ادبدیگر نثری اصناف

حسرت موہانی کی تذکرہ نگاری

حسرت موہانی نے اپنے تذکروں میں شعراء کے حالات زندگی اور ان کی شخصیت کی تصویر کشی سے زیادہ شعرا کے کلام پر توجہ دی ہے۔

چودھری امتیاز احمد

’’تذکرہ‘‘ ایک عربی لفظ ہے جو یاداشت، دستاویز یا سرٹیفکٹ ریل یا جہاز کے ٹکٹ اور پروانۂ راہداری یا پاسپورٹ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قرآن کریم میں نصیحت اور تفہیم کے معنی مراد لیے جاتے ہیں ۔ لیکن فارسی اور اردو میں اصطلاحاً اس لفظ کا اطلاق اس کتاب پر ہوتا ہے جس میں شعراء کے مختصر حالات اور ان کا منتخب کلام درج کیا گیا ہو۔ شاعری کی طرح اردو تذکرہ نگاری بھی فارسی کی رہین منت ہے۔ اردو شعرا کے تذکرے شروع میں نہ صرف فارسی تذکروں کے طرز پر مرتب ہوئے بلکہ ایک عرصے تک ان کی زبان بھی فارسی ہی رہی۔ اردو کے تذکروں میں سب سے قدیم تذکرے ’’نکات الشعراء‘‘، ’’گلشن گفتار‘‘ اور ’’تحفۃ الشعرا‘‘ ہیں یہ تینوں تذکرے فارسی زبان میں ہیں جو ۱۷۵۲؁ء میں مرتب ہوئے۔ اردو زبان میں لکھا گیا پہلا تذکرہ ’’گلشن ہند‘‘ ہے جس کو ۱۸۰۱ء؁ میں مرزا علی لطف نے ’’گلزار ابراہیم‘‘ سے ترجمہ و ترمیم کر کے مرتب کیا۔ اسی زمانے میں حیدر بخش حیدری نے بھی اردو زبان میں ایک تذکرہ لکھا۔ امام بخش صہبائی نے ۱۲۶۰؁ھ میں انتخاب دواوین کے نام سے مشہور شعراء کا ایک انتخاب مرتب کیا۔ انتخاب دواوین کی زبان اردو ہے یہیں سے اردو شعراء کے تذکروں کو اردو زبان میں لکھنے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ۱۲۶۰؁ھ کے بعد لکھے گئے بیشتر تذکروں کی زبان اردو ہے۔

حسرت کی تذکرہ نگاری کا آغاز ان کی طالب علمی کے زمانے ہی میں ہو گیا تھا۔ جب وہ علی گڑھ میں تھے تب انھوں نے ’’انجمن اردوئے معلی‘‘ کے جلسوں میں پانچ مضامین پڑھے۔ (۱)اصغر علی خاں نسیمؔ۔ (۲)سید محمد خاں رندؔ۔ (۳)منیرؔ۔ (۴)سالکؔ۔ (۵)میرؔ کے بہتر نشتر۔

ان میں پہلے چار مضامین تذکرے کے طرز پر ہی لکھے گئے ہیں اس زمانے میں ان کا ایک اور مضمون بعنوان ’’طالب علی خاں عیشی‘‘، ’’مخزن‘‘ میں شائع ہوا۔ یہ مضمون بھی تذکرے کی طرز پر لکھا گیا ہے۔

حسرت موہانی تذکرہ نگاری کی طرف اس وقت باقاعدہ متوجہ ہوئے جب انھوں نے اپنا رسالہ ’’اردوئے معلی‘‘ جاری کیا۔ اس کے پہلے ہی شمارے میں انھوں نے اردو شعرا کا ایک تذکرہ لکھنے کے ارادے کا اظہار یوں کیا:

’’آزاد کے دردمند دل کو اردو کی محبت نے مجبور کیا۔ تذکرہ آب حیات لکھا گیا۔ اور حق یہ ہے کہ بے مثل لکھا گیا۔ یہ اسی کی بدولت ہے کہ کبھی کبھی مصحفی کا نام زبانوں پر آجاتا ہے جس طرح آزاد نے مصحفی کا نام روشن کیا خدا ان کی شہرت تا قیامت قائم رکھے۔ لیکن بندۂ حسرت کی آرزو کہتی ہے کہ مصحفی کی طرح ان کے شاگرد ہوسؔ، شہیدیؔ، عیشیؔ، غافلؔ، گرمؔ، مضطرؔ، تنہاؔ بھی اپنے کمال کی کیوں نہ دادا پائیں ۔ آزاد پر ذوق و مومن و غالب کا حق تھا حسرت پر نسیم، تسلیم اور امیر کا حق ہے۔

اپنی ہیچمدانی کا علم ہے لیکن اصرار طبیعت کو کیا کروں تمنا مجھ سے کہتی ہے اور میں قلم سے کہتا ہوں کہ لکھ۔ جو کچھ ہو سکے لکھ۔ جانتا ہوں کہ حق تذکرہ نویسی ادا نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی آمادۂ تحریر ہوں ۔‘‘ (اردوئے معلی، جولائی ۱۹۰۳؁ء، ص۱۔۲)

اردو ئے معلی پہلے دور میں جولائی ۱۹۰۳ ؁ء سے ۱۹۱۳ء؁ تک نکلتا رہا۔ اسی دوران حسرت کی گرفتاری کی وجہ سے مئی ۱۹۰۸ ؁ء سے ستمبر ۱۹۰۹ ؁ء تک یہ پرچہ بند رہا۔ دوسری بار اردوئے معلی جنوری ۱۹۲۵ ؁ء سے نکلنا شروع ہوا اور مارچ ۱۹۴۲ ؁ء تک مسلسل نکلتا رہا۔ درمیانی وقفے میں حسرت نے ایک سہ ماہی رسالہ ’’تذکرۃ الشعرا‘‘ کے نام نکالا تھا جس کے صرف چند شمارے ہی شائع ہو سکے۔ انھیں جرائد میں حسرت شعرا کا تذکرہ لکھتے رہے جسے تذکرۂ شعرا کے نام سے ڈاکٹر احمرلاری نے ۱۹۷۲ ؁ء میں مرتب کر کے شائع کیا اور تذکرۃ الشعرا کے نام سے شفقت رضوی نے ۱۹۹۹ ؁ء میں مرتب کر کے شائع کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے کچھ شعرا کے دواوین یا ان کے انتخابات اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیے یہ مقدمے بھی تذکروں کی طرز پر ہی لکھے گئے ہیں ۔

حسرت نے اردوئے معلی کے شمارہ جولائی ۱۹۰۳ ؁ء میں اپنے تذکرے کا خاکہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

’’زمانہ شاعری کی تقسیم طبقات کے لحاظ سے چاہیے تھی لیکن دلچسپی مزید  کے خیال سے اس طریق کو پسند کرتا ہوں کہ دور اول کے کسی استاد کا حال لکھ کر ضمن میں اس کے سلسلہ تلمذ میں اس وقت تک جتنے استاد ہوئے ہیں ان سب کا ذکر لکھا جائے اور پھر اسی طور پر دور اول کے دوسرے استاد کا ذکر شروع ہو۔ علیٰ ہذا۔

سب سے پہلے سلسلہ حاتم سے شروع کرتا ہوں اس کی کئی وجہیں ہیں اول تو یہ کہ صرف یہی ایک ایسا سلسلہ ہے جو باوجود قدامت اس وقت تک قائم ہے دوسرے یہ کہ بندہ کو بھی اسی خاندان شاعری سے تعلق ہے۔‘‘ (اردو ئے معلی، جولائی ۱۹۰۳؁ء، ص۳۔)

اردوئے معلی اکتوبر ۱۹۰۹؁ء کے شمارے میں انھوں نے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔

’’مدت سے ہمارا ارادہ تھا کہ اردو زبان میں تمام گذشتہ اور موجودہ اساتذہ کا ایک ایسا تذکرہ ترتیب دیا جائے جس میں ہر استاد کا مفصل حال اور اس کے کلام پر بے لاگ تنقید موجود ہو۔ اس تذکرے کی تقسیم کا اعتبار سلاسل شعرا پانچ جلدوں میں ہو۔ اس طور پر کہ جلد اول میں سلسلۂ شاہ حاتم کے کل استادوں اور صاحب دیوان شعرا کا ذکر ہو۔ جلد دوم میں سلسلۂ مصحفی کا۔ جلد سوم میں سلسلۂ ناسخ کا۔ جلد چہارم میں سلاسل میر تقی میر، میر سوز، مرزا مظہر، جعفر علی حسرت و مرزا غالب کا۔ اور جلد پنجم میں اساتذہ متفرق کا حال درج ہو۔‘‘ (اردوئے معلی، اکتوبر ۱۹۰۹؁ء، ص۱)

اس منصوبے کو رسالہ تذکرۃ الشعراء میں حسرت نے اسی طرح پیش کیا ہے لیکن ’’اردوئے معلی‘‘ کو ۱۹۲۵؁ء میں دوبارہ جاری کرتے وقت حسرت کی تذکرہ نگاری کے منصوبے میں نمایاں تبدیلی

پیدا ہو چکی تھی۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ارباب سخن۔ یہ اردو شعرا کا ایک مکمل تذکرہ ہے جن کے آٹھ طبقے قرار دیے گئے ہیں ۔ ان طبقات میں سے طبقہ ہفتم و ہشتم کے اکثر شعرا کے نام زیر عنوان معاصرین حسرت ایک قطعے میں درج کر دیا گیا ہے آئندہ ہر ماہ ان معاصرین موجود و مرحوم میں سے کسی ایک کا تذکرہ بالالتزم شائع ہوا کرے گا۔‘‘ (اردوئے معلی، اکتوبر۱۹۲۸ ؁ء، ص۲)

  حسرت موہانی ’’ارباب سخن‘‘ کے نام سے اردو شعرا کا ایک جامع تذکرہ مرتب کرنا چاہتے تھے جس میں تاریخی شعور بھی کارفرما تھی حسرت کے تذکرہ ’’ارباب سخن‘‘ کا پہلا اور دوسرا حصہ پہلے اردوئے معلی میں اور بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ تیسرا حصہ ’’اردوئے معلی‘‘ اور تذکرۃ الشعراء‘‘ کے اوراق میں اور انتخاب دواوین کے مقدموں کی شکل میں بکھرا ہوا ہے۔ چوتھا اور پانچواں حصہ غالباً لکھا ہی نہیں گیا یا اگر لکھا گیا تو چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔ ارباب سخن، کو ڈاکٹر احمر لاری نے ۱۹۸۲؁ء میں مرتب کر کے شائع کیا۔

ارباب سخن کے پہلے حصے میں چودہ سلاسل کا شجرہ دیا ہوا ہے دوسرے حصے میں ان سلاسل کے شعرا کی فہرست کے علاوہ اساتذہ متفرق کی فہرست درج ہے جس میں شعرا کا تخلص نام مولد و مسکن اور ان کے دیوان کی کیفیت درج ہے۔ تیسرے حصے کے متعلق حسرت موہانی نے جولائی اگست اور ستمبر ۱۹۳۰؁ء کے اردوئے معلی میں لکھا ہے کہ :

’’…… قریب قریب کل صاحب سلسلہ شعرا کا حال ۱۹۰۳؁ء سے ۱۹۳۰؁ء تک اردوئے معلی میں درج ہو چکا ہے……‘‘ (  اردوئے معلی، جولائی، اگست، دستمبر ۱۹۳۰ ؁ء، ص۱)

حسرت کا یہ دعویٰ کچھ حد تک صحیح ہے لیکن بہت سے اہم اساتذہ جن میں ولیؔ، میرؔ، دردؔ، ناسخؔ اور آتشؔ شامل ہیں کا تذکرہ نہیں لکھا گیا ہے۔ چونکہ تیسرا حصہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا ہے اس

لیے ان شعرا کی فہرست جن کا تذکرہ حسرت نے خود لکھا ہے یا دوسروں سے لکھوایا ہے اس کتاب کے آخر میں بطور ضمیمہ دے دی گئی ہے۔

حسرت نے شعرا کے حالات کی فراہمی میں دواوین اساتذہ بیاض متفرق و دیگر مختلف ذریعوں کے چندتذکروں سے بھی مدد لی ہے ان تذکروں میں نکات الشعرا (میرؔ) تذکرۃ الشعراء (مصحفیؔ) تذکرۃ الشعرا (حکیم قدرت اللہ قاسمؔ) گلشن بے خار (نواب مصطفیٰ خان شیفتہؔ) تذکرہ سخن شعرا (عبدالغفور نساخؔ) نسخہ عندلیب (حکیم قطب الدین باطن) اور آب حیات (محمد حسین آزاد) قابل ذکر ہیں ۔

اس طرح انھوں نے اردو کے بیشتر اہم تذکروں سے استفادہ کر کے شعرا کے حالات کی فراہمی میں بڑی تحقیق و تلاش سے کام لیا ہے۔ جو قابل ستائش ہے۔

اس کے باوجود ان کے یہاں غلطیاں بھی مل جاتی ہیں جیسے میر مہدی مجروح کو پانی پت کا باشندہ بتایا ہے حالانکہ مجروح دہلی کے رہنے والے تھے اور غدر کے زمانے میں عارضی طور پر پانی پت چلے گئے تھے۔ دوسرے مقام پر غالب کو نظیر اکبرآبادی کا شاگرد بتایا ہیجسے بہت کم لوگوں نے تسلیم کیا ہے۔ لیکن ایسی غلطیوں کی تعداد بہت کم ہے۔

حسرت نے خاندان مومن و نسیم کے شعرا اور اپنے معاصرین کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ بیشتر ذاتی معلومات پر مبنی ہے۔ حسرت چونکہ خاندان مومن و نسیم دہلوی سے تعلق رکھتے تھے اس لیے اس خاندان کے شعرا سے ان کو ایک دلی لگائو تھا۔ اور ان میں اکثر سے ملاقات کے ساتھ ساتھ خط و کتابت بھی رہتی تھی اس اعتبار سے حسرت موہانی کا ان شعرا کے متعلق تذکرہ ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

جیسا کہ تذکروں میں نمونہ کلام کے علاوہ تین چیزوں پہ خاص توجہ دی جاتی ہے جن میں شاعر کے حالات زندگی شاعر کی شخصیت اور شاعر کے کلام پر تنقید۔ اس طرح ہم حسرت موہانی کی تذکرہ نگاری کا فنی جائزہ لینے کے لیے انھیں تین اجزا کو بنیاد بناتے ہیں۔

قدیم شعرا کے حالات زندگی میں حسرت نے اگرچہ ایجاز و اختصار سے کام لیا ہے لیکن اساتذہ اور مشہور شعرا کے حالات زندگی کو نسبتاً تفصیل سے لکھا ہے۔ انھوں نے سنہ پیدائش اور وفات کے تعین کی طرف خاص توجہ کی ہے اور اکثر و بیشتر اہم واقعات کے سنین بھی دیے ہیں جہاں وہ کسی وجہ سے سنین نہیں دے سکے ہیں وہاں ایسے واقعات کا ذکر ضرور کر دیا ہے جن سے سنین کے تعلق میں آسانی ہو۔ حسرت نے رشتہ استادی و شاگردی اور معاصرین پر خصوصی توجہ دی ہے۔ نمونہ کے طور پر چند شعرا کے حالات یہاں درج کئے جاتے ہیں۔

آبرو’’…… میاں نجم الدین عرف شاہ مبارک متوطن گوالیار نبیرہ محمد غوث گوالیاری۔ ابتدائے عمر میں گوالیار سے دہلی چلے آئے تھے۔ بقول مصحفی کچھ دنوں نارتول میں بھی رہے تھے محمد شاہ رنگیلے کی حکومت کا زمانہ اور سراج الدین علی خاں آرزوؔ کی شاعری کا دور دورہ تھا۔ آبروؔ بھی انھیں کے شاگرد ہوئے اور بجائے خود استاد کامل قرار پائے…۔‘‘(اردوئے معلی، فروری تا جون ۱۹۳۱ ؁ء، ص۳۔)

حاتم’’ …… اس باکمال کے فیض سخن سے مرزا محمد رفیع السوداؔ، محمد امان نثارؔ، بقاء اللہ خاں بقاؔ، سعادت یارخاں رنگیں ؔ، میر محمدی بیدارؔ، مکندلال فارغؔ اور ان کے علاوہ اور بہت سے طالبان فیض مستفیض ہو کر ارباب کمال بن گئے……۔‘‘(اردوئے معلی،اکتوبر۱۹۰۳ ؁ء، ص۱۔)

حسرت موہانی نے خاندان مومنؔ و نسیمؔ دہلوی کے شعرا نیز اپنے معاصر شعرا کے حالات زندگی زیادہ تفصیل سے لکھے ہیں چند ایسے شعرا کے حالات زندگی بھی ملاحظہ کیجئے۔

اشرف:’’شیخ اشرف علی نام اشرفؔ تخلص مرزا نسیم مرحوم کے ارشد تلامذہ میں سے تھے توابع لکھنؤ سے مصطفیٰ آباد عرف کسمنڈی ایک چھوٹا سا مقام ہے ایسا کہ قصبے کا بھی اطلاق اس پر بہ مشکل ہو سکتا ہے…… اشرف شیخ مظہر علی۔ یہیں کے باشندے تھے لیکن بہ

استثنائے عہدِ طفلی اشرف کا زیادہ حصہ عمر لکھنؤ میں بسر ہوا اور وہیں ۱۹۰۲؁ء میں انتقال فرمایا۔ دائرہ علم ان کا وسیع نہ تھا لیکن اردو شاعری کی ضرورتوں کے لیے کافی تھا اول درجے کے خوشنویس تھے چنانچہ اسی بنا پر ۴۰ برس تک آپ کو منشی نول کشور کے مطبع سے تعلق رہا…… اشرف کے دو دیوان مکمل اور مرتب مدت سے موجود تھے لیکن اپنے خلقی انکساری کی بنا پر انھوں نے کبھی ان کی اشاعت کی اجازت نہ دی۔‘‘( انتخاب دیوان اشرف (مرتبہ حسرت موہانی)، مقدمہ، ص۳۔۴)

 گستاخؔ رامپوری:     ’’۱۸۶۶ ؁ء تا ۱۹۱۴ ؁ء کرامت اثر خاں نام گستاخؔ تخلص خلف عبداللہ خاں مرحوم۔ رامپور کے ایک مشہور اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنرل عظیم الدین خاں کے واقعہ قتل میں آپ کے والد کی نسبت بھی سازش کا شبہ کیا گیا جس کا نتیجہ خود ان کی اور ان کے کل خاندان کی بربادی کی صورت میں نمودار ہوا۔ مگر حسن اتفاق کا کرشمہ دیکھئے صرف یہی نہیں ہوا کہ اس وقت کرامت اللہ خاں حکومت کی داروگیر سے بچے رہے بلکہ بعد میں بدگمانیوں کے رفع ہونے پر والی رامپور کی نوازش خاص سے بھی بہرہ اندوز ہوئے۔ اردو فارسی کی رسمی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے ملازمت کو ذریعہ معاش بتایا سلسلہ ملازمت کی ابتدا رامپور سے ہوئی مگر بعد میں حکومت کے محکمۂ جیل میں جگہ مل گئی جہاں آخر وقت تک داروغگی جیل کی خدمت ادا کرتے رہے چنانچہ راقم حروف کو پہلے پہل جب آپ سے ۱۹۰۲؁ میں نیاز حاصل ہوا تو آپ علی گڑھ جیل کے داروغہ تھے… …۔(اردوئے معلی،اپریل۱۹۲۵ ؁ء، ص۱۔۳)

قدیم شعرا کی شخصیت نگاری میں بھی حسرت موہانی نے اختصار سے کام لیا ہے مگر اختصار کے باوجود چند لفظوں ہی میں انھوں نے ان شعرا کے جیتے جاگتے مرقع پیش کر دیے ہیں شخصیت نگاری کا

ایک نمونہ پیش ہے:

جرأت: ’’جرأت حریف ظریف خوش طبع عاشق مزاج تھے لطیفہ مزاجی اور خوش طبعی کی بدولت ان کا یہ حال تھا کہ گھر میں رہنے نہ پاتے تھے۔ آج ایک امیر کے یہاں ہیں دوسرے دن دوسرے امیر آئے سوار کیا اور ساتھ لے گئے اس ضمن میں ایک بیگم صاحب نے ازراہ قدردانی انھیں مہمان کیا اور رفتہ رفتہ یہاں تک بے تکلفی بڑھی کہ پردہ تک اٹھا دیا۔ جرأت کے کلام میں حسن و عشق کے جن معاملات کا طلسم باندھا گیا ہے اس کو اسی قسم کی پرلطف صحبتوں کا نتیجہ سمجھنا چاہئے۔(انتخاب دیوان جرأت، مرتبہ حسرت موہانی، مقدمہ، ص۲)

حسرت موہانی نے اپنے تذکروں میں شعراء کے حالات زندگی اور ان کی شخصیت کی تصویر کشی سے زیادہ شعرا کے کلام پر توجہ دی ہے۔ حسرت موہانی نے ہر شاعر کے کلام پر اپنی تنقیدی رائے کا اظہار ضرور کیا ہے۔ حسرت کی تنقید کا اندازہ قدیم تذکروں کی طرح مشرقی ہے مشرقی طرز تنقید میں زبان و اسلوب بیان کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے حسرت نے بی۔اے تک کی تعلیم پائی تھی اور انگریزی زبان و ادب کے توسط سے مغربی طرز تنقید تک ان کی رسائی تھی اس کے باوجود انھوں نے اپنے تذکرے میں مشرقی طرز تنقید کو اپنایا اور شعرا کے کلام پر اپنی رایوں کے اظہار میں زیادہ تر زبان اور اسلوب بیان کو پیش نظر رکھا یہاں ایک اقتباس نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

وفارامپوری: ’’الفاظ کی رنگینی، تراکیب کی خوبی، مضمون کی نزاکت اور معنی کی دشواری کو کلام وفا کی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ ان کی شاعری سوقیانہ مذاق اور عامیانہ مضامین سے بالکل پاک ہے اور متانتِ مضمون اور بلندی خیال کے لحاظ سے بھی ہر آئینہ ستائش کا مستحق ہے صرف دشوار پسندی کا ایک عیب البتہ ایسا ہے جس سے کبھی کبھی ان کے شعر کی کل اور خوبیاں بیکار ہو جاتی ہیں ۔‘‘ (اردوئے معلی،مارچ۱۹۲۵؁ء، ص۵۔۶)

حسرت نے اپنی تنقیدوں میں استادی اور شاگردی کے رشتے کو بڑی اہمیت دی ہے۔ خاندانِ مومن و نسیم دہلوی کے شعرا کے ذکر میں خاص طور پر انھوں نے شاگرد کے کلام میں استاد کے رنگ سخن کی نشاندہی کی ہے۔ دوسرے شعرا کے باب میں بھی انھوں نے اکثر و بیشتر اس اصول کو برتا ہے۔

حسرت نے شعرا کے ذکر میں ایسے واقعات بھی قلمبند کئے ہیں جن سے اس دور کے سیاسی۔ سماجی اور ادبی حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے قدیم تذکرہ نگاروں کے یہاں بھی یہ روایت ملتی ہے حسرت نے اس روایت کو پروان چڑھایا ہے۔

’’تسلیم ۱۲۲۵ ؁ھ میں فرنگیوں کی جانب سے شاہان دہلی کا وقار گھٹانے کے لیے نواب غازی الدین حیدر کو بادشاہ اودھ کا خطاب دیا گیا۔‘‘(اردوئے معلی، جولائی ۱۹۱۱ ؁ء، ص۳)

حسرت نے شعرا کے محض اچھے اشعار کا انتخاب نہیں کیا ہے بلکہ جہاں کہیں انھوں نے شاعر کی کسی خامی کی طرف اشارہ کیا ہے وہاں مثال کے طور پر اس قسم کے اشعار بھی دئے ہیں ۔ اس کے علاوہ انھوں نے کلام کی خصوصیات کے اعتبار سے مختلف عنوانات کے تحت کلام کا انتخاب پیش کیا ہے۔

حسرت نے اپنے تذکرے میں جو طرز تحریر اپنائی وہ علمی تصانیف کے لیے نہایت موزوں ہے وہ محمد حسین آزاد کی طرح الفاظ کے طوطا مینا نہیں اڑاتے اور ابوالکلام آزاد کی نثر کا دلدادہ ہونے کے باوجود عبارت آرائی کو اپنا اصل مقصد قرار نہیں دیتے محمد حسین آزاد حسین اور رنگین الفاظ کے طلسم میں اس قدر گم ہو جاتے ہیں کہ اصل مقصد سے دور جا پڑتے ہیں حسرت اس کے برعکس صاف، سلیس اور رواں عبارت میں مضمون ادا کرنے کے قائل ہیں وہ رنگینی عبارت تشبیہات و استعارات اور شوکت الفاظ پر مضمون کو قربان نہیں کرتے۔ ان کے ہاں سلاست کے ساتھ ادبیت بھی ہے اور شگفتگی بھی لیکن یہ شگفتگی محض الفاظ کی مرہون منت نہیں بلکہ الفاظ و معانی کے حسین آمیزش سے وجود میں آئی ہے۔

حسرت موہانی کے تذکرے کی اہمیت اس بات سے ہوتی ہے کہ حسرت موہانی اپنے تذکرے کو ایک قاموس کی شکل میں مرتب کرنا چاہتے تھے اس لیے انھوں نے تمام دستیاب تذکروں

 سے استفادہ کیا حتیٰ کہ انھوں نے اشعار کے انتخاب میں بھی پرانے تذکروں سے مدد لی۔ حسرت کا تذکرہ اس ضرورت کو ایک حد تک پورا کر سکتا ہے جس کی طرف ڈاکٹر سید عبداللہ نے ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے:

’’اگر اردو شعرا کی ایک عمدہ بیاگرافکل سائیکلوپیڈیا تیار کر لی جائے جس میں ان سب تذکروں کے لب لباب موجود ہوں تو یقینا یہ ایک بہت بڑی خدمت ہوگی۔‘‘(سید عبداللہ، شعرائے اردو کے تذکرے اور تذکرہ نگاری کا فن، ص۱۰۹)

حسرت نے اپنے تذکرے میں کماحقہ تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے انھوں نے تقریباً تمام دستیاب مواد کو کھنگالا ہے خود ان کے ذاتی کتب خانے میں شعرا کے تذکرے اور دواوین کے بڑے نادر نسخے تھے۔ اس کے علاوہ حسرت نے علی گڑھ، رامپور، اعظم گڑھ، الہ آباد اور دوسری بڑی لائبریریوں سے بھی استفادہ کیا۔ اس طرح انھوں نے شعرا کے حالات بڑی چھان بین اور تلاش و تحقیق کے بعد لکھے ہیں ۔ حسرت موہانی چونکہ بیک وقت ایک ممتاز شاعر بھی تھے اور اچھے نقاد بھی۔ اس لیے شعرا کے کلام پر ان کی تنقیدی رائیں محض قدیم تذکروں کی رایوں کا اعادہ نہیں بلکہ ان کی سوچی سمجھی رائیں ہیں جن سے ان کی تنقیدی بصیرت کا پتا چلتا ہے۔ حسرت موہانی کے تذکرے کی اہمیت سے کسی بھی طرح انکار ممکن نہیں۔

مزید دکھائیں

چوہدری امتیازاحمد

مضمون نگار الہ آباد یونی ورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Close