اک دن سے !

 دستگیر نواز

 زندگی چاہے جیسی بھی ہو، کسی بھی حالات سے گزر رہی ہو، خوشیوں کی ڈگر پر چل رہی و  یا غموں کے دوراہے پر کھڑی ہو۔ بحر حال ہر ایک کی زندگی میں ایک دن ایسا ضرورر آتا ہے جس دن سے وہ اپنے آپ کو بھول بیٹھتا ہے یا پھر یکسر اپنی زندگی کے روز و شب کے معمولات تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

اتنی بڑی و شاندار حویلی کے ہال میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھے شجاعت خاں بہادر گہر ی سوچ میں گم تھے، یہ ان کا تقریباً روزانہ کا معمول سا ہوگیا تھا، وہ کیا سوچتے رہتے ہیں، کونسی فکر لاحق ہے، اس سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔یوں تو حویلی میں چلتی پھر تی انگنت زندگیاں تھیں ،ایسی بے حسی کہ بس خدا خیر کرے۔ کسی کو کوئی سروکار ہی نہیں کہ دو ہمدردی کے بول کہدے یا پھر دو منٹ خاں بہادر کے پاس ہی بیٹھے اور انکا دل بہلادے۔

گرچہ ان کی اس حالات کی فکر کسی کو تھی تو صرف اور صرف ندیم کو ہی تھی، کیونکہ ندیم ہی اس حویلی کا وہ واحد فرد ہے جو اپنی آنکھ کھلنے کے بعد پوری زندگی اس حویلی میں گذارا اور شجاعت خاں بہادر کے ساتھ اُن کی شریک حیات کے بعد سب سے زیادہ قربت بھی اسی کا مقدر بنی یعنی خاں بہادر کے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کا شرف بھی اسی کو حاصل ہے۔

        دراصل کچھ ہی ماہ کا عرصہ ہوا تھا، ابھی خاں بہادر کی شریک حیات کو اس دُنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کا بڑا لڑکا ولایت سے آیا ہوا تھا اور وہ اپنی ماں کی جدائی سے غمزدہ ہو نے کے بجائے اپنے والد خاں بہادر سے ماں کے لئے برسابرس ولایت سے بھیجے ہوئے زیورات، نقدی اور یہاں کی جائیداد کا بھی مطالبہ کر رہا تھا۔بس اس اک  دن سے ۔۔۔  آج کا دن ہے کئی برس گزر جانے کے بعد بھی وہ تنہائی پاتے ہی سوچوں میں غرق ہوجاتے۔ یوں تو ماں باپ کا سب کچھ اولاد کا ہی ہوتا ہے،اس بات کو حقیقت جانتے ہوئے اپنا سب کچھ وہ تمام کو دینے کا اعلان کرچکے تھے ۔ ہا ں کسی مجبوری اور قانونی رسہ کشی کے چلتے خاں بہادر نے اس حویلی کو اپنے بڑے بیٹے کے نام کیا تھا اور اس بات کی تاکید بھی کردی تھی بلکہ وصیت بھی کردی تھے کہ عدلاتی کشمکش مکمل ہوتے ہی اس حویلی کو چاروں بھایوں میں تقسیم کردیا جائے گا اس پر تمام حویلی کے مکینوں نے اپنے دستخط بھی کئے ہوئے ہیں ۔

 اب وہ  چاہتے تھے کہ چار حصوں میں اس حویلی کی تقسیم ہو جائے۔اتیفاق دیکھئے کہ تینوں لڑکے بھی خاں بہادر کے ولایت ہی میں مقیم ہیں ۔یوں تو یہاں پر تینوں بیٹوں کیFamilies رہتی ہیں ۔سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا ہے،لیکن بڑے بیٹے کے اس مطالبہ نے خاں بہادر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ وہ پوری طرح Puzzle  ہو چکے ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ بات صرف مطالبہ ہوتی تو کوئی بات بھی تھی،لیکن بڑے بیٹے نے تو حد ہی کردی کسی مہاجن کے قرض مع سود کے کھاتہ کی طرح فہرت لے بیٹھا تھا فلاں وقت یہ لایا تھا میں، فلاں وقت یہ بھجوایا تھا میں ،فلاں وقت یہ لاکر دیا تھا میں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

کئی دہے گزر جانے کے بعد اب آکر واپس مانگ رہا ہے ۔کہتا ہے Rings اتنے عدد،Necklace Set اتنے،ہاتھ کے کنگن کہاں ہے یہ کہاں ہے وہ کہاں ہے؟آخر میں لایا تھا جو سب چیزیں کہاں ہے ؟ بدبخت کو یہ بھی احساس نہیں رہا کے کس سے حساب طلب کر رہا ہے افسوس صد افسوس۔

