ادبغزل

جب بھی ظالم  کا  کہیں دستِ  ستم  اٹھتا ہے

تو   خلاف   اس  کے   ہمارا  ہی  قلم  اٹھتا  ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

جب بھی ظالم  کا  کہیں دستِ  ستم  اٹھتا ہے
تو   خلاف   اس  کے   ہمارا  ہی  قلم  اٹھتا  ہے

جانے کیوں  لوگ اسی کو  ہے  سمجھتے  دشمن
جو بھی  دل میں  لئے  انسانوں کا  غم  اٹھتا ہے

ظالموں  سے  ہے  کیوں  غافل  یہ  عدالت اپنی
ہے  وہ   غافل  تبھی  تو  ظلم  و  ستم  اٹھتا  ہے

باتیں   تو  کرتے   ہی  رہتے   ہیں   ہمارے   حاکم
دیکھنا  یہ   ہے  کہ   کب   دستِ  کرم   اٹھتا   ہے

زخم کھائیں گے تبھی ہوں گا انہیں بھی احساس
زخم   دینے    سے  کہاں   درد  و   الم   اٹھتا    ہے

ذرہ    ذرہ    مجھے    دیتا    ہے     دعائیں    ہادؔی
جب  بھی مقتل  کی طرف  میرا  قدم   اٹھتا  ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close