ادبافسانہ

افسانچے

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

حیوانیت

اسٹریکچر سے ٹپکتے لہونے ہاسپٹل کے سارے لوگوں کویقین دلادیاکہ کیس سیریس ہے، لیکن کیس ہے کیا؟

 آپریشن تھیٹرکے باہرکھڑے سارے لوگوں کے چہروں پرسوالیہ نشان!

پولیس والوں کی آمدسے پتہ چلاکہ آج پھرایک حیوان کے چکرمیں حیوانیت کاننگا ناچ ناچا گیا ہے۔

نوزپیس

’بچاؤ بچاؤ‘…ایک نسوانی؛ مگرڈراؤنی چیخ نے بھرے پرے بازارکے ہنگامہ میں مزیداضافہ کردیا، لوگ سرعت رفتارکے ساتھ آواز کے پیچھے لپکے، اچانک ایمبولینس کی بھیوں بھیوں نے بھاگتے قدموں کو کنارے ہٹنے پرمجبورکردیا، یہ بات توطے ہوگئی کہ کچھ توگڑبڑہے؛ لیکن کیا………؟

معلوم ہوا کہ حسن بے پروانے ایک دل پھینک عاشق سے تیزاب کی بھری بوتل بھنکوائی ہے… وہ توشکرہے نوزپیس کا، ورنہ بے چاری……

ثبوت

باتیں ایسی کہ لوگوں کوبہالے جائے، خوداعتمادی ایسی کہ لوگ خود سے زیادہ اسی پربھروسہ کرنے لگیں ، لگاکہ بس تحریک سوفیصد کامیاب ہی ہوگی،گرماگرم بحث ہوئی، ایک دوسرے پرالزامات لگائے گئے، معلوم توایساہورہاتھا کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں ؛ لیکن یہ کیا…؟

’’معانقہ‘‘، الکفرملۃ واحدۃ کاپختہ ثبوت!

آنسو

دھیرج کی آنکھوں سے ٹپاٹپ بہتے آنسودیکھ کردوست نے پوچھا:

’’ابے!یہ کیاہے؟‘‘۔

اس نے اخبارآگے بڑھادیا، ’’ایک چودہ سالہ نابالغ لڑکی کاگینگ ریپ کے بعدقتل‘‘، نیاکیاہے؟ ہم تواس سے زیادہ تازہ پھول روزچوستے ہیں۔

دھیرج نے اپناپرس کھول کردکھایا، اس میں اسی مقتولہ کی تصویرلگی تھی۔

ہمارے دیش کے لوگ

کووں کی کائیں کائیں دال میں کالاہونے کاپتہ رہی ہیں ؛ لیکن اتنی کالی ہوگی دال؟ تصوربھی نہیں کیاجاسکتاہے، پھربھی دال کھانے والے پتہ نہیں کیوں چٹخارہ لے رہے ہیں ؟ دال نہ کھانے والوں کامنھ چڑارہے ہیں یا ذوق ہی فاسدہوچکاہے،سمجھنادشوارہے؛ تاہم اتنی بات ضرورہے کہ جوکھائے، وہ بھی پچھتارہے ہیں اورجونہیں کھائے، وہ بھی پچھتارہے ہیں ، اس کے باوجودسب کی بولتی بندہے، ایسے ہوتے ہیں ہمارے دیش کے لوگ! گریٹ!گریٹ!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close