ادبشخصیات

امینِ ادب: غلام نبی کمار

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسنؔ

(پرنسپل، یس۔ کے۔ اے۔ ہیچ  ملّت کالج، کرناٹک۔ انڈیا)

 بڑا فن کار وہ ہوتا ہے جواونچ نیچ، بڑے چھوٹے اورملک و قوم کی سرحدوں میں قید نہیں ہوتا۔ اس کا تخیل وتصور اور اس کا روحانی وجود قومی تہذیب کے تمام رنگوں سے توانائی اور شادابی حاصل کرتا ہے اور بعض ایسے جنیوئن قلم کار ہوتے ہیں جو اپنے فکر و فن اور نقد و نظر سے ان تخلیقات کی باز یافت کرتے ہوئے ادب میں انہیں مقام دلانے میں کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی جودتِ فکر ونظرسے ان تحریروں میں آزادی، امن، مساوات اور انسانی حقوق اور زندگی کی رمق، زندگی کے مسائل اورزندگی کے متنوع رنگ تلاش کرنے کی سعی کرتے ہوئے ان کی از سر نو تشکیل کر تے ہیں۔ اردو زبان و ادب کی خوش نصیبی ہے کہ ہر دور میں ایسے باشعور اور سلیقہ مندفنکار وں نے پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے منصب کو نبھایااور اپنی فکر و ذہنی جولانیوں کے ذریعے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو اردو زبان و ادب کا حصّہ بن گئے ہیں۔

          ایسے ہی ادب کے جیالوں میں ایک ہونہار لڑکے غلام نبی کمار کا شمار ہوتا ہے۔ اسے میں لڑکا ہی کہوں گا کیوں کہ مرد عموماًشادی کے بعد جوان ہوتا ہے ورنہ وہ لڑکا ہی رہتا ہے۔ یہ لڑکا ایک دہائی سے پورے خلوص کے ساتھ اردو زبان و ادب کی آبیاری میں لگا ہوا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور، فہم و فراست اور قوتِ ادراک سے نوازا ہے جس کا تعلق کشمیر کے شہر چرار شریف سے ہے اور کشمیرسے دہلی میں حصول علم اور تحقیق کی پیاس بجھانے آیا ہوا ہے۔ ان دنوں دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تحقیقی مراحل سے گزر رہا ہے اور اپنی تحقیق سے ہٹ کر دن رات تنقیدی و تبصراتی کاموں میں منہمک ہے۔ یو جی سی ضوابط کے تحت ریسرچ اسکالرز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ریسرچ کے دوران کم از کم دو تحقیقی مضامین یو جی سی سے منظور شدہ رسائل میں شائع کروائیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس لڑکے نے ان گنت تحقیقی تنقیدی مضامین ملک و بیرون ملک کے مقتدر ومؤقر رسائل میں نہ صرف شائع کروائیں ہیں بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ادبی رسائل اور صحافتی دنیا میں اپنامقام بنالیا ہے، ان رسائل کی معاونت اور ادارت بھی سنبھالنے کی کوشش کی ہے، برصغیر کے تقریباً تمام بڑے چھوٹے رسالوں کے مدیروں میں اور چھوٹے بڑے قلمکاروں کے دلوں میں جگہ بھی بنا لی ہے۔

