھا اور اس وقت شاید ہی کسی کو ہمّت ہو کہ اس پر بعض پہلوئوں سے معترضانہ گفتگو کرے۔ لیکن ’نیا دور‘ نے عزیزاحمد کا جو تفصیلی تبصرہ شائع کیا، اس میں عصمت چغتائی کے تعلّق سے سخت باتیں بھی درج تھیں۔ عزیز احمدنے لکھا تھا:
’’جہاں جہاں مصنّفہ نے زندگی کی سچّی تصویریں کھینچی ہیں، جہاں جہاں اس نے طنز اور بے دردی سے توّہمات اور تعصبات کے پردے چاک کیے ہیں، جہاں جہاں اس نے جنسی نہیں بلکہ ذہنی بغاوت کی ہے، وہاں یہ ناول تحسین کے قابل ہے ۔۔۔۔۔ جنس ایک مرض کی طرح ان کے ذہن کے اعصاب پر چھائی ہوئی ہے (؟)۔ اس ناول میں ترقّی پسندی کا ذکر جابہ جا ہے مگر پڑھ کر سب سے زیادہ افسوس ناک احساس یہی ہوتا ہے کہ یہ ناول ترقی پسند نہیں۔ ہرزاویے سے رجعت پسند ہے۔ ذہنی انتخاب کی جوموڑآتی ہے(؟) اس پر غلط سمت میں مصنّفہ نے قدم اٹھایا ہے۔‘‘
آج جب دریا کا بہت سا پانی بہہ چکا ہے، ہمیں عزیز احمد کی بات اچھّی خاصی معروضی، منصفانہ اور درست معلوم ہوتی ہے لیکن ترقّی پسندی کے شوروغوغا والے دور میں ان باتوں کا بَرملا اظہار ایک بڑا واقعہ تھا۔ یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ابھی عزیز احمد بھی غیر ترقّی پسند نہیں ہیں، اسی لیے ترقی پسندی، اور رجعت پسندی کی اصطلاحوں سے نکلنے میں ابھی کافی دیر تھی لیکن صمد شاہین کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے ترقّی پسندوں کی ناپسندیدگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے بھی عزیز احمد کا عصمت چغتائی پر نہ صرف یہ کہ یہ تبصرہ شائع کیا بلکہ ادارتی نوٹ میں عزیز احمد کے نقطۂ نظر کی حمایت بھی کی۔
صمد شاہین نے نیا دور کے شمارہ نمبر ۔۸ میں قرۃ العین حیدر کے تعلّق سے جو چند سطریں لکھی ہیں، انھیں چھے دہائیوں کے بعد پڑھنے اوراس پر غور کرتے ہوئے عجب لطف آتا ہے۔ ملاحظہ کریں:
’’نئے لکھنے والوں میں قرّۃ العین حیدر کا نام تو اب اُبھرچلا ہے اور اس کی وہ مستحق ہیں۔ گو اُن کے افسانوں میں تنوّع نہیںپایا جاتا۔ سب افسانے تقریباً ایک سے ہیں۔ ایک ہی محور کے ارد گرد گھومتے ہیں اور ایک ہی انداز کے لکھے گئے ہیں لیکن یہ انداز کم از کم اردو کے لیے تو بالکل نیا ہے اور ان میں اپنے خاص ماحول کی زندگی کے مشاہدے اور اس کے بیان کی بڑی صلاحیت ہے۔ اس دور میں جب کہ ترقّی پسند افسانے کا میدان نچلا طبقہ اور نچلا متوسط طبقہ ہے، اونچے طبقے سے ادب خالی رہ جاتا اگر قرّۃ العین حیدر نے اس کی مصوّری نہ کی ہوتی۔ اور پھر ان کے افسانے اس لحاظ سے قابلِ توجّہ ہیں کہ وہ اس طریقۂ زندگی پر طنز کرتی ہیں، اس کا کھوکھلا پن بتاتی ہیں۔‘‘
یہاں مجھے صرف اس پہلو سے تبصرہ کرنا ہے کہ اس زمانے کے رسائل کے مدیران کس قدرنپا تُلا اور منصفانہ خیال پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ انھیں قرّۃ العین حیدر کی طاقت کا بھی پتا ہے اور وہ ان کی حدود سے بھی واقف ہیں۔ کیا اس اقتباس کے ساٹھ برس بعد ہمیں اس راے میں کوئی واضح تبدیلی کرنے کی ضرورت پڑی؟
اس عہد کا ایک اہم رسالہ’ سویرا‘ ہے جسے ترقّی پسند ادیبوں سے الگ حلقے کی ترجمانی کرنے والا تسلیم کیا گیا لیکن ابتدائی دور میں اس کے تصوّرات کیا تھے اور کون سے دعووں کے ساتھ یہ رسالہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس کی پڑتال ضروری ہے۔ پہلی مجلسِ ادارت میں احمد ندیم قاسمی، تدبّر چودھری اور فکر تونسوی شامل تھے۔ ’سویرا‘ نکالنے کا یہ مقصد تسلیم کیا گیا:
’’اردو کے کسی نوجوان مگر مسلم فن کار سے اگر پوچھا جائے کہ اس کے نظریات واحساسات کی آخری منزل کون سی ہے تو وہ افق کو تکنے لگے گا۔ افق جوکہیں ختم نہیں ہوتا۔ افق جو ایک غیر مختتم دائرہ ہے۔ افق جو ایک نئے افق کا امانت دار ہے۔ ’سویرا‘ ہندستان کے نوجوان فن کاروں کے معجزات کا ایک دو ماہی انتخاب ہے۔ اس لیے یہ کوئی معیّن منزل کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ زندگی اور کائنات کی بے کراں وسعتوں کے نشیب وفراز اس کی جولاں گاہیں ہیں۔ ہرسویرا ایک نئے سویرے کاپیامی ہے۔‘‘
اس اقتباس میں ’’معیّن منزل‘‘ کی طرف اشارہ نہیں کرنے کی بات سے ہمیں اندازہ لگالینا چاہیے کہ اس سویرا کا جو سورج سوانیزے پر پہنچے گا تو وہاں ترقی پسندی کا زور نہیں ہوگا۔واقعتا یہی ہوا۔ رفتہ رفتہ ’سویرا‘ حلقۂ اربابِ ذوق یا ترقّی پسندوں سے علاحدہ حلقے کی ترجمانی میں سرگرم دکھائی دینے لگا۔ جب اس رسالے سے حنیف رامے متعلّق ہوگئے، تب تو یہ خالص غیرترقی پسند ہوگیا اور نئے ادب کی شناخت میں اس نے اپنے ذہن کے کئی اور بھی دریچے واکیے۔ فرانسیسی ادب کے تعلّق سے اچھّا خاصا ادب اس رسالے کے صفحات پر شائع ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ انگریزی اور یوروپی ادب کے تراجم اور اس پر تبصرے اور مضامین کی اشاعت سے اپنے قارئین کو ترقّی پسندوں سے الگ عالمی سطح پرنئے ادب کے ذائقے سے آشنا کرانا رفتہ رفتہ ’سویرا‘ کا مقصد بن گیا۔ ’سویرا‘کے شمارہ نمبر 19،20،21 میں ڈی۔ایچ۔ لارنس کے ناولٹ ’کپتان کا گڈّا‘ کی اشاعت کا واضح مقصد دنیا میں غیرترقّی پسندانہ ادب کا تعارف پیش کرانا معلوم ہوتا ہے۔ شمارہ نمبر 23 میں پھر لارنس کی ایک کہانی شائع کی گئی ہے اور دو فرانسیسی کہانیوں کے تراجم بھی طبع ہوئے ہیں۔ علامت نگاری، ادب اور آرٹ کا رشتہ، فنونِ لطیفہ کی اہمیت وغیرہ موضوعات پر اداریوں میں بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان سب پر مستزاد محمدحسن عسکری، ممتاز شیریں، سلیم احمد کی باربار شمولیت یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ترقّی پسندی سے الگ ادبی تصوّرات کی تبلیغ واشاعت میں ’سویرا‘ سرگرم ہے۔
’سیپ‘ کو بھی روز ِ اوّل سے ’غیر ترقی پسندانہ ادب‘ کی ترویج واشاعت کے لیے سرگرم رسالے کے طور پر دیکھاجاسکتا ہے۔ اس نے پہلے حلقۂ ارباب ذوق کے افراد اور بعد میں جدیدیت کے عَلَم برداروں کو اپنے صفحات پر خصوصی توجّہ کے ساتھ شائع کیا۔ ادب کے متنازعہ موضوعات پر گفتگو کے دوران اکثروبیش تراس رسالے نے ’حلقے‘ کے مزاج کو سامنے رکھا۔شمارہ نمبر ۔8کے مشتملات دیکھنے سے یہ اندازہ مشکل نہیں کہ یہ ایک غیرترقّی پسندرسالہ ہے کیوں کہ یہاں اخترالایمان، منیب الرحمان، وزیرآغا، شہزاداحمد، بشرنواز کے ساتھ نئے لکھنے والوں میں احمد ہمیش، ندافاضلی اور شمس الرحمان فاروقی بھی موجود ہیں۔ اس طرح ’سیپ‘ کے شمارہ نمبر۔14 میں علامت پسندی کے تعلّق سے تفصیلی بحث اداریے میں موجود ہے ہی، لیکن ’’ادب اورفحاشی‘‘ کے تعلّق سے محمداحسن فاروقی، سلیم اختر اور اے۔بی۔اشرف کے نوشتہ جات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ ’’غیرترقّی پسندانہ‘‘ موضوعات کسی ترقی پسند رسالے میں زیربحث ہوہی نہیں سکتے تھے؟
