ادبغزل

اہلِ خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے!

احمد نثارؔ

اہلِ خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے

آباد موسموں میں بھی برباد ہم ہوئے

کتنے حسیں فریب میں ڈوبے ہیں آج کل

بربادیوں کی راہ میں آباد ہم ہوئے

افکار اپنے بے کس و لاچار ہوگئے

اہلِ سخن میں رہ کے بھی بے داد ہم ہوئے

فرقے، گروہ، مکتب و نسلوں میں ہیں گرفت

خوش فہمیاں مزید کہ آزاد ہم ہوئے

رستے میں عشق نام کا تیزاب مل گیا

اک گھونٹ کیا پئے تھے کہ برباد ہم ہوئے

گرتا میعار جانئے، یہ بات ہے اگر

اوروں کو شاد دیکھ کے ناشاد ہم ہوئے

نازک مزاج ہونا بھی اک جرم تھا یہاں

اتنے ملے ہیں ضرب کہ فولاد ہم ہوئے

شعر و ادب، سلیقہ و آداب ہیں یہاں

موجِ سخن کی بزم میں آباد ہم ہوئے

مثلِ حباب اٹھے تھے، اور اٹھ کے بجھ گئے

افسوس ایک لمحے کو آباد ہم ہوئے

ظلمت میں مضطرب سا رہا جذبئہ یقیں

جیسے امیدِ صبح کی فریاد ہم ہوئے

یہ زندگی قفس کے سوا کچھ نہیں نثارؔ

قیدِ حیات توڑ کے آزاد ہم ہوئے

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close