ادبافسانہ

  خواب کی الٹی تعبیر!

محمد شمشاد

  وہ آنکھ کھلتے ہی اپنی ساری عقیدتوں کے ساتھ اس تصویر کو دیکھنے لگی جو سامنے دیوار سے لٹک رہی تھی وہ بار بار اسے دیکھتی رہی جیسے وہ اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہو یا اپنی بے بسی کی کہانی کہنا چاہ رہی ہو……اور……

  لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ تصویر کس کی ہے؟ کون ہے؟ اور کہاں رہتا ہے؟لیکن میں بتانے سے قاصر ہوں اور بتائوں بھی تو کیا کہ یہ وہی شخص ہے جس کی زبان پر ہر وقت رہتا تھا کہ  ’بد اچھا بدنام برا‘

  یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میں نو خیز عمر کی دور سے گذر رہی تھی اس روز اچانک بہت زوروں کی آندھی آگئی تھی آندھی سے بچنے کیلے میں آنگن سے کمرے کی جانب بھاگی بھاگتے ہوئے میرا دوپٹہ آندھی کے لپیٹ میں آگیا جس کی تلاش میں میں گھر سے باہر نکل پڑی باہر نکلتے ہی ان کی نظر مجھ پر پڑی مجھے دیکھتے ہی وہ ٹھٹھک کر رہ گئے اور ان کا قدم برف کی طرح اسی جگہ جم گیا انہوں نے ڈوپٹہ زمین سے اٹھایا اور میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’جائو! کوئی بات نہیں تمہیں اس حالت میں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں تھا یہ سنتے ہی میں شرما گئی‘‘

 اس وقعہ نے مجھے ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا آج بھی مجھے ان کا وہ جملہ یاد ہے ’’جائو کوئی بات نہیں تمہیں اس حالت میں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں تھا‘‘ اس وقت انکی نظریں جھکی تھیں خو بر و شخص، شڈول جسم کا مالک، ہلکی ہلکی داڑھی انکے چہرہ کو نکھارنے کا کام رہی تھی اور بھاری بھرکم آواز ان کی جاذ بیت کو بڑھانے کے لیے کافی تھی۔

 میں کچھ دنوں قبل یہاں آئی تھی کون کیا ہے؟ گائوں اوروہاں رہنے والوں کے بارے میں مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ لیکن شمس کا نام بہتوں بار سنا تھا اور اس طرح میں ان سے اچھی طرح واقف ہو چکی تھی شاید اسی لیے میں انہیں ایک بار دیکھنا ضرور چاہتی تھی کہ اس نام کا کون شخص ہے بلکہ میں انہیں بہت قریب سے دیکھنا چاہتی تھی اس دن کے واقعہ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ وہی شخص ہے جس کی مجھے تلاش تھی ہاں یہ شخص بڑا ظالم تھا ہر کس و ناکس کی زبان سے آج تک یہی سننے کو ملا تھا۔

ایک دن ابو نے کہا کہ شمس شہر جا رہے ہیں اگر تمہارا کام انہیں دے دوں تو کیا فرق پڑتا ہے شاید وہ اس کام کوکرا دیں یہ سنتے ہی میں کچھ سوچنے لگی اتنے میں کسی نے میرے کانوں میں شر گوشی کی یہ بہت ہی اچھا موقع ہے اسکے قریب ہونے کا اسے جانے مت دو اور میں نے حامی بھر لی میں نے انہیں مہمان خانے میں بلانے کو کہا تاکہ میں ساری باتیں انہیں بتادوں انہیں دیکھتے ہی میرا شک یقین میں بدل گیا وہ مہمان خانہ میں اس طرح بیٹھے تھے جیسے کوئی مربی بیٹھا ہو میں نے انہیں ساری باتیں بتائی اور کہا کہ اس کام کیلے کچھ رقم بھی رکھ لیں شاید خرچ کرنے کی ضرورت آپڑے۔

  ’’دیکھوں یہ تمہارا نہیں اب میرا کام ہے ویسے مجھے ایسی امید نہیں کہ کوئی مجھ سے رشوت طلب کرے اور جب میں نے اس کام کو کرنے کا ذمہ لیا ہے تو میں اسے پورا کراکر ہی لوٹونگا ایک بات اور بھی جان لو کہ یونیورسٹی کے لوگ مجھے اچھی طرح جانتی ہے کہ میں کون ہوں ؟ اور یہ کہتے ہوئے وہ کمرہ سے باہر نکل پڑے۔

 اس کے بعد ہر کام کے لیے میں انکے پاس دوڑ جاتی تھی ایک دن تو ایسا بھی آیا کہ جب دعوے کے ساتھ بھی ان سے کام لینے لگی تھی اور وہ بھی بحسن خوبی اسے انجام دیتے رہے تھے لیکن ایک بار وہ مجھ سے کافی ناراض ہوگئے تب جا کر مجھے احساس ہوا کہ انکے ناک پر بھی غصہ ہے اسکے باوجود انہیں نے کبھی بھی مجھے برا بھلا نہیں کہا اور نہ ہی مجھ پر برسے بلکہ لوگوں کو وہ یہی کہہ کر ٹالتے رہے کہ میں ابھی کمسن اور بچی ہوں مجھے کیاپتہ ہے کہ دنیا کیا ہے انکے جواب سے میرا سر ندامت سے جھک گیا اور تب جا کر مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ۔ہاں اس وقت سراسر غلطی میری تھی میں نے دوسرے کے بہکاوے میں آکر انہیں سب کچھ کہہ سنایا تھا جو مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا اس دن میں ان پر خوب برسی، مسلادھار بارش سے بھی زیادہ اور وہ چپ چاپ سب کچھ سنتے رہے تھے۔

انکا جواب نئے انداز کا تھا ہزاروں سوالوں کا جواب ایک چپ وہ خاموشی سے سب کچھ سنتے رہے تھے اسکے برعکس میں کافی خوش تھی کہ جس شخص سے دنیا کبھی آنکھ نہ ملا سکی اسے میں نے اتنی جھاڑ پلائی اسکے بعد میں شیر بن گئی اور میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا لیکن جب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو مجھے انکے سامنے جانے سے بھی خوف لگنے لگا یہاں تک کہ معافی مانگنے میں بھی اور میں بھیگی بلی بن بیٹھی تھی۔

 ایک دن انہیں ابو سے کہتے سنا غلطی مجھ سے ہوئی تھی میرے گھر والوں سے نہیں لیکن عائشہ نے میرا گھر بھی چھوڑ دیا کیا دنیا اتنی مطلب پرست ہے جب تک مطلب ہے سارے گھر والوں سے تعلقات بہتر اور غرض ختم ہوا تو رشتہ بھی ختم، میں پوری دنیا کو انسان کی طرح دیکھنا چاہتا ہوں لیکن میری سنتا کون ہے کوئی بھی نہیں ؟ ہاں چچا جان ’بد اچھا بدنام برا‘ اس قول سے میرا زندگی بھر کا رشتہ ہے اور یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے چل پڑے۔

 چند ہی مہینوں کے بعد میری طبعیت کافی خراب ہوگئی ہفتوں تک میں بخار میں مبتلارہی اس درمیان انہوں نے ابو کی بھر پور مدد کی اور میرے اعلاج کیلے دن رات ایک کر دیا تھا۔ تمام جانچ پڑتال کے بعد پتہ چلا کہ میرا دونوں Kidny خراب ہو گیا ہے یہ سنتے ہی میرے ابو کافی پریشان ہو گئے تھے لیکن وہ انہیں بار بار دلاسہ دیتے رہے تھے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرینگے کہ کسی طرح Kidny کا انتظام ہو جائے اور وہ ہاسپٹل سے آپریشن کی تاریخ لے کر دہلی چلے گئے اور وہاں سے انہوں نے فون پر بتایا کہ وہ کسی کام میں وہاں مصروف ہو گئے ہیں لیکن Kidny آپریشن کے قبل ہاسپٹل میں ضرور پہنچ جائے گا وقت مقررہ پر Kidny ہاسپیٹل میں آگیا تھا اور میرا آپریشن ہو گیا۔ آپریشن کامیاب رہا اور اس طرح میں صحت یاب ہو گئی۔

  اسکے بعد میں بدستور انکے گھر آنے جانے لگی ایک دن وہ چلتے چلتے گر پڑے اور پھر انکی طبعیت ایسی خراب ہوئی کہ انکی تندروستی واپس نہ آسکی بلکہ ان کی صحت میں گراوٹ آتا ہی گیا آخر کار مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ان سے پوچھا ’’آپ اپنے اعلاج پر دھیان کیوں نہیں دے رہے ہیں جبکہ دوسروں کیلے آپ اتنا دوڑ دھوپ کرتے ہیں ‘‘۔ تو ان کا جواب سن کر میں بھونچکا رہ گئی۔

اتنے لوگوں کا عذاب میں کب تک ڈھوتا پھرونگا سبھی لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے لوگ بھی، میں جیئوں بھی تو کس کیلے؟ دنیا میں میرا ہے ہی کون؟ کوئی رونے والا بھی تو نہیں ہے‘‘ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے ان کی آنکھیں چھت کی جانب تکنے لگی اور میں …… میں انکے چہرہ کو۔

 یکایک انہوں نے کمرہ کے سکوت کو توڑا ’’دیکھو عائشہ! میری زندگی اب صرف چند دنوں کی رہ گئی ہے میں اپنا اعلاج کراتے ہوئے تھک گیا ہوں اگر مانو تو ایک بات کہوں مجھے امید ہے کہ تم اسے ضرور انجام دوگی اسی لیے میں تمہارے ذمہ یہ کام دے رہا ہوں ‘‘

انہوں نے اپنی فائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا دیکھو یہ میرا فائل ہے اس میں میرے نام کا کارڈ اور ہاسپٹل کا فون نمبر ہوگا اگر میری موت ہو جائے تو تم اس نمبر پر فون کر دینا تاکہ وہ میرے دونوں آنکھیں نکال کر ہاسپیٹل کے نابینا فنڈ میں جمع کرادیں شاید وہ کسی اندھے آدمی کو کام آجائے میں اپنی یہ آنکھیں انکے لیے دونیٹ Donate کر چکا ہوں ‘‘ اتنا کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر وعدہ لیا کہ میں اس کام کو ضرور پورا کرو۔

 میں وہاں سے اٹھی ،فائل کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر بوسہ لیا اور اسے کھولا اس میں دوکارڈپڑے تھے ایک آنکھ اور دوسرا Kidny  کےDonation  کا جسے میرے آپریشن کے قبل Donate کیا گیا تھا ساتھ ہی اس فائل میں یہ رپورٹ بھی درج تھی کہ شمس کا دوسرا Kidny کچھ ہی دنوں میں خراب ہو جائے گا ان کاغذات کو دیکھ کر میں سکتے میں آگئی کاٹو تو میرے بدن میں خون نہیں انہوں نے میرے لیے کیا کیا تھا اور اس کا جواب میں نے کیا دیا یہ ایثار و قربانی کا جذبہ لیکن دنیا نے انکی کبھی قدر نہیں کی اور وہ ہمیشہ قربان گاہ کے بکرہ بنتے رہے

  یکایک انکی لڑکھڑاتی ہوئی آواز نے مجھے پکارا عائشہ کیا تم نے ابھی سے فائل الٹنا شروع کر دیا دیکھو یہ تمہاری بھول ہے میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے مجھے معاف کرنا میں نے وہ کچھ کیا ہے جو ایک باپ کے اولاد کو بچانے کے لیے ایک انسان کو کرنا چاہیے یہ میرا فرض تھا سو میں نے کیا اب تم اپنا فرض نبھانے کی کوشش کرو میرا وعدہ عائشہ میرا وعدہ…… وعدہ اور انکی زبان ہمیشہ کیلے بند ہو گئی وہ ہم سے دور ہوگئے اور اور میں انہیں دیکھتی رہ گئی کاش! میں انکی قدر پہلی کی ہوتی میں آج بھی انہیں اسی طرح دیکھتی ہوں اپنی ساری عقیدتوں کے ساتھ انکی اس تصویر کو۔

مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close