ادب

ایک ملاقات (2)

دوسرا خط

سعد  احمد

بستر کی سلوٹیں، گڑبڑائے تکیے، مغتصب چادریں، نڈھال گلاس، بدحال بوتل، گنگناتا پانی، سنسناتا پنکھا، ٹیبل لیمپ کی پر امید روشنی، ہلکی ہلکی ہواؤں کی خوش گپیاں، کرسی کی بیچارگی، ٹیبل کی خوش مزاجی، کونے میں سجا ہوا حقہ، دوعدد  اداس چپلیں، متعجب رینگتی ہوئیں خوشبوئیں، دماغ پر ایک جھناکا طاری کررہے ہیں۔ میرے صاحب، میرے بزرگوار، مجھے علم ہے اس سے ملتی جلتی حالت تمھارے کمرے کی بھی ہے۔ ہاں مجھے یقین ہے ایسا ہی ہے۔تمھاری ڈوب ڈوب کر ابھرتی سانسیں، سانسوں کا زیر وبم، زیر وبم پہ چالاکی سے لگام لگاتی ہوئی بیہنگم سنجیدگی، غنودگی کے بہانے ہر لمحہ میں ہزار زندگیاں جینے والی شخصیت، اک کیسے۔۔ اچھا۔۔ سچ،۔۔ بہت اچھا۔۔ دلگیر۔۔ کے ہپناٹزم سے چالیس چوروں کی پوٹلیاں کھول لینے والے رابن ہوڈ سے میں واقف ہوں۔ ہاں جناب۔۔۔ ہماری پچھلی ملاقات کم سے کم میرے لئے ایسی شب برات ثابت ہوئی کہ میں نے خود کو ایصال ثواب کے جھنجھٹ سے آزاد کرلیا۔ میں نے تمھارے استفسار پہ بھی تمھیں نھیں بتایا کہ میں کس ملک سے ہوں۔ میں تمھارے دوست محمود حمود کے ملک سے ہوں۔ شاید کبھی محمود نے تمھیں اپنی منسوبہ اور منگیتر کا بتایا ہو۔ میں اسی خوش قسمت کی تایازاد ہوں۔ محمود کی منگیتر کا مجھے افسوس نھیں خوشی ہے اور محمود بھی خوش ہے کہ تہذیب کے بھنبھوڑئیے کے ہاتھ  نھیں لگی۔ اللہ کی قسم وہ ہم سب کی جان تھی۔ ۔۔۔۔ذہین ترین عرب دوشیزہ۔۔۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی ہم سب پہ اپنے حفظ کی بنا پر حاوی تھی۔ اسکا شوق تھا حدیثیں یاد کرنا۔ اسے تقریباً بخاری اور مسلم مع متن زبانی یاد تھے۔ ہم عرب لڑکیاں بھی عجیب ہیں خود کو متن کے سپرد کردیتے ہیں۔ ہماری سپردگی اتنی رچاؤ بھری ہوتی ہے کہ ہمیں علم تک نہیں ہو پاتا؛ کہ متن اور لفظ سے والہانہ عشق میں ہمارا خود کا وجود کہاں رہ گیا۔ نہیں، یہ نہ سمجھنا کہ میں عربوں کی دیانت داری سے عجمیوں کو چت کرنا چاہتی ہوں۔ نہیں ایسانہیں ہے بلکہ ہماری شریانیں  اوربہت اندر تک خلیے تک حفظ سے ایک قسم کا سکون محسوس کرتے ہیں۔ تمھیں تو خوب علمہے ہم پہلے صرف خواہشات کی راکھی باندھتے تھے۔۔ہم عیاشیوں سے لیکر خون تک کی ہولیاں تفریحا کھیلتے تھے۔ ہم میں کا ظالم صدیوں ایک کرسی پہ بیٹھ کر ہم میں کے مظلوم پہ اپنے نعل سے ٹکا ٹک احکامات ٹکاتا رہتا۔ پھر ایک لفظ آیا جس نے ہم سب کو یوں پرویا کہ ہم بہت سے معنوں کے معانی ہونے کے بجائے اسی ایک لفظ  سے جڑ گئے۔ تمھیں اس بات کا بھی علم ہے کہ وہ لفظ ہماری یاد داشتوں  میں اس طرح منقش ہو گیا ہے کہ ہمارا وجود۔۔۔ ہمارا سانس لیتا وجود اسی لفظ کے مرہون منت ہے۔ ہماری تایازاد کا چہرہ اس لفظ کے ورد سے۔۔۔، قرات سے۔۔۔۔۔ پڑھنے سے یوں تمتما اٹھتا گویا اس نے براق دیکھ لیاہو۔ جب بھی وہ تجارب کے متن پہ سوار ہوکر الفاظ کی وادیوں سے گذرتی،واللہ، میرا پورا گھرانا، اطراف کی عورتیں  بوڑھے، جوان ہوتے ہوئے بچے، بڑھیاں اورپردہ میں بیٹھنے  والی لڑکیاں، تمھیں یہ جان کر شاید تعجب ہو کہ ان میں عرب غیر مسلم بھی ہوتے تھے یوں اسے گھیر لیتے جیسے کسی ولی   نے  ابھی ابھی کوئی معجزہ دکھایا ہو۔ اسے الفاظ کی وادیوں میں کسی معانی کی جستجونہیں تھی۔ وہ تو۔۔۔تو لفظ۔۔۔ الفاظ کے ان تجارب سے گذر تی، میرے صاحب، کہ بنا کسی وجہ کے اجتماعی طور پہ اشکوں کے پرنالے  جاری ہوجاتے۔۔آہوں اور ہچکیوں کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں یوں رکتی جیسے شارع عام پہ کوئی بھڑنت ہوگئی ہوپھر یوں چلنے لگتی گویا بھڑنت نے  کسی معصوم کی زندگی بخش دی ہو۔ یہ اس کے لفظوں کا تجربہ ہی تھا جو گنتی کے لوگوں سے ہوتے ہوئے ہر خاص و عام عرب کو پکڑ پکڑ کر اسے یاد دلاتا۔۔۔ کچھ نہ کچھ یاد دلاتا۔۔۔ میرے صاحب۔۔ گئے دنوں میں اسے اور اسکے والدین کو بھمبھوڑیوں کی بمباری نے نگل لیا۔ میں۔ ۔۔۔۔ میں یورپ تمھارے ساتھ ہی آئی تھی صاحب۔۔ میں نے اپنی تعلیم کے دوران بارہا محمود کی رندھی ہوئی آواز سننی چاھی۔ بارہا اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھنے چاہے، میرے صاحب،۔۔مگر۔۔ وہ بھی آخر عرب ہی ہے۔

صاحب العالی، آپ جانتے ہیں کہ ہم اس قدر تکلیف میں کیوں مبتلاہیں ؟ ہمیں موت کیوں نہیں آتی؟ ہم ہر روز مرتے ہیں پھر بھی موت ہم پہ مسکرا کر کیوں گذر جاتیہے؟

میرے صاحب، کیا آپ کو لگتاہے موت ہمیں شکست دے رہی ہے۔ میں نے تو اب عربوں سے بھی سنا ہے کہ ہار کیوں نہیں مان لیتے؟ ایک مرتبہ تم نے اپنا سب کچھ اس لفظ کو دے دیا۔۔۔ خود کو سپرد کیا۔۔ ایک مرتبہ پھر کیوں کسی کے نھیں ہوجاتے؟

میں نے لوگوں کو سننا بھی شروع کردیا ہے جو کہتے ہیں کہ تم لوگ بلا کے بیوقوف  ہو۔۔۔۔۔ ویسے ہی بیوقوف جیسے پہلے تھے؟ آپس میں خوب لڑتے تھے اور باہر والے سے ڈرتے تھے کہ تم کوکرپٹ نہ کر دے؟ عرب اور بزدلی دراصل ایک شئی کے دو نام ہیں۔۔ ۔ کیا تمھیں بھی ایسا ہی لگتا ھے؟

میرے صاحب خیر سے یہ بھی نا سمجھنا کہ میری زبان پہ یہ صاحب صاحب کی رٹ کسی نو آبادیاتی مجبور فکر کی زبان ہے۔۔میرے صاحب مجھے تمھاری تہذیب کا یہ لفظ اس قدر پیارا لگتا ہے جسمیں بے لوث مفہوم کوٹ کوٹ  کربھرا ہے۔ تمھیں پتہ بھی ہے کہ ہم  لفظ صاحب کی سند سے بخوبی واقف ہیں۔  ابھی تک دنیا معنوں کے سپولئے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پالتی تھی۔ ان کی تعمیم، اور تجسیم میں دل کیا جان سے بھی ہارتی تھی۔ ان کے لیے آنکھیں بچھائے رکھتی تھی۔ نظریں جمائے رکھتی تھی۔ خوابوں اور باتوں میں مضراب کی قطاریں تھیں یہ قطار یں اس قدر الجھی لگتیکہ کبھی کسی تہہ خانہ میں جا ملتی اور کبھی کسی مئے خانہ سے جا لگتیں۔ نتیجہ وہی ہوتا جو روایات کہتیں۔ میرے صاحب تمھاری دور تک دیکھنے والی آنکھوں نے کیا کبھی وہ چیز دیکھی ہے جو دنیا کی تمام لذتوں کو شکست دے دے۔ کیا کبھی ایسا لفظ سناہے جو اگر لوگوں کی آنکھوں سے گذار دیا جائے تو انکی آنکھیں روشن ہوجائیں اور ا گر  بے ٓآنکھ والوں کی انگلیاں اس پر مچل جائیں تو مرتے دم تک انکے دل مسرور ہوں۔ میرے صاحب غرور عرش پہ بیٹھے ہوئے ان معنوں کے سوداگروں کو کبھی آپ نے غور سے دیکھاہے۔ یہ معنوں کے مداری ہیں۔ چند لفظوں کی ڈگڈگی بجا کر ایسا شعبدہ دکھاتے ہیں کہ لوگ بد مست ہو جائیں اور کہنے لگیں ناچ برابر ناچ شرابی زلف سے گرتا پانی شتابی۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی کوئی باتہیکہ لوگوں کی چالوں کو اپنی بانسری سے قابو میں کر لیا اور مجذوب اعلی ٹھہرے۔ یہ مداریوں کی حرکت کتنی ہی ہنگامہ خیز کیوں نہ ہو لفظ حقیقی کو پہچاننا ہو تو آؤ ذرا قریب آؤ۔ شوق کا مرتبان تو کھولو، اپنی عبائیں، قبائیں اور وفائیں ایک بڑی تھالی میں رکھ دو، اپنے دل  سے وہ سارے بندھن توڑ دو جو تمھیں دنیا بازی کے گر سکھاتے  ہیں۔ ۔۔ اب میں تمھیں وہ  چیزیں بتاتی ہوں جو واقعتاً تم پہ ایسی  ہوا چلائیں گی کہ تم عرصہ تک اس کے تصور کو کوچہء یاراں پہ ترجیح دو گے۔

لفظ لفظ کا پر تو ہے۔ لفظ کبھی میں ہوں اور کبھی تو ہے۔ میرے صاحب تمھاری بھوری آنکھوں میں پگھلتی ہوئی غموں کی برفانی جُھگیاں مجھے صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ میرے صاحب آپ غور سے ذرا دیکھیں کہ جو لفظ ہے وہی معنی بھی تو ہے۔ جنہیں انسان معنی سے تعبیر کرتے ہیں وہ تو فقط لفظ کی لفظیت سے چھیڑ چھاڑ ہے۔ یہ تو سراسر تحریف ہے۔ انسانی تگ ودو، یہ پوست کی کس قدر دیوانی ہے کہ لفظ کو انکی ماہیت سے نہ سمجھ کر ان پر جاذبیت کے پوست چڑھا دیتی ہے۔ اس کی خواہشات کس قدر ندیدی ہوتی ہیں کہ اس پوست کو نگاہوں، بدرنگ عقیدتوں اور خالص جواریوں کے مثل ہر دم داؤں پہ لگائے رکھتے ہیں۔ اپنی متعفن اور قبیح باتوں سے ہر لحظہ اسے گرمائش فراہم کرتے ہیں۔ پھر جب یہ پوست خاصہ سوندھا ہوجاتا ہے۔ زبان کی تڑپ اور مزاج کے پھڑک کے عین مطابق ہوجاتا ہے تو گلیوں گلیوں چیختے پھرتے ہیں کہ یہ ہمارے معانی ہیں اور یہ ہمارے مفاہیم۔ اس کی قیمت اس والے کی قیمت سے ایک گونہ زیادہ ہے۔ اور یہ والا معنی یزداں کے راز ہائے گلپاشی کو یوں کھول دیگا کہ کون مالک ہے اور کون نھیں یہ فرق ہی زائل ہوجائے۔ ایک بقعہ نور ہو جسے نوری آنکھیں دیکھتے دیکھتے سرور میں مبتلا ہوجائیں اور پھر عہد عدم کے وجود کی خاطر غلطاں پھرے۔۔۔۔۔۔کبھی اشراق سے پھوٹتی (برقی) چاشت کے تعقب میں خود کے جسم پہ یوں اعتراض کرتے ہیں کہ اہورموزژدہ نے ان پر کس قدر ظلم کر دیا، لہذا، خود کو فنا کر جانے کی خاطر رجحان غیبی نامی  شئی کی ایجاد کو بقاء افہام سے بھی بعید تر عین بقا انضمام تصور کر تے ہیں۔ کوئی متلاشی حق جب ان کی بوریوں کا پردہ ذرا اٹھا دے یا جھانک لے تو کہہ اٹھتے ہیں نم نم غازی۔۔ دل ہے راضی۔۔۔۔۔۔۔(اے غازی تو سو جا اسلئے کہ تجھسے دل بالکل راضی ہو چکا ہے)۔

جسموں کے پنگھٹ پہ مسموم ٹوکریوں میں بہت اہتمام اور نظافت سے رکھی ہوئی خواہشوں کی ابکائی آور ٹوکریاں  اور ان میں  غلیظ معجون  کے نسخے کس مقصد اور کس ماورائی جسم کے لئے وضع ہوتا ہے اسے شاید حضرت خضر کا بھٹکتا مطمئن جسم بھی نا بتا سکے۔

میرے صاحب، بات یہ ٹھہری کہ  لفظ کے بطن میں کیا ہے اس کی تفہیم  نا تو جسم کی تفحیص سے ممکن ہے نا ہی بطن کو بطانت مان کر اس میں سرایت ہو جانے سے حاصل! اگر مان بھی لیں باطنیت نامی کینچلک میں انسان روپوش ہوجائے پھر وہاں سے تاثیراتی اندراجات کی ایک طویل فہرست اخذ کرلائے اور کہے، جگ جیتی سائیں کا یہی خطاب ہے۔ دنیا دنیا نہیں بلکہ فنا ئے ناگہانی کا آفتاب ہے۔ لفظ کی معنویت میں فنا ہونے کے لئے لفظ کی باطنیت کا ادراک ہی اصل ادراک ِلازوال ہے۔

تو صاحب آپ ہی بتائیے کہ ان خیالات کا حامی کا اس دنیا سے کیا سروکار۔۔اس کی دنیا کوئی اور ہے جہاں وہ خود اصل خدا کا ایک دور ہے۔ اگر یوں ہے تو اس انسان لافانی کے یہاں کرب اور لذت کے معنی ایک کُٹیا میں بیٹھ کر ہی کیوں طے ہوتے ہیں۔ وہ متبرک مشروب کو پی چکے ہیں تو انھیں کس کا خوف ستاتا ہے۔ وہ کیوں چھپ چھپ کر مافیاؤں کے مثل چیتھڑوں کے اوٹ سے بات کرتے ہیں۔ اگر وہ خدا کا دور ہیں تو ان کا دور کس دور میں ہے؟ لفظ کے بطن میں داخل ہو کر وہ کس دور میں نکل چکے ہیں ؟

 میرے سچے صاحب! یہ فقط ایک دھندا ہے۔لوگ اس دھندے میں اپنے جسموں میں داخل ہوکر جاتے ہیں اور اپنی روحیں بیچ کر آتے ہیں۔ روحیں بیچنے کے بعد ان کا جسم انتہائی ہلکا اور لطیف معلوم ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں گلوخلاصی مل گئی۔ یہ میرا فیصلہ نہیں ہے بلکہ لفظ کا نقطہ نظر ہے جسے آج بھی عرب سمجھتے اور بچاتے آئیں ہیں۔

میرے صاحب۔!!!

عالی مرتبت، یہ تو لفظ کے اندرون کی داستان ہے۔

کیا آپ آج چنگھاڑتاہوا یہ شور سن رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہم اور آپ ایسے چنندہ حسیت کے قائل ہوچکے ہیں کہ ہر شخص کبوتروں  کی طرح زیر زمین بنے ہوئے دربہ کا ساکن ہوتاجاتا ہے۔ نا اسے شر کی خبر ہوتی ہے اور نا شراروں کی۔ وہ تو بس اپنے موضوعہ محسوسہ لفظ کی دنیا میں تیرتا جاتا ہے۔کبھی اپنے سر کو پاؤں کی جانب والے حصے تک پہنچا دیتا ہے اور کبھی پاؤں کو سر تک۔ وہ لفظوں کے بہانے معانی میں روپوش ہونا نہیں چاہتا اور نا ہی معنی کے بہانے لفظوں کے سر و قد سنوارتا ہے۔ اسکا مجموعہ اعتقاد؛ اسکی اندھادھند لنترانیوں کا محض ایک ملغوبہ ہے۔ صاحب میں قسم کھاتی ہوں کہ اس نے ایک لمحہ بھی اپنی تفکیری تعبیرات کو نہیں دیا۔ نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہر ”تڑی پار” شہری کی قسمت ہوتی ہے۔ نا اسکے پاس کوئی ماں ہوتی ہے جو چیزوں کی تاویل کر سکے نا تعبیرات جیسی ممتا!

میرے صاحب۔! جی کرتا ہے کہ آپ سے باتیں کرتی جاؤں۔ ۔ باتیں کرتی جاؤں۔ ۔۔ اپنی زمین کے واقعات، اپنے دل کی واردات، اپنی روح کی ترجیحات سب ایک طشتری میں سجا کر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ ۔

میرے  صاحب! آپ سے ملاقات بھت مہنگی تھی۔ میرے دل میں جو بستیاں آباد تھیں وہ خرابات میں بدل گئیں۔ جو شہر روشن ہو چکے تھے انھیں ایسی تاریکی لاحق ہوئی کہ واللہ رستہ سجھائی نھیں دیتا۔ تصورات کے سارے مظبوط ہالے آپکی ریشمی باتوں نے توڑ دیئے ہیں۔ اب آپ یہ نا کہیے گا میں آپ کو تم نا کہوں۔ جس شخص نے کسی کی دیوانگی کا پورا عہد ختم کردیا اس کی مٹھیوں میں کون  سا اسم اعظم چھپا ہوا ہے میں ضرور دیکھوں گی۔

ہم نے سنا ہے تمھارے یہاں کشکہ کھینچ کر دھونی رمانے والی مخلوق بھی ہے۔ تم دیکھنا صاحب کہ میں نے جو خط رفاقت  کھینچی ہے وہ تمھارے نفیس مزاج اور خوبصورت خیالات کے ساتھ تمھیں کھینچ کر لائیں گی۔آپ تم ہو جاؤ گے اور گر بہت قریب ہوئے تو تُو کی چاشنی سے تم پگھل ضرور جاؤ گے۔

میرے صاحب، میں تمھارے شعور کیبہت زیادہ قدر کرتی ہوں۔ حیرت کن بینائی کے ساتھ صاف ستھرے خیالات والے انسان کو میں نے اس وقت پہچان لیا تھا جب میں پہلی ملاقات میں تمہارے لئے ہوئے فلافل اور کافی کے پیسے دینے چا ہے  ا ور تم نے میرے پرس میں میرے والدین کی تصویر دیکھ کر کہا تھا۔ ــ’کجوھرتین بل اغلی ”۔۔

واللہ میں نے اتنا حساس شخص نھیں دیکھا نا سنا۔

میرے صاحب۔!!!

 مجھے معلوم ہے تم بھولتے نھیں۔ ۔ ایک مختصر ملاقات کے درمیان میں نے تم سے جتنی باتیں کیں میرے لئے مخطوطات کی مثل ہو گئیں جو میرے ذہن کے میوزیم میں ترغیب قومی کے مثل ہر دم زندہ اور روشن رہتی ہیں۔ ۔

میرے صاحب!

دل نے تمہیں جان لیا

جان ہومیرے جان لوتم

دل میں اب آباد ہو تم

تنہا دل کے واحد شہری

دل کی  سچی میقات ہو تم

آؤ آکر لگ جاؤ دل سے

جہاں گھر تمھارا روشن ہے

 وہاں جب تم نھیں تب روشنی کا چلمن ہے

اور روشنی، ہاں ! تمھاری باتوں کی ہے

 اور باتوں سے گھر روشن ہے

                   غالباً آپ سمجھ رہے ہوں گے میرے ملک کے حالات نے میرے فرار کی راہ اختیار کرنے کے لئے دل کے کواڑ کھولے ہیں تو آپ بالکل غلط ہیں۔ بلکہ میرے دل کے حالات نے ملک کو فراموش کر دیا ہے۔ حدیں ختم ہو گئیں۔ سرحدیں اب ملکوں سے نھیں ملتیں بلکہ دل اور دماغ سے ملتی ہیں۔ تہذیب کی بربادی کا معنی ہر گز یہ نھیں کہ وحشتوں کی حکومت مسلّم ہو گئی بلکہ اب وحشتیں مہذب ہوگئیں۔ مجھے آپ کا انتظار ہے۔ آپ کی پیشانی پہ لکھا ہے کہ آپ کو بھی انتظار نامی شیء سے حد درجہ انس  ہے۔

میرے لفظوں کے بکھراؤ کا معنی نا نکالیے گا۔ میرے معانی کے انتشار کو کوئی نام نا دیجئے گا۔ جس  کی یادداشت سلامت ہے وہ ٹکڑوں میں بھی جئے وہ ٹکڑا نھیں ہوتا۔ آپ دیکھیں گے۔ آپ ضرور دیکھیں گے کہ اتحاد معجزاتی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ معجزہ خواہ بربادی کی صورت ہو یا آبادی کے ٹکڑے کب جسم میں بدل جاتے ہیں اور جسم میں کب روح  داخل ہوتی ہے یہ میں جانتی ہوں یا تم۔ میرے صاحب!

مجھے معلوم ہے تم ایک اچھے ادیب بھی ہو۔ تمھاری شائستہ گفتگو سے کون نا سمجھ جائے۔

اگر میرے اس خط کی ترجمانی تم کر سکو تو کر دینا۔آج ہیں تو کل میں تمھارے لفظ کے تجربے سے گذروں گی۔ لفظ کا تجربہ ہی اصل تجربہ ہے۔ معانی کے کھیل تو سیدھے راستوں کو بھی منحنی کر دیتے ہیں۔

 میرے صاحب!

میں تمھاری رفاقت کی مشتاق ہوں اگر دائمی ہو تو فبھا۔۔۔میں نے خوابوں کے سارے  گھروندے توڑ دئیے ہیں خواہ مخواہ ہی وہ معانی کے دروازے وا کرتے ہیں۔

اب تو تمھاری آمد کو عین عید سمجھا جائے گا۔ اب عین عید پہ خوشیوں کی لاٹریاں کُھلیں گی۔ میں دل کھول کر ہنسوں گی۔ ہر دم مسکراؤں گی۔ تمھارے قدموں پہ اپنے سارے ارمان، قیمتی خیالات، سرگوشیوں سے جھانکتی شرم، حیا کی دبیز چادریں بچھا دوں گی۔ میں جانتی ہوں تمھارے لمس میں سنوار دینے کی صلاحیت بدرجہ اتمہے۔

میرا کمرا، میری کتابیں، الماریاں، قلم، ادھ کھلا روزنامچہ، دوات کی بوتل، یمنی  جڑی بوٹیوں سے اگتی سلگتی خوشبو، لذیذ بھنے ہوئے کی سجی تھالی، ابا کی چمکتی زندہ نشانی؛ انکا سگار، سرد موسم اور باہر باورد کاغبار، کھڑکی کا چہک کر کھلنا پھر بند ہونا، پائیں باغ کی دیواروں پہ گولیوں کے ہونق نما نشانات، گھر کے ایک  کونے میں چھپا الو کا گھروندا، چھت پر کبوتروں کی خوشیوں سے بھری پھڑپھڑاہٹ کہ وحشت کے اس عہد سے بالکل بیزار، بلب کا ملگجی حصار، بھنّاتی ہوئی زنبور کا آخری کنبہ ایک ہلکی امید جگاتے ہیں کہ عہد وحشت پہ مہر لگنی ہی ہے۔ میں خوش ہوں میری وحشت سے جڑا ایک مہذب فرد ہے اور وہ مہذب تُو ہے۔ زناٹا بھرتے جھناکے دم توڑ چکے ہیں۔ سکون اور اطمینان  جذب و مسرت کی راہ سے ہوتا ہوا مجھ تک پہونچ چکا ہے۔ میرا ملجأ، میرا مداوا مجھے مل چکا ہے۔ انتظار خوش آئند  ہے۔۔۔ تکلیف اور تعذیب وقتی ہے۔۔۔۔یہ نا قسمت چرا سکتی ہیں  اورنا جرأتپہ چپہ لگا سکتی ہیں۔

زینب العریفی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close