از راہِ ثواب

سالک جمیل براڑ

  نصرت صاحب آفس سے آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گئے اور نکٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے کمرے کی چھت کو تکنے لگے۔ وہ بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ بات ہی پریشان کرنے والی تھی۔آ ج تو بڑے میاں نے شرم و حیا کی ساری حدیں توڑ دی تھیں۔ اب تو پانی سر کے اوپر سے گذرنے لگا تھا۔ اگر اب بھی اُن کو نکیل نہ ڈالی گئی تو شایدوہ آج کے واقعہ سے زیادہ خطرناک کارنامے انجام دے ڈالیں۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ بڑے میاں کو کیسے سمجھاتے۔ یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی تھی۔ شاید ہی دنیا میں پہلے ایسا کبھی ہوا ہو کہ بیٹے پر باپ کی کرتوتوں کی وجہ سے لوگ ہنستے ہوں۔ نصرت صاحب نے خود کوئی فیصلہ لینے کے بجائے اپنے بڑے بھائی کرم دین اور چھوٹے بھائی شوکت سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔

  نصرت صاحب پچھلے کئی برسوں سے اپنے ابّا کی غلط حرکتوں کی وجہ سے لوگوں میں ہنسی مذاق کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ بڑے میاںکے جسم میں باسٹھ سال کی عمر میں بھی 25سال کے نوجوانوں کی طرح مردانہ جوش تھااور جنسی ہوس سوارتھی۔وہ اکثر چھڑی گھماتے ہوئے شہر کے بازاروں اور گلیوں میں چہل قدمی کرتے پائے جاتے۔حالانکہ بڑے میاں کے بال پک چکے تھے اور دانت جھڑ گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے اُوپری رکھ رکھائو میںکوئی کمی نہیں آنے دی تھی۔ ڈائی کئے ہوئے بال اور مصنوعی دانتوں نے ان کے گالوں کی رونق واپس لوٹا دی تھی۔ اس کے علاوہ مرغن اور مقوی غذائوں نے بڑے میاں کی صحت کو خوب سنبھالاہوا تھا۔وہ لڑکیوں کو دیکھ کر کھل اٹھتے اور نوجوانوں کی طرح بے قابو ہو کر ان کی تعریف میں قصیدے پڑھتے۔

  راستے میں ملنے والی لڑکیوں کو وہ گہری نگاہوں سے تقریباً چکھتے ہوئے بڑ بڑاتے۔

  ’’واہ۔ ۔۔۔۔۔کیا بات ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ ما شا ء اللہ۔ ۔۔۔۔۔ بنانے والے نے کیا چیز بنائی ہے ‘‘

 بڑے میاں نے نوابی دور دیکھا تھا۔ ریاست میں اور نواب صاحب کے خاص اور بھروسہ مند ملازم تھے اور پھر اپنے زمانے کے اُن چنیدہ امراء میں سے تھے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ بڑے میاں جب کبھی موڈ میں ہوتے تو اپنی جوانی کے قصّے مزے لے لے کر نوجوانوں کو بیان کرتے ہوئے اپنے ماضی میں کھو جاتے۔ جہاں صرف گھنگھرؤں کی جھنکار اور طبلے کی تھاپ سنائی دیتی۔ اُن کی آنکھوں میں رنگ برنگی روشنیاں جگمگا اٹھتیںاور وہ دل پر ہاتھ رکھ کر آہ بھرتے۔

  ’’ ہائے!۔۔۔۔۔۔بے رحم وقت سب کچھ نگل گیا۔۔۔۔۔۔کیا زمانہ تھا۔۔۔۔۔۔ وہ رانی محل دیکھا ہے۔ ۔۔۔۔۔بس اسی کے ہال میں شامیں خوب رنگین ہوتی تھیں۔۔۔۔۔۔ ملک کے مختلف حصوں سے حسینائیں وہاں آیا کرتی تھیں اور اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی تھیں۔ ۔۔۔۔ ‘‘گفتگو ختم ہوتے ہی اُن کی آنکھوں میں اداسی کی گھٹا چھا جاتی۔

 وقت بدلا،دنیا بدلی اور انسان کے شوق بدلے۔ لیکن عورت آج بھی مرد کی کمزوری ہے۔ جو صدیوں پہلے بھی تھی اور رہے گی۔کوٹھوں کی جگہ سینما گھروں نے لے لی۔سینما گھروں میں بھی بڑے میاں پیش پیش رہے۔ وہ جب بھی کبھی کسی فلم میں مجرا دیکھتے وہ رقاصہ کے ٹھمکے دیکھ کر جوش میں آجاتے اور اپنی جیب میں محفوظ ریزگاری کی مٹھیاںبھر بھر کر سینما کی سکرین کی طرف پھینکتے۔

 زمانے نے اور ترقی کی، نتیجے کے طور پر ٹیلی ویژن گھر گھر آگئے۔ پھر کیبل ٹی۔ وی نے تو سونے پر سہاگے والی بات ثابت کردی۔ اب بڑے میاں زیادہ تر وقت گھر پر ہی گذارنے لگے اور سارا دن ٹیلی ویژن دیکھ کر اپنی آنکھیں سینکتے رہتے۔ کیونکہ اس ترقی پسند دور نے عورت کو تقریباً برہنہ کردیا ہے۔

  اُس دن بڑے میاں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ اُن کی آنکھوں میں نوابی دور والی چمک اور ولولہ دکھائی دے رہاتھا۔ وہ بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ کل رات میں نے انگریزی چینل پر ایک فلم دیکھی۔ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم اداس ہوگئے۔ مجھے ایک لمحے کیلئے ایسا لگا جیسے انسانی جسموں کا عریاں کھیل اس قدر کھلے عام دیکھ کر اُن کا ضمیر جاگ اٹھا ہواور انہیں شرمندگی کا احساس ہوا ہو۔ اُن کے لہجے میں سخت مایوسی تھی۔

  ’’ کاش۔۔۔۔۔ہم بھی پچاس سال بعد پیدا ہوئے ہوتے۔ کیا خوبصورت جوڑا تھا اور تو اور میاں۔ ۔۔۔پورا آدھا گھنٹہ۔۔۔۔۔ ! میں تو حیران رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔ بھئی کمال کا مرد تھا۔۔۔۔۔۔ !‘‘

بڑے میاں گلی، محلے میں ملنے والی رشتے دار اور جان پہچان کی عورتوں سے بڑے پیار سے ملتے تھے۔ گہرے خلوص سے اُن کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے اورپیٹھ تھپ تھپانا نہ بھولتے۔عورتوں کے ساتھ ساتھ بڑے میاں بچوں کو بھی بہت پیار کرتے تھے۔ وہ گلی، محلوں میں کھیلتے بچوں کی گال پر ہلکی سی چپت لگاکر انہیں گود میں اٹھا کر سینے سے لگا کر چوم لیتے تھے۔ ایک دن نصرت صاحب نے سوچا کہ ابّا جی کو حج کروادیا جائے۔ شاید ان کی عادت تبدیل ہوجائے اور وہ سبھی ناگوار عادتیں چھوڑ کر خدا کی عبادت میں مگن ہو جائیں۔آخر حج پر جانے کا دن آگیا۔ بڑے میاں سے ملنے والوں کا تانتا لگ گیا۔ انہوںنے ہاتھوں میں آیا موقعہ جانے نہ دیااور خوب فائدہ اٹھایا۔ وہ خصوصی طور پر آنے والی عورتوں سے بڑے لگائو سے ملے۔ انہیں اپنی بغل میں لے کر ان کی پیٹھ سہلانانہ بھولے۔نصرت صاحب کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ رشتہ دار اور محلّے والوں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں۔ حج سے واپس آنے پربڑے میاں اگلے ہی دن سینما میں ’’ امراؤ جان ادا‘‘ فلم دیکھتے ہوئے پائے گئے۔ بڑے میاں اور ریکھا کی فلم نہ دیکھیں، یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ریکھا کے بہت پرانے عاشق تھے۔ وہ تو ریکھا کی خاطر جان بھی دے سکتے تھے اور پھر ان چند سکّوں کی اوقات ہی کیا ہے۔ بس پھر کیا تھا وہ ریکھا کے ٹھمکوں کے نشے میں مست ہو کر جھوم رہے تھے اور ہرٹھمکے پر ریزگاری کی مٹھی پے مٹھی سکرین کی طرف پھینک رہے تھے۔

بڑے میاں کی دو شادیاں ہوئیں۔ لیکن اﷲ کا کرنا کہ بد قسمتی سے دونوں بیویاں اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں۔ بڑی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی۔ لیکن دوسری سے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ اُن دنوں بڑے میاں کی دوسری بیوی اکثر بیماررہتی تھی۔وہ بہت کمزور ہوچکی تھی۔ لیکن بڑے میاں تو جوان تھے اور آج بھی ہیں۔ ایک دن نصرت صاحب نے انہیں اپنی ماں کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ لیا۔ انہیں سخت رنج گزرااور والد صاحب پر غصہ آیا۔ بعد میں نصرت صاحب نے اُن کو پیار سے سمجھایا کہ ابّا جان امّی کی صحت اور عمر کا تو کچھ خیال کریں۔ تو بڑے میاں طیش میں آگئے اور بولے۔

 ’’ ابے حرام زادے!۔۔۔۔۔۔یہ میرا حق ہے جو میں پارہا ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘

  نصرت صاحب کو غصہ تو بہت آیا۔ لیکن صبر کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔ واقعی، قانونی اور شرعی طور پر یہ اُن کا حق تھا۔ انہیں اس فعل سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ نصرت صاحب نے اپنی ماں کے نزدیک پہرہ سخت کردیا اور بڑے میاں نے یہ ظلم برداشت کرلیا۔ لیکن چند ہی دنوں بعد وہ اپنی جنسی بھوک اور اندھی ہوس کے آگے مجبور ہوگئے۔ بہتا پانی اپنا راستہ خود بخود تلاش کر لیتاہے۔ انہوں نے ایک ادھیڑ عمر عورت کو اپنے جال میں پھانس لیا۔ پرانے اور تجربے کار شکاری تھے۔ اس لئے جلد ہی شکار ہاتھ لگ گیا۔ نصرت کو اس بات کا پتہ چلاانہیں بڑی خوشی ہوئی۔ کیونکہ اس بہانے ان کی ماں کو ایک مصیبت سے چھٹکارا مل گیا تھا۔ بڑے میاں40سال ملازمت کے بعد تحصیلدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ اس وقت وہ 8ہزار روپے ماہانہ پینشن پارہے تھے۔ جو وہ اپنی ذات پر ہی خرچ کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی نصرت صاحب نے اس عورت کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے اپنے ابّا کا ہاتھ نہ روکا تھا۔

  پھر اچانک ایک دن بڑے میاں غائب ہوگئے۔کئی دن بعدلوٹے تو پتہ چلا کہ وہ راجدھانی دہلی کے ریڈ لائیٹ ایریا کی ہوا کھاکے آئے ہیں۔ باقاعدہ ایک تجربے کار ساتھی کے ساتھ گئے تھے جو ان بستیوں کا پرانا واقف تھا۔ایک دو باراس آدمی کے ساتھ جانے کے بعد بڑے میاں بھی وہاں کے متوالے اور رسیا ہوگئے اور پھر اکیلے ہی جانے لگے۔ لیکن ایک باراُن کی وہاں جیب کٹ گئی۔ تب بڑے میاں کی کیا حالت ہوئی۔ یہ تو وہ جانتے ہیں یا پھر خدا۔ بس پھرکیا تھا انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کرلی کہ آئندہ یہاں نہیں آئیں گے۔

 نصرت صاحب سے ان کے قریبی دوست اور آفس کے ساتھی اکثر مذاق کیا کرتے تھے۔ لیکن وہ اپنے والد صاحب کے کارناموں پر پردہ ڈالتے ہوئے ہنسی میں ٹال دیتے۔ اگر کوئی زیادہ پریشان کرتا تو کہتے۔

 ’’ میاں!۔۔۔۔۔۔ آخر وہ بھی انسان ہیں۔ ان کی بھی خواہشات ہیں۔۔۔۔۔۔ اور پھر امّی کو گذرے ہوئے بھی ایک مدت ہوگئی ہے۔‘‘

   لیکن بڑے میاں کی آج کی حرکت نصرت صاحب کو ہضم نہیں ہورہی تھی۔ہوا یوں تھاکہ نصرت صاحب کے پڑوس میں ایک نوجوان عورت رہتی ہے۔ جو بیوہ ہے اور اس کے دوچھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ بیحد خوبصورت، گوری چٹی اور بڑی دلکش ہے۔بڑے میاں کی نہ جانے کب سے اس پر نظر تھی۔ آج اسے محلے میں اکیلادیکھ کر اُن کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔ بس انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور چھاتی سے لگا کر چوم لیا۔ وہ گھبراگئی اور چلاّنے لگی۔ بڑے میاں نے اس کا منہ بند کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔ کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ عورت کسی طرح خاموش نہ ہوئی اس سے پہلے کہ لوگ جمع ہوتے اس عورت نے خود کو بڑے میاں کی گرفت سے آزاد کروایااور بچاؤ۔ ۔۔۔۔۔ بچاؤ کی آوازیں بلند ہوئیں بڑے میاں گھبراکروہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

دیکھتے ہی دیکھتے محلے میں عورتوں کی کافی تعداد جمع ہوگئی اور اب وہ بڑے میاں کو مختلف القاب سے نواز رہی تھیں۔ ایک عورت کہہ رہی تھی کہ بڑا گندہ آدمی ہے۔ ایک شام میں محلے میں جھاڑو لگا رہی تھی اور جناب محلے میں سے گذررہے تھے۔ لیکن میں ایک دم حیران ہوگئی جب جاتے جاتے بڑے میاں نے میری پیٹھ پر ہاتھ جمادیا۔غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ جیسے ہی نصرت صاحب کو اُن کی اس حرکت کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے من ہی من فیصلہ کرلیا کہ اب بڑے میاں کو روکنا ضروری ہے ورنہ وہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہ رہیں گے۔

  رات کے تقریباً نو بج چکے تھے۔ نصرت صاحب اور ان کے بھائی گھر کے صحن میں منہ لٹکائے بیٹھے بڑے میاں کا انتظار کر رہے تھے۔ جو صبح کے گئے ابھی تک گھر نہیں لوٹے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ چھڑی زمین پر مارتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے چور نظر سے بیٹوں کی طرف دیکھا اور ان کے تیور بھانپتے ہوئے پوچھا۔

 ’’کیا بات ہے بھئی؟۔۔۔۔۔۔تم لوگ اس طرح بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔‘‘

نصرت صاحب نے زہر آلودہ نظروں سے بڑے میاں کو گھورا اور بیٹھنے کیلئے کہا۔

 ’’حاجی جی۔ ۔۔۔۔۔ اب آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کو اپنی عمر کا خیال نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔کم سے کم ہماری عزت کا تو پاس رکھیں۔‘‘نصرت صاحب نے بڑے میاں کو سخت لہجے میں ڈانٹا۔

 ’’ کیا ؟۔ ۔۔۔۔۔مطلب ہے تمہارا ؟۔۔۔۔۔۔‘‘بڑے میاں نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا۔

  ’’ اچھا تو اب آپ کو یہ بھی بتانا ہوگا۔ ۔۔۔۔۔ کہ آپ نے آج کونسا نیامعرکہ انجام دیا ہے۔‘‘کرم دین(بڑا بیٹا) نے سر پکڑتے ہوئے کہا۔

   ’’ شرم آتی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ آپ کو باپ کہتے ہوئے۔۔۔۔۔۔آپ نے تو خاندان کی عزت مٹی میں ملادی۔۔۔۔۔۔ آپ کو ذرا بھی شرم نہ آئی۔۔۔۔۔۔ اس بے سہارا عورت کو چھاتی سے لگاکر چومتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ کم سے کم اتنی شرم تو کی ہوتی۔۔۔۔۔۔ کہ وہ آپ کی بیٹی کے برابر ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘نصرت صاحب غصّے میں چلائے۔

 ’’ دیکھو میاں!۔۔۔۔۔۔تم اپنی حد سے آگے بڑھ رہے ہو۔‘‘بڑے میاں نے اکڑتے ہوئے جواب دیا۔

     ’’ حد۔۔۔۔۔۔ارے آپ نے تو شرم و حیاکی سبھی حدیں پھلانگ دی ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم شہر میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔۔۔۔۔‘‘نصرت صاحب کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے۔

  ـ’’ دیکھو!۔۔۔۔۔۔ زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔ وہ تو میں نے از راہِ ثواب کیا تھا۔۔۔۔۔۔‘‘بڑے میاں نے لاٹھی زمین پر مارتے ہوئے کہا۔

 ’’ ثواب۔۔۔۔۔۔۔ !!!‘‘تینوں بھائیوں کے منہ سے بیک وقت نکلا۔

 ’’ میاں !۔۔۔۔۔۔وہ بے چاری بیوہ ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم لوگ تو جانتے ہی ہوکہ میری پینشن آٹھ ہزار روپے ہے۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میں آج ہی تھوڑی مرنے والا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ رہے گی تو۔ ۔۔۔۔۔ بیچاری کی باقی کی زندگی آرام سے گزر جائے گی۔بچے پال لے گی۔۔۔۔۔۔‘‘



⋆ سالک جمیل براڑ

سالک جمیل براڑ
نوجوان افسانہ نگار و شاعر سالک جمیل براڑ کا تعلق پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ سےہے۔ آپ نے بچوں کے لیےکہانیوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ سالک کی کہانیوں پر انہیں بھاشاوبھاگ کی طرف سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ ان دنوں سالک پنجابی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے