دل میں اٹھتے سوال

محمد شمشاد

 آج نورا بہت غصے میں تھا وہ بڑبڑاتا ہوا اپنی کھولی سے نکلا اس وقت وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھابلکہ اپنی قسمت کو ’’سالا میراکسمت ( قسمت) ہی کھراب(خراب) ہے جب بھی کچھ سوچتا ہوں سب الٹا ہوتا ہے…… سالا اب کبھی نہ آؤنگا۔ سالا وہ بھی نمک حرام نکلی سالا کو کچھ نہیں آتا تھا۔ سڑک پر سالا مارا مارا پھرتا تھا اسکے گھر کا اتا پتہ نہ تھا اور اب بکراتی(بکواس) کرتی ہے سالی، چلنے نہیں آتا تھا سو ہم سالا کو انگلی پکڑ کے چلنا سکھایا اور آج…… آج سالا ہم پر رنگ گاٹھتی ہے ‘‘اور یہ بولتا ہوا وہ کھولی سے باہر نکل گیا۔

دوسری طرف رکمنی کھولی کے اندر سے ہی بولے جا رہی تھی ’’ہاں تو را(تمہارا) کیا ہے ہم دن بھر بیٹھ کر تاڑی بیچ بیچ کے کمایت (کماتی ہوں)ہے اور تو… تو جا کے شراب اور جوا میں اڑا دیت(دیتا) ہے ہاں دیکھو تو را سراب کے کون پوچھت (پوچھتا)ہے‘‘۔

 نورا کھولی سے نکل کر سیدھے بھٹھی خانہ پہنچا اور ایک کونے میں بیٹھ کر شراب پینے لگا وہ شراب پیتا گیا ایک بوتل دوسرا بوتل تیسرا چوتھا اور نہ جانے کتنا پیتا رہا حالانکہ وہ کبھی بھی ایک بوتل سے زیادہ نہیں پیتا تھا لیکن آج وہ شراب پیتا ہی جا رہا تھا اور اب وہ اس قدر شراب کے نشہ میں ڈوب چکا تھا کہ اس وقت اسے اپنے تن بدن کا بھی ہوش نہیں رہاشراب کے نشے میں دھت اور اپنے تن بدن سے بدحواس وہ یکا یک بھٹی خانہ سے نکل پڑا اس وقت اسے کچھ بھی خیال نہیں رہا کہ بھٹی کے مالک کو وہ شراب کی قیمت ادا کر دے اور۔۔۔۔۔۔۔اوروہ گرتا پڑتا ایک پیڑ کے پاس جاگرا، گرمی کی لہلہاتی دھوپ میں وہ اسی طرح دن بھرگرا پڑا تھا کہ کوئی بھی اسے دیکھ کر شرابی کہہ سکتا تھا۔

 پھر بھی اس کا بڑبڑانا کم نہیں ہوا تھا وہ بڑبڑاتا رہااور اپنی آوازوں میں اپنی زندگی کارونا رو رہا تھا ’’سالاکسمت، میرا کسمت ، سالا کہاں کہاں مارا پھرا،سالا کب پیدا ہوا اور کہاں کچھ پتہ نہیں۔ سالا ہم جب بچہ تھا تو کوڑا کرکٹ میں مارا مارا پھرتا تھا۔ اس بخت (وقت )ہم کوڑاکرکٹ کے ڈھیر میں سے کاغذ اور پلاسٹک چنتا تھا۔ اسی سمئے رکمنی سے بھینٹ ہوا وہ بھی سالا کاغذ چنتی تھی ہم دونوں ملتے جلتے دوست بن گئے ایک بار سالی بولی سب آدمی لوگ ہمرا پھٹل (پھٹا ہوا)کپڑا دیکھ کے ہنستا ہے ہم کو یہ دیکھ کے شرم آوت (آتی) ہے‘‘

 ’’یہ سن کے ہم کو دکھ ہوا بہت دکھ ہم اسکے اجت (عزت) کے کھاتر (خاطر)تاڑی کا دوکان کھول دیا اور سالی کو تاڑی بیچنے کو بیٹھا دیا۔ تب سے سالی رکمنی تاڑی بیچنے لگی اور آج سالی کہتی ہے جا تو ہمر (میرا)کون لگے ہے۔ ہاں! ہم اس کا کون ؟ کچھ تو نہیں میاں بھائی کچھ بھی نہیں۔ اس کے کھاتر ہم اب تک ایک دن بھی اپن کھولی میں نہیں سویا۔ جاڑا گرمی برسات سب رات ہم پھوٹ پاتھ پر سوتے گجارا اور سالی وہ دن رات ہر بکھت ہمارکھولی میں رہے‘‘۔

 ایک دن سالی رکمنی بولی۔ جا تیرا کیا ہے؟سار ادن تاڑی پلا پلا کر سب کی بات سن کے سہہ کے گن گن کے پیسہ ہم جما کرت ہے۔ تیرا کیاہے تیرا کیا بگڑت ہے اور کاہے کو، ہم تیرا جورو ہے کیا کچھ تو نہیں۔ یہ سن کے ہم کو خوب گسہ (غصہ)آیاسالی رکمنی کو خوب مارا پیٹا ،من بھر مگراو( وہ) ایک جواب نہ دیا، ایک ہاتھ بھی نہیں رو کا،کا ہے کو ہم پر ہاتھ اٹھاتی ہمرے سہارے تو جیتی ہے اور ہم کھولی چھوڑ کے نکل گیا‘‘

’’تب سالی دوڑ گئی اور کہنے لگی تو کاہے جا رہا ہے کیا گلتی(غلطی) ہوا ہے ،لوٹ جا تو لوٹ جا ،او(وہ ) گھگھیاتی رہی، گڑ گڑاتی رہی ،لوٹ جا تو کاہے اپنا کھولی چھوڑ کے جا رہا ہے یہ سن کے ہم کواور گسہ آیا۔ ہم کو اس پر اور طیش آگیا اور ہم اس کی طرف ہسلی لے کر دوڑ ا، تب او ہمرے پیر پر گر گئی تو چاہے ہمرا جو کرے مگر کھولی چھوڑکے مت جا‘‘

 بس وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور اس کی گردن شرم سے جھک گئی اس کا سارا غصہ کافور کی بو جیسے ختم ہو گیا تھا۔ وہ اٹھا ، کچھ دیر وہ ادھر ادھر تکتا رہا اور وہ اپنی کھولی کی جانب تیزی سے روانہ ہو گیا۔

 وہ راستے بھراپنے اور رکمنی کے بارے میں سوچتا رہاکہ اس میں رکمنی کی کیا غلطی تھی وہ تو صحیح کہتی ہے کہ میرا اس کے سیوا اور کون ہے بیچاری دن بھر دوسروں کی بوچھار سنتی اور سہتی ہے تاڑی بیچ بیچ کر پیسہ جمع کرتی ہے کس کے خاطر اس کا کون ہے کوئی تو نہیں سیوائے میرے۔

اور وہ کھولی کے پاس پہنچ گیا اس نے رکمنی کو آواز دی ’’رکمنی! رکمنی! ‘‘ وہ اسکی آواز سن کر دوڑتی ہوئی باہر آگئی اور مسکرا کر کہنے لگی’’ کاہے نورا آئونا اندر آئو نا، تو اتنا گسہ کاہے کرتا ہے رے ‘‘اور رکمنی نے خوب پیار سے کھولی کے اندر لے جا کرٹاٹ بیچھاکر اسے بیٹھایا اور اس کے لیے فوراً کھانا پروس دیا حالانکہ اس سے قبل اس نے اسے کبھی اندر نہیں بلایا تھا اور نہ ہی کبھی اس طرح وہ اسکے ساتھ پیش آئی تھی کبھی نہیں، لیکن جب سے نورا کھولی سے غصہ میں نکلا تھا تب سے اسکا روتے روتے برا حال تھااور اس وقت اسکی آنکھیں اس قدر سوج چکی تھی جیسے وہ صرف روتی رہی ہو  ۔

