بیاد ساحر لدھیانوی

احمد علی برقی ؔ اعظمی

شاعرِ سحر آفریں ساحرؔ کا آتا ہے خیال
جن کے گلہائے سخن ہیں مظہرِ حسن و جمال

دن تھا وہ پچیس اکتوبر کا ، جب رخصت ہوئے
لوح دل پر نقش ہیں اُن کے نقوشِ لازوال

تھے شعور آگہی کے شاعری میں وہ نقیب
اُن کا معیارِ تغزل آپ ہے اپنی مثال

آسمانِ شاعری کا ہوگیا سورج غروب
ہے یہی قانونِ فطرت ’’ ہرکمالے را زوال‘‘

آج بھی اور کل بھی ہوگی سب کی منظورِ نظر
ان کی علمی اور فلمی شاعری ہے بے مثال

ہیں دلوں پر اہلِ دل کے آج بھی وہ حکمراں
زندۂ جاوید ان کا فن ہے بعد از ارتحال

شہرۂ آفاق ہیں اُن کے سرودِ سرمدی
شاعری ہے ان کی برقیؔ فکر و فن کا اتصال



⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے