خود فراموشی کے ہاتھوں لٹ گئے

ابراہیم جمال بٹ

 چند روز قبل ایک معمرشخص میرے پاس ایک بزرگ شخص آیا اور علیک وسلیک کے بعد فوراً ہی پوچھنے لگاکہ آپ کس جماعت اور مسلک سے وابستہ ہیں ؟ سوال کا جواب دینے سے قبل ہی انہوں نے جیسے جھپٹ کر پھر بولنا شروع کیا: آپ فلاں جماعت اور فلاں مسلک سے وابستہ تو نہیں ہیں ؟ میں حیران ہو گیا، اس لیے نہیں کہ میں وہ میرے لیے اجنبی تھا بلکہ اس لیے کہ وہ شخص خود ہی سوال کیے جا رہا تھا اور خود ہی اس کا جواب بھی دیتا جا رہا تھا۔ چنانچہ میں نے ان کا یہ طریقہ دیکھ کر کچھ دیر تک چپ سادھ لی ، اس دوران وہ بار بار سوالیہ انداز سے سر ہلا رہے تھے کہ بتائو …بتائو…!

  کچھ دیر خاموشی اختیار کرنے کے بعد جب میں نے اپنی زبان کھولنی چاہی تو اس نے ایک بار پھر جیسے جھپٹ کر مجھ سے بولا کہ ’’گھبرائو مت میں کوئی غیر نہیں اپنا ہی ایک بھائی ہوں … بس کچھ مسائل تھے جو میں آپ کے پاس لے کر آیا…۔‘‘ ان کی بات شاید ابھی ختم نہیں ہو پائی تھی کہ میں نے اسی کا طریقہ اختیار کے اس سے جھپٹ کر بولا کہ ’’میرے پاس کیوں آئے، کس نے بھیجا اور کس لیے بھیجا‘‘ ؟اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے ہی کیوں جواب؟ چوں کہ جلدی سے بات ختم کرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اس نے ایک بار پھر جھپٹ کر بولاکہ’’ میں کسی کے کہنے پر آپ کے پاس نہیں بلکہ خود اپنی مرضی سے آیا ہوں ۔‘‘

آخر کار میں نے مناسب سمجھا کہ اب اس کی بات کو تفصیل سے سنو ں تاکہ وہ بات پوری کر سکے ۔ میں خاموش اس کے سامنے کھڑا ہو گیا، کیوں کہ وہ جب سے آیا تھا تب سے نہ ہی کہیں پر بیٹھا اور نہ ہی کسی چیز کو پکڑ کر سہارا لیا، یہ سب کچھ دیکھ کر برائے ادب میں بھی اس کے شانہ نشانہ کھڑا ہو گیا، لیکن اس بار کلام ندارد۔

میری خاموشی دیکھ کر اس کے لب ہل رہے تھے لیکن اس بار ان کے لبوں سے نکلے ہوئے الفاظ سنائی نہیں دے رہے تھے۔ میں نے کچھ نہیں بتایا، بس خاموش رہ کر اس کے سامنے کھڑا رہا…وہ جیسے کچھ بول رہا تھا لیکن سنائی نہیں دیا۔ آخر کار ایک زور سے ہاتھ ہلا کر اس کی زبان سے آواز آئی کہ ’’میں تمہارے فلاں علاقے کا ایک ایسا شخص ہوں جس کے بارے میں نہ صرف تم بلکہ یہاں علاقہ میں رہنے والے لوگ اچھی طرح سے واقف ہیں ۔ تم نہ سہی لیکن تمہارے علاقہ سے چند ایسے لوگ ہیں جو کم از کم سال بھر میں دو مرتبہ میرے گھر آتے ہیں ۔‘‘

 میں اس بزرگ کی باتیں سمجھنا چاہتا تھا… انہیں جاننا چاہتا تھا لیکن باتوں کی اس قدر تیز روانی کی وجہ سے میں اچھی طرح سے کچھ بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ آخر کار تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق میں نے ایک زور کی آواز لگائی کہ وہ یکایک بیٹھ گئے، مجھ سے کہنے لگے’’آپ غصہ مت ہوئیے، میں سن رہا ہوں ، آہستہ سے بھی بات ہو سکتی ہے۔‘‘ ان کی یہ پیاری پیاری باتیں سن کر میں ایک طرف اندھر ہی اندھر جل رہا تھا اور ہنس رہا تھا، کیوں کہ میرے اس طریقہ کلام کی ابتدا انہوں نے ہی کی تھی، لیکن دوسری طرف مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ مجھے اس طرح ان سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی، کیوں کہ وہ مجھ سے بڑے ہیں اور میرے اجنبی مہمان بھی ۔ بہرحال ایسے تیسے کر کے بات کو ٹال کر میں نے اپنی خاموشی کو توڑ کر اسے خود ہی دوبارہ سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں تم سے واقف نہیں ہوں ، البتہ آپ کہتے ہو کہ ہمارے علاقہ کے کچھ لوگ آپ سے ملتے رہتے ہیں ، تو اس لحاظ سے میں آپ کوبڑے ادب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھ سے کیا کام ہے؟

 انہوں نے سر جھکاتے ہوئے بڑے بہترین انداز میں کہا کہ ’’میں فلاں علاقہ کے فلاں گھر سے وابستہ ہوں … میری… بیٹیاں اور …بیٹے ہیں … ، لیکن خدا کی کرنی کہ ایک بیٹا بچپن کے صرف گیارہ سال گزار سکا اور اِس دنیا سے مجھ کو داغ مفارقت دے گیا، اب جو بیٹیا ں میرے کندھوں پر سوار ہیں ان کا بوجھ اٹھانے کی میں سکت نہیں رکھتا… وہ پڑھائی بھی چھوڑ چکی ہیں … کیوں کہ ان کی پڑھائی کا خرچہ میری آمدن سے بہت زیادہ تھا، اب میں ان کو کھانے کو دیتا یا ان کی پڑھائی لکھائی کا خرچہ پُر کرتا… اس لیے ان کی پڑھائی بند کرنی پڑی، البتہ پہلی…بیٹی نے دسویں پاس کیا ہواہے۔ باقی سب پانچ سات جماعتیں ہی سکول میں پڑھی ہیں … !میں خود کئی بیماریوں کا شکار ہوں کہ مہینہ بھر کام بھی نہیں کر پارہا ہوں ، بیماری کی وجہ سے کبھی ایک دن تو کبھی دو دن اور کبھی پورا کا پورا ہفتہ ہی گھر میں پڑا رہتا ہوں ، جس کی وجہ سے میں گھر کی ذمہ داریاں اچھی طرح نبھا نہیں پا رہا ہوں ۔‘‘

 میں نے خاموشی توڑ کر آہستہ آواز سے کہا ’’کوئی مددگارنہیں ‘‘ ؟تو انہوں نے غصہ کے لہجے میں کہا کہ ’’وہی تو پوچھنے آیا ہوں کہ میرے مددگار کہاں ہیں ؟‘‘ چند لوگ جو کم از کم دو مرتبہ عید الفطر اور عید الاضحی کے مواقع پر ہمارے ہاں آتے ہیں ، عید کا خرچہ پانچ چھ سو رپے دے کر پورے سال تک غائب ہو جاتے ہیں ۔

 میں نے پوچھا آپ ان کو جانتے ہیں ؟انہوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ اچھی طرح سے لیکن ان سے میں دست سوال نہیں کرتا … بس سلام کرتا ہوں ۔

 میں نے کہا تو پھر میرے پاس کیوں آئے؟ میرا یہ کہنا تھا کہ اس نے ایسی روداد سنائی کہ سن کر میں پورا کا پورا خاموش ہو گیا! واللہ اس نے جو بات کہی وہ میرے دل میں جیسے کانٹے کی طرح چبھ کر ایسا درد دے گئی کہ آج تک محسوس کر رہا ہوں ۔

 آنکھوں میں آنسو اور بات میں نرمی لیکن غصے کے ساتھ انہوں نے کہا کہ جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہوتا وہ مسجد کی چار دیواری میں چند پیسے عید کے موقعوں پر جمع کرتے ہیں اور اس کو ہم جیسے غریب اور نادار لوگوں پر خرچ کر دیتے ہیں ، لیکن جن کے پاس سب کچھ ہے وہ بہت سارا پیسہ رکھتے بھی ہیں اور لوگوں سے جمع بھی کرتے ہیں اور الحمد للہ خرچ بھی کرتے ہیں لیکن ’’مخصوص لوگوں میں ‘‘۔

 ان کی یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی، اس لیے میں نے سوال اٹھایا ’’مطلب‘‘؟

  تو اس نے کہا کہ یہاں جو جس طبقہ، جماعت، تنظیم، فرقہ اور مسلک سے وابستہ ہے وہ اپنے ہی مسلک وغیرہ کے لوگوں کی مدد کرتا ہے، چوں کہ میں نہ ہی کسی مسلک سے ہوں اور نہ ہی کسی تنظیم وجماعت سے، اسی لیے میرے پاس کوئی نہیں آتا۔میرے گھر میں الحمد للہ چولا جل رہا ہے، علاقے میں رہنے والی میری بیٹیوں کی ہم عمربچیاں سکول، کالج اور یونیورسٹی جاتی ہیں ، میرے گھر کے آس پاس میرے علاقہ کی بیٹیوں کی شادیاں ہو رہی ہیں …لیکن…!لیکن…! میرے گھر کا کوئی غم خوار نہیں ، کوئی نہیں دیکھتا کہ آخر اس گھر کے لوگوں کی کیا حالت ہے؟ کوئی اس بات پر غور نہیں کرتا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اس پڑوسی کی اتنی بیٹیاں ہیں ، وہ اسکول کالج وغیرہ کیوں نہیں جاتیں ؟ کسی کو یہ فکر نہیں کہ ہمارے اس  پڑوسی کی بیٹیاں میری بیٹی سے کم عمر بھی ہے پھر بھی اس کی شادی ہو گئی لیکن اس پڑوسی کی اتنی بڑی لڑکیاں ہیں مگر ابھی تک گھر میں ہی پڑی ہوئی ہیں …کیوں …؟

 وہ رونے لگا اور میں اندھر ہی اندھر ہنسنے لگا، کیوں کہ میری سمجھ میں آگیا کہ وہ مجھ سے کیوں سوال کر رہا تھا کہ میں کس جماعت اور مسلک سے وابستہ ہوں ؟ میں نہ تو اسے تسلی دے پا رہا تھا اور نہ ہی ہمدردی کی کوئی بات کہہ پا رہا تھا… کیوں …؟؟؟کیوں کہ مجھے اس کی باتوں میں کسی قدر سچائی نظر آرہی تھی… !

 سوچتا ہوں کہ ہمارا سماج کس قدر کھوکھلا ہو چکا ہے ، انسانیت ختم ہو چکی ہے، تنظیم وجماعت اور مسالک سے وابستہ لوگ اپنا تو سوچتے ہیں لیکن دوسرے مسلک، دوسرے جماعت سے وابستہ لوگوں اور دوسری ذات سے منسلک عوام الناس کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ اُف خدا یا کب ہماری یہ سوچ بدل جائے گی… !کب ہم بحیثیت مسلمان ، مسلمان بن کر سوچیں ؟ کب وہ یادیں پھر سے تازیں ہوں ،جہاں نہ کوئی بڑا نہ کوئی چھوٹاتھا، جہاں نہ کوئی رنگ اور نہ ہی زبان تھی، جہاں نہ کوئی مسلک وجماعت اور نہ ہی فکر وغیرہ تھی…  اگر کچھ تھا تو وہ صرف اسلام کا عملی پَرتَوتھا۔ اسلام کی عملی صورت تھی اور وہ صورت نہ صرف مسلمان کے لیے تھی بلکہ عام انسانیت کے فیض کا سامان تھی۔ جس میں ایک غیر بھی اپنوں جیسا محسوس کر رہا تھا، جہاں اپنے تو اپنے غیر بھی ببانگ دہل آواز دے رہے تھے کہ ’’خدایا ہمیں ان کی غلامی نصیب کر، ان کو ہم پر مستقل مسلط فرما‘‘ ۔ غیروں کا یہ حال جب ہو تو اس سماج کے اپنے کیسے ہوں گے، اس کا نظارہ دنیا کر چکی ہے اور پھر ایک بار تاریخ کے اوراق کسی حد تک کر سکتے ہیں لیکن تب جب مسلمان امت عام انسانیت کا خیر خواہ بن کر کھڑا ہو جائے۔ اسے اپنوں کی فکر ، غیروں کی درد اور ان کے درد کے دوا کے خیال رہے۔

نوٹ: یہ ایک ایسی رودادہے جو روح کی صورت میں حقیقت پر مبنی سچی کہانی ہے البتہ الفاظ کی صورت میں صرف ایک کہانی ہے۔



⋆ ابراہیم جمال بٹ

ابراہیم جمال بٹ
کشمیر کے کالم نگار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے