ادبافسانہ

تنہائی کا زہر

عطیہ عادل

ٹیلی ویژن پر ہمیشہ کی طرح کوئیی بریکنگ خبریں چل رہی تھیں۔ اب تو یہ معمول کی ہی بات بن گئی ہے۔ میں بھی شاید توجہ نہ دیتی اگر محترمہ رافعہ بشیر کی اچانک موت جیسے الفاظ میرے کانوں میں نہ پڑتے۔خبریں پڑھنے والا زور و شور سے ان کی ادبی خدمات اور حقوق نسواں کےلیے ان کی جدوجہد کا تزکرہ کر رہا تھا۔ اور میں بھونچکا بیٹھی ان کے بارے میں سوچنے لگی۔

 گو کہ رافعہ آپی ادبی حلقوں میں یقیناً مشہور تھیں پر خاندان بھر میں نک چڑھی ہی  کہلاتی تھیں۔ بڑی بوڑھیاں ان کے طور طریقوں سے قریباً مایوس ہو چکی تھیں۔ مجھے بھی وہ اوروں کی طرح دنیا کا ساتواں عجوبہ لگتی تھیں۔ وہ عورت جو تیری میری برائییوں میں دلچسپی نہ لے۔ فیشن اور زیوارات سے دور بھاگے، اپنے ہر فیصلے پر اپنی مرضی کی مہر ثبت کرے اور سب بڑھ کر یہ کہ بے باک افسانے اور شعر لکھے، عجوبہ ہی ہو سکتی۔

جب بھی خاندان کے لوگ ایک جگہ  جمع ہوتے تو ہم لڑکیاں بالیاں سنسنی خیز خبروں کے لیئیےتیار ہوتیں۔ آخر سرکس میں بھی تو لوگ تماشا دیکھنے جاتے ہی ہیں۔ رافعہ آپی  ہمیں گھر بیٹھے ہی کو ئی دلچسپ ہنگامہ دکھا دیتیں۔ آغاز کچھ اس طرح سے ہوتا کہ رافعہ آپی کی والدہ اپنا دھکڑا خاندان کی بزرگ خواتین کے سامنے لے بیٹھتیں۔

 ”بھابھی میں کسی کو کیا منہ دکھاؤں ! کوئی بھی تو لڑکیوں والے ڈھنگ اس میں نہیں۔ کچھ تو خاندان کی عزت کا خیال کرے۔“

تمام خواتین اسی موقع کی تاک میں ہوتیں۔ سب ہی اپنی زبانوں کو دراز کر کے طنز کے تیر آپی پر برسانے لگتیں۔ مگر شاباش رہے رافعہ آپی پر،محترمہ، گردن اکڑائیے،زبان کی قینچی سے ہر حملے کا اپنے تئییں مناسب جواب دے ڈالتیں۔

” اے بی بی تمہیں شرم تو نہ آتی ہو گی۔ غیر مردوں کے ساتھ بیٹھ کر واہیات شعر پڑھتی ہو !

 ”ہاں خالہ شعر ضرور پڑھتی ہوں۔ پر یہ جو تمہاری شمائیلہ سولہ سنگار کیئیےبینک میں ملازمت جاتی ہے اور وہاں غیر مردوں کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کرتی ہے! کیا خیال ہے اس بارے میں ؟ “

نتیجہ اس محفل کارِزار کا یہ نکلتا کہ خواتین کو رافعہ آپی سے اپنا اپنا دامن بچانا مشکل ہو جاتا۔

غرض یہ کہ وہ ہمارے خاندان کہ پہلی اور شاید آخری خاتون کہی جا سکتیں ہیں جو بزرگوں کو ترکی بہ ترکی جواب دیا کرتیں۔ فی زمانہ ایسی لڑکیاں تو ہر گھر میں مل جاتی ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل تھی کہ رافعہ آپی کی عمر خاصی ڈھل چکی تھی۔ ہمارے خاندان میں یہ بات پتھر کی لکیر کی طرح سمجھی جاتی تھی کہ کوئی  انہیں بیاہنے نہیں آئیے گا۔ بہت ہوا تو کوئی فاقوں سے بدحال عمر رسیدہ شاعر ان کے دام میں پھنس جائیے۔اس قسم کی باتیں مجھے ہمیشہ رنجیدہ کردیتی تھیں۔ دراصل مجھے ان کے بعض نظریات سے اتفاق بھی تھا۔ جب وہ دردمندی سے کہتیں۔

عورت انسان  بھی تو ہے۔ اس کے بنیادی حقوق سے اسے محروم نہ کریں۔ عورت کو گھر کی باندی بنا رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟

یہ بات سن کر میرا سیروں خون بڑھ جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دو بار میں نے ان کی حمایت میں بولنے کی بھی کوشش بھی کی تھی۔ ہمارے بڑے بھائی تک اس بات کی سن گن پہنچی تو انہوں نے ہمیں خاصی ڈانٹ پلا دی۔ اس ڈانٹ کا ایسا ڈر بیٹھا کہ پھر ایسی گستاخی کی ر کبھی نہ کی۔

انقلابی خیالات رکھنا اور بات ہے اور جراًتِ اظہار اور کے لیے ایک الگ قسم کی قابلیت چاہیئیے۔ ہم بیچارے ان انقلابیوں سے تھے جو گولی تو داغ سکتے تھے مگر بندوق کسی اور کے کاندھے پر رکھ کر! خیر اپنی کمزوری کا احساس ہوا تو ہم نے چپ سی سادھ لی پر دل ہی دل میں آ پی کو سرہاتے رہے۔

پھر ہوا یوں کہ سب کی امیدوں کے برخلاف رافعہ آپی کی شادی ہو گئی۔ بشیر بھائی یعنی رافعہ آپی کے شوہرِ ناامدار  ایک نجیب الطرفین قسسم کے دور پار کے عزیز تھے۔ رافعہ آپی کی شاعری کے بہت بڑے مداح بھی تھے۔ لگتا تھا وہ اوکھلی میں سر دینے کا پکا ارادہ کر بیٹھے تھے۔ رافعہ کے بدخواہوں  کو مکمل یقین تھا کہ یہ شادی چاردن نہ چلے گی۔

بشیر  بھائی کچھ عجیب سادھو قسم کی مخلوق تھے۔ کھانا پکانے کے جھنجھٹ میں رافعہ کم ہی پڑتیں۔ دفتر سے واپسی پر اگر بشیر بھائی کو کھانا نہ ملتا تو نہایت خوش دلی سے ہوٹل سے کھانا منگوا لیتے۔ غرض آپی کے گھر کا نظام چوپٹ تھا۔انہیں  صفائی ستھرائی سے بھی کوئی  دلچسپی نہ تھی۔ شوہر کی کسی ضرورت کا ڈھنگ سے خیال نہ رکھتیں مگر غزلوں اور افسانوں کے معیار میں روز افزوں  ترقی ہونے لگی۔ ادبی حلقوں میں مشہور تھا محترمہ رافعہ بشیر کے لیئیے ان کی خانہ آبادی ایک نیک شگون ثابت ہوئی ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ایک نئی جلا ملی ہے۔ ایک طرف ادبی میدان میں وہ مسافتیں مار رہی تھیں لیکن دوسری جانب ان کا گھر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔

ایک دن ہمیں کسی کام سے ان کے گھرجانا ہوا۔یقین کیجئیے دل بہت دکھا۔ بشیر بھائیبےچارے میلے کپڑوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھے تلملا رہے تھے۔ کہنے لگے۔

  ” ان سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ ملازمہ سے کپڑے ہی دھلوا لیا کریں۔ اب میں دفتر کیا پہن کر جاؤں ؟ “

یہ تھا پہلا دھچکا جو میری ان سے  دلی عقیدت کو لگا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات تھی ؟ شادی کی ہے تو اسے نبھائییں بھی ! میاں اور بیوی دونوں ہی شادی جیسے مقدس رشتے کو مضبوط ڈوری میں باندھتےہیں۔ رافعہ بشیر  کے پاس دوسرا رستہ تو پہلے سے موجود تھا۔ یعنی علم و ادب کا پرچار۔ عورت کی آذادی کے لیئیے جنگ لڑنا۔ وغیرہ، وغیرہ۔

پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ بشیر بھائی نے رافعہ کو طلاق دے دی۔ مزید ستم یہ ہوا کہ رافعہ سے ان کے گھر والوں اور دیگر رشتے داروں نے ہر قسم کا تعلق توڑ لیا۔ جس کالج میں وہ پڑھاتی تھیں ، اس کے نزدیک ایک مکان میں الگ سے رہنے لگیں۔

پھر کئی ماہ و سال بیت گئیےاور مجھے آپی کی کوئی خبر نہ ملی۔ ایک دن مجبوراً مجھے ان کے ہاں جانا پڑا۔ میری ایک نہایت عزیز سہیلی کی بہن کے کالج میں داخلے کا مسئیلہ تھا۔ سنا تھا وہ کالج میں داخلوں کی انچارج تھیں۔ وہ ہم سے نہایت خندہ پیشانی سے ملیں اور مسئیلہ حل کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ مجھے تو وہ بار بار گلے لگاتی رہیں۔ میں جانے لگی تو مجھے ایک طرف لے جا کر کہنے لگیں۔

”میں نے سنا ہے کہ تمہاری جلد شادی ہونے والی ہے۔ دیکھو میری بات کو یاد رکھنا۔ اپنے گھر کو جنت بنانا۔ تم نہیں جانتی کہ تنہائی کتنا بڑا زہر ہے۔ یہ بات وہ بار بار کہتیں اور رونے لگتیں۔“

رافعہ آ پی  کے گھر سے واپسی پر میں سوچ رہی تھی کہ رافعہ بشیر کا شمار تو بڑے بڑے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ وہ بکھرتے رشتوں اور ہنستے بستے گھروں پر کہانیاں لکھتی ہیں۔ پھر جن کمزوریوں اور برائییوں کو وہ اپنی کہانیوں میں اجاگر کرتی ہیں ان کو اپنی زندگی کی کہانی میں کیون نہ دیکھ پائییں ؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close