 نورا کو رکمنی کی یہ حالت دیکھ کر رہا نہیںگیا اس نے اسکی وجہ پوچھا لیکن رکمنی نے کچھ بھی جواب نہیں دیا بلکہ کھانے کا اشارہ کرکے اسے پنکھا جھلنے لگی وہ خوب پیار سے کھاناکھلانا چاہتی تھی تب نورا نے بھی اسے کھاناکھانے کیلئے کہا حالانکہ اس نے اسکے پہلے کبھی بھی کھانے کے لئے اسے نہیں پوچھا تھا رکمنی ہاں نا میں جواب دیکر اسے بھر پیٹ کھانا کھلانا چاہتی تھی لیکن نورا کی ضد کے آگے اسکا کوئی بس نہ چلا اور دونوں نے ایک ہی تھالی میں کھانا شروع کر دیا۔دونوں ایک ساتھ کھاتے رہے اور ایک دوسرے کو تکتے رہے دل بھر کر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے تھے جیسے وہ کئی سالوں سے ایک دوسرے سے جدا رہے ہوں یا بالکل الگ تھلگ اور تنہا۔

  ایکا یک نورا رکمنی سے معافی مانگنے کے انداز میں کہنے لگا’’ رکمنی تو ہمرے (ہم)سے ناراج (ناراض) ہے نارے ہم اناڑی ٹھہرے کہ تورا(تمہیں)سمجھا نہیں تو کتنی پیاری ہے رے بہت پیاری تو کتنا محنت کرتی ہے رے میرے کھاتر۔ ہم کون ہوتا ہے رے کوئی تو نہیں تب ماپھ (معاف) کر دے رے ہم کو ماپھ (معاف) کر دے ہمے۔‘‘

’’نہیں تو ایسا مت بول رے‘‘ اور یہ کہتے ہوئے رکمنی نے نورا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اسکے منہ پر رکمنی کا ہاتھ پڑتے ہی وہ تڑپ اٹھا اسکا جسم کانپ ساگیا۔وہ اس سے دور رہنا چاہا مگر رکمنی اسکے اور قریب آگئی, رکمنی نے اسکے سر کو اپنے کندھے پر رکھ لیا اور دیوار کے سہارے لیٹ گئی اور وہ اس کے سر کو اپنے ہاتھوں سے دبانے لگی دونوں اس طرح کب تک لیٹے رہے انہیں اسکا کچھ پتہ نہیں چلا دونوں کو نیند کب آئی اور کب صبح ہوئی انہیںاسکی کچھ بھی خبر نہیں۔

 صبح نیند ٹوٹتے ہی نورا چونک گیاوہ رکمنی کے باہوں میں سویا ہوا تھا نورا شرم سے چور ہو گیا وہ شرم کے مارے رکمنی سے ملے بغیر ہی کھولی سے باہر نکلنا چاہا مگر رکمنی کے باہوں نے اسے اس قدر جکڑ لیا تھا کہ وہ اٹھ کر بھاگ نہ سکا اسی لمحے رکمنی کی آنکھ بھی کھل گئی وہ مسکراتی ہوئی نورا کے سینے سے لپٹ گئی۔

     ’’تب نورا نے اسے ٹوکتے ہوئے پوچھا ’’ رکمنی رات کیا ہوگیا رے۔‘‘

    ’’کچھ تو نہیں رے،یہ سب تو ہمار کسمت کا سوبھاگیہ ہے رے، ہم تو تیری جورو ہو گئی اور تو میرا میاں۔



⋆ محمد شمشاد

محمد شمشاد
مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے