انقلاب

محمد شمشاد

اس نے بارہا کہا کہ میں اس کی مدد کروں لیکن مجھے اتنی فرصت کہاں کہ میں ۔۔ ۔ ۔ حالانکہ وہ پڑھنے میں بہت تیز اور محنتی تھی پہلے ہی دن وہ ہمارے لکچر سے کئی سوالات اٹھا چکی تھی اور اسی وجہ کر میں اس سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوا تھا اس کے علاوہ اس میں اور بھی کئی خوبیاں تھیں جو ہر وقت سبھی کو متاثر کر تی تھی تیزی چنچلاپن خوبصورتی یہ تمام خوبیاں اس میں یکجا تھیں۔ اور… اور اس کی چال تو بالکل ہی نرالی تھی بہت ہی شرمیلی چال تھی اس کی۔

 ایک دن کی بات ہے کہ میں تنہااپنے دفتر میں کچھ مطالعہ کر رہا تھا کہ اچانک میرے کانون میں ایک آواز ابھری ’’سر! کیا میں اندر آسکتی ہوں ؟ "May I come in sir” میں نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اور سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اس نے کرسی پر بیٹھتے ہی مجھ سے پوچھا ’’سر! کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں ‘‘

 ’’کیسی مدد؟ اور کیوں نہیں ؟ ضرور میں تمام لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں بہ شرط وہ میرے لائق ہو لیکن مجھے اتنی فرصت کہاں کہ میں ……‘‘

 ’’سر! آپ کو میں نے اکثر مشغول پایا ہے آج سے قبل کئی بار میں نے آپ سے باتیں کرنے کی کوشش کی لیکن آپ کی مشغولیت دیکھ کر میری ہمت ہار جاتی تھی۔ سر کیا آپ یونیورسیٹی کے علاوہ بھی کوئی اور کام کرتے ہیں

 ’’جی ہاں ! دنیا میں کام تو بھرے پڑے ہیں یہاں کس کو اتنی فرصت ہے اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میرے کام تو بہت ہی وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں ‘‘

’’سر ! کیا آپ کی شادی ہوچکی ہے ؟‘’

  ’’تم بھی عجب طالبہ ہو !تمہیں ان سوالوں سے کیا لینا دینا ہے اور تمہارا مقصد کیا ہے ‘‘

’’نہیں سر ! میں آپ کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کی مشغولیت کا سبب کیا ہے ؟‘‘

  ’’اچھا ! تو تم میری مشغولیت کا سبب جاننا چاہتی ہو تو سنو !میں تحریک اسلامی اخوان سے تعلق رکھتا ہوں ‘‘

 ’’اچھا ! تو آپ اخوان سے تعلق رکھتے ہیں میں نے بھی اسکے بارے میں بہت کچھ سنا ہے اور اسکی ایک دو تعارفی لٹریعر اور کتابیں بھی میری نظر سے گزری ہیں ۔ تو کیا آپ مجھے اسکا مقصد اور نصب العین بتا سکتے ہیں ‘‘

 ’’ہاں ضرور! کیوں نہیں !میرا تو کام ہی یہی ہے۔ تحریک اسلامی کا مقصد جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ تحریک صرف اسلام کیلئے ہے یعنی خدا کی تحریک۔ اسکا مقصد تمام باطل تحریک سے جدا ہے پوری انسانی تاریخ میں اسکا ایک ہی مقصد اور نصب العین رہا ہے کہ انسانو کو انکے خدائے واحداور حقیقی پرور دگار سے آشنا کرایا جائے اور انہیں اب واحد کی غلامی میں داخل کیا جائے۔ دنیا کے اندر، انسانوں کی ربوبیت کی بساط لپٹی جائے یہ تحریک پرپاہی اس غرض کے لیے ہوئی ہے کہ انسانو ں کی ربوبیت کی بساطہ لپٹی جائے یہ تحریک برپاہی اس غرض کے لیے ہوئی ہے کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی کے جوئے سے آزاد کراکے اسے خدائے واحد کا بندا بنائے انہیں انسانوں کی حاکمیت انسانوں کی وزضع کردہ شرائع وقوانین انسانوں کی خدساختہ اقدار حیات و روایات کے پنجے سے نکال کر زندگی کے ہر شعبے نے انہیں خدائے واحد کے اقتدار و حاکمیت اور اس کے قانون کا پیرو بنائے‘‘

   ’’سر! تو آپ اس میں کیا کرتے ہیں ؟‘‘

 ’’اچھا تو تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ اس تحریک سے منسلک ارکان کا کیا کام ہے سبھوں کا کام اس کی دعوت، نصب العین کو عام کرنا ہے ہم سبھی لوگ اس کی دعوت قرآن کی تعلیمات کو عام لوگوں کے سامنے کھول کر رکھتے ہیں کہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے اور قرآن میں انسان سیدھا راستہ دیکھانے والی واحد کتاب ہے اس میں انسانوں کے تمام مسائل کا حل ہے تاکہ لوگ اس کی تعلیمات پر غور کرین اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور جو لوگ اس کی تعلیمات سے بھٹک کر دوسری راہ اختیار کریں گے ان کی زندگی بالکل ناکام ہوگئی وہ ہمیشہ اور ہر قدم پر ناکام ہونگے میں ان ہی باتوں کو عوام کے سامنے رکھتا ہوں ‘‘

 ’’سر! کیا آپ مجھے ایک دو کتابیں مطالعے کے لیے دے سکتے ہیں تاکہ میں بھی اسی تحریک کو اچھی طرح سمجھ سکو‘‘

  ’’ہاں ضرور! کیوں نہیں ؟ یہ لو تحریک اسلامی کی دعوت اسلام میں عورت کے حقوق اور پردہ، ان تینوں کتابوں کے مطالعے کے بعد مجھے اپنے اپنے تاثر سے آگاہ کوگی کہ تم نے ان کتابوں سے تحریک اسلامی کو کیا سمجھا‘‘

اگلے روز جب میں نے اسے دیکھا تو وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے گھومنے گلا کہ حضور محمدﷺ جب کسی کو اسلام کی دعوت دیتے تھے تو اس میں انقلاب آجاتا تھا سچ سچ ان کتابوں نے اس میں انقلاب برپا کر دیا تھا اور آج وہ پہلے کے بالکل بر عکس نقاب کے اندر چھی ہوئی تھی جب میں اپنے دفتر میں پہنچا تو ان کتابوں کے ساتھ اس کا ایک رقعہ بھی ملا اسی میں لکھا تھا۔

 مکرمی اسلام و علیکم

 یہ کتابیں کافی پسند آئیں جیسے میں نے ایک ہی سانس میں پڑھ لیا سچ یہ کتابیں انقلابی ہیں جو ایک نہیں ہزاروں لاکھوں کی زندگی سنوار نے کے لیے کافی ہیں خدا تمام لوگوں کو ہدایت دے اب میں آپ سے مل نہیں سکتی ہوں ایک اور مشورہ دینے کی زحمت گوارہ کریں کہ میں کس طرح تحریک اسلامی سے جڑ سکتی ہوں اب تک میری زندگی انزادی تھی لیکن اسلام میں اجتماعی زندگی لازمی ہے ہماری ہدایت کے لیے بھی خدا سے دعا کرتے رہیں خدا حافظ۔

 خاکسا ر

 عظیمہ ناز



⋆ محمد شمشاد

محمد شمشاد
مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

ایک تبصرہ

  1. apne is kahani men to inquilab naqaab pahna kar kiya hai

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے