ادبتحقیق و تنقید

باصر کاظمی کی انفرادیت

احمد اشفاق

(قطر)

شاعر اور ادیب محبت کرنے اور محبت بانٹنے کو جزوایمان جانتے ہیں، محبت انہیں سرخوشی عطا کرتی ہے، مطالعہ کائنات یا حصول علم کی لگن ان پر زمینوں آسمانوں، جسموں، روحوں، دلوں اور سوچوں کے بہت سے حقائق روشن کرتی ہے۔ تیسری سطح پر شاعروں اور ادیبوں کے لئے درد دل کی فہم بھی ایک امر لازم ہے،ان کے الفاظ انسان دوستی کے اثاثے سمیٹے ہوتے ہیں باصر کاظمی کی شاعری کا مواد و مرکب یہی ہے۔ انکی شاعرانہ سوچ میں رومان و حقیقت کی پیوستگی نئے جلوے تراشتی ہے یہ جلوے زندگی کا رنگ نکھارتے ہیں ان کے اظہار میں اس تہذیبی پس منظر کی جھلک ملتی ہے جسے انسانوں کی صدیوں کی ریاضت نے پروان چڑھایا لیکن اس کی تصوراتی جہت جدید عصر کا اشارہ ہے چند مثالیں  ملاحظہ فرمائیں

ہم ہیں کہ بس سمیٹتے رہتے ہیں چاندنی

کچھ لوگ جا بسے ہیں دل ماہتاب میں

بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی

ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ

ان اشعار میں باصر کاظمی کی آواز الگ اور واضح طور پر پہچانی جاتی ہے وہ اپنی شخصیت کے اس منفرد اظہار تک ایک مدت کی کوشش و کاوش کے بعد پہنچا ہے اور یہاں تک پہنچنے کے بعد اس کا طرز احساس بھی بدلا ہے  اور طرز بیان بھی بلکہ شاید یہ طرز ہی کی تبدیلی ہے جو اس کے طرز بیان کی تبدیلی میں ظاہر ہوتی ہے

معاملات حسن و عشق کے روایتی انداز سے ہٹ کر اب وہ ان پر اپنے مخصوص تجربات کی روشنی میں بھی نظر ڈالتا ہے اور مختلف قسم کے تجربات کو سمیٹنے اور انہیں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو رکھ کر دیکھنے میں اب وہ اپنے طرز احساس اور طرز فکر کے امتیاز کو نمایاں کرتا ہے۔

 باصر کاظمی کی شاعری کھری شاعری ہے انہیں جدیدیت کی اصطلاح میں کچھ بھی کہا جائے اورجس انداز میں ان کا تجزیہ کیا جائے  انکی تخلیقات پڑھ کر ایک بات تو ضرور محسوس ہوتی ہے کہ زندگی سے انہوں نے محبت تلخی غم اور خوشی کی شکل میں جو کچھ حاصل کیا ہے اسے بڑی معصومیت کے ساتھ اپنی غزلوں اور نظموں میں پیش کر دیا ہے،اردو کے مرکزی دھارے سے جڑی ہوئی باصر کاظمی کی شاعری جدید حسیت کی شاعری ہے یہ ایسے شاعر ہیں جو شعری تجربے کی آزادی کے قائل ہیں، یہ الگ بات کہ وہ مغرب میں رہتے ہیں مگر مشرقی دنیا میں رہنے والے انسان کے مسائل، مصائب،درد وغم، آرزئوں اور تمنائوں کی عکاسی بھی انکی شاعری میں جابجا موجود ہے۔

ہجرت کے موضوع پر انکے یہ معروف اشعار ملاحظہ کیجئے کہ

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری میں نے

جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے

باصر کاظمی نے شعرو سخن ورثے میں پایا ہے وہ اس مقام پر ہیں جہاں کوئی فرد ایک شخصیت ایک ادارہ اور ایک لیجینڈ بن جاتا ہے۔

منفرد غزلیں کہنا ریاض کا متقاضی ہے، انکی غزلوں میں جو اندرونی کشمکش  اور اضطراب ہے اسے انہوں نے اپنے فنی ریاض سے ہموار کر دیا ہے، انکی غزلوں میں وجدان اور جذبے کے مابین ایک کامل مطابقت نظر آتی ہے انہوں نے غزلوں میں جو اپنا لب و لہجہ نکالا ہے اور اپنی لفظیات کو جس سلیقے سے تراشا ہے۔

 اس نے انہیں ایک الگ طرح کی انفرادیت بخشی ہے انکے یہاں جذبات کے اظہار میں بڑی بے تکلفی ہے ، وہ اپنے اندر ڈوب کر شعر کہتے ہیں اور اسکی تزئین و آرائش پر پوری توجہ صرف کرتے ہیں مگر اس تزئین و آرائش میں انکی غزلوں کی روح کہیں مجروح نہیں ہوتی بلکہ اس میں نکھار پیدا ہو جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ شاعر کو اپنا لہجہ اور اپنی آواز دریافت کرنی چاہئے جس کی تلاش میں باصر شروع ہی سے مصروف رہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنا لہجہ اور اپنی آواز دریافت کرنے میں دیر نہ لگی اور اب  وہ وقت آیا ہے کہ ان کا لہجہ ہی انکی اور انکی شاعری کی شناخت بن گیا ہے مثال کے طور پر ملاحظہ کریں کہ

رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں

دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ

اب چلے دور جام آٹھ سے پانچ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ

کیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ

اس کلام میں جو نیاپن ہے وہ غزل کے مخصوص لب و لہجے کی سطح کو بدل دینے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے،ہم غزل میں جس شائستہ، مہذب اور تربیت یافتہ لب و لہجہ کے عادی ہیں یہاں ہمیں اس سے بالکل مختلف انداز سے دو چار ہونا پڑتا ہے، غزل کا یہ نیاپن نئے الفاظ کا مرہون منت ہے، یہ نئے الفاظ ہلکے پھلکے ہیں مگر اس میں ا تنی روحانیت ہوتی ہے کہ انہیں پڑھ کر روایتی تربیت یافتہ ذہن کو دھکا سا لگتا ہے لہذا ہم کہ سکتے ہیں کہ باصر کاظمی نے غزل کو ایک نیا مزاج عطا کیا ہے۔

جدید غزل گو شاعروں میں باصر کاظمی ایسے شاعر ہیں جنکی غزل میں بڑی سے بڑی بات ادا کرنے کی صلاحیت اور دم خم موجود ہے وہ جلوئہ صورت کے ساتھ ساتھ حسن معانی کو بھی فراموش نہیں کرتے انہوں نے فضائیت کو قائم رکھنے کے لئے زندگی کے ان تجربات کو فراموش نہیں کیا جو قوت و وسعت کے لحاظ سے کافی اہم ہیں وہ اپنی غزل میں زندگی کے تمام چھوٹے بڑے تجربات کو پوری معنویت کے ساتھ سمونا چاہتے ہیں جس کا ثبوت انکی غزلوں کی نرم زبان اور لہجے سے ملتا ہے، باصر کاظمی کی شاعری انکے باطن میں موجود خیالات کی قوس و قزح کو قارئین پر موئثر انداز سے منکشف کرتی ہے انہوں نے خارجی دنیا کی رنگا رنگ مسافتیں طے کیں اور باطنی کائنات کے متعدد مرحلے طے کئے انکی غزلوں اور نظموں کے معنوی اسرار ان کے وجود ہی کا حصہ ہیں اس حقیقت کو اس کے تفصیلی تیوروں سمیت دیکھنا مقصود ہو تو انکی نظموں ڈراموں اور کالموں کی گہرائی اور گیرائی میں بھی اترئیے۔

انکا فنکارانہ اور پر تاثیر اجمال ان کے شعری اظہاریوں میں جھلملاتا ہے، انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لببیک کہنے کو اپنے مشن کا حصہ بنایا، بلاتردد اپنے مدعا کا اظہار کیا، صداقت کی تلاش میں انہوں نے کہیں تلخ آمیز اشعار بھی لکھے اور کہیں شائستہ و شگفتہ اطوار بھی ان کے بیان کا حصہ بنے، انہوں نے فکر افروز اور جذبہ آفرینی کاانداز بھی اپنایا ہے اور سوچتی ہوئی نظمیں لکھی ہیں۔

ہجرت کے موضوع پر انکی ایک مختصر نظم ملاحظہ فرمائیے جسکا عنوان ہے:

دوسری ہجرت:

بابا تم نے

اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر

 اپنے آبا کی قبروں کو چھوڑا تھا

ہم نے بھی ہجرت کی ہے

اپنی اولاد کے روشن مستقبل کے لئے۔

وہ جس طرح تکلف اور تصنع سے اپنی زندگی میں دور ہیں اسی طرح اپنی شاعری میں بھی اسے قریب نہیں آنے دیتے انہوں نے شاعری کو بحیثت فن کے استعمال نہیں کیا ہے بلکہ احساسات و جذبات اور مشاہدے وبیان کے لئے استعمال کیا ہے اور یہی سادگی و بے ساختگی انکی غزلوں اور نظموں کا حسن ہے، باصر کاظمی اپنی غزلوں کو زندگی کی گوں ناگوں جہتوں سے روشناش کراتے ہیں۔

باصر کاظمی کی شاعری کسی مخصوص تحریک کی مرہون منت نہیں وہ محض ذوق سلیم اور اعلی فکر کے سہارے اپنی شعری کائنات کو آرائش و زیبائش،حسن و جمال اور رنگ و نیرنگ دیتے رہتے ہیں، انکی غزلوں میں جمالیاتی عنصر بھی ملیں گے، ماحول کی عکاسی بھی نظر آئیگی، عصری حسیت او ر اس کی آگاہی بھی کارفرما دکھائی دے گی ان کی شاعری میں نہ تو یاس انگیزی ہے نہ ظاہری رنج و غم کی رنگ آمیزی ہے وہ رجائیت سے معمور فکری توانائی سے بھر پور ہیں۔ افکار کی جدت نے انکی غزلوں کو سادگی بخشی ہے انکی نظموں میں معنی آفرینی، نکتہ سنجی، فکر انگیزی اور خرد افروزی کے اجزاء پوری طرح سموئے نظر آتے ہیں۔

اور ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ اردو شاعری کو بڑی جاں فشانی کے ساتھ دوسری زبانوں بالخصوص انگریزی زبان کی یوروپین شاعری یعنی عالمی شاعری کی صف میں مقام بنانے کی خاموش تگ و دو کا اہم فریضہ بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔

آخر میں بلا تامل یہ کہ سکتا ہوں کہ باصر کاظمی کی شاعری اردو کی جدید شاعری میں انفرادی حیثیت رکھتی ہے اور بحیثیت شاعر یہ معتقد انسانیت ہی نہیں انسان پرست بھی ہیں جن کے مداحوں اور دوستوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close