میرزا ادیب کی ادارت میں شائع ہونے والا رسالہ ’ادبِ لطیف‘ یوں تو معتدل انداز کا معلوم ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کے مشمولات اس بات کی گواہی دینے لگتے ہیں کہ وہاں موجودہ ادبی صورتِ حال سے ابھی تھوڑی بے اطمینانی ہے اور ترقّی پسندوں کے ادبی سلوک سے ناخوشی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ اس رسالے میں ترقّی پسند نسل کے افراد شامل رہتے ہیں۔ لیکن نئے ادبی منظرنامے کے متلاشی افراد کو اپنی باتیں کہنے کے لیے خوب خوب مواقع دیے جاتے ہیں ۔ ہم عصر ادبی صورتِ حال سے مطمئن نہیں ہونے کی صورت میں آخر لکھنے والوں کے لیے کون سا نیا ماحول قائم ہوگا، اس کے لیے یہ رسالہ تخلیق کاروں کو اُکساتا ہے۔ اگست 1957ء کے شمارے میں خلیل الرحمان اعظمی کا تفصیلی خط موجودہ ادبی صورت حال میں نئے واضح راستے کی تلاش میں شامل معلوم ہوتا ہے۔ ’ادبِ لطیف‘ کا ایک اور اہم کام یہ ہے کہ’ پیرایۂ آغاز‘ کے عنوان سے جو مختصر اداریہ شائع کیا جاتا ہے، وہ آج کے بہت سارے مدیرانِ کرام کے لیے بہ طورِ تازیانہ ہے کیوں کہ وہ دس صفحات لکھ کر بھی اپنے کام کی ساری باتیں نہیں کہہ پاتے لیکن مرزا ادیب محض ایک صفحہ لکھتے ہیں اور رسالے میں شائع ہونے والی ایک ایک چیز کا جواز اظہرمن الشّمس ہوجاتا تھا۔ لکھنے والوں کو نئے نئے موضوعات اور انداز واسلوب اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ میرزا ادیب بار بار اپنے مصنّفین کی تحریروں کو توجّہ سے دیکھتے ہیں اور نئے ادبی ماحول کے تقاضے کیا ہیں، ان کا تقابل کے ساتھ جائزہ بھی لیتے رہتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے اداریوں میں اپنے لکھنے والوں کو اُکساتے رہتے ہیں۔ رضیہ فصیح احمد سے فرمایش کرکے رپورتاژ لکھوایا اور اسے شائع کرتے ہوئے انھوں نے جس انداز سے داد دی، یہ ُاس نسل کے مدیروں کی خاص خوبی تھی۔ اسی لیے ’ادبِ لطیف‘ ایک الگ انداز ومزاج کا پرچہ تسلیم کیا گیا اور آج ہمارے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
ترقّی پسندوں کے رسائل میں ’نیا ادب‘ کی اہمیت ہرچند کہ اساسی تھی لیکن وہ اپنے مبلّغانہ انداز اور شدّت پسند رویّے کی وجہ سے دوسرے حلقوں میں کبھی مقبول نہیں ہوسکا۔ آزادی کے بعد ترقّی پسندوں نے اپنے نئے ترجمان ’شاہ راہ‘ کی داغ بیل رکھی تو ان کا نقطۂ نظر بدلا ہوا تھا اور بہت حد تک پِیشے ورانہ تھا۔ اس رسالے کے مدیران بدلتے رہے لیکن سب سے زیادہ شہرت ظ۔انصاری کو ملی حالاں کہ ان کی ادارت میں یہ رسالہ دو برس سے زیادہ نہیں نکل سکا ۔ ان دوبرسوں میں ’شاہ راہ‘ نے اپنی ایسی شناخت قائم کرلی جس کے بعد کے ایڈیٹروں کو بھی زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ظ۔انصاری اس زمانے کے غالی ترقّی پسند تھے اور ترقّی پسند تحریک کی ترقّی، پھیلاواور تفوّق کے وہ بھی دل سے قائل تھے لیکن پُرانے اور اُن سے زیادہ مشہور بعض ترقّی پسندوں کی سرگرمیوں کے تئیں ان کی نگاہ ناقدانہ تھی۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اُن میںیہ تھی کہ رسالے کی تدوین کے مرحلے میں وہ تخلیقات پر زیادہ متوجّہ رہتے اور تخلیق کاراور اس کے قبیلے کی طرف دھیان کم دیتے تھے۔ اسی لیے ان کے زمانے میں شاہ راہ نئے لکھنے والوں کا سب سے بڑا ادبی فورم بن گیا اور ظ۔ انصاری سب سے پسندیدہ ایڈیٹر۔
آج کے مشہور لکھنے والوں میں اقبال مجید اور رتن سنگھ کے افسانے پہلی بار ’شاہ راہ‘ میں ظ۔انصاری کے ایسے نپے تُلے جملوں کے ساتھ شائع ہوئے جو پتھّر کی لکیربن گئے۔ غیاث احمدگدّی پہلی بار کسی قابلِ ذکر رسالے میں شائع ہوئے تو وہ رسالہ’ شاہ راہ‘ہی تھا۔ ظ۔انصاری نے جب ان کا دوسرا افسانہ بھی ’شاہ راہ‘ میں شائع کیا تو اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا کہ افسانہ نگار رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہا ہے۔ احمدجمال پاشا کی ادبی شناخت بھی’ شاہ راہ‘ کے وسیلے سے ہی قائم ہوئی اور مظہرامام جب ایم۔امام تھے، اس وقت وہ ’شاہ راہ‘ میں چھپنے لگے تھے۔اس بات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ’ شاہ راہ‘ نے نئے لکھنے والوں کی تخلیقات کی اشاعت میںنظریاتی تنگ نظری کا ثبوت ابتداء ً نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے پاس نئے لکھنے والوں کی فوج جمع ہوگئی تھی۔ ظ۔انصاری اپنے رسالے میں ترقّی پسندوں کے اختلافات کو بھی پبلک بنانے میں پیچھے نہیں ہوتے تھے۔ ظ۔انصاری کے اداریوں اور مضمون کے جواب میں سردارجعفری نے ’یہ ترقّی پسندی نہیں‘ مضمون لکھا لیکن وہ سردار کے سامنے دلیلوں کی سطح پر کمزور نہیں ہوئے۔ ظ۔انصاری کے ’شاہ راہ‘ سے الگ ہونے کے بعد وامق جون پوری، فکر تونسوی، مخمور جالندھری اور محمدیوسف صاحبان الگ الگ وقتوں میں مدیر تو ہوئے لیکن رسالے کی وہ پہچان اور نئے لکھنے والوں میں مقبولیت کا زمانہ پھر واپس نہیں آسکا۔ بعد میں اس کی ترقّی پسندانہ شناخت بھی قائم نہ رہ سکی۔
’شاہ راہ‘ کے زوال کے تقریباً ایک دہائی بعد ترقّی پسندوں کے حلقے سے لکھنؤ سے رسالہ ’کتاب‘ کی اشاعت عمل میں آئی جس کی مجلسِ ادارت میں حیات اللہ انصاری، رام لعل اور عابد سہیل کے نام شامل تھے۔ یہ رسالہ سلجھے ہوئے انداز میں نکلنا شروع ہوا اور اس کا طَور کبھی بھی مبلّغانہ نہیں رہا۔ ترقّی پسند ادبی رویّے کی بات زیریں لہروں میں موجود ہوتی تھی لیکن ’نیا ادب‘ یا ’شاہ راہ‘ کا انداز یہاں نہیں ابھرا۔ اس لیے رسالہ ’کتاب‘ ہر ادبی حلقے میں توجّہ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا۔ یہ درست ہے کہ اس رسالے میں ترقّی پسند ادیبوں کو خصوصی اہمیت حاصل تھی اور رسائل کے دروازے اُن کے لیے زیادہ کھلے تھے لیکن دوسرے مکتبِ فکر کے افراد کی تخلیقات کی اشاعت سے گریز کا کوئی طَور دکھائی نہیں دیتا۔ یہی ادارتی توازن اس رسالے کی مقبولیت کا باعث ہوا۔جب 1962ء کے بہترین افسانوں کے انتخاب کی بات آئی تو اس میں شاید ہی کسی غیرترقّی پسندکی شمولیت ممکن ہوسکی لیکن ان افسانوں کا تعارف ان لفظوں میں کرایا گیا:’’اس انتخاب سے ایک بات واضح ہوجائے گی کہ اردو افسانہ آج پھر تاریخی موڑ پر آپہنچا ہے۔ نعرے بازی اُس نے ترک کردی ہے لیکن ان نعروں کے پیچھے جوشعور اور جذبہ تھا، اسے نئے افسانے نے اپنا ہم سفر اور رہ نما بنا لیا ہے‘‘۔
