ادب

بہار اردو اکادمی نئی صبح کی تلاش میں

منصور خوشتر

 بہار اردو اکادمی کا قیام 1972 ء میں عمل میں آیا ۔ اکادمی اپنی تاسیس کے وقت سے ہی زبان و ادب کے فروغ میں سرگرم عمل ہے۔ حالیہ چند دنوں میں معروف افسانہ نگار مشتاق احمد نوری کی سکریٹری شپ میں بہار اردو اکادمی مزید فعال ہوئی ہے۔نوری صاحب کے آنے کے بعد اکادمی نے مقامی سطح سے لیکر صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح کی تقریبات اور پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔ ان پروگراموں میں کئی ایسے پروگرام بھی شامل ہیں جو اکادمی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ مثلاً شعرا و ادبا کی ان کے گھر جا کر پذیرائی، خواتین کنونشن، عالمی سمینار، طلبہ میں ادبی ذوق کو فروغ دینے کے لیے بیت بازی کا پروگرام وغیرہ۔
بدقسمتی ہے کہ کچھ لوگوں کو زبان و ادب کی یہ ترقی راس نہیں آ رہی ہے اور وہ خواہ مخواہ اکادمی کے کاموں اور فیصلوں میں ’’کیڑے نکال کر‘‘ اکادمی کی شبیہ کو خراب کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حالیہ دنوں میں اکادمی کی کارگزاریوں کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں اور پھر یہ فیصلہ کریں کہ کیا نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کے بعد بہار اردو اکادمی نے عالمی سطح پر اپنی شناخت مضبوط نہیں کی ہے؟بہار اردو اکادمی پہلے بھی سمینار، مشاعرے ، مسابقے وغیرہ کراتی رہی ہے لیکن اکادمی کی تاریخ میں پہلی بار ہر صوبے میں ادبی تقریب اور مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ اب تک تین اضلاع گیا، دربھنگہ اور بیتا میں شعرا و ادبا کو اعزاز سے نوازا گیا اور مقامی سطح کے مشاعرے کا انعقاد بھی عمل میں آیا۔پٹنہ میں پہلی بار تین نشستوں میں مشاعرہ کا انعقاد ہوا۔ جس میں سو سے زائد شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا۔ بہار کے تمام اضلاع کے شعرا و ادبا کو اان کے ضلع ہیڈ کوارٹر میں اعزاز سے نواز نا بہار اردو اکادمی کی تاریخ کا ایسا کارنامہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس سلسلہ میں اب تک تین اضلاع گیا، دربھنگہ اور بتیا میں باوقار تقریب کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے اور وہاں شعرا و ادبا کی ان کے گھر جا کر عزت افزائی کی گئی ہے۔ گیا میں ناوک حمزہ پوری، فرحت قادری اور پروفیسر شاہد احمد شعیب کو اعزاز سے نوازا گیا۔ دوسرا پروگرام دربھنگہ میں ہوا جہاں پروفیسر عبد المنان طرزی، ذکی احمد اور اویس احمد دوراں کی عزت افزائی کی گئی جبکہ تیسرا پروگرام بیتا میں ہوا جہاں حسرت شادانی، شاکر کریمی اور عظیم اقبال کو اعزازات سے نوازا گیا۔شعراء و ادباء کی ان کے شہر جاکر عزت افزائی کرنا اکادمی کا انوکھا اور تاریخی کارنامہ ہے۔اکادمی کی طرف سے اب تک بہار کے تین بڑے صحافیوں کو بھی اعزاز سے نوازا جا چکا ہے ان میں سید عبدالرافع مرحوم اور قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر ایس ایم اشرف فرید کا نام بھی شامل ہے۔
بہار اردو اکادمی کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کنونشن کا انعقاد بھی عمل میں آیا۔ جس میں پورے ملک سے نمائندہ خواتین قلم کاروں نے شرکت کی۔
بہار اردو اکادمی نے صرف دانشوران اردو، شعرا و ادبا تک ہی اپنی کارکردگیوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ و طالبات کی تربیت اور ان میں شعری و ادبی ذوق کو جلا بچشنے کے لیے بھی پیش رفت کی۔ اکادمی کی تاریخ میں کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے پہلی بار بیت بازی کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔صرف اتنا ہی نہیں اکادمی یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک قومی ریسرچ اسکالر سمینار کرانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ صحافت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے بھی اکادمی نے منصوبے بنائے ہیں اور اس سلسلہ میں عملی پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔
بہار اردو اکادمی کا ماہانہ مجلہ ’’زبان و ادب‘‘ کا معیار بھی پہلے کی بہ نسبت کافی بلند ہوا ہے۔’’زبان و ادب‘‘ میں عالمی معیار کی تخلیقات شائع ہو رہی ہیں۔ بلاشبہ مشتاق احمد نوری کی قیادت میں بہار اردو اکادمی کے پلیٹ فارم سے بہت کم عرصے میں کئی بڑے اور یادگار پروگرام کا انعقاد عمل میں آ چکا ہے۔ اکادمی پہلے سے کہیں زیادہ فعال اور متحرک ہوئی ہے اور پہلی بار بہار اردو اکادمی کے کارناموں کی گونج عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔
بہار اردو اکادمی کی سرگرمیوں سے یہاں کے ادباء و شعراء میں مسابقت کی ایک فضا قائم ہورہی اوریہ اشخاص اپنے اپنے بال و پر درست کرکے اردو زبان ادب کی خدمت میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے اور اس کی واجب پذیرائی کیلئے کوشاں نظر آنے لگے ہیں ۔ بہار اردو اکادمی کی سست روی میں تیزی لانے اور اس سے وابستہ افراد کے درمیان سرگرمی کی فضاقائم کرنے کا سہرا فعال سکریٹری مشتاق احمد نوری کے سر جاتا ہے ،اس کے لیے پوری مجلس عاملہ بالخصوص اکادمی کے انتہائی فعال سکریٹری مشتاق احمد نوری مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اردو اکادمی کی سرگرمیوں کو دیکھ ہر کوئی اندازہ لگاسکتا ہے کہ بہار اردو اکادمی نئی صبح کی تلاش میں تیز رفتاری سے گامزن ہے ۔
اردو زبان و ادب کی ترقی کاخواب دیکھنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ مشتاق احمد نوری جیسے اردو کے بے لوث اور سچے خادم کے قدم سے قدم ملا کر چلیں اور اردو زبان کے پرچم کو بلند کرنے ان کا بھر پور تعاون کریں۔
اردو معاشرہ زبانی گفتگو میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اپنے فائدے اور نقصان کی بابت اس قدر شخصی ہوجاتا ہے کہ ان کو اپنے ادب ،آرٹ اور کلچر کے اجتماعی تشخص اور فروغ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔اردو اکادمی جیسے ادارے کو مقصد بہت زیادہ شخصی نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیے اس لیے اردو معاشرے کو اس کے بڑے مقصد کی تکمیل میں معاون اور مدد گار کے طور پر آگے آنا چاہیے کہ ناکہ بعض شخصی مفاد کے لیے بے جا تنقید کو اپنا شیوہ بنا نا چاہیے ۔اگر اردو معاشرہ واقعی میں اردو اکادمی جیسے ادارے سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے تو وہ شخصی مفاد سے اوپر اٹھ کر صحت مند طریقے سے اپنے مشورے پیش کرے ۔ دراصل ان دنوں اردو اکادمی کو لے کر جو ماحول بنایا جارہا ہے وہ شخصی ہے اور یہ کسی بھی زبان کے ادب کے لیے اچھا نہیں ہے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close