ادبدیگر نثری اصناف

تصوف اور اردو شاعری: 1947ء کے بعد

چودھری امتیاز احمد

تصوف نظری اور عملی اعتبار سے حقائق آفاق سے اعراض کیے بغیر ذات کبریا کی قدرت اس کی رضا اور اپنے نفس کا عرفان حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ان غایتوں کا تعلق انسان کے روحانی تجربات اور اس کی نفسی کیفیات سے ہے اور چوں کہ یہ ایک فطری رویہ ہے اس لیے ذات کبریا اور باطن کی جانب انسان کا رجحان اس کی خلقت اور فطرت کے عین مطابق ہے تصوف قلب انسانی کی ایک کیفیت کا نام ہے وہ سرتاپا ذوق و وجدان ہے اس لیے اس کی کوئی منطقی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ یوں تو تصوف کی بے شمار تعریفیں کیں گئیں ہیں اور مختلف انداز میں کیں گئیں ہیں لیکن کوئی بھی ایسی تعریف نہیں ملتی جو جامع اور مانع ہو مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر تعریف لفظی اس کے کسی ایک یا چند پہلووں کو واضح کرتی ہے الفاظ کا کوئی انتخاب ایسا نہیں ملتاجو اس کو پورے طور پر بے نقاب کر سکے۔ یہاں چند تعریفات پیش کی جاتی ہیں جن کو پڑھ کر سوائے اس کے کہ ادائے حقائق میں کلام انسانی کی ہمت شکنی نارسائی کا اعتراف کیا جائے اور کوئی فیصلہ کن نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔

۱۔      صوفی وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب کچھ چھوڑ کر خدا کو لیا ہے۔ (ذوالنون مصری)

۲۔      تصوف حقائق کا حصول اور خلائق کے مال و متاع سے پاس ہے۔ (معروف کرخی)

۳۔      تصوف اخلاق پسندیدہ کا نام ہے۔ (ابوعلی قزمبنی)

۴۔      صوفی وہ ہوتا ہے جو دونوں جہاں میں بجز اللہ عزوجل کے اور کسی کو نہ دیکھے۔ (شبلیؒ)

۵۔      تصوف نفس کا اللہ کے ساتھ اس کی مرضی پر چھوڑ دینا ہے۔ (رویم)

مندرجہ بالا تعریفات سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو صوفی جس مقام میں ہے اور جس زاویہ نگاہ سے وہ مشاہدہ حقیقت کر رہا ہے اسی کے اعتبار سے اس نے تصوف کو سمجھا ہے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے ایسی صورت میں کسی تعریف کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اردو شاعری میں تصوف کی روایت اردو شاعری کی ابتدا سے ہی چلی آرہی ہے۔ اردو شاعری میں عشق و جمال کے مجازی تصورات کی ترجمانی اس قدر شرح و بسط، تنوع اور دقیقہ آفرینی کے ساتھ ہو چکی ہے کہ وہ اس کا امتیازی نشان قرار پا گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت کا جذبہ انسان کے تمام دوسرے جذبات سے قوی تر ہے اور وسعت فکر و عمل کی جو گنجائش اس میں تلاش کی جا سکتی ہیں وہ کسی دوسرے جذبے میں دستیاب نہیں ہو سکتیں ہمارے شعرا نے اس کوئے دلکشا کی بہت خاک چھانی ہے اور اس زمین میں بکثرت لعل و جوہر نکال کر عروس سخن کو آراستہ کیا ہے۔

 ہماری شاعری اپنے یوم ولادت سے ہی آغوش تصوف میں پرورش پاتی رہی اور آج بھی اس کے ظل عاطفت میں اپنے شباب کی منزلوں کو طے کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔

  صنف مرثیہ سے قطع نظر کرتے ہوئے اردو شاعری کی کوئی ایسی صنف نہیں جس میں تصوف کے مسائل کم و بیش ادا نہ کئے گئے ہوں تصوف کے مسائل اور اس کے مصطلحات اردو شاعری خصوصاً غزل میں بار بار وارد ہوتے رہتے ہیں ۔

۱۹۴۷؁ء کے بعد شاعری پر مذہبی نقطہ نظر سے تصوف کا اچھا خاصا اثر ہے شاعری میں اس کے دخل کی وجہ اس لیے بھی ہے کہ مصلحت وقت اور اقتضائے شاعری کی زیادہ سے زیادہ شرطیں تصوف ہی پورا کر سکتا ہے علاوہ ازیں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شاعری کا مزاج لڑکپن سے ہی عاشقانہ تھا۔ اسی کی گھٹی فارسی والوں نے سب اجزا سے زیادہ محبت کا جُز شامل کر دیا تھا۔ اور عشق تصوف کی بھی جان تھا۔ لہٰذا شاعری اور تصوف کو شیر و شکر کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوا۔ ۱۹۴۷؁ء کے بعد کی اگر متصوفانہ شاعری پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ مختلف شعراء کے کلام میں متصوفانہ رجحان ایک مستقل روایت اور اسلوب کے طور پر شیر و شکر ہو گیا ہے فیض سے ہی ہم اس کی ابتدا کرتے ہیں ۔

  فیض اگرچہ بنیادی طور پر حسن و محبت کے شاعر ہیں ۔ ان کی انسان دوستی، حب الوطنی، انقلاب پسندی اور آرزو مندی سب درد عشق کے ہی استعارے ہیں تصور عشق کو نظام تصوف میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے فیض کے کلام میں عشق کا تصور نہ صرف محبوب سے ہے بلکہ عوام سے عشق وطن سے عشق۔ بنی نوع انسان سے عشق ہے فیض نے عشق کو عبادت کا درجہ دیا ہے، فیض کے یہاں قاتل و مقتول، شیخ و محتسب، خنجر و تلوار، زلف و عارض قتل گاہ، مقتل، کوچہ دار جیسے الفاظ ملتے ہیں یہ وہ الفاظ ہیں جن کی روشنی میں ہم فیض کے کلام میں تصوف کے عناصر بخوبی تلاش کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم فیض کے تصور محبت کو تصوف میں جگہ دے دیں تو ضروری نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ فیض کے تصور محبت میں غم محبوب کا پہلو پوشیدہ ہے جیسا کہ شاعر نے خود کہا ہے   ؎

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

 اس شعر میں شاعر کے لیے محبوب کی جدائی کا غم نہیں ہے شمع کشتہ کا غم نہیں ضعف پیری کا غم نہیں بلکہ یہ غم فاقوں کا غم ہے یہ غم بازار کی گلیوں میں بکھرے ہوئے اجسام کی بے حرمتی کا غم ہے۔ کچلی ہوئی قوموں کے چھن جانے کا غم ہے۔

غزل ہو یا نظم قطعہ ہو یا گیت سبھی میں فیض کے مذہبی پس منظر اور اس کے عقائد تہہ نگین دکھائی دیتے ہیں ۔

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا

وہ پڑیں ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا

وہ نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تو ہاتھ لہو ہوئے

وہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا

دور آفاق پر لہرائی کوئی نور کی لہر

خواب ہی خواب میں بیدار ہوا درد کا شہر

خواب ہی خواب میں بے تاب نظر ہونے لگی

عدم باد جدائی میں سحر ہونے لگی

   ان کے علاوہ بھی فیض کے ایسے بے شمار اشعار ہیں جن میں اسلامی تاریخ کے بہت سارے واقعات پوشیدہ ہیں جس کے مطالعے کے بعد ان کے متصوفانہ رجحان کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

   مخدوم کے کلام میں تصوف کی آمیزش کی وجہ یہ ہے کہ یہ شعری ذوق انہیں وراثتاً ملا ان کے اسلاف میں دینداری کی زبردست روایت تھی مخدوم کا گھر مذہب کے معاملے میں بہت سخت تھا۔ مذہب کے ایسے سخت گیر ماحول میں مخدوم نے پرورش پائی تو ظاہر ہے اس کے کلام میں فنی پختگی نشاطیہ لب و لہجہ زبان و بیان کا حسن اور قومی تحریک کے ساتھ تصوف کی جھلکیوں کا آنا بھی ایک فطری بات تھی ’’اندھیرا‘‘ مخدوم کی ایک علامتی نظم ہے سماج کی سسکتی ہوئی آواز کو مخدوم نے نظم اندھیرا میں خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ گری

یہ چمکتے ہوئے تارے یہ دمکتا ہوا چاند

بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن

یہی ملبوس عروسی ہے، یہی ان کا کفن

اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ

وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ

(اندھیرا)

مخدوم کے ذہن پر عشق کے متصوفانہ تصور کا گہرا اثر ہے مخدوم کی نظمیں ان کی ابتدائی فکر عشق اور شاعری کے تصورات میں مذہب کی زائیدہ اور پروردہ ہیں ۔

تری نظروں کی ضؤ کو آسماں والوں سے پوچھوں گا

مکاں والوں سے کیا لامکاں والوں سے پوچھوں گا

ہنرور کو صلہ صنعت گری کامل گیا ہوگا

قلندر کی نظر کو دیکھ کر دل ہل گیا ہوگا

  علی سردار جعفری نے اکثر و بیشتر نظموں میں اسلامی واقعات و عقائد کے پس منظر میں اپنے روحانی کرب اور متصوفانہ رجحانات کی بے پناہ ترجمانی کی ہے۔ وہ تمام مذاہب کو عزت واحترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں ان کی مشہور نظم ’’یہ لہو‘‘جس میں انہوں نے انسانی خون کی عظمت و تقدس کی ہمہ گیر آفاقیت کو بیان کیا ہے اور اپنے عقائد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مختلف مذاہب کا سہارا لیا ہے اس نظم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سردار جعفری کی تمام مذاہب سے دلچسپی ایک خاص انداز کی وسیع المشربی کا احساس دلاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی زندگی پر اسلام کے گہرے اثرات ہیں ۔

یہ لہو کافر نہیں مرتد نہیں مسلم نہیں

وید و گیتا کا ترنم مصحف یزداں کا لحن

یہ کتاب زندگی کا پہلا حرف دلنواز

آرزو کی سب سے پہلی راگنی

روح انجیل مقدس جان توریت و زبور

خنجروں کی پیاس اس شعلے سے بجھ سکتی نہیں

یہ لہو ہونٹوں کی خوشبو یہ لہو نظروں کا نور

یہ لہو عارض کی رنگت یہ لہو دل کا سرور

(یہ لہو)

سردار جعفری کی یہ نظم ان تمام مذہبی حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا ذکر قرآن سے لے کر انبیاء تک کی زبانوں سے ہم سنتے رہے ہیں۔

  اخترالایمان نے شاعری کے بارے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ اگر میں شاعری کی تعریف صرف ایک لفظ میں کروں تو میں اسے مذہب یا دین کہوں گا۔ اس لیے کہ بے دین آدمی شاعری کر ہی نہیں سکتا یہ اس کا کام ہے جو ایمان رکھتا ہے خدا کی بنائی ہوئی چیزوں سے محبت کرتا ہو اور اس بات پر کڑھتا ہو کہ انسان ان چیزوں کو خوبصورت بنانے کے بجائے بدصورت بنا رہا ہے اخترالایمان کے یہاں متصوفیانہ رنگ ان اشعار میں ملتا ہے۔

جیسے صدیوں کے چٹانوں پہ تراشے ہوئے بت

ایک دیوانے مصور کی طبیعت کا ابال

ناچتے ناچتے غاروں سے نکل آئے ہوں

اور واپس نہیں غاروں میں ہو جانے کا خیال

ان پٹیوں میں پتھرائی ہوئی سی آنکھیں

جن میں فردا کا کوئی خواب اجاگر ہی نہیں

کیسے ڈھونڈیں گی درزیست کہاں ڈھونڈیں گی

ان کو وہ تشنگی شوق میسر ہی نہیں

  اخترالایمان کی مشہور نظم ’’مسجد‘‘ جس کے وسیلے سے وہ زندگی کے کئی تاریک پہلوئوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ایک ویراں سی مسجد کا شکستہ سا کلس

پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے

اور ٹوٹی ہوئی دیوار پر چنڈول کھبی

گیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے

(مسجد: اختر الایمان) 

 اخترالایمان کی عشقیہ شاعری میں احساس محرومی اور فارسائی ہے خواب و شکست بھی ہے فلسفہ غم بھی پوشیدہ ہے جوان کے تخلیقی روح کا کرب بن گیا ہے اخترالایمان اپنی عشقیہ شاعری میں کائنات کو محبوب حقیقی کا آئینہ خانہ سمجھتے ہیں ۔

پھر ایک بار تصور کے رنگ محلوں میں

ہجوم شوق ہوا، شورنائو نوش ہوا

تڑپ کے ساز کے تاروں سے دلبر نغمے

بساط خواب یہ انگڑائی توڑتے نکلے

 جاں نثار اختر کے اکثر اشعار آج کی انسان دشمن دنیا میں عام انسانوں میں پائی جانے والی برگشتگی اور برانگیختگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جاں نثار کی شاعری میں انسانی روح اور اس کی محرومیوں کا بڑا دخل ہے اور یہ محرومیاں کسی سسٹم یا کسی فرد سے متعلق نہیں رکھتیں بلکہ انسان کی عام زندگی میں رچی بسی ہیں وہ تمام دکھی انسانوں کے روحانی کرب، انسانی بھائی چارگی، اخوت اور انسانوں کے روحانی احساسات کی نمائندگی شاعری کے سہارے کرتے ہیں ۔

زندگی تنہا سفر کی رات ہے

اپنے اپنے حوصلے کی بات ہے

نہ کوئی خواب نہ کوئی خلش نہ کوئی خمار

یہ آدمی تو ادھورا دکھائی دیتا ہے

 جاں نثار کے یہاں مخصوص اور کلیدی الفاظ کی تکرار نظر آتی ہے وہ الفاظ ان کی شاعری میں علامت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں یہی وہ الفاظ ہیں جو نظام تصوف میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ۔

کس کی دہلیز پہ لے جاکے سجائیں اس کو

بیچ رستے میں کوئی لاش پڑی ہے یارو

دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تلے

جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

(پچھلے پہر۔ جاں نثار اختر) 

جاں نثار اختر کی اکثر و بیشتر نظموں میں بھی ہمیں روحانی عنصر کا عکس نظر آتا ہے ان کی مشہور نظم ’’پہلا سفر‘‘ جس میں نہ صرف تصوف کی جھلک ملتی ہے بلکہ وہ اپنشدوں کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔

   خلیل الرحمن اعظمی کے کلام میں داخلیت، روحانیت وسیع المشربی اور تصوف کا عنصر در آنا فطری بات تھی۔ انہوں نے روایت کے مقابلے پر انفرادیت اور خارجیت کے مقابلے پر داخلیت کو ترجیح دی اور یہی عناصر ان کی شاعری کی خاص پہچان بن گئے۔

اپنے ہاتھوں سے جلایا تھا جسے تم نے کبھی

اپنے ہاتھوں سے بجھا دو وہ محبت کا چراغ

اک رفاقت کے تصور کا سہارا لے کر

میں نے تعمیر کیا تھا وہ خیالوں کا جہاں

جس میں دم توڑتے دیکھا تھا خزاں کو میں نے

رقص کرتی ہوئی آئی تھی جہاں صبح بہار

(نیا عہد نامہ) 

خلیل الرحمن اعظمی کی غزلیات کے چند الفاظ ان کی شاعری میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور جس سے ان کے متصوفانہ رجحان کی نشاندہی بھی ہوتی ہے ان میں ایک لفظ رات بھی ہے یہ لفظ ان کے کلام میں اکثر جگہ ملتا ہے۔

رات وہی بات وہی تاہم ہم کو نیند نہیں آئی

اپنی روح کے سناٹے میں شور اک اٹھتا دیکھا

میں نے کیا کیا نہ سنا روح کے سناٹوں میں

دل یہ کہتا ہے کہ اس رات کا منظر باندھوں

 شہر یار کی شاعری کا موضوع کا فی وسیع ہے انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے زندگی کے بہت سے پہلوئوں کو اہمیت دی ہے شعریار نے اپنے کلام میں دردمندی اور تاثر پر زیادہ زور دیا ہے اور حق تو یہ ہے کہ شعر کی درد مندی کو ہی شاعری کی جان کہا جا سکتا ہے ان کے لہجے میں دردمندی کا جواثر ہے اس سے انکار ناممکن ہے اور یہ دردمندی کا اثر اردو شاعری میں تصوف کے توسط سے آیا ہے۔

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

ہر گھڑی ہوتا ہے احساس نہیں کچھ کم ہے

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے

اپنے نقشے کے مطابق یہ کہیں کچھ کم ہے

(خواب کا دربند ہے)  

عشق غزل کی روح ہے اور شہریار کے یہاں عشق حقیقی کا رجحان غالب ہے اور عشق کی کیفیات اور واردات سے متصوفانہ شاعری کی جھلک ملتی ہے۔

متذکرہ بالا شعراء کے علاوہ جدید شعراء میں عمیق حنفی، وحید اختر، شفیق فاطمہ، ساجدہ زیدی، زاہد زیدی، محمد علوی، عادل منصوری، بلراج کو مل اور کمار پاشی وغیرہ کی شاعری میں بھی متصوفانہ رجحان اور روحانی اقدار ملتا ہے المختصر آزادی کے بعد بھی اردو شاعری میں صوفیانہ رنگ جابجا نظر آتا ہے۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

چوہدری امتیازاحمد

مضمون نگار الہ آباد یونی ورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Close