خون چکاں برما میں اب ہے کیسا منظر دیکھئے

احمد علی برقیؔ اعظمی

خون چکاں برما میں اب ہے کیسا منظر دیکھئے

نذرِ آتش ہورہے ہیں ہرطرف گھر دیکھئے

رو رہے ہیں خوں کے آنسو آج جو حساس ہیں
چشمِ تر میں ان کی اشکوں کا سمندر دیکھئے

تنگ ہے ان کے لئے اپنے وطن کی ہی زمیں
ہورہے ہیں لوگ کیسے گھر سے بے گھر دیکھئے

بوڑھے بچے اور جواں ہیں فرطِ غم سے جاں بلب
جن کے پیچھے اک درندوں کا ہے لشکر دیکھئے

مغربی ملکوں کے جو، اک مُہرۂ شطرنج ہیں
ہیں تن آسانی میں شاداں وہ تونگر دیکھئے

مُلکوں ملکوں گھوم کر جو کررہے ہیں شاعری
کرتے ہیں ایسے میں کیا اب وہ سخنور دیکھئے

کربلا کے بعد ہے اک دوسری یہ کربلا
بیٹھ کر چُپ چاپ یہ کٹتے ہوئے سَر دیکھئے

صرف ترکی نے دیا ملی اخوت کا ثبوت
وحدتِ اسلامی کا یہ اُس کا جوہر دیکھئے

مقتدی ہی جب نہ ہوں گے تو کرے گا کیا امام
شیخ صاحب اپنے یہ محراب و منبردیکھئے

کررہے ہیں بیٹھ کر کیا آپ برقیؔ اعظمی
جھانک کر ایسے میں اپنے آپ اندر دیکھئے

⋆ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے