ادبشخصیات

اکبر الہٰ آبادی کی شاعری میں تصور تعلیم نسواں: ایک مطالعہ

صالحہ صدیقی

کسی بھی ملک و قوم میں عورت کی ترقی اور اس کی اصلاح تب تک ممکن نہیں جب تک وہ تعلیم سے بہرہ مند نہیں ہونگی۔ ان پر ظلم ستم کا سلسلہ بھی تب تک نہیں تھم سکتا جب تک ہر ایک لڑکی کو تعلیم نہیں مل جاتی۔ کیوں کہ عورت کی تعلیم کے بنانہ تو ایک خوشگوار سماج اور گھر کا تصور ممکن ہے اور نہ ہی آگے آنے والی نسلوں کی تربیت صحیح طریقے سے ہو سکتی ہے لہٰذا ایک عورت کے لیے تعلیم ہر حال میں لازمی ہے۔ بھلے وہ گھر ہی میں کیوں نہ ہو اس کے لیے اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور پرورش کے لیے بھی تعلیم ضروری ہے اس کے علاوہ زندگی کے ہر موڑ ہر قدم پر عورتوں کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا لازمی ہے ورنہ سماج ہو یا معاشرہ، تہذیب و معاشرت ہویا ادب، گھر ہو یا گھر کے باہرکی زندگی اس کی مکمل ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اس طرح تعلیم مرد کے ساتھ عورت کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے، جتناکہ کھانا، کپڑا اور مکان۔ ایک عورت اپنی تعلیم سے خود تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس سے متا ثر کرتی ہیں۔ جواہر لال نہرو نے کہا بھی ہیں کہ :

” When you educate a man you educate an individual when you educate a women you educate a whole family. "

اس طرح جواہر لال نہرو نے ایک مرد کی تعلیم کو ایک فرد کی تعلیم، جب کہ ایک عورت کی تعلیم کو پورے خاندان کی تعلیم قرار دیا۔  لیکن جب ہم اکبر الہٰ آبادی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے یہاں عورتوں کی تعلیم کا الگ ہی تصور دیکھنے کو ملتا ہیں۔ اکبر الہٰ آبادی کی شاعری میں تصور تعلیم نسواں پر گفتگو کرنے سے قبل اگر ہم ان کی سوانح پر طائرانہ نظر ڈالے تو ہم دیکھتے ہے کہ جیسا کہ نام سے ہی واضح ہوجاتاہے اکبر الہٰ آبادی (سنگم نگری، پریاگ) کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید اکبر حسین رضوی تھا اورتخلص اکبر ؔ تھا۔ وہ 16 نومبر 1846 ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی، آگے چل کر محکمہ تعمیرات میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدارکے عہدے پر فائز  ہوئے۔ 1870ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ 1872ء میں وکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء تک وکالت کرتے رہے پھر منصف مقرر ہوئے۔ 1894ء میں عدالت خفیہ کے جج مقرر ہوگئے۔ 1898ء میں کاان بہادر کا خطاب ملا۔ اس کے علاوہ مخزن لاہور نے انھیں ’’لسان العصر ‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ 1903ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔ اکبر الہٰ آبادی نے جنگ آزادی ہند 1857ء میں پہلی جنگ عظیم اور گاندھی جی کی امن تحریک کا ابتدائی حصہ دیکھا تھا۔ اردو ادب میں اکبر الہٰ آبادی کوچ شہرت ان کی منفرد انداز کی شاعری  کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ انھوں نے ابتدأ میں حیدر علی آتش سے اصلاح لی۔ آگے چل کر انھوں نے اپنا منفرد لب و لہجہ پیدا کیا، اور اپنی راہ خود نکالی۔ ان کی شہرت کی اہم وجہ ان کی ظرافت آمیز اورطنزیہ اشعار پر مبنی ہے۔ ان کے کلام میں سید، مس، اونٹ، کالج، گاانے، کلیسا، برہمن، جمن، بدھومیاں، جیسے مخصوص اصطلاحیں اور علامتیں ہیں۔ ان کے مطبوعہ کلام میں تین کلیات شامل ہیں۔ جن میں دو ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے جب کہ تیسرا ن کے انتقال کے بعد شائع ہوا۔

 اکبر الہٰ ؔآبادی ہمارے پیامی شاعروں میں سے ایک تھے، اور ان کاپیام ہے اپنے ماضی سے رشتہ استوار کرنا۔ 1857ء کی ناکام بغاوت کے بعد ہندستان کی تاریخ پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ لہٰذامسلم عورتوں کی اصلاح، فلاح و بہبود کے لیے سرسید اور ان کے رفقاء نے نمایاں کردار ادا کیا، وہ معاشرے میں عورتوں کو ان کا صحیح مقام دلانے کی حمایت میں سر سیّد نے تعداد ازواج، پردے کی بے جا رسم اور بہ آسانی طلاق دیئے جانے کی مخالفت کی۔ تعلیم نسواں کے بھی وہ بہت بڑے ہم نواتھے۔ انھوں نے ۱۸۷۰ء سے ’’تہذیب الاخلاق ‘‘ میں عورتوں کی تعلیم، رفاہ عورات، اور کثرت ازواج وغیرہ کے عنوانات سے مختلف مضامین تحریر کیئے۔

سرسیّد کے رفقاء میں خاص طور پر نذیر احمدؔ نے مسلم عورتوں کی اصلاح کے لیے متعدد ناول لکھے جن میں ’’مرأۃالعروس ‘‘اور ’’بنات النعش‘‘کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ الطاف حسین حالی ؔنے بھی عورتوں کی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرسید کے بعد عورتوں کی تعلیم کو لے کر سنجیدگی سے کسی نے اس موضوع پر توجہ کیں تو وہ حالیؔ ہے۔ خواتین پر لکھی گئی کتابوں میں ’’مناجات بیوہ‘‘، ’’ چپ کی داد‘‘ اور’’مجالس النساء‘‘کا نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے یہ کتابیں لکھ کر سماج و معاشرے کی توجہ عورتوں کی بے بسی و لاچاری کی طرف منعقد کیں۔ انھوں نے نثر ہو یا نظم ہر طریقے سے قوم کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم کے جانب عملی اقدام کے ساتھ ساتھ حالیؔ نے خواتین کے مسائل کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ اور عورتوں کی زبوں حالی پر قصے کے انداز میں ’’مجالس النساء ‘‘ لکھی، یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ اردو تنقید اور سوانح کی طرح ہندستان کی حقیقی عورت سے ہماری ملاقات بھی حالی ؔ کی تخلیقات میں ہوتی ہے۔ صالحہ عابد حسین کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ :

’’ حالی سے پہلے اردو شاعری میں عورت کا کوئی خاص مقام نہ تھا۔ اس کا ذکر بھی آتا تو محض محبوب کی حقیقت سے اور بھی کوئی اونچے کردار اور اخلاق کی حامل نہیں ہوتی بلکہ اس کی حرکتوں میں شریف عورت سے زیادہ طوائف جھلکتی ہے۔ اس کی اصل صفات ایثار، قربانی، جفاکشی، محنت، وفا، پرستش، محبت، خدمت، کا کہیں زکر نہیں ملتا۔ ماں، بہن، بیوی، اور بیٹی، کی حیثیت سے اس کا جو بلند کردار ساری دنیا کی تاریخ میں عموماً اور ہندستان میں خصوصاً رہا ہے۔ اس کا اشارہ بھی شاید کہیں مل سکے۔ ‘ـ‘(مقد مہ مجالس النساء)

اکبر الہ ٰ آبادی کے کلام کا مطالعہ کرتے وقت ہمارے ذہن میں ایک ایسے شخص کا تصور ابھرتا ہے جو انگریزی تہذیب کا شدید مخالف ہے۔ اکبرؔ کو نہ صرف انگریزی تہذیب بلکہ انگریزی زبان، انگریزی تعلیم، اور انگریزی حکومت سے شدید نفرت تھی۔ شاید اس کی اہم وجہ یہ بھی تھی کہ انھین اپنی تہذیب و تمدن سے شدید انسیت تھی۔ وہ اپنی تہذیب پر کسی بھی طرح آنچ نہیں آنے دینا چاہ رہے تھے۔ ان کا پیغام بھی یہی تھا کہ جدید تہذیب کے طوفان سے بچو اور اپنی پرانی تہذیب سے رشتہ استوار کرو۔ اکبر  نے اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں روایتی انداز کی غزلیں بھی کہیں مگر انھیں جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ اصلاحی شاعری کے لیے بنے ہیں اور اصلاحی شاعری کے لیے انھوں نے اقبالؔؔ کی طرح نظم کا سہارا لیا، اور اردو نظم کو نئی وسعت عطا کیں۔ لیکن اکثر محققین کایہ بھی خیال ہیں کہ انھوں نے سرسیدؔ کی مخالفت میں ہر طرح کی آزادی اور ترقی کی مخالفت کی۔ محمد حسن ؔ اس کی نفسیاتی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :

’’ ان کے اندر بھی ویسی ہی مقبولیت، ویسے ہی اعزاز وعظمت کی تمنّا کروٹیں لیتی رہی جو ان کے ہم عصر سر سید ؔ کو حا صل تھی۔ لیکن قوم و ملت نے سر سید کی جیسی قدر شناسی کی، مسلم پبلک کے ایک بڑے تعلیم یافتہ اور سر بر آور دہ حلقے میں ان کی جیسی آئو بھگت ہوئی، اکبرالہٰ آبادی اس سے محروم رہے۔ سرکار بر طانیہ نے بھی جس کے وہ نمک خوار تھے جہاں سرسیدؔ کو ’’سر ‘‘ کے خطاب سے نوازا، انھیں صرف ’’خان بہادر ی‘‘  کے لائق سمجھا۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرسیدؔ کے لیے رشک و عناد کے جزبات  اکبر الہٰ ؔآبادی کے اندر پرورش پانے لگیں۔ چنانچہ سرسید کی شاید واحد ذات ہے جسے انھوں نے بحیثیت ایک فرد کے اپنی طنزیہ شاعری کا نشانہ بنایا ہے۔ سر سید کو ملعون و مطعون بنانے میں انھوں نے کوئی کسر چھوڑ نہ رکھی۔‘‘ (بحوالہ : طنزیہ ادب کی نفسیات اور اکبر الہٰ آبادی کی طنزیہ شاعری۔ سید محمد حسن، ص۔ ۷۔ ۶ )

 فرد وسماج کی صحیح تربیت اور فلاح و بہبود کا بہترین وسیلہ حصول تعلیم ہے۔ اس کے بنا انسان کی زندگی کاکوئی مقصد، کوئی وجود، باقی نہیں رہتا۔ اس کی زندگی منظم نہیں ہوتی بلکہ بکھری ہوئی ہوتی ہے۔ تعلیم صرف کتابوں کے مطالعہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ تعلیم ایک ایسی شئے ہے جو انسان اور جانوروں کی زندگی کی تفریق کرتی ہے، انہیں جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے، انہیں سماجی، اخلاقی، اور ذہنی طور پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہے۔ تعلیم ہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنی صلاحیتوں کی پہچان کرتا ہے۔ اور اگر کسی انسان کے پاس علم کی دولت نہ ہو تو اس کی زندگی بے لگام ہو جاتی ہے جس کو نہ تو راستے کی خبر ہوتی ہے اور نہ ہی منزل کا پتہ ہوتا ہے۔ اس لئے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ تعلیم حاصل کی جائے۔ اور اس میں مرد و عورت دونوں شامل ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا حق مرد و عورت دونوں پر لازم ہے۔ کیونکہ گھر ہو یا سماج، معاشرہ ہو یا تہذیب کی نشو نما ان سب میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک اور حصے دار ہوتے ہیں۔ ایک کے بنا ء دوسرے کانہ توکوئی تصور ہے، اور نہ ہی ان دونوں میں کسی ایک کے بناء اس سماج کا نظام چل سکتا ہیں۔ ۱۸۹۹ء میں کلکتہ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا اس میں جسٹس سید امیر علی نے اپنی تقریر میں کہا:

 ’’میری رائے میں لڑکیوں کی تعلیم لڑکوں کے متوازی چلنا چاہئے تاکہ سوسائٹی پر اس کا سود مند اثر پڑے۔ جب تک ترقی کے دونوں جز برابر تناسب سے نہ ہوں گے کوئی عمدہ نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ (مسلم خواتین کی تعلیم، ص۔ ۱۰۲)

لیکن اس کے باوجود بھی دیگر حقوق کی طرح عورتوں کے ساتھ یہاں بھی زیادتی کی گئی۔ عورتوں کواس دولت سے محروم رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئیں۔ اس طرح لا علمی کے باعث بھی عورتوں کا ایک طویل عرصے سے استحصال کیا گیا۔ جبکہ مذہب ِاسلام میں عورت کی تعلیم پر زور دیا گیا۔ اور یہ حق مرد و عورت دونوں کو یکساں طور پر حاصل ہیں۔ مگر اس کے باوجود بھی مرد حاوی سماج کے دل و دماغ میں یہ بات پیوست ہے کہ عورت کی جگہ گھر کی چہار دیواری کے اندر ہے، علم و فن ان کے لیے بے معنی اشیاء کے مانند ہے۔ حالانکہ آج قدیم زمانے کا وہ دور نہیں رہا پھر بھی عورتوں کی تعلیم کو آج بھی بہت جگہوں پر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور بیٹیوں کی تعلیم پر بندشیں لگائی جاتی ہیں۔

اگر ہم بات کرے اکبر الہٰ آبادی کے تصور تعلیم نسواں کی تو ہم دیکھتے ہیں کہ اکبرؔ نے اپنی شاعری میں جا بجا عورتوں کی تعلیم پر طنز کیے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ تعلیم خصوصاً انگریزی تعلیم عورتوں کو بے شرم بنا دے گی۔ وہ گھر کی چار دیواری میں قید رہنے کے بجائے آزادانہ گھومتی پھریں گی یہی وجہ تھی کہ وہ عورتوں کو انگریزی تعلیم دینے کے سخت مخالف تھے جس کا اظہار وہ اپنے اشعار میں کچھ یوں کرتے ہیں :۔

حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی

اب ہے شمعِ انجمن، پہلے چراغ خانہ تھی

٭

پردہ اُٹھا ہے ترقی  کے یہ سامان  تو  ہیں

حوریں کالج میں پہنچ جائیں گی غلمان تو ہیں

٭

حرم میں مسلموں کے رات انگلش لیڈیا آئیں

پئے تکریمِ مہماں بن سنور کے بیبیاں آئیں

طریقِ مغربی  سے ٹیبل آیا، کرسیاں  آئیں

دلوں میں ولوے اٹھے، ہوس میں گرمیاں آئیں

٭

امنگیں طبعِ میں ہیں، شوقِ آزادی کا  بلوا ہے

کھلیں گے گل تو دیکھو گے، ابھی کلیوں کا جلوہ ہے

اکبر الہٰ آبادی کو یہ خوف تھا کہ اگر عورتیں انگلش کی پڑھائی کریں گی یا انگریزی اطوار سیکھیں گی تو ہماری تہذیب نست و نابوت ہوجائے گی، شرم و حیا کی جگہ بے شرمی لے لے گی، اکبر ؔاس وعظ کی طرح ہیں جو انسان کے دل میں ان ہو نی کا خوف پیدا کرتے رہتے ہیں اور عقبیٰ کا واسطہ دے دے کر دنیا سے سے بھی واقف ہونے نہیں دیتے۔ انھیں یہ تصور ہی لرز ا دیتاہے جب پڑھی لکھی لڑکیاں سڑک پر نکلیں گی تو منظر کیسا دلخراش ہوگااپنے اس خوف کو انھوں نے بڑی خوبصورتی سے شعری پیرائے میں بیان کیا، اشعار ملاحظہ فرمائیں :

گھر سے جب پڑھ لکھ کے نکلیں گی کنواری لڑکیاں

دل  کش  و آزاد  و  خو شرو، ساختہ  پر  داختہ

یہ تو کیا معلوم کیا  موقعے عمل کے ہوں گے پیش

ہاں نگاہیں  ہوں گی مائل اس طرف بے سا ختہ

ان سے بی بی فقط اسکول ہی کی بات کی

یہ نہ بتلایا کہاں رکھی ہے روٹی رات کی

جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اکبرؔکے نزدیک عورتوں کا انگریزی تعلیم حاصل کرنا بے حیائی کی علامت ہے۔ جس کا ذکر انھوں نے طنز و مزاح کے انداز میں اپنے کلام میں جا بجاکیا، وہ تعلیم نسواں کو روشن خیالی یا بہتر مستقبل کے نظریے سے نہیں دیکھتے تھے، ان کے دماغ میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ اگر عورتیں پڑھ لکھ لیں گی تو ہمارے معاشرے میں بے شرمی عام ہو جائیں گی، اپنے اس خوف کو انھوں نے کچھ اس انداز میں پیش کیا اشعار ملاحظہ فرمائیں:

میں بھی گریجویٹ ہوں، تو بھی گریجویٹ

علمی مباحثے ہوں زرا پاس آکے لیٹ

٭

دونوں نے پاس کر لیے ہیں سخت امتحاں

ممکن نہیں کہ اب ہو کوئی ہم سے بد گماں

بولی یہ سچ ہے علم بڑھا، جہل گھٹ گیا

لیکن یہ کیا خبر ہے کہ شیطان ہٹ گیا

اک پیر نے تہذیب سے لڑکے کو سنوارا

اک پیر نے تہذیب سے لڑکی کو سنوارا

پتلون میں وہ تن گیا، یہ سائے میں پھیلی

پاجامہ غرض یہ ہے کہ دونوں نے اُتارا

صغریٰ مہندی نے اپنی کتاب میں بیگم خواجہ حسن نظامی ؔ سے لیے گئے ایک انٹر ویوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بقول بیگم خواجہ حسن نظامی ؔ، اکبر عورتوں کی تعلیم کے مسئلے پر اکثر گفتگوں کرتے تھے :

’’اکبر ؔ کہتے کہ میں عورتوں کی تعلیم کا مخالف نہیں۔ انھیں تعلیم ملنی چاہئے۔ انھیں مذہب سے واقفیت ہونا بھی ضروری ہے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں سے بھی واقف ہونا چاہئے۔ حساب کتاب بھی آنا چاہیے اور اخلاقی اور سبق آموز کتابیں بھی ان کے مطالعے میں رہنی چاہئے تاکہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر سکیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کی تعلیم کے تو مخالف نہیں تھے، مگر اس حق میں تھے کہ عورتوں کو وہی تعلیم حاصل کرنا چاہئے جو امور خانہ داری، بچوں کی تربیت اور شوہر کی رفاقت میں معاون ثابت ہوں۔ ‘‘(اکبر ؔ کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ۔ ڈاکٹر صغریٰ مہدی،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۸۱، ص۔ ۷۴)

روسو(Rousseau)اور اکبرؔ کے خیالات، زمانی بعد کے باوجود ایک سے ہیں۔ عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں روسوں کا کہنا تھا کہ :۔

” The first and most important quality of a women is gentleness. Made to obey a person as amperfect as man, often so full of vices,and always so full of faults, She ought early learn to suffer even injustice, and to endure th wrongs of a husband without complaints,and it is not for him but for herself that she ought to be gentle.[Rousseau’s Emile, p:270.,By William.H.Pane]

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓایک دوسری جگہ روسو کہتا ہے کہ :

to be relative to men. To please them, to be useful to them to make themselves loved, and honored by them when grown, to counsel them, to console them, and to make life agreeble and sweet to them these are the duties of women at all times, and what should b taught them from their infancy.”  [Rousseau’s Emile, P: 263]

روسو کے اس خیال کے مطالعہ سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ روسو کی طرح اکبر ؔ بھی روسو کی طرح عورت کی زندگی کا مقصد مرد کی خدمت اور غلامی سمجھتے تھے۔ اکبرؔ کے نزدیک عورت کی زندگی گھر کی چہار دیواری تک محدود ہے، جن کی زندگی کا مقصد بچے پیدا کرنا، ان کی پرورش کرنا، اور شوہر کی فرمانبرداری کرنا ہیں اپنے اس خیال کو انھوں نے شعر کے قلب میں کچھ اس طرح ڈھالا ہیں، کہتے ہیں :

تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہیں مگر

خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں

دو اسے شوہر و اطفال کی خاطر تعلیم

قوم کے  واسطے  تعلیم نہ  دو  عورت کو

اس کے علاوہ اکبرؔ نے قدم قدم پر عورت کو پردے میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے خیال میں ایسے مرد بے وقوف ہیں، جو عورت کو پردے سے باہر نکالنا چاہتے ہیں، ان کے نزدیک قوم کی ترقی کا راز بھی پردگی میں ہی مضمر ہیں اشعار ملاحظہ فرمائیں  :

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں  کی  پڑگیا

٭

پردہ اُٹھ جانے سے اخلاقی ترقی قوم کی

جو سمجھتے ہیں یقینا عقل سے فارغ ہیں وہ

٭

سن چکا ہوں میں کہ کچھ بوڑھے بھی ہیں اس میں شریک

یہ اگر سچ ہیں تو بے شک پیرِ نابالغ ہیں وہ

خون میں باقی رہی غیرت تو سمجھے گا کبھی

خوب تھا پردہ نہایت، مصلحت کی بات تھی

اکبر ؔ اپنی شاعری میں دو طرح کی عورت کا تصور پیش کرتے ہیں پہلی مشرقی اوردوسری مغربی۔ ان کے نزدیک مشرقی عورت قابل احترام ہے لیکن دوسری طرف  مغربی عورت مالِ مفت ہے۔ وہ مشرقی عورت کو سترّ پردے میں چھپا کے رکھنا چاہتے ہیں لیکن مغربی عورت کے حسن سے آنکھیں سینکنے کی تمنا رکھتے ہیں مغربی عورت کو دیکھتے ہی ان کی رال ٹپک پڑتی ہے۔ مغربی تہذیب و تمدن کا مذاق اڑانے کے جوش میں انھوں نے مغربی عورت کی جو تصویرپیش کی ہے وہ ناقابل قبول ہے، وہ مغربی عورتوں کا مذاق بنانے کے جوش میں حد بھی پار کر جاتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت تو عورت ہوتی ہیں خواہ وہ مشرقی ہو یا مغربی، یہاں ان کے دل میں عورت کے تصور کی ایک ایسی تصویر ابھرتی ہے جو غیر منصفانہ ہیں ایک طرف تو وہ عورت کی عزت کو بے پردہ ہونے سے بچانے کے لیے انگریزی تعلیم سے دوری بنانے مشورہ دیتے ہیں تو دوسری طرف مغربی عورتوں کے حسن ووجمال کو ڈھال بنا کر بے حرمتی کرنے سے بھی باز نہیں آتے، جس کی عمدہ مثال ان کی نظم ’’برق کلیسا ‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں، اکبر ؔ الہٰ آبادی کے ان نظریے کی نمائندگی کے لئے ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

ممکن نہیں ہے اے مس ترا نوٹس نہ لیا جائے

گال ایسے پری زاد ہوں اور کسِ نہ لیا جائے

تھی میرے پیش نظر وہ بہت تہذیب پسند

کبھی وہسکی مجھے دیتی تھی کبھی شربتِ قند

٭

رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں جو دو چار

ہائے وہ حسن، وہ شوخی، وہ نزاکت، وہ ابھار

زلفِ پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید

قدرِ رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید

آنکھیں وہ فتنئہ دوراں کہ گنہ گار کریں

گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں

 تہذیبِ مغربی میں ہے بو سے تلک معاف

اس سے اگر بڑھوں تو شرارت کی بات ہے

اکبر الہ ٰ آبادی مغربی عورتوں کو بدقماش اور بد کردار ثابت کرنے پر کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ انھیں ایسا لگتا ہے کہ ساری انگریز عورتیں دن رات ہوٹل میں تاش کی بازی کھیلتی رہتی ہیں اور انھیں ہر وقت عاشقوں کی تلاش رہتی ہے، ان کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہیں عیش پرستی، جس کے لیے وہ ہر گناہ کا کام بڑی آسانی سے کرتی ہیں، اکبر الہٰ آبادی  کے اس خیال کی عکاسی کے لیے ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے اندازوطریق

ہال میں ناچو، کلب میں جاکے کھیلوان سے تاش

بادئہ تہذیب یورپ کے چڑھائو خم کے خم

ایشیا کے شیشئہ تقویٰ کو کر دو پاش پاش

جب عمل اس پر کیا، پریوں کا سایہ ہوگیا

جن سے تھی دل کی حرارت کو سراسر انتعاش

سامنے تھی لیڈیانِ زہرہ وش جادو نظر

یاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش

  ’’نقوش‘‘ آپ بیتی نمبر میں محمد عبدالرزاق کانپوری کے مطابق اکبرؔ نے ظریفانہ شاعری اس لیے کی تھی کہ ’’اودھ پنچ‘‘ کی فرمائش  پوری کرنا چاہتے تھے، کہتے ہیں :

’’میں نے سید اکبر حسین سے ایک موقعہ پر سوال کیا کہ آپ جیسے مذہبی شخص نے ظریفانہ شاعری کیوں اختیار کی اور سرسید اور کالج کے خلاف مضامین کس بناء پر لکھنا شروع کیے۔ ہنس کر فرمایا کہ ’ یہ رنگ اودھ پنچ کے مضامین کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اور ظریفانہ مذاق بھی اس زمانے کے ماحول کا نتیجہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ شہرت و ناموری کا زریعہ اس عہد میں اخباری مضامین ہی تھے۔ لہٰذا اکبرؔ حسین سے جو غلطی ہوئی وہ معافی کے قابل ہے۔ اور مجھے بھی یہ خبر ہے کہ اخیر دور میں سید اکبر حسین کے احباب نے بھی ان کو سر سید کی اور کالج کی مخالفت سے منع کیا تھا۔ چنانچہ ان کی شاعری کا رنگ اس کے بعد بدل گیاتھا۔ ‘‘(نقوش۔ آپ بیتی نمبر، جون، ۱۹۶۴، مدیر: محمد طفیل۔ لاہور۔ ص:۴۲۹۔ ۴۲۸)

بہر حال اکبر الہٰ آبادی اپنے عہد کے ایک ممتاز شاعر تھے، ان کی شاعرانہ بصیرت سے انکار ممکن نہیں۔ بھلے ہی وہ عورتوں کو جدید تعلیم دینے کے مخالف تھے، لیکن اس بات سے بھی انکارممکن نہیں کہ ان کے سینے میں اپنی قوم کے لیے، اپنی تہذیب و ثقافت کے لیے بے پناہ محبت تھی، وہ اپنے کلچر کو کبھی مٹتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے تھے، وہ ایک درد مند دل حساس شاعر تھے، عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں ان کے نظریات سے اتفاق تو نہیں کیا جا سکتا لیکن تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنے کاا ن کا پیغام ہم سب پر ضرور وعائد ہوتا ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے یہاں عورتوں کی تعلیم کا تصور جو پیش کیا گیا ہے وہ عہد حاضر کے حالات سے بالکل مختلف ہے، آج دنیا دن دونی رات چوگنی ترقی کی راہ پر منحصر ہے لڑکیاں ان کے عہد سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ آج تعلیم میں لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہیں۔

مزید دکھائیں

صالحہ صدیقی

ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

متعلقہ

Close