تینوں بیٹے بھی ولایت سے آتے اور کچھ اداکاری ،تھوڑی ہوشیاری کی چالیں اپنا کر اپنا  وقت گزار تے اور چلے جاتے ۔ کیون کہ وہ اپنے والدیں کے لئے تھوڑی نہ آتے وہ تو صرف اور صرف اپنی Families کے لئے ہی تو آتے  بس اسی طرح سے یہ سیاسی آنا جانا چل رہا ہوتا،خیرجب کبھی یہ چاروں میں سے کوئی بھی یہاں اس حویلی میں آتا ہے تو خاں بہادر ندیم کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسطرح پیش آتے ہیں جیسے ندیم کی کوئی اہمیت ہی نہیں ۔

  پتہ نہیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

 اپنے بیٹوں کے دبائو میں آکر کرتے ہیں ؟

 مجبوری میں کرتے ہیں  یا خاں بہادر خود ندیم سے نفرت کرتے ہیں ؟

ابھی نہ جانے خاں بہادرکی سوچوں کا سلسلہ کب تک چلتا۔ اگر اُن کی بہو آکر یہ شکایت نہ کرتی کہ ہمارے WashRoom  میں پانی نہیں آرہا ہے۔ وہ پانی کی Motor چالو کرنے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

جب سے خاں بہادر کی شریک حیات کا انتقال ہوا تب سے یہ حویلی ایک بن بیاہی دلہن کی طرح لگ رہی تھی۔بھلے ہی قیمتی و نایاب فانوسوں سے روشن کردو، نت نئے پردوں سے سجادو یا پھر طرھ طرح کی ولایتی مہنگی و نایاب سجاوٹی چیزوں ، ایران کی قیمتی قالینیں بچھادو اس حویلی کی رونقیں واپس نہیں آسکتی تھی اس کے برعکس روز بہ روز حویلی میں اداسی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔سچ ہے کسی نہ کسی کے وجہ سے ہی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جیسے تاج محل سے ہندوستان کی،چار مینار سے حیدرآباد کی۔ٹھیک اسی طرح اس حویلی کی بھی مالکن مہہ جبین سے ،جو اب نہیں رہی۔

 خاں بہادر کو اپنے چارون ولایتی بیٹوں کے حرکتوں سے بہت دُکھ ہے،جو حویلی سے دور بہت دور سات سمندر پار رہتے ہوئے بھیانہیں دُکھ پہنچاتے رہتے ہیں ، یہاں ان کی بہوویں بھی دُکھ کے پہاڑ توڑتی رہتی ہیں ۔ کبھی خود کی پریشانی  سناکر تو کبھی ندیم کی شکایتیں سنا سنا کر۔ ندیم دراصل خاں بہادر کیکسی دور کے رشتہ دار کا لڑکا تھا جس کے ما باپ نے اُسے خاں بہادر کو سونپ دیا تھا یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اس حویلی میں ہی نہیں تمام شہر میں شجاعت خاں بہادر کا سکہ چلتا تھا اور اُن کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ پتھر پر کیا ہوا نقش ہوتا تھا، جس کو کوئی مٹانا تو درکنار اس مین کسی بھی قسم کی رتی برابر تبدیلی بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن اب حالات اس کے برعکس ہو چکے ہیں ۔

 خاں بہادر کے دور کا خاتمہ اُس دن ہوگیا تھا جس دن انہوں نے اپنی ماں کے نام ۔والد محترم کی خریدی ہوئی جائداد اس حویلی کو  کسی مجبوری اور قانونی رسہ کشی کے چلتے اپنے بڑے بیٹے کے نام کیا تھا!!۔ اُس اک دن سے آج کا دن ہے کہ اس حویلی پر کبھی عید و برات کی وہ رونقین نہیں دیکھی گئی جو کبھی خاں بہادر کے ویلدہ کے با حیات رہنے ہر ہوتی تھی۔آج بھی کہیں عید برات کی بات نکل جائیں تو اطراف و اکناف کے علاقوں میں خاں بہادر کی حویلی کا تذکرہ ضرور بہ ضرور ہوتا۔ لوگ آج بھی اس حویلی کے قصے سناتے نہیں تھکتے۔ کئی بار لاچار و مجبور ورتوں کو ہم نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بہت سارے لوگ ہیں جو صدقہ و خیرات کرتے نہیں تھکتے۔ لیکن دلہن کی بات کچھ اور ہی تھی۔ خاں بہادر کی شریک حیات کو لوگ اسی نام سے جانتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ ایسی بہو جو ساس کی کاربن کاپی تھی خوش قسمتی سے ہی ملتی ہے۔ وہ کچھ اس انداز سے صدقہ و خیرات کرتی تھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی کو کچھ دے کر اُس پر احسان نہیں کر رہی ہے بلکہ لینے والوں کی احسان مند ہوتی تھی جس شائستگی اور انکساری سے وہ پیش آتی تھی اُس کی مثال ہی نہیں ملتی۔

 انہیں خصوصیات کی وجہ سے اس حویلی کے وقار کو بچا رکھا تھا جسے خاں بہادر کی والدہ نے انہیں بطور زمہ داری سونپا تھا۔ آج بھی کبھی کہیں کسی خوشی یا غم کا قصہ نکل جائے تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خوشی میں تو کوئی بھی شریک ہو جاتا ہے لیکن کسی کے غم، دکھ درد میں کوئی شامل نہیں ہوتا، لیکن اس حویلی کیخصوصیات یہ ہے کہ یہاں دکھ درد ہی میں لوگ ساتھ جمع ہوتے ہیں اور ہمدرد گھر اور گھرانے کی یہی پہچان ہے کہ لوگ اُس کے دُکھ درد میں ساتھ ہو۔ اس حویلی پر دو بار لوگوں کا اژدھام دیکھا گیا۔ جب خاں بہادر ایک جان لیوا حادثے سے بال بال بچے تھے۔شہر کا شہر حویلی کے سامنے جمع تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے زخموں کا درد سب کے سینوں میں ہو رہا تھا اور دوسری مرتبہ ایسا ہی منظر ان کی شریک حیات کی موت کی خبر سن کر دیکھنے کو ملا تھا۔اُن کے گزر نے کے بعد تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ خاں بہادر کی شریک حیات کے  گزرتے ہی سب کچھ اُن کے ساتھ گزر گیا۔

 خاں بہادر کا وجود اب حویلی کے لئے ایک بوجھ بن کر رہ گیا، اگر کسی کو ان کی ضرورت ہے تو بس اتنی ہے کہ گھر کا سودا، Electricity Bill کی یاپھر WaterBoard بل کی ادائیگی یا نہیں تو پھر کرائے وصول کرنا  بیٹون کے گھروں کے اور ٹیکس بھرنا وغیرہ ۔۔کوئی بھی ان کی تنہائی کودور کرنے کے بارے میں کچھ غور وفکر نہیں کرتا۔ کوئی بھی ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں نہیں سوچتا۔خاں بہادر کی شریک حیات کے گزر تے ہی اس حویلی سے ایک کے بعد ایک تمام نوکر چاکر رفو چکر ہونے لگے۔اب ایک آدھ بچا ہوا کوئی ہے تو یہ اس کی کوئی مجبوری ہے یا پھر وہ اپنی خود غرضی سے ہے۔رشتہ دار، دوست احباب تو غائب ہوئے جیسے کبھی کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔ یہ سب حالات کو دیکھتے ہوئے ندیم بھی اس حویلی سے الگ ہوچکا تھا۔ اپنے بیوی بچوں سمیت،ہاں یہ الگ بات ہے کہ مہنوں میں کبھی کبھار آبھی جاتا ہے تو خاں بہادر کی خاطر۔ندیم کو اِس حویلی سے علحدہ کرنے میں خاں بہادر کی تیسری بہو نے بہت اہم رول ادا کیا۔ جادو ٹونا، گنڈے پلیتے، نہ جانے کیا کیا اور کہاں کہاں سے لا لا کر یہ وہ حرکتیں کر کر آخر کار ندیم کو اس حویلی سے بے دخل کر کے ہی رہی۔

  آج بھی خاں بہادر کو گہری سوچوں میں گم دیکھ کر ندیم سے رہا نہ گیا وہ اس حویلی میں انہیں تنہا پا کر پوچھ ہی لیا کہ کیا بات ہے ؟

یوں محسوس ہوتاتھا کہ ان کی خاموش آنکھوں میں ایک طوفان تھا، جسے وہ چھپاکر رکھے ہوئے تھے۔ آج پتہ نہیں کیوں وہ اُس طوفان تھام کر نہ رکھ سکے۔بھر آئی ہوئی آنکھوں سے اپنا دل ندیم کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔

 کہنے لگے ہم نے اتنی عمر گزاری ہے زندگی کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے لیکن اولاد کا ایسا روپ ایسا رنگ ہم نے نہ ہی کہیں دیکھا اور نہ ہی کسی سے سنا سننا تو درکنار میاں کبھی ایسا کوئی واقعہ ہماری نظروں سے بھی نہین گزرا یعنی پڑھنے کو بھی نہین ملا کبھی۔