          ادب اورصحافت کا ہمیشہ گہرا رشتہ رہا ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ غلام نبی کمار کا میدانِ صحافت صرف ادبی ہے۔ وہ دہلی میں بیٹھ کربیک وقت دہلی اور کشمیر سے نکلنے والے لازوال، نیا نظریہ روز ناموں کے ادبی اڈیشن کا ’ادب نامہ‘ ترتیب دیتا ہے، پنج آب مالیر کوٹلہ پنجاب، دربھنگہ ٹائمز بہار، تحقیق بہار اورسبقِ اردو اترپردیش ادبی رسائل کی ادارت اور معاونت بھی کرتا ہے۔ سری نگر پرائیویٹ چینل’’اردو ورل سرینگر‘‘ کا ایڈیٹر اِن چیف بھی ہے، اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر یوٹیوب پر بڑی بڑی علمی و ادبی شخصیات کے انٹرویوز لیتاہے۔ اس طرح بیک وقت پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی جموں کشمیرکے ادبی ادارہ کا بانی بھی ہے اور مرکزی عالمی اردو مجلس دہلی جیسے ادبی و علمی ادارہ کا جنرل سکریٹری بن کر ذمہ داری بھی نبھا رہاہے۔ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں، سرکاری و غیر سرکاری اداروں اوراکادمیوں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سمیناروں میں شرکت کرتے ہوئے اپنے گراں قدر مقالے پیش کرتا ہے اورخود بھی قومی سمینار منعقد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی ادبی شخصیات کے فن کا جائزہ لیتے ہوئے ان پر بسیط مضامین لکھ کر شائع بھی کرواتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان مضامین کو350 صفحات سے زائد ضخیم کتابوں کی صور ت میں ’’ اردو کی عصری صدائیں ‘‘اور ’’قدیم وجدید ادبیات‘‘ کے ناموں سے منصہ شہود پر لانے میں کامیاب بھی ہوتا ہے۔ اس کی خوش نصیبی یا قلم کے جادو کا عالم دیکھیے کہ اس کی کتابیں اتنی مشہور ہو جاتی ہیں کہ دو تین ماہ بعد اہتمام کے ساتھ پاکستان لاہور سے اڈیشن شائع ہوتے ہیں اور کتابیں ہاتھوں ہاتھ فروخت بھی ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہرطرف اس لڑکے کی پذیرائی بھی کی جا رہی ہے اور اسے ایوارڈز سے نواز ا جارہاہے۔ ان ایوارڈز کے پیچھے کیا مقصد پوشیدہ ہے اس کا ذکر ضروری نہیں ہے البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ایسے ایوارڈ لینے کے لیے ایک عمر درکار ہوتی ہے اور قلم کار کو پاؤں کے نہیں بلکہ سر کے بل چل کر جا نا پڑتا ہے لیکن اسے پنجاب، بہار، یو پی اورکشمیر وغیرہ سے مولانا الطاف حسین حالی ایوارڈ، ساہتیہ کار ادبی سنگم دردبھنگہ سے مظہر امام ایوارڈ، حماد احمد ادبی ایوارڈ، تعمیل ارشاد ادبی ایوارڈ اور پروفیسر حافظ محمود شیرانی ایوارڈ پیش کیے جا چکے ہیں۔

          غلام نبی کمار نے بہت ہی قلیل عرصہ میں اتنا لکھا ہے کہ جو بیشتر ادیب زندگی بھر لکھتے ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ وہ بے غرض بن کر لکھتا ہے اور بے لوث خادم بن کر۔ اسے دیکھنے اور ملنے سے یہی تاثر پید اہوتا ہے کہ اس کے تو کھیلنے کودنے یا عیش کرنے کے دن ہیں۔ لیکن اس نے اپنے شباب کو کتابوں کی دنیامیں جھونک دیا ہے اور اپنی تحریروں کو اپنے خون سے سینچا ہے جس کی بدولت ایک سوکھا شجر معلوم ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے وہ سب کا دلارا اور آنکھوں کا تارا بن گیا۔ ابھی اس کا گزر ابتدائی مرحلوں سے ہو رہا ہے اور وہ منزل شوق میں ہے۔ ابھی اس نے زمانہ کے ستم نہیں سہے ہیں اور فنکاروں کی آنکھیں اور دل نہیں دیکھے ہیں۔ ابھی کتابوں کی دنیا ہے، عملی دنیا سے واسطہ ابھی نہیں پڑا ہے۔ لیکن حیرت ناک بات یہ ہے کہ وہ دنیا کا تجربہ رکھتا ہے اور ایک جہاں دید بزرگ کی طرح بڑی پختہ باتیں کرتا ہے۔ عمر کوئی تیس بتیس برس کی ہوگی۔ لیکن باتوں اور تحریروں سے بزرگ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا وقت سے پہلے اسے بزرگی آگئی ہے۔ یہاں بزرگی سے مراد بڑھاپا نہیں ہے بلکہ یہ ادبی بزرگی ہے جو مسلسل مطالعہ اور کتابوں سے جنون کی حد تک عشق کی بدولت ہے۔ چرارشریف کا شریف، معصوم اور بھولا بھالا نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے جس نے یونیورسٹی آف کشمیر سے یم اے، مولاناآزاد نیشنل یونیورسٹی سری نگر کیمپس سے بی ایڈ اور یم ایڈ کی ڈگریاں پاس کی ہیں۔ یونیورسٹی آف دہلی سے ایم۔ فل بھی کیا ہے یو جی سی نیٹ، اور جے کے سیٹ بھی پاس ہے اور ان دنوں پی ایچ ڈی کے کام میں مشغول ہے۔