اس اقتباس سے اس رسالے کی ترقی پسندانہ لَے کو سمجھاجاسکتا ہے لیکن یہ بھی پتا چلتا ہے کہ یہاں بدلی ہوئی ترقی پسندی ہے۔ اب انھیں نعرہ یا تبلیغ نہیں چاہیے۔ اس شعور اور کھُلے پن نے ’کتاب ‘کے منچ سے نئی نسل کے لکھنے والوں کو آگے بڑھایا۔ ’شب خوں‘ کی مکمل اہمیت قائم ہونے سے پہلے رسالہ ’کتاب‘ ہی نئی نسل کے لکھنے والوں کا مرکز ہوگیا تھا۔ آخر کوئی توبات ہوگی کہ عابد سہیل کے تخلیقی اور تنقیدی کاموں کے باوجود انھیں اب بھی رسالہ ’کتاب‘ کے مدیر کے طور پر یاد کیاجاتا ہے۔
’کتاب‘ کی مقبولیت کا سبب یہ بھی تھا کہ اس نے ادبی رسائل کے دائرۂ کار میں وسعت لانے کی کوشش کی ۔ ترقّی پسندرویّے کی نئی تعبیر وتفہیم کے لیے مواقع تلاش کیے۔ نئے موضوعات اور ’ادب باہر‘ کے سوالوں کے لیے محدود پیمانے پر ہی سہی ، گنجایشیں نکالیں۔ فرقہ واریت، اردو۔ہندی تنازعہ پر کئی بار کتاب کے صفحات پر بھرپور بحث دکھائی دیتی ہے۔ فراق اور سمپورنانند کے سوال وجواب آج رسالہ ’کتاب‘ میں ہی محفوظ ہیں جہاں اردو اور ہندی کے تعلّق سے سنجیدہ مباحث موجود ہیں۔ مارچ 1964ء کے شمارے میں عبدالحلیم صاحب کا قطب مینار پر بھرپور تنقیدی اور تحقیقی مضمون یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ رسالہ ’کتاب ‘کا رویّہ علمی تھا۔ جنوری 1969ء میں ’نصاب کا مسئلہ‘ عنوان سے شمیم حنفی کے مضمون کی اشاعت سے یہ پتا چلتا ہے کہ ملک کے تعلیمی ماحول کی بنیادی گڑبڑی پر مدیر اور مصنّف کی نگاہ ہے اور معیار کی یکسانیت کو دیوار پر درج عبارت کی طرح بہ طورِ سوال پیش کیا گیا ہے۔ شمیم حنفی کا کہنا ہے :
’’ایک ہی سطح اور لیاقت کی سند کے لیے مختلف اداروں میں نصاب کی مختلف شکلیں جن اختلافات، دشواریوں اور مسائل کو جنم دیتی ہیں، انھیں دور ہونا چاہیے۔ کیسی عجیب اور غیرفطری بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک ادارے میں ایک ہی درجے کا طالب علم دوسرے ادارے میں اسی درجے کے طالب علم کو ایسی نظروں سے دیکھے جیسے وہ دو دنیائوں کے باسی ہیں۔‘‘
کتاب میں ترقّی پسندوں کے پُرجوش قائدین کے مضامین بھی لگاتار شائع ہوتے رہے۔ 1966ء کے شمارہ نمبر ۷ میں اجمل اجملی کا مضمون ’انجمن ترقی پسند مصنّفین کا تنظیمی اور نظریاتی جائزہ‘ میں پُرانے سوالات پھر سے اٹھائے گئے ہیں۔ پہلے وہ سوالات سنیے:
’’ہمارے ادیب اور شاعر عوامی تحریک سے دور ہوتے گئے۔ اپنی مصلحتوں، اپنے ذاتی مفادات اور اپنی نجی ذمّہ داریوں کے احساس نے ان کے اور اجتماعی زندگی کے درمیان ایک خلیج پیدا کردی۔ ہماری نظموں میں اب عوامی مسائل کی جگہ ذاتی مسائل جگہ پانے لگے۔ عوام کی زندگی اور اس کی کٹھنائیوں کی مسند پر ہم نے اپنی ذاتی زندگی اور اس کی کٹھنائیوں کو لابٹھایا۔ وہ ادیب اور شاعر جو کل تک حق گوئی کی خاطر دار ورسن کی آزمایشوں کو گلے لگانے کو تیار تھے، خود اپنی حق گوئی سے کترانے اور ماضی سے شرماتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘
’کتاب ‘کے صفحات ایسے سوالوں کے لیے بھی استعمال میں لائے جاتے رہے لیکن اداریہ سے لے کر خطوط کے صفحات تک ملاحظہ کرجائیے، اکثروبیش تر ایسے مبلّغانہ سوالوں پر کہیں کوئی صاد کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ۔ یہ صرف اس لیے ممکن ہوسکا کہ کتاب کی ادارت میں ایک پیشے ورانہ سنجیدگی اور سلجھاو تھا۔ اسی لیے کتاب نئے لکھنے والوں کا محبوب رسالہ بن سکا۔
حیدرآباد سے نکلنے والے رسالے ’صبا‘ کو بھی ترقّی پسندانہ رسالہ ماننا چاہیے۔ لیکن یہ زمانہ اعلان اور تبلیغ کا کم تھا، اس لیے سلیمان اریب نے دسمبر 1962ء کے شمارے میں ادبی گروہ بندی کے بارے میں یوں کہا:
’’یہ بجا ہے کہ ادب کی نئی نسل اور پرانی نسل کے لمبے چوڑے جھگڑوں میں الجھنے کے بجاے ہمیں اچھّی نسل کی پہچان کا اہل ہونا چاہیے تاہم نئی اور پرانی فہم کے امتیاز کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ نئی نسل بہرصورت نئی ہے، ہمارے نئے سماج کی نمایندہ ہے اور اس کا اپنامخصوص کردار ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں بھی جھجک نہیں کہ ہمارے مصنّفین کی نئی پود موجودہ دور کے قاری کے مانند اپنے پیش روئوں سے زیادہ پختہ اور ذہین ہے۔‘‘
دو برس بعد مارچ تا مئی 1968ء میں مغنی تبسم کا مضمون ’’جدیدیت اور سیاسی ایجنٹ‘‘ شائع ہوا جس میں ترقّی پسند اور جدید ادیبوں کے گروہوں میں عدم توازن کی مثالیں پیش کی گئیں۔ مضمون کا اندازبے وجہ جارحانہ ہے لیکن یہ سچّائی ہے کہ اس میں ایک ساتھ گروہی اور مبلّغ ترقی پسندوں اور جدیدیوں کی مذّمت اور مخالفت کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ سلیمان اریب ایک سلجھے ہوئے مدیر کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ترقّی پسند ادیبوں کے حلقے سے اس عہد میں جو آخری رسالہ نمودار ہوا، وہ ’گفتگو‘ تھا۔ سردار جعفری کے غالی ترقّی پسند اور مبلّغ ہونے میں کلام نہیں لیکن 1967ء میں جب انھوں نے رسالہ نکالنا شروع کیا، انھیں معلوم تھا کہ اب وقت بدل چکا ہے اور اب پرانے راگ کے لیے گنجایشیں نہیں ہیں۔ اس لیے پہلے ہی شمارے میں وہ کہتے ہیں :’’ایسے مضامین اور خطوط کے اشتراک سے احتراز کیا گیا ہے جن کا انداز معاندانہ تھا یا جن میں منہ چڑھانے اور گالی بکنے کی خُو تسکیں کا سامان تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے پیشِ نظر اشاعت میں چٹخارے کی کمی نظر آئے۔‘‘
سردار جعفری نے ’گفتگو‘ میںبے وجہ چٹخارے کی شمولیت سے گریز کیا جب کہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پچھلے زمانے میں انھیں یہ سب سے زیادہ مرغوب تھا لیکن اب پانو کے نیچے سے زمین کھسک چکی تھی، اس لیے انھوں نے تخلیقی ادب کی اشاعت میں کسی غیر ترقّی پسند کے لیے دروازے بند نہیں کیے۔ ’گفتگو‘ کا ترقّی پسندی سے بس اسی قدر تعلّق ہے کہ اس کے مدیر سردار جعفری ہیں اور ترقّی پسندوں کے عہدِ گذشتہ سے متعلّق اہم دستاویزات اس کے ہر شمارے میں شاملِ اشاعت رہے ورنہ یہ رسالہ جدید ادب کے پسندیدہ چہروں سے بھی اجتناب نہیں برت سکا۔ اس میں وقت کے جبرمیں بدلتے ہوئے سردار جعفری کا چہرہ دیکھا جاسکتا ہے۔
’نقوش‘،’ افکار‘،’ شاعر‘ اور’ آج کل‘ جیسے رسائل کا انداز میانہ روی کے ساتھ چلنے کا رہا ہے۔’ نقوش‘ اور’ افکار‘ کو ایک زمانے میں ترقّی پسند رسالہ مانا جاتا تھا لیکن ان کے صفحات پر دوسرے حلقے کے لکھنے والے بہ خوشی جگہ پاتے رہے۔ منٹو کے تعلّق سے محمد طفیل کی فراخ دلی نے بھی ایسا ماحول بنایا کہ نقوش کو ہم میانہ رو رسالے کے طور پر ہی دیکھیں گے۔ ویسی ضخامت کا رسالہ کسی ایک ادبی رویّے کا ترجمان بن کر شاید ہی جی سکتا ہے۔ منٹو نے اپنے ایک مضمون میں اپنے ایک افسانے کے بارے میں لکھا کہ اس پر اس وجہ سے مقدّمہ نہیں ہوا کیوں کہ وہ ترقّی پسندوں کے محبوب رسالے ’نقوش‘ میں شائع ہوا۔ جوش ملیح آبادی، عرش ملسیانی ، صہبا لکھنوی، اعجاز صدیقی اور محمد طفیل کی شخصیت جس قدر بھی بڑی ہو اور ان کے علمی و ادبی کارنامے جس قدر محترم ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ نئے ادبی رویّوںکی تشکیل و تعمیر میں ان کا سرگرم حصہ کم رہا۔ نئی تخلیقی صلاحیتوں کو پہچاننے اور انھیں مقام تک پہنچانے کے لیے بھی ان رسائل کا شاید اتنا بڑا کارنامہ نہیں جس قدر اُن سے توقّع کی جاتی ہے۔
1970ء سے فوراً پہلے وزیر آغا نے ’اردو زبان‘ نام سے سر گودھا سے جو رسالہ نکالا، اس میں تازہ خون کی طلب اور نئے جہانِ معنٰی تک پہنچنے کی چھٹ پٹاہٹ ملتی ہے۔ وزیر آغا نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے لیے خلیل الرحمان اعظمی کے ذریعہ بتائے گئے جدید شاعری کے پرچے کے نصاب کا متن شائع کرتے ہوئے اساتذہ اور طلبہ سے بہت کھری کھری باتیں کہیں۔ جنوری ، فروری1969 ء کے شمارے میں اس نصاب کے حوالے سے وزیر آغا نے اردو کے قارئین کی کمی کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ آخر ہمارے پڑھنے والے کہاں چلے گئے اور انھیں کیسے ڈھونڈ لایا جائے؛ یہ سوال وزیر آغا کا ہی نہیں، آج کے زمانے کے اہلِ قلم کا بھی ہے۔ اس لیے اس سلسلے کے دو اقتباسات ملاحظہ کریں:
’’عرصے کی بات ہے کہ ’اردو زبان‘کے مروّجہ نصاب میں جدید ادب کی نمایندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے گزارش کی تھی کہ نئی نسل کو زمانے کے بدلتے رجحانات سے واقفیت بہم پہنچانے کے لیے تازہ بہ تازہ رجحانات سے واقف رکھنا بھی ضروری ہے۔ کلاسیکی ادب کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن جب تک ذہن کو تازہ خون اور توانا خوراک نہ ملے، اس کا زیادہ دیر تک زندہ رہنا ممکن نظر نہیں آتا۔۔۔اس کے باوجود ہماری یونی ورسٹیوں کا نصاب ابھی تک قرونِ اولا میں بھٹک رہا ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ادبی رسائل اور ان کے قارئین کا رشتہ ایک بڑی حد تک ٹوٹ چکا ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ادبی رسائل کو زیادہ تر یا تو وہ ادیب پڑھتے ہیں جو اُن سے متعلّق ہیں یا وہ جو اُن کے متعلّق ہونے کے آرزومندہیں۔ میں آج کے ادبی رسالے کو ایک Family affair سمجھتا ہوں۔۔۔۔اس میں قصور رسالے کا نہیں بلکہ اُس تعلیمی نظام کا ہے جس میں جدید ادب سے طلبہ کو آشنا کرنے کا اہتمام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ادبی رسالہ ہمیشہ تازہ ادبی کروٹوں کا عکاّس ہوتا ہے لیکن کالجوں میں طلبہ کو انیسویں صدی کے ادبی ماحول سے باہر آنے کی تا حال اجازت نہیں مل سکی۔ چنانچہ یہی طلبہ آگے چل کر جب ملک کے شہری بنتے ہیں تو اپنے مرتّب شدہ مزاج کے مطابق انیسویں صدی کی مہمّاتی لٹریچر کی تلاش شروع کردیتے ہیں۔‘‘
اس طرح اگر آزادی کے بعد سے 1970ء کے درمیان کے اہم رسائل کی مجموعی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو واضح طور پر تین رویّے سامنے آتے ہیں۔ ترقی پسند، حلقہ ٔ اربابِ ذوق کے ساتھ ساتھ بین بین کا راستہ اپنانے والے رسائل۔ پٹنہ سے نکلنے والا رسالہ ’صبح نو‘ جس کی ادارت وفا ملک پوری کے ہاتھ میں تھی؛ اس نے درمیانی راستہ نکالاتھا۔ اس دوران ’شب خوں‘ بھی نکلنا شروع ہوا لیکن اس کی اصل شناخت 1970ء کے بعد قائم ہوئی اور اس کے بعدہی اسے تاریخی رسالہ تسلیم کیاگیا۔ 1950ء سے 1970ء کے زمانے میں زور کے مقابلے ٹھہراو، جوش کے مقابلے جھنجھلاہٹ اور مبارزت کے مقابلے مفاہمت اور مصالحت کے آداب عام طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مستثنیات یہاں بھی ہیں لیکن عمومی رویّہ یہی معلوم ہوتا ہے۔ شاید ملک کی سیاسی اور سماجی صورتِ حال کے تناظر میں اہالیانِ اردو کی حالت بھی یہی تھی۔ اس کے باوجود بعض ایسے رسائل ہمارے سامنے آئے جن کے صفحات پر نسلِ نو کی بھرپور تربیت ہوئی اورنئی ادبی سرگرمیاں قائم رہیں۔
1970ء سے قبل اردو کی ادبی صحافت کے جو اطوار ہمارے سامنے ابھر کر آئے، شاید یہ اسی کا اثر ہو کہ 1970ء کے بعد کی چالیس سالہ ادبی صحافت میں پھر سے ایسے رسائل اور جرائد کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں جن کے مدیر ادبی رویّوں کے نگہہ بان اور سرخیل تسلیم کیے گئے۔ ’شب خوں‘،’ عصری ادب‘، ’سوغات‘،’اردو ادب ‘ اور بعد میں’ ذہن جدید‘ اور’ نیا ورق‘ اس انداز کے ادبی جرائد تسلیم کیے گئے جن کے صفحات پر لکھنے والوں کی فوجیں تیّار ہوئیں۔ ادبی صحافت کا سب سے بڑا کام نئی نسل کو منچ فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن اس کی تہذیب و تربیت کے سارے مراحل بھی اس مدیر کے سامنے طے ہونے ہیں۔ لکھنے والا کج ادا ہے تو اس ایڈیٹر کا فرض ہے کہ اس کج ادائی میں استحکام اور ادبی پختگی کے عناصر پیوست کرے۔ شمس الرحمان فاروقی، زبیر رضوی اور ساجد رشید ایک حد تک یہ کام کرتے رہے۔ محمود ایاز اور محمد حسن نے بھی اپنے رسائل سے یہ کام بہت سلیقے سے انجام دیا۔ محدود معنوں میں اعجاز صدیقی اور خوشتر گرامی نے بھی نسلِ نو کی ادبی تربیت میں اچھّاخاصا حصہ لیا۔ ’شعر وحکمت‘ کی حیران کُن ضخامت کے باوجود لکھنے والوں کی کوئی بڑی فوج اس کے توسّط سے سامنے نہیں آئی۔ آج متعدّد رسائل کے مدیر حاصل شدہ مواد کو غزل، نظم، افسانہ اور تنقید کے خانے میں بانٹ کر شائع کر دینے کے کام کو مکمّل کرکے اپنی ادارتی ذمّہ داریوں سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ اسی لیے روز نئے لکھنے والوں کی تلاش کا کام بتدریج کم ہوتا گیا۔’ شب خوں‘ کے بند ہونے کے بعد یہ سلسلہ اور محدود ہوا ہے۔ حالاں کہ وہاں گروہی تعصّب کے بعض مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔ آج کے نئے لکھنے والے کو کسی ظ۔انصاری، صلاح الدین احمد اور محمود ایاز کی بہر طور تلاش ہے اور یہ کام چند پرچوں سے ممکن نہیں۔

مزید دکھائیں

صفدرامام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Close