ادبغزل

الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع!

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

دیکھتے ہیں اہلِ ایماں تیری راہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

تجھ پہ قرباں مال و دولت عز و جاہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

مِٹ گئے تیری بدولت سب گناہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

جا رہا ہے چھوڑ کر تو ہم کو آہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

ہر کس و ناکس کا ہے تو خیرخواہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

تجھ سے تھی شیطان کے شر سے پناہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

منبعِ رشد و ہدایت اور رفاہ الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع

تیری عظمت کی ہر اک شے ہے گواہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

تو نے دکھلائی ہمیں نیکی کی راہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

صف بصف تھے لوگ تا حدِّ نگاہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

روح پرور ہر جگہ تھی سجدہ گاہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

گھر ہو مسجد مدرسہ یا خانقاہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

تھی منور نورِ حق کی جلوہ گاہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

تھا پُر از فضلِ خدا برقی ؔ یہ ماہ الوداع اے ماہ رمضاں الوداع

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close