          تین سال قبل جب مجھے قومی کونسل کی میٹنگ کے سلسلہ میں دہلی جانا ہوا تو غلام نبی کمارسے ملاقات ہوئی۔ اس نے ایک دن فون کیا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے اپنے ہوٹل کا پتہ دیا تو چند گھنٹوں میں طے شدہ مقام اوروقت پر چلا آیا۔ دبلا پتلا، چست و فعال، حسین وجمیل کشمیری لڑکا، گورااور لال لال رنگ، ذرا سی خراش آئے تو خون نکل آئے، ہلکا پھلکاچھریرا بدن، لمباتقریباً چھ فٹ والا الف نما قد، لمبی اونچی اور باریک گردن، حلق ابھرا ہوا، گول گول نازک، حیا دار، تجسس سے بھری لاغر آنکھیں، لمبی لمبی ٹانگیں، لمبے لمبے ہاتھ، عیب و ریا سے پاک، با رونق تکونی چہرہ، دولت کی نشانی والی بڑی پیشانی، سامنے سے آدھا سر بالوں سے صاف، بچے ہوئے بالوں کو بائیں جانب مانگ نکال کر سلیقہ سے سجائے ہوئے، سلیقہ سے تراشی گئی مونچھ اور داڑھی، ان شرٹ کیے ہوئے خوبصورت اور خوب سیرت، شرافت و مروت کا پتلا، نہایت بردبار اور خلیق، متین و فتین اور سنجیدہ، قدیم و جدید تہذیبی اوراخلاقی روایات کا امین و پاسدار۔ بے حد نفیس، ملنسار اور سلیقہ شعار، گفتگوکرتا ہے تو نپے تلے انداز میں چھوٹے چھوٹے بامعنی اور مٹھاس جملے، بغض و کینے سے پاک سینہ۔ اگر حالات سازگار ہوجائے اور برسرروزگار ہوجائے توبہت ممکن ہے کہ جسامت بڑھ جائے۔ یہ ہے ہمہ جہت اور ہمہ پہلوشخص غلامِ نبی کمار۔ جسے شخصیت بننے میں شاید دیر نہ لگے کیونکہ اسے ابھی عشق کے امتحان دینے ہیں۔

           جب بھی دلی جانا ہوتا ہے بڑی محبت، عقیدت، معصومیت اور شرافت سے آکر ملتا ہے۔ اس سے ملیں تو اس کے حق میں دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ ایک میں ہی کیا اردو لکھنے پڑھنے والے جو حضرات بھی دہلی جاتے ہیں وہ ان سے ضرور ملتا ہے۔ اپنی مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کردیگر علمی و ادبی شخصیات سے ملانے کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اکثر قلم کار اس سے ملنے کے متمنی ہیں اور وہ ملتے بھی ہیں۔ علمی و ادبی شخصیات سے ملنے، ان کی تعظیم و تکریم اور عزت کرنے کا وصف اس میں کچھ زیادہ ہی دیکھا جا سکتاہے۔

          غالم نبی کمار کا قیام ریسرچ کے سلسلہ میں ان دنوں ہندوستان کے دل دلّی میں ہے جو دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ’’ زبیر رضوی کی ادبی خدمات کا تنقیدی مطالعہ ‘‘کے موضوع پر ڈاکٹر مشتاق قادری کی نگرانی میں تحقیق کر رہاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دیگر کتابوں پرتنقیدی و تحقیقی مضامین لکھ رہاہے۔ کتابیں خرید بھی رہا ہے حتیٰ کہ اپنے ریسرچ کے موضوع سے متعلق مرحوم زبیر رضوی کی اہلیہ محترمہ سے ان کی ذاتی لائبریری سے کتابیں خریدتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کی دیانتداری اور شرافت کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔ اسی علم و ادب سے گہری وابستگی اور اپنی تحریروں کی بالیدگی و پختگی کی وجہ سے اس نے برصغیر میں اردو والوں کے دلوں میں جگہ بنا لی ہے۔ یہ کہا جائے تو بے جا اور مبالغہ نہ ہوگا کہ وہ اپنے علم و عمل اور فکر و فن کی بدولت قلم کاروں کے اندر خون بن کر دوڑ رہاہے۔ اس نے چند سالوں میں ملک و بیرون ملک کے ان گنت قلم کاروں کے فن کا جائزہ لیا ہے اور انہیں ادبی افق پراز سر نو زندگی دی ہے۔ اس کی تحریریں حالانکہ تبصروں سے شروع ہوتی ہیں لیکن ان میں تنقیدحاوی ہے۔ اس نے روایتی انداز میں ان کتابوں کے تبصرے نہیں لکھے بلکہ ایک بالیدہ، سنجیدہ، منجھے اور سلجھے پختہ کار نقاد کی طرح ان کا بھرپور جائزہ لیا ہے اور فن کو فنی کسوٹی پر پرکھنے کی سعی کی ہے۔ اس نے منتخب اور ممتاز شخصیات کے فن کو موضوع بنایا ہے جو اپنے عہد میں انفرادیت کے حامل اور اربابِ علم و ادب میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مضامین اس کے قدیم و جدید ادب کے وسیع مطالعہ، وسیع فکشن نظریہ، شعر فہمی، تنقیدی بصیرت، تنقیدی سوجھ بوجھ، عالمانہ گفتگو اورموثر بیانیہ کے سلیقے سے آشنا ئی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ان مضامین کی ایک خوبی یہ ہے کہ مضمون نگار ہر مضمون کی ابتدا میں اس صنف سے متعلق سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس صنف کے عصری قلمکاروں کا تذکرہ ضرور کرتا ہے اور معاصر ین میں اس فنکار کے قد کو ناپنے کی کوشش کرتاہے۔ بسا اوقات اس کو اس بات کی شکایت بھی ہے کہ اچھے اور سچے قلمکار حاشیے پر پڑے ہیں اور ان کو وہ مقام و مرتبہ نہیں مل سکا جس کے وہ صحیح معنوں میں مستحق تھے۔ وہ ان احباب کو بھی منظر عام پر لانے کی سعی میں مسلسل جٹا ہوا ہے جنہوں نے  عمر بھرزبان و ادب کی اپنے لہو سے سینچائی کی لیکن زمانے والوں نے انہیں یکسر بھلا دیا اور ان پر لکھنا کسر شان سمجھا۔ اسے جہاں اسلاف کے ادب کی عظمت کا اعتراف ہے وہیں اپنے معاصر ین کی اہمیت کا شعور بھی ہے۔ اسی لیے ایک طرف وہ اردو کی عصری صداؤں کا شیدائی ہے تو دوسری طرف قدیم وجدید ادبیات کا امین و پاسدار بھی ہے۔ وہ جدید و قدیم ادب پر برابر نظر رکھتاہے اور حالات حاضرہ کا علم بھی۔ اس طرح وہ قدیم و جدید ادب کو دوحصوں میں تقسیم کرنا نہیں چاہتا بلکہ دونوں میں ایک تعلق اور ایک باہمی رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے جس سے اس کی فنی صلاحیت اور ہنر مندی کاپتہ چلتا ہے۔

           اتنی بات تو سب جانتے ہی ہیں ادب کی قدریں کہ کبھی جامد نہیں ہوتیں بلکہ تہذیبی، تاریخی، معاشرتی، سماجی اور سیاسی تبدیلیاں ذہنی تبدیلیوں کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے ایک عہد کے بعض افکارو نظریات آئندہ دور میں رد ہو سکتے ہیں کیونکہ سماج میں کوئی نظریہ آخری نہیں ہو سکتا۔ اردو کاادبی سرمایہ قابلِ قدر ہے اور بہت سے بلند پایہ فنکاروں کے نظریات و افکار بھی موجود ہیں اس کے باوجودبسا اوقات یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ اس میں مختلف اصنافِ ادب کا ماحصل بہت متنوع اور گہرا نہیں ہے۔ پچھلی ایک صدی میں ہماری زبان کے ادب میں کلاسیکی، ترقی پسند اور جدیدیت، مابعد جدیدیت وغیرہ کی تحریکات و رجحانات میں ادباء و شعراء کی کثیرتعدادہونے کے باوجوداچھے فنکار انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ان میں چندایک اصول پسندفن کار بھی گزرے ہیں جنہوں نے کئی فنون کو ایک ساتھ برتااور اچھے ادب کے تخلیق کارثابت ہوئے۔ لیکن اس حقیقت سے انکاربھی نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے یہاں تخیلاتی، تصوراتی اور تاثراتی ادب کا چلن زیادہ رہاہے۔ غلام نبی کمار نے اپنی تحریروں کے ذریعے ایسے ادباء و شعراء کے فن پاروں کا جائزہ لیتے ہوئے ادب میں ان کی ایک شناخت بنانے کی سعی کی ہے۔

           غلام نبی کمارجتنا پختہ، سادہ لوح اور خلوصیت کا پیکرہے اس کی تحریروں میں بھی وہی سادگی، روانی اور پختگی کارفرما ہے اور مفہوم کی ادائیگی میں الجھاؤ نہیں ہے۔ زبان و بیان میں نکھرا ہوا رنگ اور خلوص کا عنصرپایاجاتا ہے۔ جو بات کرنا چاہتا ہے نہایت سلیقے اور ہنر مندی کے ساتھ سیدھے سادے الفاظ میں رکھ دیتا ہے۔ جس پر بھی قلم اٹھاتا ہے اس کی زندگی سے جڑے دلچسپ واقعات، خدمات اورفن پارہ کا گہرائی سے جائزہ لیتا ہے اور کم زیادہ الفاظ میں قارئین کے سامنے بڑی عمدگی سے پیش کر دیتا ہے۔ ان تحریروں میں ہم اس کی تخیٔلی اور تخلیقی خوبیوں پر عبور، ذہنی و فکری صلابت، انفرادی و اجتماعی کوشش، اختراعی دین اور خود اظہاریت کا وصف دیکھ سکتے ہیں۔

           غلام نبی کمارکی برق رفتاری کو دیکھتے ہوئے ہم اس کے روشن مستقبل کی امید کر سکتے ہیں۔ وہ جو ابھی غیر شادی شدہ اور بے روز گار ہے اتنی ساری خداداد صلاحیتوں اور خوبیوں کا مالک ہے، بلند حوصلے رکھتا ہے اور ادب کے میدان میں اپنے آپ کو جھونک دیا ہے۔ بقول خود غلام نبی کمار ’’ اگر انسان کے ارادے نیک ہوں  اس کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو اور حق پرستی اس کی منزل ہو تو ایک دن یقینا کامیابی اس کے قدم چوم لیتی ہے۔ ‘‘ اس بات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں ایسے احباب پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانیاں اور عنایتیں ہوتی ہیں اور ہماری یہی دعا ہے کہ وہ عملی زندگی میں کامیاب و کامران ہوجائے۔

          جس شخص کے اندر یہ وصف ہواور نیت صاف ہو اور دل پاک ہو تو بہت ممکن ہے کہ آنے والے وقت کی اس کی ایک پہچان بننے میں کوئی شک نہیں۔ ہم ایسے ہی متحرک و فعال، چست و چالاک اور بے غر ض و بے لوث خادمان ادب سے امید کر سکتے ہیں کہ آگے چل کروہ اردو زبان و ادب کے معمار بنیں گے جن سے اردو زبان و ادب کی آن، بان اور شان باقی رہے گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close