ادبغزل

خود کو کہتا ہے جو سب کا پاسباں خاموش ہے

سن کے مظلوموں کی وہ آہ و فغاں خاموش ہے

احمد علی برقی اعظمی

خود کو کہتا ہے جو سب کا پاسباں خاموش ہے

سن کے مظلوموں کی وہ آہ و فغاں خاموش ہے

ظلم و جورِ ناروا پر یہ جہاں خاموش ہے

’’کیوں زمیں خاموش ہے اور آسماں خاموش ہے‘‘

گونگے بہروں کی طرح وہ پاسباں خاموش ہے

سن کے بھی جو داستانِ خونچکاں خاموش ہے

قتل و غارت کررہا ہے شر پسندوں کا ہجوم

خود کو کہتا ہے جو میرِ کارواں خاموش ہے

گُنگ رہبر کی زباں ہے رہزنوں کے سامنے

تھا جہاں پر بولنا اس کو ، وہاں خاموش ہے

ہے  یہ میری شامتِ اعمال یا کچھ اور ہے

میں سمجھتا تھا جسے آرامِ جاں خاموش ہے

آگ پانی میں لگا سکتا ہے جو تقریر سے

شہرۂ آفاق وہ شعلہ بیاں خاموش ہے

غنچہ و گُل صحنِ گلشن میں ہیں مُرجھائے ہوئے

پھر بھی برقی اس چمن کا باغباں خاموش ہے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close