ادبغزل

تم بھی اب یہ آستانہ چھوڑ دو

اس طرح ہم کو ستانا چھوڑ دو

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تم بھی اب یہ آستانہ چھوڑ دو
اس طرح ہم کو ستانا چھوڑ دو

جس سے شرماجائے خود شیطان بھی
کھیل ایسا تم دکھانا چھوڑ دو

امن کے حامی پہ اب الزام تم
دیش دھروہی کا لگانا چھوڑ دو

چاند بھی بے نور ہو جاتا ہے اب
جلوہ اپنا تم دکھانا چھوڑ دو

ہم نے بھی گردن کٹائی ہے بھلا
اب تو ہم کو آزمانا چھوڑ دو

ہو گئی ہیں ساری راہیں خارزار
تم سڑک پر آنا جانا چھوڑ دو

ہو گیا خود غرض ہے ہر کوئی اب
تم بھی تاروں جگمگانا چھوڑ دو

تنگ ہے ہادؔی پہ اب قیدِ حیات
کہدو اس کو قید خانہ چھوڑ دو

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Close