 اتنی بڑی حویلی ہم نے اپنے برے بیٹے کے نام کردی بغیر کچھ سوچے سمجھے۔

 لیکن جس چھوٹے سے کمرے مین تمہارا کچھ سامان پڑا ہے اُسے خالی کرانے کے لئے یہ چاروں بہوئوں اور بیٹوں نے ہمارا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

 ہم نہ چاہتے ہوئے بھی تمہارے ساتھ ناروا برتائو کر رہے ہیں ۔تاکہ تم ہم سے نفرت کرنے لگو اور یہاں سے یہ کمرہ بھی خالی کرکے سامان لے جائو، ہم مجبور ہے کیونکہ اب تو اس وسیع حویلی میں ہمارے لئے بھی ایک انچ جگہ نہیں لیکن ہم یہ کیسے بھول جائیں کے تم نے اس حویلی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔

  اس کو نیلام ہونے سے بچانے میں ، تم نے جو بہادری ، دانشمندی، صبر و تحمل کا مظہرہ کیا تھا وہ تو صرف تمہارا ہی جگر تھا ورنہ جانے کیا ہوجاتا ! ہم تو ٹوٹ ہی گئے تھے اس حادثہ سے۔

 آج وہ لوگ پیسے کی بات کرتے ہیں ۔ پیسہ تو تمہارا بھی لگا اور اُپر سے تم نے جو شخصی محنت کی اس  سے ان چاروں احساسِ کمتری کا شکار ہوچکے ہیں اور ہماری شریک حیات کی جس طرح تم اور تمہاری بیوی ،بچی نے خدمت کی ہیں ،یہ چاروں نے حقیقی اولاد ہوتے ہوئے بھی نہیں کی۔

 ان کی حرکتوں نے ہم کو بے بس و مجبور کر کے رکھ دیا ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں ؟

 کیا نہ کریں ؟

 آج ہم کو تنہا زندگی گزارتے ہوئے ایک عرصہ گزر گیا۔ لیکن کسی کو ہماری ذرّہ برابر بھی پرواہ نہیں ،تم تو جانتے ہو میں ان تمام کی حرکتوں سے تنگ آکر اپنی زندگی کے باقی ایام سرزمین مقدس پر گزارنے کا بھی فصیلہ کر لیا ہے اور اس بات کا بخوبی سب کو علم بھی ہے لیکن افسوس صد افسوس کے کوئی بھی ہماری اولاد میں سے اس کو عملی جامہ پہننا نے کے لئے رتی برابر کوشش نہیں کی۔ بس ایک بار ہمارے چھوٹے لڑکے نے عمرہ کے لئے انتظامات کروائے۔ماباقی تینوں کو تو بس اپنے بیوی ،بچوں کی بیجا فرمائیشوں کو پورا کرنا اور ان کی غلامی میں لگے رہنے سے فرصت ہی نہیں ۔

بس اللہ ہی اللہ کر کے ہم یہ دن گزار رہے ہیں اور خدمت خلق کے کئی ایک کاموں کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ پورے ہونے والے ہی ہیں دیکھو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کیا مرضی ہے۔ بس ہیں کسی چیز کی فکر کھائے جاتی ہے تو وہ ہے تمہارے ساتھ ہوئی نا انصافی کی کہ تمہاری زندگی کو بڑی بیدردی سے اس حویلی کے لئے استعمال کیا اور اُس چھوٹے سے کمرے کا سمان خالی کروانے کے لئے ان لوگوں کی سیا ست نے تمہارے مقابل مجھے لا کھڑا کیا، بس میاں ہم اسی سوچوں میں گم رہتے ہیں ،بلکہ ہم تو سوچون میں گرق ہو گئے ہیں !

اُس اک دن سے۔۔۔ جس دن ہمارے بڑے بیٹے نے اپنی مرحوم والدہ کے زیورات، نقدی اور جائیداد کا حساب کسی مہاجن کی طرح پوچھا تھا بس۔۔بس اُس دن سے ہماری زندگی میں جو تبدیلی آئی  وہ اب آہستہ آہستہ ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد ہر کسی کے نظروں میں آنے لگی ہے۔ اب تو ہماری حویلی کے اندر کے اس ماحول سے باہر والے بھی فائیدہ اُٹھانا چاہ رہے ہیں ۔جو کبھی ہم سے نظرین ملانا تو درکنار نظروں کے سامنے آنے سے بھی گھبراتے تھے وہ اب سرِبازار ہماری حویلی کی داستان بیان کرنے سے بھی نہیں جھجکتے۔انتمام حالت نے ہمیں پچھتاتے ہوئے پل پل یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

کہیں ہم زندگی میں ناکام تو نہیں ہو گئے ؟ ؟ ؟



⋆ دستگیر نواز

دستگیر نواز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے