ادبشخصیات

داغ دہلوی

داغ کی شاعری کی سب سے اہم خصوصیت زبان کا عمدہ استعمال ہے۔

ریاض فردوسی

نواب مرزا خان داغ دہلوی 25 مئی 1831 کو دلی میں پیداہوئے۔ والد کا نام نواب شمس الدین احمد خاں اور والدہ کانام وزیر بیگم تھا۔ ابھی داغ پانچ سال کے ہی تھے کہ ا ن کے والد کو دہلی کے ایک باشندے کے قتل کے الزام میں18اکتوبر 1835 کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ والد کی موت کے بعد داغ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخر و سے شادی کر لی۔ داغ اپنی والدہ کے ساتھ چاندنی چوک والے مکان سے قلعہ معلی میں آ گئے۔ رام پور میں ابتدائی تعلیم کے بعد شاہی قلعے میں داغ کو عمدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کے ابتدائی کلام کی اصلاح ان کے سوتیلے والد ہی کیا کرتے تھے۔ داغ تخلص بھی انھوں نے ہی تجویز کیا اور پھر مرزا فخرو کے مشورے سے ہی داغ نے ابراہیم ذوق کی شاگردی اختیار کی۔ 1856کو مرزا فخرو کا انتقال ہو گیا اور داغ کو اپنی والدہ کے ساتھ قلعہ چھوڑنا پڑا۔ غدر کے بعد داغ دہلی چھوڑ کر رام پور چلے آئے۔ والی رام پور نواب یوسف علی خان نے ان کی خوب قدرومنزلت کی۔ ولی عہد کلب علی خان کا مصاحب خاص مقرر کیا۔ کلب علی کے انتقال کے بعد داغ حیدرآباد چلے گئے۔ جہاں نظام حیدر آباد میر محبوب علی خان نے انھیں خوب نوازا اور اپنااستادمقررکیا۔ داغ کی تصانیف میں چار دیوان گلزار داغ، آفتاب داغ، ماہتاب داغ اور یادگار داغ، ایک مثنوی اور کچھ رباعیات اور قصائد شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے لیے انھیں بلبل ہندوستان، جہاں استاد، ناظم یار جنگ، دبیر الملک اور فصیح الملک کے خطابات سے نوازا گیا۔

داغ کی شاعری کی سب سے اہم خصوصیت زبان کا عمدہ استعمال ہے۔ سادگی، شیرینی، ترنم، روانی اور محاورات کا بر جستہ استعمال ان کی زبان کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ داغؔ نے کچھ وقت مشکلات و پریشانی میں  بسر کیا۔ اس دوران انھوں  نے حیدر آباد کا سفر کیا اور نواب میر محبوب علی خاں  نے ان کو اپنا استاد مقرر کیا اور چار سو پچاس روپےہ ماہانہ مقرر کر دیا۔ اس کے علاوہ انھوں  نے داغؔ کو اعزازات ’’استاد السطان‘‘ جہانِ استاد نواب فصیح الملک دبیرالدولہ ناظم یار جنگ، کے خطابات سے بھی نوازا۔ داغؔ کا آخری زمانہ شہرت و مقبولیت، دولت ثروت کے لحاظ سے عروج کا زمانہ تھا۔ اس شہرت و مقبولیت نے انھیں  سینکڑوں  شاگردوں  کا استاد بنا دیا۔ جن کی غزلیں  داغؔ کے پاس اصلاح کے لیے آیا کرتی تھیں  ان کی شاگردی میں  بڑے بڑے استاد سخن پیدا ہوئے جن میں  نمایا ں نام سر محمد اقبالؔ کا ہے۔

داغؔ فطرتاً شاعر تھے۔ انھیں  قدرت کی طرف سے عشق کا جوہرِ لازوال بخشا گیا تھا، یہی سبب ہے کہ ان کے کلام میں  مہمات مضامین اور جذبات خود ان کے حالات و واردات کا نتیجہ ہیں۔ ایک تو طبیعت موزوں  پائی دوسرے زبان دانی روز مرہ محاورے پر قدرت حاصل تھی۔ چنانچہ اس وصف کی بنا پر ان کی شہرت دور دور تک پھیلتی چلی گئی۔ یہاں  تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا طرزِ سخن اور اسلوب شعر گوئی تمام اہل زبان اور شعرائ میں  مقبول و معروف رہا۔ ان کا رنگ ان کے زمانے میں  اس قدر مقبول ہوا کہ ہر کس وناکس ان کا رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرنے لگا، یہاں  تک کہ ان کے سب سے بڑے حریف منشی امیر احمد مینائیؔ نے بھی اپنے دوسرے دیوان میں  زیادہ تر داغؔ کا رنگ اختیار کیا۔ داغؔ کے چار دیوان اور ایک مثنوی ’’فریادِ داغؔ‘‘ ان کا ادبی و شعری سرمایہ ہے۔ داغؔ کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے مولوی عبدالحق انتخابِ داغؔ کے دیباچہ میں  رقم طراز ہیں  کہ

‘’داغ ؔ زبان کے بادشاہ ہیں  اور زبان پر جو قدرت انھیں  حاصل تھی وہ کسی دوسرے کو نصیب نہ ہوسکی۔ علاوہ فصاحت اور سادگی کے ان کے کلام میں  شوخی ظرافت اور خاص بانکپن پایا جاتا ہے۔ ان کا کلام اردو زبان کے محاوروں  اور روز مرہ بول چال کا خزانہ ہے۔ محاورے دوسروں  نے بھی استعمال کیے ہیں  لیکن داغؔ کی طرح بے ساختہ پن کہیں  نہیں  پایا جاتا۔‘

داغؔ کی شاعری میں  دہلی کی تاریخی وتہذیبی اقدار کا بیان ہی نہیں  ملتا بلکہ وہ اُس دور کا شہری اور ثقافتی منظر نامہ بھی پیش کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں  داخلی کیفیات سے زیادہ خارجی واردات کا بیان ملتا ہے۔ ان کی شاعری مجلس و احباب کی شاعری ہے۔ جہاں  محبوب کے ساتھ رقیب پر لعن طعن بھی ہے اور محبوب کی دلفریب ادائوں، اس کی بے وفائیوں  اور نازِ دلربائی کا بیان بھی ہے۔ ان کا محبوب روایتی یا خیالی نہیں ہے بلکہ گوشت پوست کا جیتاجاگتا انسان ہے، جو وصل کی لذت سے داغؔ کا  دامن بھرتا ہے اور کبھی ناز و نخرے دکھاکر ان کے دل کو تڑپاتا بھی ہے۔ ان کا محبوب اسی دنیا کا باشندہ ہے۔ جس کی رعنائیوں  اور حسن کی دلفریبیوں  کو دیکھ کر داغؔ کا دل مچل مچل جاتا ہے اور وہ کہہ اٹھتے ہیں؎

ہر ادا مستانہ سر سے پائوں  تک چھائی ہوئی

اُف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

چاندسے چہرے پر کیوں  ڈالی نقاب

چاند یہ کیسا گہن میں  آگیا

داغؔ کا عاشقانہ مزاج خاص موسم کا مرہونِ منت نہیں  ہے بلکہ ہر موسم میں  ان پر ایک سرور کی سی کیفیت طاری رہتی ہے۔ وہ اپنی نگاہوں  کی تسکین کے لیے کسی خوش رو پری جمال، نازک اندام صورت کی تلاش میں  سرگرداں  نظر آتے ہیں۔ مثلاً   ؎

وہ پھول والوں کا میلہ، وہ سیر باغ اے داغؔ

وہ روز جھرنوں  پہ جمگھٹ پری جمالوں  کا

شباب کی رعنائیوں  سے بدمستی کی کیفیت میں  مبتلا ہو کر ہوس کی تسکین کی تمنا میں وہ حرام و حلال کے چکر میں  نہیں  پڑتے بلکہ جی کھول کر دادِ عیش دیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے عشقیہ جذبات کے اظہار میں ان کے یہاں جرأتؔ اوررنگینؔ کی طرح  پھکڑپن یا بازاری پن نہیں ملتا بلکہ ایک طرح کا سلیقہ پایاجاتا ہے۔ کہتے ہیں     ؎

عشق بازی کو ہے سلیقہ شرط

یہ گنہ بھی ہے اور ثواب بھی ہے

داغؔ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں  کہ ان کامحبوب گوشت پوست کا ایک انسان ہے۔ محبوب کے ساتھ داغؔ کا برتائو برابری کا ہے۔ ان کے یہاں  آپسی نوک جھونک، کبھی کبھی تلخی کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے اور یہی تلخی کہیں کہیں  طعن و تشنیع کے رنگ میں  ظاہر ہوتی ہے، تو کہیں  غم و غصہ کے روپ میں  مثلاً   ؎

اک نہ اک ہم لگائے رکھتے ہیں 

تم نہ ہوتے تو دوسرا ہوتا

جواب اس طرف سے بھی فی الفور ہوگا

داغؔ کے کلام میں  محبوب سے آپسی چھیڑ چھاڑ کہیں  کہیں۔

داغؔ کا محبوب و مرغوب موضوع، حسن و جوانی اور اس کے لوازمات کا بیان ہے جو ان کے اپنے تجربات کا نتیجہ ہےں۔ اسی سبب ان کے بیان میں  حقیقت اورآفاقیت کا عنصر نمایاں  ہے۔ وہ عشقیہ معاملا ت کی گلکاریاں، داغؔ کی زبان میں  بلاکی سادگی اور فصاحت کا دریا موجزن ہے۔ بیان کی بے تکلفی کی صناعانہ مہارت جس نے اردو شعروشاعری کو نہ صرف ان کے قلم سے بلکہ ان کے ہزاروں  شاگردوں  کے ہاتھوں  نیا رنگ و آہنگ عطا کیا۔ ان کے اشعار میں  مکالمہ بازی نے دو بدو کی چوٹیں  سکھائیں  اور شاعری کو تکلفات کی قید سے آزاد کرکے بے تکلفی سے ہمکنار کر دیا۔ انھیں  خصوصیات نے ان کی شاعری کو شہرت عام عطا کی۔

داغؔ کی زبان میں  بلاکی سادگی اور فصاحت کا دریا موجزن ہے۔ بیان کی بے تکلفی کی صناعانہ مہارت جس نے اردو شعروشاعری کو نہ صرف ان کے قلم سے بلکہ ان کے ہزاروں  شاگردوں  کے ہاتھوں  نیا رنگ و آہنگ عطا کیا۔ ان کے اشعار میں  مکالمہ بازی نے دو بدو کی چوٹیں  سکھائیں  اور شاعری کو تکلفات کی قید سے آزاد کرکے بے تکلفی سے ہمکنار کر دیا۔ انھیں  خصوصیات نے ان کی شاعری کو شہرت عام عطا کی۔ داغؔ کا کلام تمام تر محاسن سے پُر ہے   ؎

دیکھو تو ذرا چشم سخن گو کے اشارے

پھر تم کو یہ دعویٰ ہے کہ میں  کچھ نہیں  کہتا

جائو بھی کیا کرو گے مہرو وفا

بارہا آزماکے دیکھ لیا

داغؔ نے زوائد سے اپنے کلام کو پاک رکھا، یہی سبب ہے کہ ان کے اشعار  رواں  زور دار  اور مؤثر ہیں ۔ وہ جذبات کا اظہار نہایت سلیس اور عام فہم زبان میں  کرتے ہیں  اس لیے ان کے اشعار ہمیشہ دلوں  پر تیرو نشتر کا کام کرتے ہیں۔ ان کے اکثر اشعار میں  جرأت ؔکی سی معاملہ بندی اور زندگی کی صفائی ملتی ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ خوبیٔ محاورہ اور لطفِ زبان نے ان کے اشعار کو دلکش اور پُراثربنادیا ہے۔

شعرا ئے متاخرین میں  داغؔ کا مرتبہ نہایت بلند اور اہم ہے۔ ان کا کلام سننے والے کے دل میں  ایک کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ جس کو تاثیر سخن کہا جاتا ہے۔ گو وہ آتشؔ، ذوقؔ اور غالبؔ کے ہم پلہ نہ ہوسکے لیکن ان کے شاعرِ خدا داد ہونے میں  کوئی شک نہیں  ہے۔ جو شعرا ن کی زبان سے نکلتا ہے تاثیر میں  ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ ان کا تمام کلام ان کی طبیعت کے قدرتی رنگ میں  ڈوبا ہوا ہے۔ وہ ایک خاص طرز کے مالک ہیں جو ایک حد تک انھیں  سے منسوب ہے۔

داغؔ نے اپنے کلام میں  اپنے عشق کی داستانوں  اپنی کمزوریوں  اور کوتاہیوں  اور اپنے فریبِ نفس کا پردہ چاک کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ داغؔ مصلحت پسند اور دور اندیشی سے کوسوں  دور تھے۔ ان کی شاعری میں  حق گوئی، حق پسندی پائی جاتی ہے۔ انھوں  نے بذاتِ خود عشق میں  مبتلا ہو کر اپنی دلی واردات اور کیفیات کو اشعار کا جامع پہنا کر صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ ان کا عشق حقیقی نہیں  بلکہ مجازی ہے۔

داغ نے غلام حسین شکیبا کے صاحبزادے مولوی سید احمد حسین سے فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی۔ اس دور کے مشہور خوش نویس سید امیر پنجہ کش دہلوی سے فن خوش نویسی میں مہارت حاصل کی۔ قلعہ معلیٰ کے ادبی ماحول اور بہادر شاہ ظفر کی سرپرستی نے داغ کو شعر و شاعری کی طرف مائل کیا۔ داغ شاعری میں ابراہیم ذوق کے شاگرد ہوئے۔ قلعہ معلیٰ میں مرزا غالب کا تو آنا جانا تھا اور قلعہ معلیٰ میں آئے دن ادبی مشاعرے ہوا کرتے تھے جس میں بہادر شاہ ظفر موجود رہتے وہ خود بھی اردو کے پر گو شاعر اور نیک دل شہنشاہ  تھے۔ اُن کا دربار علماء، شعراء اور اہل ہنر کا ملجا و ماوا تھا۔ داغ نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو ہر طرف غالب، ذؤق، مومن اور ظفر کی شاعری کی دھوم تھی۔ قلعہ معلیٰ کے اندر اور باہر ان شعراء کے فکر و فن کا طوطی بول رہا تھا۔ غالب فلسفیانہ مضامین اور مسائل تصوف کے باب میں بیان کے دریا بہا رہے تھے۔ استاد ذوق زبان و محاورے کو جلا دینے میں مصروف تھے۔ داغ نے بھی شعر و شاعری اور ادب میں ایسے جوہر دکھائے ہیں جس کے اجلے نقوش آج بھی نمایاں ہیں۔ داغ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسری اصناف سخن  میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ داغ نے اپنے کلام میں اس دور کے حالات کو سمودیا ہے۔ گلزار داغ، مہتاب داغ اور فریاد داغ، آپ کی اہم شعری تصانیف ہیں۔ داغ کی شخصیت اور شاعری کے غالب، ذوق، مومن، صہبانی اور ظفر سبھی مداح تھے  اور ان کو ہونہار سمجھتے تھے۔ بہادر شاہ ظفر اور امام بخش صہبانی پر تو داغ کی شاعری کا جادو چل چکا تھا۔ دلی کے زینت باڑی محلے میں ’’ایک طرحی‘‘ مشاعرہ منعقد ہوا تھا جس میں نامور شعراء شریک تھے جب داغ نے اپنا کلام پیش کیا تو امام بخش صہبانی جھوم اٹھے اور خواب داد دی اور داغ کو گلے لگالیا تھا۔ داغ نے جو شعر پڑھا تھا وہ اس طرح تھا۔

لگ گئی چپ تجھے ائے داغ حزیں کیوں ایسی

مجھ کو کچھ ال تو کم بخت بنایا ہوتا

احسن مارہروی نے داغ کی شاعرانہ صلاحیتوں کے کچھ واقعات  بیان کئے ہیں۔ نواب مصطفی خان شیفتہ کے ہاں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا اور کئی نامور شعراء شریک تھے۔ داغ نے اپنی غزل سنائی تو سب لوگ حیرت میں پڑگئے۔ داغ کی غزل کا مطلع اس طرح تھا :

شرر و برق نہیں شعلہ و سیماب نہیں

کس لئے پھر یہ ٹھہرتا دل بیتاب نہیں

مرزا غالبؔ داغ کی شخصیت اور شاعری کے بڑے مداح تھے اور داغ کو ہونہار سمجھتے تھے۔ بقول داغ میں نے مرزا غالب کی مشہور غزل:

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

مرزا غالب بے چین ہوگئے۔ زانوں پر ہاتھ مار کر بولے ’’خدا نطر بد سے بچائے صاحبزادے تم نے تو کمال کردیا‘‘۔ داغ ازل سے ہی عشق کا جذبہ اپنے دل میں لیکر پیدا ہوئے تھے۔ وہ سانس بھی لیتے تھے تو عشق کی چھری  ان کے قلب و جگر میں پیوست ہوتی تھی۔ ان کے ہاں عشق کی بے انتہا شدت ہے۔ والہانہ جذبات، لطافت زبان، نزاکت الفاظ و بیان، محاوروں کا برمحل استعمال، ترنم اور سوزو گداز داغ کی شاعری کا مخصوص رنگ ہے۔ داغ نے اپنی شاعری میں عاشقانہ زندگی کی بہترین مرقع کشی کی ہے اور ان کی کہی ہوئی غزلیں اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ اُن کے اشعار میں ترنم، دلکشی اور سوز و گداز بدرجہ اتم موجود ہے۔ داغ نے غزل جیسی روایتی صنف سخن میں ایک دلکش اور منفرد اسلوب کی بنیاد ڈالی ہے۔ ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی داغ کی شاعری اپنا خاص اثر رکھتی ہے۔

آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں

مشورے دے کے ہٹ گئے احباب

اعلیٰ حضرت نواب میر محبوب علی خان بہادر آصف جاہ سادس والی حیدرآباد (دکن) داغ کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے اور ریاست حیدرآباد (دکن) کے عوام بھی داغ کی شاعری کے شیدائی تھے۔ اعلیٰ حضرت غفران مکان آصف جاہ سادس 17 اپریل 1888 ء کو فرمان جاری کیا اور بڑی خواہش سے دا غ کو حیدرآباد (دکن) طلب فرمایا تھا اور داغ حیدرآباد تشریف لائے اور شاہ دکن کی نوازشوں کے مورد ہوئے اور ساڑھے چار سو روپئے ماہوار تنخواہ عطا کی گئی اور تین برس تک یہی ماہوار ملتی رہی اور اس کے بعد ساڑھے پانچ سو روپئے کا اضافہ کرکے ایک ہزار روپئے وظیفہ ماہوار مقرر ہوا جو تاحیات جاری رہا۔ داغ جس آرام و سکون کے متلاشی تھے 1857 ء کے بعد ان کو رام پور اور حیدرآباد (دکن) میں نصیب ہوا۔ داغ ’’استاد سلطان‘‘ کے باوقار خطاب سے بھی نوازے گئے اور جہان استاد فصیح الملک ناظم یار جنگ دبیر الدولہ جیسے اعلیٰ اعزازات سے بھی سرفراز ہوئے۔ داغ نے غفران مکان آصف جاہ سادس کی بے انتہا نوازشوں کا  ذکر اپنے اس شعر میں کیا ہے۔

ہے لاکھ لاکھ شکر ائے داغ ان دنوں

آرام سے گزرتی ہے شاہ دکن کے پاس

داغ کا قیام محلہ، افضل گنج حیدرآباد میں رہا۔ داغ کی حیدرآباد میں مقبولیت اور شہرت کا راز ان کی خوش اخلاقی، ملنساری، خودداری اور ہمدردی ہے۔ داغ کے حیدرآباد آنے سے پہلے لوگ ان کے نام اور کام سے اچھی طرح واقف تھے۔ داغ کے آنے سے قبل ہی ان کا شعری دیوان ’’گلزار داغ‘‘ حیدرآباد پہنچ چکا تھا اور ’’دال منڈی‘‘ کے ناٹک جو حیدرآباد میں پہلی بار قائم ہوئی تھی، داغ کی غزلیں گائی جاتی تھیں اور لوگ بڑے ہی اشتیاق سے ان کی غزلیں سنتے تھے اور اکثر لوگ ان سے خط و کتابت کے ذریعہ شاگرد ہوچکے تھے۔ داغ کے حیدرآباد آتے ہی ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوگیا۔ ارباب اقتدار مہاراجہ چندولال شاداب، مہاراجہ کشن پرشاد شاد اور دوسرے امراء داغ کی شخصیت اور شاعری کے بڑے مداح تھے اور شاہ دکن آصف جاہ سادس پر تو داغ کی شاعری کا جادو چل چکا تھا۔ داغ نہایت شریف النفس اور نیک دل انسان تھے۔ انہوں نے زندگی میں کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ کسی کے کلام پر اعتراض کیا اور نہ کسی معترض کو جواب دیا اور نہ کسی سازشوں میں ملوث رہے۔ داغ کے امیروں، رئیسوں اور ارباب اقتدار سے گہرے مراسم تھے اور وہ ہر سبھی سے ملتے تھے مگر وہ غریبوں سے بھی اکڑتے نہ تھے۔ یہ تھا شائستہ تہذیبی ورثہ جس کے داغ تنہا وارث تھے۔ شاعری میں والہانہ جذبات، لطافت زبان، نزاکت الفاظ و بیان، محاوروں کا بر محل استعمال، ترنم اور سوز و گداز داغ کا مخصوص رنگ ہے۔ داغ نے اپنی شاعری میں عاشقانہ زندگی کی بہترین مرکش کی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال جو اردو زبان و ادب کے مشہور شاعر و مفکر گزرے ہیں، انہیں داغ دہلوی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ وہ داغ کی شخصیت اور شاعری کے بڑے مداح تھے۔ حضرت امیر مینائی جو 5 ستمبر 1900 ء کو حیدرآباد تشریف لائے اور حیدرآباد آکر اپنے دیرینہ رفیق داغ کے مہمان ہوئے لیکن قضا و قدر نے انہیں یہاں زیادہ عرصہ قیام کی اجازت نہیں دی اور 13 اکتوبر 1900 ء کو آپ نے انتقال فرمایا اور آپ کی آخری آرام گاہ حیدرآباد میں ہے۔ داغ نے اپنے دیرینہ احباب کی مفارقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس طرح فرمایا تھا۔

داغ اس ضعف نے کی اپنی تو منزل کھوئی

ہم رہے جاتے ہیں سب یار چلے جاتے ہیں

1891 ء میں داغ نے اپنی رفیقہ حیات فاطمہ بیگم کو حیدرآباد بلوالیا تھا جو یہاں (7) سال اور چند ماہ کے قیام کے بعد 1898 ء میں انتقال فرمائیں جس کا داغ کو گہرا صدمہ ہوا۔ اس کے بعد داغ کی طبیعت آہستہ آہستہ ان کا ساتھ چھوڑنے لگی اور داغ بیمار رہنے لگے۔ ’’دبدبہ آصفی‘‘ 6 ذی الحجہ 1322 ھ میں داغ کے مرض الموت کی تفصیل شائع ہوئی تھی۔ مہتمم لکھتے ہیں کہ داغ آٹھ دن تک بستر علالت پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ بائیں جانب فالج کے حملے کی وجہ سے جسم کا ایک حصہ بے حس ہوگیا تھا۔ عبدالمجید آزاد کا بیان نور اللہ محمد نوری نے اس طرح نقل کیا ہے کہ ’’داغ کو آخری زمانہ حیات میں اپنی زندگی سے کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی تھی اور انہوں نے آزاد سے کہا تھا کہ اب مجھے عطر کی بو محسوس نہیں ہوتی، گانا سنوں تو وحشت ہونے لگتی ہے۔ غزل کہنے اور سننے سے طبیعت دور بھاگتی ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب میری زندگی کے دن ختم ہوچکے ہیں‘‘۔

ہوش و حواس تاب و تواں داغ جاچکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

داغ نے طویل عمر پائی اور ان کے دوست احباب اور ان کے شاگردوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ داغ نے قمری حساب سے (76) سال اور شمسی حساب سے (74) سال کی عمر پائی۔ داغ اکثر خدا سے دعا کیا کرتے تھے کہ ان کو حج کے دن موت آئے اوران کی نماز جنازہ عید کی نماز کے ساتھ ہو۔ اس طرح ان کی دونوں آرزوئیں برآئیں۔ 9  ذی الحجہ 1322 ھ مطابق 16 فروری 1905 ء کی شام داغ نے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کردی اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور عیدالاضحیٰ کی صبح کو آپ کی نماز جنازہ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں ہزاروں سوگواروں کے بیچ ادا کی گئی۔ آپ کے انتقال کی خبر ملتے ہی شاہ دکن آصف جاہ سادس اور ان کے رفقاء، اراکین ارباب اقتدار، امراء و سلاطین اور شاگردوں کی کثیر تعداد نے مکہ مسجد پہنچ کر داغ دہلوی کو گل ہائے عقیدت پیش کیا اور آپ کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی اور درگاہ حضرات یوسفینؒ حیدرآباد کے احاطہ میں مشرقی جانب نقار خانے کے قریب حضرت امیر مینائی آسودہ ہیں تو درگاہ شریف کے صحن میں مغرب کی جانب سے اس کے متوازی حضرت ابراہیم مرزا خان داغ دہلوی کا مزار ہے.چند منتخب اشعار۔

احسان عفو جرم سے وہ شرمسار ہوں 

بخشا گیا میں تو بھی گنہ گار ہی رہا

جب قدم کعبے سے رکھا سوئے دیر 

تار الجھے جامۂ احرام کے

اے اثر کر نہ انتظار دعا 

مانگنا سخت بے حیائی ہے 

یہ کیا کہ بت بنے ہوئے بیٹھے ہو بزم میں 

کچھ بے تکلفی بھی تو خلوت میں چاہئے

اس کو آیت حدیث کیا سمجھیں 

جو تمہاری زبان سے نکلا

ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں 

میرا مطلب ادا کرے کوئی

نہ دینا خط شوق گھبرا کے پہلے 

محل موقع اے نامہ بر دیکھ لینا 

نئے خنجر سے مجھ کو ذبح کیجے 

پھر ایسی آب و تاب آئے نہ آئے 

تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے 

میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا 

ہم ایک رستہ گلی کا اس کی دکھا کے دل کو ہوئے پشیماں 

یہ حضرت خضر کو جتا دو کسی کی تم رہبری نہ کرنا

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے 

در یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا

مجھ کو کہئے برا نہ غیر کے ساتھ 

جو ہو کہنا جدا جدا کہئے

جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا 

بارہا آزما کے دیکھ لیا

رات بھر شمع رہی ہجر میں وہ بھی خاموش 

ملتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا 

وہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰ 

نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا

سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا 

اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا

پابندیوں نے عشق کی بیکس رکھا مجھے 

میں سو اسیریوں میں بھی آزاد رہ گیا

گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں 

خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا

نہ رونا ہے طریقے کا نہ ہنسنا ہے سلیقے کا 

پریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا

بزم عدو میں صورت پروانہ دل مرا 

گو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا

حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر 

کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے

جھلک رہی ہے سر شاخ مژہ خون کی بوند 

شجر میں پہلے ثمر سے کلی نکلتی ہے

کہہ گئے طعن سے وہ آ کے مرے مرقد پر 

سونے والے تجھے کس طرح سے راحت آئی

ترک رسم و راہ پر افسوس ہے دونوں طرف 

ہم سے نادانی ہوئی یا تم سے نادانی ہوئی

آپ ہیں اور مجمع اغیار 

روز دربار عام ہوتا ہے 

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close